صوبائی بجٹ کے معاشی اثرات

حکومت نے پٹرول اور ڈیزل سستا کیا ہے۔ پٹرول پر پٹرولیم لیوی 106.74 روپے فی لیٹر سے کم کرکے 66.25 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے‘ یعنی 40.49 روپے فی لیٹر کی کمی کی گئی ہے مگر ڈیزل پر لیوی 53.26 روپے سے بڑھا کر 72.97 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔ یعنی 19.71 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ ردوبدل اس وقت کیا گیا جب رواں مالی سال کے لیے پٹرولیم لیوی ہدف سے زیادہ وصول کیا جا چکا ہے‘ اس لیے پٹرول پر بوجھ کم کرنے کی گنجائش پیدا ہوئی ہے۔ پٹرولیم لیوی اب وفاقی حکومت کے سب سے بڑے محصولات کے ذرائع میں شامل ہے۔ حکومت نے پٹرولیم لیوی کی مد میں پچھلے سال کی نسبت تقریباً 398 ارب روپے زیادہ وصول کیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر پٹرول پر لیوی کم ہوئی ہے تو کیا مہنگائی بھی کم ہوگی؟
حکومت پنجاب نے مالی سال 2026-27ء کے لیے 5903 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا ہے۔ بظاہر یہ ایک بڑا بجٹ ہے اور حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ بجٹ تعلیم‘ صحت‘ روزگار‘ انفراسٹرکچر اور سماجی بہبود کے شعبوں میں ایک نئی تبدیلی لا سکتا ہے لیکن بجٹ دستاویزات اور اعداد وشمار کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو کئی اہم سوالات سامنے آتے ہیں جن کا جواب دینا حکومت کے لیے شاید مشکل ہو سکتا ہے۔ بجٹ کا حجم گزشتہ مالی سال کے 5.33 کھرب روپے کے مقابلے میں تقریباً 10.7 فیصد زیادہ ہے۔ حکومت نے اپنے محصولات کا ہدف 1.21 کھرب روپے مقرر کیا ہے جبکہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت وفاق سے 4.39 کھرب روپے ملنے کی توقع ہے۔ یعنی پنجاب اب بھی اپنی آمدنی کے لیے بڑی حد تک وفاقی وسائل پر انحصار کر رہا ہے۔ صوبے کی اپنی آمدنی کل بجٹ کا تقریباً پانچواں حصہ بنتی ہے‘ جو مالی خودمختاری کے دعوؤں پر سوالیہ نشان ہے۔ حکومت پنجاب تعلیم کے لیے 750 ارب روپے اور صحت کے لیے 500.62 ارب روپے مختص کرنے پر فخر کر رہی ہے۔ اعدادو شمار کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو تصویر اتنی روشن نظر نہیں آتی۔ تعلیم کے 750 ارب روپے میں سے تقریباً 686.8 ارب روپے غیر ترقیاتی اخراجات‘ یعنی تنخواہوں اور روزمرہ انتظامی امور پر خرچ ہوں گے‘ ترقیاتی منصوبوں کے لیے صرف 63.3 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ یعنی کل تعلیمی بجٹ کا صرف آٹھ فیصد سے کچھ زیادہ حصہ نظام میں حقیقی بہتری کے لیے مختص کیا گیا ہے۔حکومت ایک لاکھ 10 ہزار لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کے لیے 27 ارب روپے خرچ کر رہی ہے‘ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پنجاب کے سرکاری سکولوں کی سب سے بڑی ضرورت طلبہ کے لیے پاس لیپ ٹاپ ہیں یا تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولتیں؟ آج بھی صوبے کے ہزاروں سکولوں کو پینے کے پانی‘ بیت الخلا‘ چار دیواری‘ سائنس وکمپیوٹر لیب اور اساتذہ کی کمی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ انفراسٹرکچر اور تدریسی معیار کی بہتری کے بغیر صرف نمائشی منصوبوں سے تعلیمی معیار میں انقلاب برپا نہیں کیا جا سکتا۔ پنجاب کا ترقیاتی بجٹ گزشتہ سال کے تقریباً 1.25 کھرب روپے سے کم ہو کر 752 ارب روپے رہ گیا ہے۔ جب مجموعی ترقیاتی اخراجات میں اتنی بڑی کمی کی جا رہی ہو تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ نئے سکول‘ کالجز‘ ہاسٹلز‘ تحقیقی مراکز اور جدید تعلیمی سہولتیں کس رفتار سے قائم ہوں گی؟ ایک اندازے کے مطابق حکومت پنجاب کو تقریباً 150 نئے منصوبوں پر کام روکنا پڑ سکتا ہے۔صحت کے شعبے میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں۔ 500.62 ارب روپے کے بجٹ میں سے 424.32 ارب روپے غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے مختص ہیں۔ صرف 76.3 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہوں گے۔ یوں صحت کے کل بجٹ کا تقریباً 15 فیصد ہی نظام میں توسیع اور بہتری کے لیے دستیاب ہو گا۔ ایک غریب شہری کے لیے لاہور کا جدید ہسپتال نہیں بلکہ اپنے گاؤں یا تحصیل کا فعال بنیادی مرکزِ صحت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔
حکومت کا ایک اور دعویٰ محصولات میں نمایاں اضافے کا ہے۔ پنجاب ریونیو اتھارٹی کے لیے 528 ارب روپے سے زائد کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 55 فیصد سے زیادہ ہے‘ جبکہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے محصولات میں 77 فیصد اضافے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اصل امتحان اگلے بارہ ماہ میں ہو گا۔ اگر یہ رقوم زمین پر نظر آنے والے نتائج میں تبدیل ہوئیں تو یہ پنجاب کی تاریخ کا اہم بجٹ ثابت ہو سکتا ہے لیکن اگر یہ اعلانات فائلوں اور تقریروں تک محدود رہے تو 5.9 کھرب روپے کا یہ بجٹ عوام کے لیے ایک اور خوبصورت وعدہ بن ثابت ہو گا۔
سندھ حکومت نے مالی سال 2026-27ء کے لیے 3.56 کھرب روپے کا بجٹ پیش کیا ہے۔ وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے مسلسل بارہویں مرتبہ بجٹ پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ بجٹ مالیاتی نظم وضبط‘ ترقیاتی سرگرمیوں کے تسلسل اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ بظاہر بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا‘ حکومتی ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ کیا گیا ہے اور کم از کم اجرت 43 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے‘ لیکن جب اعدادوشمار کی تہہ میں جایا جائے تو کئی اہم سوالات جنم لیتے ہیں۔ بجٹ کے حجم کا جائزہ لیا جائے تو 3.56 کھرب روپے کے اس بجٹ میں موجودہ اخراجات تقریباً 2.56 کھرب روپے ہیں جبکہ ترقیاتی اخراجات 720 ارب روپے کے قریب رکھے گئے ہیں۔کل بجٹ کا تقریباً 72 فیصد حصہ تنخواہوں‘ پنشن‘ انتظامی اخراجات اور دیگر مدات پر خرچ ہو سکتا ہے‘ صرف 20 فیصد کے لگ بھگ ترقیاتی منصوبوں کے لیے دستیاب ہو گا۔ ترقیاتی پروگرام میں تقریباً 29 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ کمی ایسے وقت میں کی جا رہی ہے جب کراچی‘ حیدرآباد‘ سکھر اور اندرون سندھ میں بنیادی انفراسٹرکچر‘ پینے کے پانی‘ نکاسی آب اور ٹرانسپورٹ کے شدید مسائل ہیں۔ تعلیم کے لیے 620 ارب روپے سے زائد اور صحت کیلئے تقریباً 393 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ بظاہر یہ اعداد وشمار متاثر کن ہیں کیونکہ دونوں شعبوں کے لیے مجموعی طور پر ایک کھرب روپے سے زیادہ رقم رکھی گئی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا مستقبل میں سندھ کے عوام کو ان اخراجات کے نتائج بھی نظر آئیں گے؟ سندھ میں آج بھی لاکھوں بچے سکولوں سے باہر ہیں‘ ہزاروں سرکاری سکول یا تو غیر فعال ہیں یا وہاں بنیادی سہولتیں موجود نہیں۔ گھوسٹ سکولوں اور گھوسٹ ملازمین کا مسئلہ دو دہائیوں سے زیر بحث ہے مگر ابھی تک مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکا۔ صحت کے شعبے میں صورتحال تشویشناک ہے۔ اگر 393 ارب روپے خرچ کرنے کے باوجود مریضوں کو علاج کے لیے کراچی یا حیدرآباد کا رخ کرنا پڑے تو پھر بجٹ کے حجم سے زیادہ اس کے نتائج پر سوال اٹھناچاہیے۔ بجٹ خسارے کا تخمینہ 36.39 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ اگرچہ یہ مجموعی بجٹ کے مقابلے میں بہت بڑا نہیں لیکن یہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ صوبہ اب بھی اپنے اخراجات اور آمدنی میں توازن پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ صوبائی ٹیکس وصولیوں کا ہدف تقریباً 690 ارب روپے رکھا گیا ہے جبکہ غیر ٹیکس آمدنی 85 ارب روپے متوقع ہے۔ یوں سندھ کا انحصار صوبے کی آمدن کی بجائے بدستور این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے وفاق سے ملنے والی رقوم پر ہے۔سندھ کا بجٹ برائے مالی سال 2026-27 ء ایسی تصویر پیش کرتا ہے کہ صوبے کے پاس وسائل تو ہیں لیکن ان وسائل کو نتائج میں تبدیل کرنے کی صلاحیت اب بھی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں