نام تو کچھ اور تھا اور وہ اچھی طرح مجھے یاد بھی ہے مگر لوگ 70سال قبل انہیں دُسی کہتے تھے۔ حکیم دُسی کی شہرت اپنے محدود علاقے سے زیادہ دور نہیں جا سکی۔ وہ نہایت ہی سادہ‘ دلچسپ اور بہت ذہین انسان تھے۔ اس علاقے میں وہ واحد شخص تھے جو ہندی زبان پڑھ اور لکھ سکتے تھے۔ اردو انہوں نے کبھی نہیں سیکھی تھی اور نہ ہی اس میں کوئی دلچسپی تھی۔ ان کے حکمت میں استاد‘ ملک کی آزادی سے بہت پہلے‘ ایک ہندو حکیم تھے جن کی خدمت میں وہ بہت عرصہ رہے اور ان سے حکمت کی تربیت حاصل کی۔ سب کچھ انہوں نے ہندی کی کتابیں پڑھ کر سیکھا تھا۔ آنکھ کھولتے ہی ہم سب بیمار ہوئے تو پہلی ملاقات حکیم دُسی سے ہوئی۔ شاید ہی کوئی بچہ ہو حکیم دُسی نے زبردستی لکڑی کے چھوٹے سے ٹکڑے کو دانتوں کے درمیان گھسا کر کڑوی دوائیاں جس کے منہ میں نہ انڈیلی ہوں۔ بڑے ہو کر بھی ان کی دکان سے دور سے گزرتے تھے۔ ہماری ان سے دوستی اس وقت ہوئی جب دانت توڑ آلے کے استعمال کا ہمارا زمانہ گزر چکا تھا۔ حکیم کی دکان قدرے کشادہ اور شہر کے بازار کے وسط میں تھی جس کے سامنے ایک اور بازار شروع ہوتا تھا۔ صبح ہوتے ہی تین حکیم اپنی حکمت کی دکانیں سجا لیتے۔ صرف ایک‘ جو کسی دور کے علاقے سے آ کر یہاں آباد ہوئے تھے اور وہ مولوی تھے‘ کے پاس بیٹھنے کے لیے کرسی اور مریضوں کے لیے ایک بینچ تھا جس کی ٹیک نہیں تھی۔ دُسی اور تیسرے حکیم کی نشست فرشی تھی۔ دُسی ان سب میں بہت مشہور تھے اور ان کا طریقہ علاج بھی منفرد تھا۔ کوئی بھی مریض چاہے کسی بھی مرض میں کیوں نہ مبتلا ہو‘ کی نبض پر کچھ دیر ہاتھ رکھتے اور پھر دوائیوں کی پڑیاں ایک مخصوص انداز میں اگلے پانچ سات دن کے لیے بنا کر مریض کے حوالے کر دیتے۔ پڑیوں کے ساتھ ایک دو چھوٹی بوتلوں میں مختلف رنگوں کا خود تیار کردہ سخت کڑوا محلول بھی استعمال کے لیے دیتے۔ کسی بھی مریض کو واپس آنے کی ضرورت نہ رہتی اور کچھ دوائیوں کے اثر اور زیادہ تر ان کے حکیمانہ مشوروں سے ہی صحت یاب ہو جاتے۔
دُسی اور یونانی حکمت ہمارے دور کی دیہاتی ثقافت کا حصہ تھے۔ لوگوں کو حکیموں کی مہارت پر پختہ یقین تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ صدیوں سے یہی طریقۂ طب پورے ہندوستان‘ ایران اور عرب دنیا تک پھیلا ہوا تھا۔ حکیم دُسی اکثر دوائیاں خود تیار کرتے۔ اس زمانے میں بڑے شہروں اور قصبوں میں جڑی بوٹیوں کی دکانیں ہوا کرتی تھیں جہاں سے دیہاتی حکیم اپنی ضرورت کے مطابق جڑی بوٹیاں خرید کر لایا کرتے تھے۔ دکان کی دیوار پر حکیم دُسی نے تختے شیلفوں کی صورت لگا رکھے تھے اور ٹین کے سینکڑوں ڈبے جنہیں وہ ہر سال خود سفید روغن کرتے اور ان پر ہندی سکرپٹ میں ان کے نام لکھے ہوئے تھے۔ دُسی کے علاوہ کوئی بھی انہیں نہیں پڑھ سکتا تھا کہ ان میں کیا ہے جب تک کہ کوئی کھول کر نہ دیکھتا۔ لیکن کسی کو بھی قریب پھٹکنے کی اجازت نہیں تھی۔ مریض ہر وقت نہیں آتے تھے۔ اکثریت صبح سویرے آتی اور دوائیاں لے کر ہر کوئی گھر کو چلا جاتا۔ جونہی دُسی حکمت سے کچھ فراغت حاصل کرتے‘ ان کی دکان پر اکثر ادبی نشست شروع ہو جاتی۔ دو مختلف آدمیوں کے پاس دو کتابیں تھیں۔ ایک کے پاس داستانِ امیر حمزہ اور دوسرے کے پاس ہزار داستان۔ ان میں سے ایک کتاب لے آتا اور پڑھنا شروع کر دیتا۔ حکیم دُسی خود بھی کہانی باز تھے جو اکثر ان کے مشاہدے پر مبنی ہوتیں۔ انہیں مرچ مسالا لگا کر جب وہ اپنے اردگرد کے لوگوں کو سناتے تو وہ ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو جاتے۔ داستانِ امیر حمزہ ان کی پسندیدہ کتاب تھی جسے وہ پڑھ تو نہیں سکتے مگر اسے سن کر سر دھنتے۔ ہماری دوستی ان سے اس ادبی نشست اور ان کی اپنی قصہ گوئی سے شروع ہوئی۔ اس وقت غالباً میں ساتویں‘ آٹھویں جماعت میں تھا۔ ہمارے علاقے میں نہ کتابیں میسر ہوتیں اور نہ ہی سکولوں میں کتب خانے تھے۔ کتابیں ہر سال ہمارے مڈل سکولوں کو کچھ نہ کچھ ضرور ملتیںجو لکڑی کے صندوقچوں میں ہمارے استاد بند کر کے رکھ دیتے۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا شوق اس وقت ہوا جب ایک استاد نے مجھے اس دیمک زدہ صندوق کی صفائی کی ذمہ داری ڈنڈے کے زور پر سونپی۔ چھوٹی چھوٹی ہمارے دور کی جنتری کی سائز کی دیو‘ پریوں‘ شہزادوں اور شہزادیوں کی کہانیاں تھیں جو ہر روز استاد کی اجازت سے گھر لے جاتا اور اگلے دن مزید کی درخواست کرتا۔ اس کی ابتدا تو دُسی کی دکان سے ہوئی تھی۔ ایک اور نوجوان دکاندار تھا جو آداب عرض اور سلام عرض ڈائجسٹ منگوایا کرتا تھا اور پڑھنے کے بعد ہمیں بھی موقع فراہم کرتا۔
دُسی اپنے زمانے کا روشن خیال آدمی تھا۔ میں کالج میں داخل ہوا اور اس علاقے سے پہلا ہی فرد‘ تو سب لوگوں نے میری حوصلہ افزائی کی لیکن جو نصیحتیں اور شاباش مجھے حکیم دُسی سے ملتی اس کا اثر جادو سے کم نہ تھا۔ وہ اکثر کہتے کہ بڑے لوگ نہیں چاہتے کہ ہم عام آدمیوں کے بچے بھی لکھ پڑھ جائیں اور معاشرے میں اپنا مقام حاصل کریں۔ یہاں بچوں کو سکولوں میں پڑھانے کے خلاف کہانیاں گھڑی جاتی ہیں۔ آپ آگے بڑھے ہیں تو اب پیچھے کبھی نہ دیکھنا۔ دُسی نے اپنے تین بیٹوں کو سکول میں پڑھانے کے بہت جتن کیے مگر وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ میری کامیابیوں پر اپنے بچوں سے بھی زیادہ خوش ہوتے۔ ہر دفعہ کالج سے چھٹیوں کے دوران اسی طرح دُسی کی قصہ گوئی کی نشستوں میں حاضری لگواتا۔
حکیم دُسی بعد کے دور میں جب شہر جڑی بوٹیاں خریدنے جاتے تو ڈبوں میں بند دوائیاں بھی خرید کر لاتے۔ چونکہ وہ پڑھ نہیں سکتے تھے اس لیے انہیں نہیں پتا تھا کہ وہ کس مرض کا علاج ہیں۔ میری ذمہ داری تھی کہ میں ڈبی میں لکھی تحریریں دُسی کو پڑھ کر سناؤں۔ یہ کام مجھے کئی بار کرنا پڑتا تو پھر انہیں سمجھ آتی۔ صافی نامی خوف صاف کرنے والی دوا ان کی پسندیدہ دوائیوں میں سے تھی۔ مجھے خود کئی بار اسے پانی میں دو ڈھکن ملا کر پینے اور اپنا خون صاف کرنے کا مشورہ دُسی نے دیا تھا۔ کیا کہوں کہ مرتا کیا نہ کرتا۔ ویسے آپ کو اگر یہ تجربہ نہیں تو کبھی ضرور کر کے دیکھ لیں۔
دُسی کی طب کا بنیادی فلسفہ یہ تھا کہ سب بیماریاں خون کی خرابی سے پیدا ہوتی ہیں اور اس کی بنیادی وجہ بھاری اور مرغن غذا کا استعمال ہے۔ اپنے اکثر مریضوں کے علاج کی ابتدا انہیں ارنڈی کے تیل (Castor Oil) کی خوراک صبح کچھ کھانے سے پہلے پلا کر شروع کرتے۔ اکثر کی جو حالت بنتی وہ کچھ دن گھر ہی پڑے رہتے۔ پھر اس کے بعد ان کی طبیعت اور خون صاف ہونا شروع ہو جاتا۔ اس وقت جدید طب کے ڈاکٹر نہیں تھے۔ صرف شہروں میں تھے‘ دیہات میں بالکل نہیں۔ حکیموں کا ایسا راج تھا جن کا مہاراجہ دُسی تھا۔ ایک مقامی ڈاکٹر جدید تعلیم کے بعد یہاں آبسا مگر اس کا جدید ہسپتال ویرانی کا منظر پیش کرتا۔ تنگ آکر اس نے کپڑے کی دکان کھول لی اور وہ بھی نہ چل سکی۔ لوگوں میں حکیموں نے تاثر پھیلایا ہوا تھا کہ انگریزی دوائیاں گرم ہوتی ہیں اور اس گرم موسم کے علاقوں کے لیے موزوں نہیں۔ میرے خیال میں دیہات میں ہمارے دور کے حکیموں کا جادو ایک چھوٹی سی انگریزی دوا اسپرین نے توڑا۔ ریڈیو پر اس کی تشہیر سر درد اور بخار کے لیے ہوتی تو عام دکاندار بھی اس کے ڈبے لے کر گڑ شکر کے ساتھ بیچنا شروع ہو گئے۔ اس گولی کا راج چلا تو اس نے جدید طب کے دروازے کھول دیے۔ ہمارے دور کے حکیم دُسی جب اللہ کو پیارے ہوئے تو کوئی ان کی جگہ نہ لے سکا۔ البتہ اُس دور کی خون صاف کرنے والی دوا اب بھی دستیاب ہے۔