"RKC" (space) message & send to 7575

بلاول بھٹو وزیراعظم کیوں بننا چاہتے ہیں؟

میں 1998ء میں اسلام آباد آیا تھا۔ اس وقت سے اب تک درجن بھر افراد کو وزیراعظم بنتے‘ سزائیں پاتے‘ جیلوں میں جاتے‘ جلاوطنی اختیار کرتے یا خاموشی سے گھروں کو لوٹتے دیکھا ہے اور کوئی بھی خوشی خوشی یا اپنی مدت پوری کر کے رخصت نہیں ہوا۔
جب وزیراعظم بنایا جا رہا ہوتا تو ان کا پروٹوکول آسمان کو چھو رہا ہوتا تھا‘ اور جب نکالا جاتا تو منظر یکسر بدل جاتا تھا۔ وزارتِ عظمیٰ سے فارغ ہونے کے بعد پنڈی ریلوے سٹیشن پر میر ظفراللہ جمالی کو اپنے آبائی گھر روانہ ہوتے وقت میں نے ایک عجیب منظر دیکھا۔ ان کی ساٹھ رکنی کابینہ میں سے صرف ایک وزیر انہیں الوداع کہنے آیا تھا‘ اور وہ تھے وزیر مملکت رضا حیات ہراج۔ ان میں ابھی دیہاتی پن‘ مروت اور ظرف باقی تھا۔ وہ فخر امام جیسے بڑے سیاستدان کو شکست دے کر پہلی بار اسمبلی میں آئے تھے اس لیے ان کے اندر دیہات کا وہ معصوم انسان ابھی زندہ تھا جو سمجھتا تھا کہ اپنے سابق وزیراعظم کو کم از کم الوداع ضرور کہنا چاہیے۔ یہی وزیراعظم جمالی جب بیرونِ ملک دورے پر جاتے یا واپس آتے تھے تو وزیروں اور بڑے بڑے بیورو کریٹس کی ایک فوج استقبال کیلئے موجود ہوتی تھی‘ مگر پنڈی ریلوے سٹیشن پر وہ اکیلے کھڑے ادھر ادھر دیکھ رہے تھے کہ شاید ان کے اردگرد رہنے والوں میں سے کوئی آیا ہو لیکن کوئی نہیں آیا۔ جس وقت ظفر اللہ جمالی ریلوے سٹیشن پر یہ منظر دیکھ رہے تھے کہ ان کے اقتدار کا سورج ڈوب گیا ہے‘ ایف ایٹ سیکٹر میں اسی وقت چودھری شجاعت حسین کا سورج طلوع ہو رہا تھا۔ ان کے بڑے سے گھر کے ڈرائنگ روم میں پاؤں رکھنے کی جگہ نہیں تھی۔ اب چودھری شجاعت حسین وزیراعظم بن چکے تھے۔ ہر وزیر اور ہر ایم این اے وہاں موجود تھا کہ اگلی کابینہ میں میرا نام بھی شامل ہو۔اُن دنوں جتنی طاقت میں نے چودھری شجاعت حسین کو انجوائے کرتے دیکھا‘ شاید ہی کسی اور کو کرتے دیکھا ہو‘ چاہے بعد میں صدر زرداری ہوں یا نواز شریف۔ ان پانچ برسوں میں چودھری شجاعت حسین حقیقی کنگ میکرتھے۔ انہوں نے سینکڑوں لوگوں کی سیاسی زندگیاں بدل کے رکھ دیں اور درجنوں کی تباہ بھی کر دیں۔ ان کی آنکھ کے ایک اشارے پر قسمتیں بنتی اور بگڑتی تھیں۔ میں نے اپنی آنکھوں سے کئی سیاستدانوں کو جگہ نہ ملنے پر انکے گھر فرش پر بیٹھے دیکھا۔ یہ الگ بات ہے کہ چودھری شجاعت حسین ایک ظرف اور مروت والے انسان ہیں۔ ان میں کبھی غرور‘ تکبر یا گردن میں سریا نہیں دیکھا‘ جو معذرت کے ساتھ‘ چودھری پرویز الٰہی میں نمایاں نظر آتا تھا۔ ان پانچ برسوں میں مجھے تین چار مرتبہ چودھری شجاعت حسین کے گھر جانے کا موقع ملا‘ وہاں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی تھی‘ مگر پھر وہ بھی آیا جب اقتدار سے نکلنے کے چند روز بعد انہوں نے مجھے کھانے پر بلایا تو وہ بالکل اکیلے تھے۔ پورا گھر ویران تھا۔ مجھے شدید حیرت ہوئی کہ انسان کتنی جلدی بدل جاتے ہیں۔ کل تک وہاں بیٹھنے کی جگہ نہیں ملتی تھی‘ باہر گلیوں میں دور دور تک قیمتی گاڑیوں کی قطاریں لگی ہوتی تھیں اور اب ہر طرف سناٹا تھا۔ اس دن احساس ہوا کہ یہ طاقت‘ طاقتور ہونے اور ''اُپن ہی بھگوان ہے‘‘ کا احساس‘ سب وقتی ہوتا ہے۔ جب چودھری پرویز الٰہی پیپلز پارٹی حکومت میں ڈپٹی وزیراعظم بنائے گئے تو وہ گھر دوبارہ بھرنے لگا۔
یہی کچھ شوکت عزیز کیساتھ بھی ہوتے دیکھا۔ نومبر 2007ء میں جب میں نے خبر بریک کی کہ وہ چند دنوں بعد مستقل طور پر پاکستان چھوڑ جائیں گے اور دوبارہ واپس نہیں آئیں گے‘ بلکہ اپنے ساتھ 26کروڑ مالیت کے 1126 تحائف بھی لے جائیں گے‘ جو انہیں آٹھ برسوں میں بطور وزیر خزانہ اور پھر بطور وزیراعظم غیر ملکی دوروں کے دوران ملے‘ تو شوکت عزیز نے فون کر کے میرے اخبار کے ایڈیٹر سے شکایت کی کہ یہ سب جھوٹ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان میں ہی رہیں گے اور اپنی سیاست جاری رکھیں گے۔ غالباً اگلے دن اخبار میں وضاحت بھی چھپی مگر چوتھے ہی دن لندن سے خبر آئی کہ وہ خاموشی سے وہاں لینڈ کر چکے ہیں۔ آج 20 برس ہونے کو آئے ہیں‘ وہ واپس نہیں آئے۔ البتہ جاتے جاتے ایڈیٹر سے مجھے جھاڑ ضرور پڑوا گئے کہ میں نے غلط خبر دی۔ میں نے لندن جانے کی خبر سننے کے بعد اُن ایڈیٹر صاحب کو فون کیا تو انہوں نے شوکت عزیز کے بارے میں جو کچھ فرمایا وہ قابلِ اشاعت نہیں۔ البتہ میرا دل رکھنے کیلئے درست خبر دینے پر مجھے داد ضرور دی۔
نواز شریف صاحب جب سپریم کورٹ کے حکم پر برطرف ہوئے تو وہ بھی پوچھتے پھرتے تھے کہ ''مجھے کیوں نکالا؟‘‘۔ البتہ یوسف رضا گیلانی کو علم تھا کہ انہیں سپریم کورٹ نے کیوں نکالا‘ اس لیے وہ اس تکلف میں نہیں پڑے کہ مجھے کیوں نکالا؟ مزے کی بات یہ ہے کہ گیلانی صاحب کو سپریم کورٹ کے ذریعے نکلوانے والوں میں نواز شریف اور شہباز شریف بطور پٹیشنر شامل تھے‘ اور پھر جب وہ خود سپریم کورٹ سے نکالے گئے تو پوچھنے لگے ''مجھے کیوں نکالا؟‘‘۔ گیلانی صاحب شاید 'کرما‘ پر یقین رکھتے ہیں کہ اگر کوئی آپ کے ساتھ زیادتی کرے تو بدلہ لینے کی ضرورت نہیں‘ ایک دن وہ اپنا کرما خود بھگتے گا۔ کم از کم میں نے یہ نواز شریف کے ساتھ یہی ہوتے دیکھا کہ ان کی پٹیشن پر گیلانی صاحب کو نکالا گیا اور کچھ عرصے بعد خود نواز شریف بھی عمران خان کی پٹیشن پر وزیراعظم ہاؤس سے نکال دیے گئے۔ گیلانی صاحب خاموشی سے خود پر عائد پانچ سالہ پابندی ختم ہونے کا انتظار کرتے رہے۔ آج وہ چیئرمین سینیٹ ہیں اور قائم مقام صدر کا کردار بھی ادا کر چکے ہیں۔
عمران خان نے نواز شریف کو پاناما سکینڈل میں جیل بھجوایا اور آج وہ خود جیل میں ہیں۔ مجھے کبھی سمجھ نہیں آئی کہ یہ سارا سلسلہ کیا ہے۔ اکثر دوست شکایت کرتے ہیں کہ عمران خان کو ناجائز جیل میں رکھا گیا ہے۔ میں پوچھتا ہوں کہ آج تک کس نے تسلیم کیا ہے کہ اسے جائز جیل میں رکھا گیا تھا؟ کیا عمران خان کو سیاست میں آنے سے پہلے معلوم نہیں تھا کہ پہلے وزیراعظم لیاقت علی خاں قتل ہوئے‘ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی‘ وزیراعظم بینظیر بھٹو کو دن دہاڑے قتل کر دیا گیا‘ نواز شریف کو جیل اور جلاوطنی کی سزا ملی‘یوسف رضا گیلانی‘ شہباز شریف اور راجہ پرویز اشرف سمیت کون سا سیاستدان ہے جو جیل نہ گیا ہو؟ عمران خان کے اپنے دور میں آصف زرداری‘ نواز شریف‘ مریم نواز‘ شہباز شریف اور درجن بھر لیگی وزرا جیلوں میں تھے۔ خان خود کہا کرتے تھے کہ انہیں چین جیسی طاقت چاہیے جہاں وزیروں کو پھانسی دے دی جاتی ہے۔ خان صاحب کو چھوڑیں‘ صدر زرداری کے بارے میں کیا کہیں‘ جن کے متعلق یہ تاثر ہے کہ وہ 28ویں ترمیم میں ووٹ کے بدلے بلاول بھٹو کو وزیراعظم بنانا چاہتے ہیں۔ بلاول بھٹو یقینا ایک قابل نوجوان ہیں اور بطور وزیر خارجہ ان کی کارکردگی بھی اچھی رہی۔ موجودہ حکومت بنتے وقت میں نے ایک ٹی وی شو میں کہا تھا کہ بلاول بھٹو کو دوبارہ وزیر خارجہ بنانا چاہیے تاکہ وہ مزید تجربہ حاصل کریں لیکن زرداری صاحب کو شاید یہ لگا کہ جیسے نواز شریف نے اپنی زندگی میں مریم نواز کو وزیراعلیٰ بنوا کر اپنی سیاسی وراثت انہیں منتقل کر دی ہے‘ ویسے ہی وہ بھی اپنے سامنے بلاول بھٹو کو وزیراعظم بنوا کر بینظیر بھٹو کی سیاسی وراثت اگلی نسل کو منتقل کر دیں‘ ورنہ انکے بعد بلاول اکیلے وہ خطرناک کھیل نہیں کھیل سکیں گے جس کا راستہ وزیراعظم ہاؤس کی طرف جاتا ہے۔
باپ کی محبت اور خواہش اپنی جگہ‘ مگر کیا بلاول بھٹو کو معلوم نہیں کہ ان سے پہلے ان کے نانا ذوالفقار علی بھٹو‘ والدہ بینظیر بھٹو اور والد آصف زرداری کے ساتھ اقتدار کی اسی کشمکش میں کیا کچھ ہو چکا ہے؟ نانا کو پھانسی دی گئی‘ ماں کو قتل کر دیا گیا‘ اور باپ گیارہ‘ بارہ برس جیل میں رہا۔ یہ سب کچھ جاننے کے باوجود بھی بلاول بھٹو وزیراعظم بننے کے خواہشمند ہیں؟

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں