اشارے ابھی تک مثبت ہیں کہ ایران کے خلاف جنگ کسی جامع علاقائی معاہدے پر ختم ہو سکتی ہے۔ اگلے چند دن اہم اور فیصلہ کن ہوں گے۔ ابھی کچھ خدوخال سامنے آئے ہیں اور وہ نکات بھی جن پر ابھی کوئی اتفاق نہیں ہو سکا۔ امن معاہدے کے امکانات کے ساتھ ساتھ جنگ کے خطرات بھی منڈلاتے نظر آتے ہیں۔ 40 روزہ اس جنگ نے پہلے ہی بہت کچھ بدل دیا ہے جس کے پورے خطے پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ ایران‘ امریکہ اور اسرائیل نے کیا کھویا اور کیا پایا‘ ایسا پیچیدہ اور بعض علمی اور سیاسی حلقوں میں ایسا نظریاتی اور جذباتی موضوع ہے کہ آئندہ کئی برسوں تک زیر بحث رہے گا۔ جیو پالیٹکس پر گہری نظر رکھنے والوں اور عالمی امور کے ماہرین کی آرا نہ کبھی ایک جیسی رہی ہیں اور نہ ہی ان کے بارے میں کوئی ایک خوش فہمی رکھنے کی ضرورت ہے۔ وقت کے ساتھ دیکھا ہے کہ ان کے زمینی حقیقتوں کو دیکھنے کے پیمانے اور تجزیے کی عینکیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ زیادہ تر فوکس تو اس بات پر ہے اور رہے گا کہ امریکہ آخر اس تباہ کن جنگ سے کیا حاصل کرنا چاہتا تھا اور ابھی تک اس کے ہاتھوں میں کیا آیا ہے۔ شروعات تو اس سے ہوئی کہ وہ طاقت کے زور پر ایران کے اندر ایک انقلاب لا کر اسلامی رجیم کو چلتا کرے گا۔ اس کے لیے اسرائیلیوں اور امریکیوں نے اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت کو نشانہ بنایا اور سلامتی کے اداروں اور فوجی صلاحیت کو تواتر سے تباہ کرتے رہے۔ ساتھ ایران کے عوام کو مخاطب کر کے اعلانات کرنا شروع کر دیے کہ راستہ ہموار کر دیا ہے‘ اب اُٹھو اور اقتدار اپنے ہاتھوں میں لے لو۔ وہ تو بیچارے اپنے نام نہاد نجات دہندوں کی دن رات کی بمباری سے اپنی جانیں بچاتے پھر رہے تھے۔ نہ انہیں نیند کی فرصت‘ نہ خوراک اور پانی کی فراہمی یقینی تھی۔ اس کا الٹا اثر یہ ہوا‘ ایرانی اپنے شہروں‘ گھروں اور تاریخی ورثہ کی تباہی دیکھ کر سب سیاسی اور نظریاتی اختلافات کو بھول گئے اور قومی ہم آہنگی کا مظاہرہ کرنے لگے۔ کہیں بھی ایران میں کوئی مظاہرہ نہ ہوا۔ اگر دیکھنے میں آئے تو وہ اس جارحانہ جنگ کے خلاف یورپ اور امریکہ میں تھے۔ ایران کے اندر فوجیں اتار کر وہ مزاحمت کی دلدل میں پھنسنے سے کتراتے رہے۔ سہارا لیا تو میزائلوں‘ بمبار طیاروں اور ڈرون حملوں کا کہ خوف اور تباہی کے سامنے ایرانی ہتھیار ڈال کر سلامتی کی بھیک مانگیں گے۔ ایسا کبھی ہوا ہے اور نہ ہو گا۔
اکثر مبصرین کا خیال ہے کہ امریکہ دنیا میں اپنا اخلاقی مقام‘ جسے بنانے میں کم وبیش ایک صدی لگی‘ غزہ میں نسل کُشی اور ایران کے خلاف جنگ میں مکمل طور پر کھو چکا ہے۔ ہمارے نزدیک بھی امریکہ جدید فکر‘ روشن خیالی‘ آزاد روی اور علم وحرفت کی جدید تہذیب کا نمائندہ تھا‘ تاہم آزادی کے نام پر ابھی تک جو جنگیں افغانستان‘ عراق اور اب ایران میں لڑیں‘ ان میں اس جذبے کا خون ہی خون دیکھا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد تین چار دہائیوں میں اس کا عالمی معیشت‘ ترقی اور علم وادب میں کردارآج کے دور سے کہیں مختلف تھا۔ اس کی جامعات ہر ملک کے لیے کھلی تھیں۔ غربت‘ جہالت‘ بیماری اور بھوک کے خاتمے کے لیے جامع ترقی اور تحقیق کے پروگرام تھے۔ آزادی اور جمہوریت کی راہیں علمی استعداد‘ صنعتکاری اور شخصی آزادیوں سے طے ہوتی رہیں۔ کئی ممالک آگے بڑھتے رہے اور وہاں صنعتی انقلاب کی شمعیں بھی روشن ہوتی رہیں۔ امریکہ کی روش گزشتہ ربع صدی میں بالکل اس کے الٹ رہی ہے۔ اب تو ملک کے اندر زبان کھولنا بھی خطرے سے خالی نہیں‘ اور باہر کی دنیا میں بھی ایسے رویوں اور حکمرانوں کی سرپرستی کی جا رہی ہے جو ٹرمپ اور غالب امریکی قدامت پسندوں کے ہمنوا ہیں۔ یورپ میں تو ایسی سیاسی طاقتوں کی کھلی پشت پناہی کی جا رہی ہے۔ تیسری دنیا کے ممالک میں انداز کچھ مختلف ہیں۔ بات یہاں چھوڑ دیں تو بہتر ہے۔
امریکہ کی فوجی قوت کے بارے میں بہت کچھ کہا جا رہا ہے اور بہت کچھ لکھا بھی جائے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کے جدید اور مہلک ترین اسلحے نے ایران میں بہت تباہی مچائی مگر حاصل پھر کیا ہوا؟ ان کا مہلک ترین دفاعی نظام ایران کے سستے ترین ڈرونوں کا مؤثر طریقے سے مقابلہ نہ کر سکا۔ آئندہ کی فوجی حکمت عملی میں ڈرونوں کی افادیت اور ان کا استعمال‘ جو پہلے ہی یوکرین اورروس کی جنگ میں کلیدی کردار حاصل کر چکا ہے‘ سرفہرست ہو گا۔ اس لحاظ سے امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادی دوبارہ سے اپنے دفاعی اتحادوں کا جائزہ لینے پر مجبور ہوں گے۔ ایران نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ جنگ کا ایک اہم مقصد‘ کہ حریفوں کو جارحیت کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے‘ بڑی حد تک حاصل کر چکا ہے۔ کچھ خلیجی ممالک کے سلامتی کے حصار میں ایران نے اس قدر دراڑیں ڈال دی ہیں کہ شاید کبھی ان کو پُر نہ کیا جا سکے۔ سنا ہے دبئی کی رئیل اسٹیٹ‘ جس میں وطنِ عزیز کی اشرافیہ اور حکمران سیکڑوں ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر کے بیٹھے تھے‘ کی نیندیں حرام ہو رہی ہیں۔ ابھی تک ایک تہائی قیمت جنگ کے دھوئیں کی نذر ہو چکی ہے۔ اگر ایران اور امریکہ کا معاہدہ ہو جاتا ہے تو سرمایہ کاری کے سب راستے اس طرف کھلتے ہیں تو دنیا کی نظریں ایران اور پاکستان کی بندرگاہوں اور شہروں کی طرف ہوں گی۔ سیکڑوں ارب ڈالر کا اسلحہ کچھ ممالک کی تیل کی تنصیبات اور امریکی فوجی اڈوں کو مکمل تحفظ نہ دے سکا بلکہ ان کی دفاعی کمزوریاں زیادہ کھل کر سامنے آ گئی ہیں۔ خلیجی ممالک کو بھی ادراک ضرور ہو گا کہ امریکہ کی عالمی طاقت‘ جس پر وہ دہائیوں سے انحصار کرتے آئے ہیں‘ قابلِ بھروسہ نہیں رہی۔ اگر کہیں عقل ودانش اور دور اندیشی آنکھوں پر چڑھی دولت کی چربی کو پگھلا سکے تو لازمی طور پر علاقائی شناخت اور علاقائی تعاون کا احساس پیدا ہو گا۔
ہر جنگ کے خلافِ توقع نتائج نکلتے ہیں۔ ایران کے خلاف جنگ نے تو ایک نئے علاقائی آرڈر کی راہیں کھول دی ہیں۔ دیکھیں ہمارے چار ممالک؛ ترکیہ‘ مصر‘ سعودی عرب اور پاکستان اپنی پرانی ڈگر تبدیل کرتے ہیں یا پھر واشنگٹن کی مرکزیت کا جدید عہد کرتے ہیں۔اس مقصد یہ ہرگز نہیں کہ کوئی نیا بلاک بنا کر امریکہ کی مخالفت کی جائے‘ بلکہ نئے آرڈر کی تشکیل کے لیے اپنی آواز اور مفادات کو محفوظ کیا جائے۔ ایسا کب تک ہوتا رہے گا کہ اسرائیل جب چاہے کسی بھی مسلمان آبادی اور ملک کے خلاف جنگ شروع کر دے اور سب بے بسی کے عالم میں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر صرف دعائیں مانگتے رہیں۔ غزہ کی نسل کشی اور ایران اور جنوبی لبنان کے خلاف جنگ نئی تزویراتی اور جیو پولیٹکل فکر کی دعوت دے رہی ہے۔ دیکھیں ہمارے حکمران کیا کرتے ہیں۔ جنگ کے اثرات کے نتیجے میں ایران یقینا تبدیل ہو گا۔ اس کی راکھ سے نئی فکر اور قیادت ابھرنے کے قوی امکانات ہیں۔ ایرانیوں کو بھی اپنے ماضی حال اور مستقبل کے بارے میں سوچنا ہو گا۔ ماضی کی پالیسیوں کی طرف شاید واپس جانا اتنا آسان نہ ہو۔ سیاسی افادیت کے لیے نعرہ بازی تو رہے گی مگر اپنی تنہائی اور داخلی معروضی سیاسی اور نظریاتی حقیقتوں سے صرف ِنظر کرنا اب ممکن نہ ہو گا۔ علاقے کے دیگر ممالک کی نسبت ایران کہیں زیادہ وقت کے چوراہے پر نظرآ رہا ہے۔ ابھی دیکھنا ہے کہ تعمیر نو‘ جس میں صرف عمارتیں کھڑی کرنا اور قومی تنصیبات کی بحالی نہیں بلکہ فکری اور ادارتی جہتوں کا تعین بھی شامل ہے‘ میں ایران کی سمت کیا ہوتی ہے۔ کسی انقلابی تبدیلی کی توقع نہیں مگر اصلاح پسند جو رجیم کا حصہ رہے ہیں‘ ان کی آوازیں معتبر تو پہلے بھی تھیں‘ اب ان کا احترام کتنا ہوتا ہے‘ طاقت کا توازن وہاں دیکھیں کیا رُخ اختیار کرتا ہے۔ ہماری ملکی قیادت نے امن وسلامتی کے حوالے سے بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ جنگ بندی کے بعد اگر معاہدہ کرانے میں بھی ہماری ثالثی کامیاب ہوتی ہے تو ہمارے لیے بھی یہ آگے بڑھنے اور اپنی نئی عالمی شناخت بنانے کافیصلہ کن لمحہ ہو گا۔