جون کا مہینہ شروع ہوتے ہی پاکستان میں بجٹ کے حوالے سے قیاس آرائیاں شروع ہو جاتی ہیں اور عوام میں نئی امیدیں اور خدشات پیدا ہونے لگتے ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ آنے والا بجٹ عوام دوست ہوگا لیکن بجٹ میں عوام دوستی ڈھونڈنا عام انسان کے بس کی بات نہیں۔ بجٹ میں ایک نیا روڈ میپ بھی دیے جانے کی تیاری ہے۔ روڈ میپ کا سُن کر عوام کو خوش نہیں ہونا چاہیے کیونکہ تجربہ بتاتا ہے کہ یہ راستہ اکثر سیدھا ان کی جیبوں تک جاتا ہے۔ اسی راستے پر چلتے ہوئے حکومت نئے ریونیو اقدامات کا اعلان کر سکتی ہے کیونکہ پرانے اقدامات اب عوام کو بہت اچھی طرح یاد ہو چکے ہیں اور ان کی تکلیف بھی معمول بن چکی ہے۔ حکومتی دعویٰ ہے کہ دوسے تین لاکھ ماہانہ تنخواہ لینے والوں پر ٹیکس بوجھ میں تقریباً پانچ فیصد کمی لائی جا سکتی ہے۔ ڈیویڈنڈ انکم پر بھی ٹیکس 15 فیصد سے کم کیا جا سکتا ہے۔ موبائل فونز پر ٹیکس کی شرح کم ہو سکتی ہے‘ ایکسپورٹرز پر ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس ختم ہو سکتا ہے‘ کارپوریٹ انکم ٹیکس کی موجودہ 29 فیصد شرح اور سپر ٹیکس میں نرمی کی جا سکتی ہے۔ لیکن حکومت یہ بتانے سے گریزاں ہے کہ بجٹ میں ٹیکس اہداف تقریباً 1200 ارب سے بڑھ کر 1500 ارب طے کر لیے گئے تو وہ ٹیکس کہاں سے حاصل کیا جائے گا؟ کیا ٹیکس فائلرز پر ہی مزید بوجھ ڈالا جائے گا یا نان فائلرز کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا؟ زیادہ امکانات یہی ہیں کہ پرانے ٹیکس گزاروں پر ہی بوجھ بڑھایا جائے گا۔ ایسی صورت میں ریلیف بے معنی ہو جاتا ہے۔ اصل ریلیف اس وقت دیا جا سکتا ہے جب ٹیکس اہداف 1200 ارب روپے سے کم کیے جائیں۔
ٹیکس نیٹ اور ٹیکس بیس بڑھانے کے لیے حکومت نے فکسڈ ٹیکس آسان سکیم متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ نئی سکیم سے تقریباً 50 ارب روپے سالانہ آمدن ہو سکتی ہے اور تقریباً 35 لاکھ تاجروں کا احاطہ کیا جا سکتا ہے۔ وہ تاجر جن کا سالانہ کاروبار 20 کروڑ روپے تک ہے‘ صرف ایک فیصد فکسڈ ٹیکس ادا کرکے اس سکیم کا حصہ بن سکیں گے۔ انہیں پوائنٹ آف سیل سسٹم‘ آڈٹ اور پیچیدہ ٹیکس کارروائیوں سے بھی استثنا دے دیا جائے گا۔ اگر وہ پہلے سے وِد ہولڈنگ ٹیکس ادا کر رہے ہیں تو اسے ایڈجسٹ بھی کیا جا سکے گا۔ تاہم اس سکیم پرکچھ بنیادی سوالات بھی ہیں۔ مثال کے طور پر 20 کروڑ روپے سالانہ کاروبار کرنے والا تاجر اگر صرف ایک فیصد کی بنیاد پر ٹیکس ادا کرتا ہے تو کیا یہ واقعی منصفانہ ٹیکس نظام کہلائے گا؟ دوسری جانب ایک تنخواہ دار آدمی اپنی آمدنی کا کہیں زیادہ حصہ براہ راست ٹیکس کی شکل میں ادا کرتا ہے۔ حکومت نے گزشتہ برس بھی ''تاجر دوست‘‘ سکیم کو انقلابی قرار دیا تھا لیکن مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکی۔ اس کی بنیادی وجہ ناقص عملدرآمد‘ تاجروں کی محدود دلچسپی اور اعتماد کے فقدان کو قرار دیا گیا تھا۔ اب حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس بار یہ سکیم تاجروں کی مشاورت سے تیار کی گئی ہے اور ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھا گیا ہے۔ اگر فکسڈ ٹیکس آسان سکیم کے ذریعے واقعی 30 سے 35 لاکھ نئے یا غیر فعال تاجروں کو ٹیکس نظام میں شامل کر لیا جاتا ہے تو یہ پاکستان کی مالیاتی تاریخ میں ایک بڑا سنگ میل ہو سکتا ہے لیکن اگر یہ سکیم بھی صرف اعلانات اور پریس کانفرنسوں تک محدود رہی تو حکومت ایک مرتبہ پھر محصولات کے اہداف پورے کرنے کے لیے تنخواہ دار طبقے‘ صنعت اور موجودہ ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈال سکتی ہے۔
حکومت نئے بجٹ میں سٹیشنری کی اشیا پر جی ایس ٹی 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے‘ یعنی ٹیکس میں 80 فیصد اضافہ۔ پاکستان کی سٹیشنری مارکیٹ کا حجم تقریباً 700 ارب روپے سالانہ ہے‘ جس کا تقریباً 65 فیصد حصہ سکولوں اور کالجوں سے جڑا ہے۔ اس فیصلے سے اندازاً 36 ارب روپے اضافی ریونیو حاصل ہو سکتا ہے‘ مگر اس کے نتیجے میں عوام پر تعلیمی اخراجات کا بوجھ بڑھ جائے گا۔ یعنی تعلیم مزید مہنگی ہو جائے گی۔ پچھلے سال پہلی مرتبہ سٹیشنری پر 10 فیصد جی ایس ٹی لگایا گیا تھا جس پر سخت عوامی ردعمل آیا۔ بعد ازاں پارلیمانی سفارشات کے باوجود اسے واپس نہیں لیا گیا۔ اب 18 فیصد تک اضافہ اس بوجھ کو مزید بڑھا دے گا۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب ملک میں پہلے ہی تقریباً دوکروڑ 63 لاکھ بچے سکول نہیں جاتے‘ تعلیم پر حکومتی خرچ جی ڈی پی کے ایک سے ڈیڑھ فیصد کے درمیان ہے اور مہنگائی نے قوتِ خرید کو کمزور کر دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ریونیو بڑھانے کے لیے بچوں کی تعلیم ہی رہ گئی ہے؟ کیا حکومت کے پاس ٹیکس اکٹھا کرنے کے لیے کوئی بہتر متبادل موجود نہیں؟
دوسری جانب وفاق اور صوبائی حکومتیں آئندہ مالی سال میں تقریباً 3.2 ارب ڈالر کے غیر ملکی قرضے لینے کا ارادہ رکھتی ہیں‘ جو مجموعی ترقیاتی بجٹ کا تقریباً 22 فیصد بنتا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کو مالی سال 2026-27ء میں تقریباً 21.2 ارب ڈالر اور اس کے بعد تقریباً 30 ارب ڈالر کی بیرونی فنانسنگ درکار ہو سکتی ہے۔ قرضوں کے بوجھ کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ صرف بیرونی قرضوں پر سود کی ادائیگی تقریباً چار ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے جبکہ مجموعی قرضوں کی سروسنگ 7.8 کھرب روپے تک جا سکتی ہے۔ یعنی نئے بجٹ کا ایک بڑا حصہ ترقیاتی کاموں کے بجائے قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو سکتا ہے۔ اس پس منظر میں سٹیٹ بینک کی پالیسی بھی اہم ہے۔ گزشتہ دو برسوں میں سٹیٹ بینک نے مارکیٹ سے تقریباً 27 ارب ڈالر خرید کر زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دیا ہے۔ اس پالیسی سے وقتی طور پر روپے کو استحکام حاصل ہوا لیکن ساتھ ہی یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ استحکام حقیقی مارکیٹ ڈیمانڈ کی بنیاد پر ہے یا انتظامی مداخلت کا نتیجہ۔ حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ کے لیے ڈالر کے مقابلے میں روپے کا ایکسچینج ریٹ 290 روپے فی ڈالر رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے جو پچھلے سال کی نسبت تقریباً 3.5 فیصد کم ہے۔ اگر ڈالر ریٹ کو مارکیٹ کے مطابق ایڈجسٹ نہ کیا گیا تو اگلے صرف ایک مالی سال میں پاکٹ فنانسنگ 16 ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ سکتی ہے‘ جس سے ایکسپورٹس متاثر ہو سکتی ہیں۔
وفاقی حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ میں پانی اور پن بجلی کے شعبے کے لیے صرف 179 ارب روپے مختص کرنے پر غور کر رہی ہے جبکہ واپڈاکے مطابق کم از کم 500 ارب روپے درکار ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان‘ جسے پانی کی قلت‘ مہنگی توانائی‘ موسمیاتی تبدیلیوں اور آبی تنازعات کا سامنا ہے‘ آبی وسائل پر برائے نام سرمایہ کاری کا متحمل ہو سکتا ہے؟ ملک کی تقریباً 80 فیصد زرعی پیداوار دریائے سندھ کے نظام پر منحصر ہے۔ زراعت ملکی جی ڈی پی کا تقریباً 24 فیصد اور برآمدات کا بڑا ذریعہ ہے جبکہ لاکھوں افراد کا روزگار اسی شعبے سے وابستہ ہے۔ پانی کی کمی کا مطلب صرف فصلوں میں کمی نہیں بلکہ خوراک کی مہنگائی‘ دیہی غربت اور معاشی عدم استحکام بھی ہے۔ واپڈا اس وقت آٹھ بڑے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ گزشتہ مالی سال میں بھی اس شعبے کو صرف 106 ارب روپے فراہم کیے گئے جس کے باعث کئی منصوبوں کی رفتار متاثر ہوئی۔ 969 میگاواٹ صلاحیت کا نیلم جہلم منصوبہ گزشتہ تین برس سے بند پڑا ہے۔ اگر بروقت مرمت اور فنڈنگ فراہم کی جاتی تو ملک کو ہر سال اربوں روپے مالیت کی سستی پن بجلی حاصل ہو سکتی تھی۔ اگر آنے والے بجٹ میں اس شعبے کے لیے صرف 179 ارب روپے مختص کیے جاتے ہیں تو منصوبوں کی بروقت تکمیل کا امکان کم ہے۔