"RKC" (space) message & send to 7575

جنگ کب تک چلے گی؟

میں اس تاریخی حقیقت کو اچھی طرح سمجھتا ہوں کہ ہر ملک یا ریاست کو اپنی بقا کے لیے ایک دشمن کی ضرورت ہوتی ہے‘ ورنہ وہ ریاست بہت جلد خطرات میں گھر جاتی ہے جو زیادہ تر اندرونی ہوتے ہیں۔ پہلے بھی اپنے کالموں میں اس موضوع پر روشنی ڈال کر وضاحت کر چکا ہوں‘ لہٰذا مجھے اس ایشو کو دوبارہ چھیڑنے کی ضرورت نہیں۔ دشمن تو ہر ریاست کو درکار ہوتا ہے لیکن کیا ہمہ وقت اس کی تکرار بھی ضروری ہے؟
پچھلے سال مئی میں لڑی گئی پاک بھارت جنگ کو ایک سال مکمل ہو چکا ہے۔ بھارت میں اس ایک سال کو الگ انداز سے جشن کے طور پر منایا جا رہا ہے اور ہمارے ہاں مختلف انداز میں۔ دونوں ملکوں کے عوام اور میڈیا اپنی اپنی جگہ خوش اور مطمئن ہیں کہ جنگ ہم نے جیتی تھی۔ ہم اس جنگ میں فتح کے دعوے پر خوشی منانے کا حق رکھتے ہیں کیونکہ ہمارے دعوؤں کی تصدیق عالمی سطح پر مختلف ممالک کے علاوہ جنگی ماہرین بھی کر چکے ہیں۔ خصوصاً رافیل طیاروں کو نشانہ بنانے کی بات اب کوئی راز نہیں رہی۔ فرانس سے لے کر امریکہ بلکہ بھارت کے دفاعی ماہرین بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ پاکستان ایئرفورس نے بھارت کے رافیل طیارے مار گرائے اور ایسا خوف پیدا کیا کہ بھارت نے فوری طور پر وہ جدید طیارے‘ جنہیں وہ فرانس سے ساٹھ ہزار کروڑ ادا کرکے پاکستان کو سبق سکھانے کے لیے لایا تھا‘ نہ صرف گراؤنڈ کر دیے بلکہ انہیں پاکستانی سرحد سے دو ڈھائی سو کلومیٹر دور منتقل کر دیا گیا۔
اب دیکھتے ہیں کہ اس جنگ سے کیا فائدہ ہوا اور کیا نقصان۔ ایک سال بعد اب ہم اس پوزیشن میں ہیں کہ اس پورے منظرنامے کا جامع جائزہ لے سکیں۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ جنگ نریندر مودی کی ایک سیاسی مجبوری تھی اور وہ ہر قیمت پر یہ جنگ چاہتے تھے۔ اُس وقت بہار کے الیکشن قریب تھے اور بی جے پی کی اپوزیشن پارٹیاں ہمیشہ یہ تنقید کرتی ہیں کہ جب بھی ہندوستان میں کوئی ریاستی چناؤ قریب آنے لگتا ہے تو پاکستان کا نام جلسوں جلوسوں میں زور شور سے لیا جانے لگتا ہے اور مسلمانوں کی زندگی مزید مشکل کر دی جاتی ہے۔ یہ بات طے ہے کہ ہندوستان کی سیاست اور میڈیا چینلز کی ریٹنگز پاکستان کے نام پر چلتی ہیں‘ لہٰذا انہیں پاکستان سے بات چیت یا دوستی میں کوئی فائدہ نظر نہیں آتا۔ بی جے پی ویسے بھی اس درجے کی سیاسی ذہانت یا اپروچ نہیں رکھتی کہ وہ نہرو‘ مرارجی ڈیسائی‘ واجپائی یا من موہن سنگھ کی طرح پاک بھارت تعلقات کو اہمیت دے۔ اگرچہ ہماری طرف سے بھی ماضی میں کچھ ایسی غلطیاں ہوئیں جن کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان بہتر تعلقات کی جو شمع روشن ہوئی تھی‘ وہ جلد بجھ گئی۔ کبھی ہم نے موقع گنوا دیا اور کبھی بھارت نے۔ اور اب شاید قدرت چاہتی ہے یا پھر ہم دونوں ملکوں کو تاریخ کے جبر کے تحت دشمنی ہی سوٹ کرتی ہے۔ وہی بات کہ اگر پاکستان اور بھارت دوست بن گئے تو پھر دونوں ملکوں کے حکمران کیا کریں گے؟ شاید ہم سب بے روزگار ہو جائیں گے‘ اسلحہ ساز فیکٹریاں ویران ہو جائیں گی اور ان میں کام کرنے والے لوگ بے روزگار ہو جائیں گے۔ اگر آپ گہرائی میں جا کر سوچیں تو امن کے انسانوں کو فائدے کم اور نقصانات زیادہ نظر آتے ہیں جبکہ جنگ اور بربادی میں بہت فائدہ ہے۔ ایک تو بیرونی خطرے کے پیشِ نظر ریاست متحد رہتی ہے‘ حکمرانوں کو حکمرانی کرنے میں آسانی رہتی ہے اور وار انڈسٹری بھی چلتی رہتی ہے۔
اب آپ پوچھیں گے کہ بھارت کو اس جنگ سے کیا فائدہ ہوا؟ اگر آپ پچھلے ایک سال پر نظر ڈالیں تو اب تک چار بھارتی ریاستوں میں الیکشن ہوئے ہیں جہاں بی جے پی کا پلڑا بھاری رہا ہے۔ باقی چھوڑیں‘ مغربی بنگال میں اسے جو فتح ملی ہے وہ ناقابلِ یقین ہے۔ وہاں ممتا بینر جی جیسی سولہ‘ سترہ سال سے وزیراعلیٰ رہنے والی سیاسی رہنما اپنی سیٹ تک ہار گئیں۔ اگر آپ وہاں کی الیکشن مہم کو فالو کریں تو پتہ چلے گا کہ وہاں بھی پاکستان کے نام پر الیکشن لڑا گیا اور مسلمان ہی ٹارگٹ بنے۔ مودی نے اس لیے بھی بڑی محدود جنگ لڑی کہ وہ اپنے ووٹرز کو صرف یہ پیغام دینا چاہتا تھا کہ وہ کانگریس کے برعکس پاکستان پر حملہ کر سکتا ہے۔ ہندوستانیوں کو اس بات کی پروا نہیں کہ جنگ میں ان کے کتنے جہاز گرے‘ وہ صرف اس بات پر خوش ہیں کہ ان کے وشو گرو نے پاکستان پر حملہ کیا۔ پاکستان نے جواب میں ان کا کیا نقصان کیا‘ وہ اس پر توجہ نہیں دینا چاہتے۔
دوسری طرف دیکھا جائے تو پاکستان جس پر یہ جنگ تھوپی گئی تھی اور جس نے اپنا دفاعی حق استعمال کیا‘ یہاں بھی اس جنگ کا فائدہ ہوا ہے۔ اب آپ کہیں گے کہ بھلا جنگیں کب انسانوں کا بھلا کرتی ہیں لیکن آپ نے وہ مشہور قول ضرور سنا ہوگا کہ بعض دفعہ امن قائم کرنے کے لیے بھی جنگ ضروری ہو جاتی ہے۔ معرکہ حق میں کامیابی کے بعد ہمارے اندر ایک نیا اعتماد پیدا ہوا ہے۔ ورنہ پوری دنیا سمیت ہمیں خود بھی یقین نہیں تھا کہ بھارت جیسے بڑے ملک کے ساتھ ہم روایتی جنگ میں اس سطح کی کامیابی حاصل کر سکتے تھے۔ دنیا میں ہمارا وقار بڑھا ہے کہ اب امریکہ اور ایران جیسے ملکوں کی جنگوں کے سیز فائر اور امن معاہدے ہمارے ہاں ہو رہے ہیں۔ ان سب ملکوں کا ہم پر اعتماد بڑھا ہے۔ افواجِ پاکستان کا مقام مزید بلند ہوا ہے۔ یقینی طور پر جنرل عاصم منیر بھی اس جنگ کی وجہ سے فیلڈ مارشل بنے اور صدر ٹرمپ گزشتہ ایک سال سے ان کی تعریف کرتے پائے جاتے ہیں۔ لیکن ایک اہم سوال میرے ذہن میں مسلسل ابھرتا رہتا ہے کہ جنگ ہوئے ایک سال گزر گیا۔ بھارت میں مودی اس جنگ کو بنیاد بنا کر چار الیکشن جیت چکا ہے۔ ہم نے بھی دنیا بھر میں اپنی ساکھ بہتر کر لی۔ اب کب تک دونوں ملکوں میں یہ جنگی فضا قائم رہے گی؟
اب روز خبریں آتی ہیں کہ بھارت مزید ہزاروں کروڑ روپے خرچ کر کے نیا جدید اسلحہ خرید رہا ہے اور جواباً پاکستان سے خبریں آتی ہیں کہ ہم بھی چین اور دیگر ممالک سے جدید جنگی جہاز اور دیگر اسلحہ خرید رہے ہیں۔ ایک سال میں شاید ہی کوئی دن ایسا گزرا ہو جب دونوں ملکوں میں اس جنگ کا ذکر نہ ہوا ہو۔ کیا اس کا کوئی اختتام بھی ہوگا یا پھر دونوں ممالک اسی جنگ کو لے کر اگلے کئی برس گزار دیں گے؟ دونوں ملکوں کا پیسہ جنگی اسلحے کی دوڑ پر خرچ ہوتا رہے گا یا کچھ اپنے اپنے لوگوں کی زندگیاں بہتر بنانے پر بھی خرچ کیا جائے گا؟ اس وقت پاکستان میں ڈھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ اتنا پٹرول کا بل نہیں بنتا جتنا اس پر حکومت فی لٹر ٹیکس وصول کر رہی ہے۔
بھارت سے آنے والے وڈیو کلپس دیکھیں تو ان کی ٹرینوں میں انسانوں کی حالت دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے کہ ایک طرف اربوں ڈالر خرچ کر کے نیا اسلحہ خریدا جا رہا ہے اور دوسری طرف غربت کی تصویریں دل دہلا دیتی ہیں۔ بھارت کے حکمرانوں پر اپنے لوگوں پر خرچ کرنے کے بجائے جنگی اسلحے کا جنون طاری ہے۔ ہماری معاشی حالت بھی زیادہ اچھی نہیں۔ ابھی آئی ایم ایف نے سوا ارب ڈالر کی قسط جاری کرنے کے لیے جو نئی شرائط منوائی ہیں ذرا ان پر عمل ہونے دیں‘ پھر دیکھیے کیا حشر ہوتا ہے۔ مان لیا کہ امن یا اپنے دفاع کیلئے کبھی جنگ لڑنی پڑتی ہے۔ اب جنگ لڑ لی۔ اب تو دونوں ملک بیٹھ کر بات کریں۔ ماحول کو کچھ نرم کریں۔ جنگی فیکٹریوں کو مزید کاروبار نہ دیں۔ دونوں ملک اپنے عوام کا بھی سوچیں جو اس جنون کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ کہیں تو بریک لگائیں۔ کافی لڑ لیا۔ کافی میزائل ایک دوسرے پر فائر کر لیے۔ کچھ وقفہ دیں پلیز۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں