"KDC" (space) message & send to 7575

خوفناک جنگ کی جانب پیش قدمی؟

مشرقِ وسطیٰ کے میدانِ جنگ سے ایسی رپورٹس منظرِعام پر آئی ہیں جنہوں نے تل ابیب سے واشنگٹن تک خوف وہراس کی فضا پیدا کر دی ہے۔ معروف امریکی نیوز ویب سائٹ Semafor کی ایک خبر میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری معرکے میں اسرائیل کا ناقابلِ تسخیر دفاعی حصار اب ٹوٹنے کو ہے کیونکہ ایرانی میزائلوں کو روکنے کے لیے اسرائیل کے پاس دفاعی میزائلوں کا ذخیرہ تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ ایرانی میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے والے قیمتی سٹنر (Stunner) میزائل‘ جنہیں سکائی سیپٹر (SkyCeptor) بھی کہا جاتا ہے‘ اب بالکل ہی کم رہ گئے ہیں۔ ایران نے ایک ساتھ درجنوں ڈرون اور میزائل داغ کر اسرائیل کے اربوں ڈالر کے آئرن ڈوم اور ڈیوڈز سلنگ دفاعی نظام کو بے اثر کر دیا ہے اور ان کے میزائل ذخائر خالی کروا دیے ہیں۔ امریکی حکام بھی اس صورتحال سے پریشان ہیں کیونکہ امریکہ کے اپنے پاس بھی اب اتنے میزائل نہیں کہ وہ فوری طور پر اسرائیل کو فراہم کر سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی تاریخ کا یہ سب سے بڑا دفاعی بحران ہے اور اسرائیل کے اندر خوف کی فضا طاری ہے۔ ایران نے اپنی طاقت کا غیر معمولی مظاہرہ کیا ہے اور اس کی بے مثال مزاحمت نے اسرائیل کی دفاعی طاقت کو ختم کرکے رکھ دیا ہے۔ امریکی حکام اس صورتحال سے خاصے پریشان ہیں اور صدر ٹرمپ کے منصوبے کے برعکس ایران نے اپنی دفاعی اور حربی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا ہے۔
اسرائیل کا رقبہ 1948ء میں اپنے قیام کے وقت چھ ہزار مربع میل کے لگ بھگ تھا اور یہ چاروں طرف سے عرب ریاستوں میں گھرا ہوا تھا۔ بدقسمتی سے مصر کے جنرل جمال عبدالناصر اپنے اتحادیوں کے گھمنڈ میں مبتلا ہو کر 1967ء کی جنگ ہار گئے جس کے نتیجے میں اسرائیل نے عربوں کے مزید علاقوں پر قبضہ کر کے اسرائیل کی توسیع پسندی کے لیے راستہ کھول لیا اور کُل آٹھ ہزار مربع میل رقبہ پر قابض ہو گیا‘ جس میں شام کا گولان پہاڑی علاقہ‘ اردن کا مغربی کنارہ اور غزہ کا علاقہ شامل ہیں۔ 1967ء کی جنگ میں بیت المقدس کے علاوہ اسرائیل نے مصر سے صحرائے سینا بھی چھین لیا۔ مصر کے صدر انور السادات نے کیمپ ڈیوڈ کے معاہدے کے تحت صحرائے سینا جس کا رقبہ 30 ہزار مربع میل تھا‘ 1979ء میں اسرائیل سے واپس لیا۔ اسرائیل نے بعد میں اردن کو مغربی کنارہ اور مصر کو غزہ واپس کرنے کی پیشکش بھی کی لیکن اردن کے شاہ حسین اور مصر کے انور سادات نے بعض وجوہات پر یہ علاقے لینے سے انکار کر دیا۔ اس بارے میں ان دونوں ممالک کے رہنماؤں کا خیال تھا کہ انہوں نے ان علاقوں کو فلسطینی ریاست کے لیے چھوڑ دیا ہے۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ فلسطینی مزاحمت کاروں کی وجہ سے ان علاقوں کو قبول نہیں کیا گیا۔ اس کے لیے اردن میں فلسطینی عوام کے خلاف جنرل ضیا الحق‘ جو اُس وقت بریگیڈیئر تھے‘ کی کمان میں فوجی آپریشن اور کویت اور لبنان سے فلسطینیوں کے انخلا کی مثالیں دی جاتی ہیں۔
ایران پر اسرائیل اور امریکہ کی جنگ نے عالمی طور پر پوری دنیا کو معاشی بحران میں مبتلا کر رکھا ہے لیکن اس سے زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ اس جنگ کا کوئی نتیجہ نکلتا نظر نہیں آ رہا۔ ایران اور اسرائیل اپنے اپنے مؤقف پر قائم رہیں گے اور مستقبل میں اس سے بھی زیادہ خوفناک جنگیں ہمارے سامنے نظر آ رہی ہیں جس کے نتیجے میں خدشہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کا نقشہ مکمل طور پر تبدیل ہو جائے گا اور اس کے اثرات پاکستان کی سرحدوں تک پھیلتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ بعض عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس جنگ کے حتمی نتیجے میں شام‘ عراق‘ متحدہ عرب امارات‘ بحرین‘ قطر اور دیگر عرب ممالک کی سرحدیں تبدیل ہو سکتی ہیں اور ایران بھی اپنی موجودہ جغرافیائی حدود سے محروم ہو جائے گا۔ دوسری جانب اسرائیل کے لیے بھی معاملات آسان نہیں رہیں گے۔ غیر ملکی اسرائیلی ملک چھوڑ دیں گے اور اسرائیل پر اقوام متحدہ کی تسلیم کی گئی 1948ء کی سرحدوں پر واپسی کا دبائو بڑھ جائے گا۔ صدر ٹرمپ نے اس جنگ کی صورت میں بہت بڑا رسک لیا ہے جس کے نتیجے میں ان کی اپنی صدارت بھی صدر نکسن کی طرح خطرے میں پڑ گئی ہے۔
پاکستان کی بات کریں تو جغرافیائی طور پر ہمیں کوئی خطرہ نہیں۔ پاکستان کی سفارتی پالیسی بھی حقیقت پسندانہ اور متوازن ہے۔ دنیا میں طاقت کے دو بڑے مراکز ہیں: ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور عوامی جمہوریہ چین۔ دونوں کے ساتھ پاکستان اپنے تعلقات کو بہتر رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ عالمی نظام میں امریکہ کا اثر ورسوخ زیادہ ہو تو بھی پاکستان کے اس سے تعلقات قائم رہتے ہیں اور اگر چین عالمی طاقت کے طور پر اُبھرتا ہے تو بھی پاکستان کے اس کے ساتھ مضبوط تعلقات موجود ہیں۔ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کو اس انداز میں چلاتا ہے کہ عالمی طاقت کے دونوں بڑے مراکز کے ساتھ رابطہ اور تعاون برقرار رکھ سکے۔ ایک خوش آئند منظر یوں نظر آ رہا ہے کہ ایران جنگ کے بعد سے امریکہ میں اسرائیلی لابی کے اثر ورسوخ اور اس کی حمایت میں واضح کمی آ سکتی ہے۔ افغانستان کے حوالے سے بات کی جائے تو پاکستان اور افغانستان کے مابین جنگ دونوں ملکوں کے لیے پریشان کن ہے۔ ظاہر شاہ کے زمانے میں کابل بیروت کا نقشہ پیش کرتا تھا۔ ظاہر شاہ کے اقتدار کے دوران جشنِ کابل کی بین الاقوامی حیثیت تھی اور پاکستان سے ہزاروں کی تعداد میں نوجوان کابل جایا کرتے تھے اور کابل کی راہداری حاصل کرنے میں کوئی رکاوٹ درپیش نہیں آتی تھی۔ دونوں ملکوں میں جنگ سے سرحدی تجارت‘ عوامی روابط اور علاقائی استحکام خطرے میں پڑ سکتے ہیں اور پورا خطہ ایک نئے عدم استحکام کی طرف بڑھ سکتا ہے۔
ایک اور اہم خبر کہ پاکستان کے ایک بڑے صنعتی گروپ کے نمائندوں نے حال ہی میں ریلوے ہیڈ کوارٹر میں وزیر ریلوے حنیف عباسی سے ملاقات کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پاکستان ریلوے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے بڑا صنعتی گروپ ریلوے کی خریداری کا ارادہ رکھتا ہے اور اس بار بھی شاید وہی فارمولہ اختیار کیا جائے جو اس سے قبل پی آئی اے کی فروخت کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ حکومتی حلقوں میں یہ سوچ عام ہے کہ ریلوے کا ادارہ فروخت کرنے سے وطن ترقی کرے گا۔ پاکستان ریلویز 1947ء سے فروری 1961ء تک شمال مغربی ریلوے اور فروری 1961ء سے مئی 1974ء تک پاکستان مغربی ریلوے تھا۔ حکومت کا ایک باقاعدہ محکمہ ہے جو پاکستان میں ریلوے خدمات فراہم کرتا ہے۔ پاکستان ریلویز پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی طرح ہے جو پاکستان میں بڑے پیمانے پر آمد ورفت کی سستی‘ تیز رفتار اور آرام دہ سہولتیں فراہم کرتا ہے۔ پاکستان ریلوے کی اگر نجکاری ہوتی ہے تو پاکستان اپنے ایک اور قیمتی اثاثے سے محروم ہو جائے گا۔ کسی بھی ملک کی ہمہ جہت ترقی میں ریلوے کا کردار مضبوط بنیاد کی مانند ہوتا ہے۔ معاشی لحاظ سے یہ نظام سستی مال برداری کا سب سے بڑا ذریعہ ہوتا ہے‘ جو کم ترین لاگت اور کم ترین وقت میں خام مال اور تجارتی سامان کو بندرگاہوں سے صنعتی مراکز تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اس سے اشیا کی قیمتوں اور اندرونِ ملک سپلائی لائن بحال رکھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ دنیا کا کوئی بھی ایسا ترقی یافتہ ملک نہیں ہے جہاں ریلوے کا جدید ترین نظام موجود نہ ہو کیونکہ صنعتی ترقی کا پہیہ براہِ راست ریلوے کی کارکردگی سے جڑا ہوتا ہے۔ مختصر یہ کہ ریلوے کی ترقی دراصل ملک کی خوشحالی کی علامت ہے جس کے بغیر مستحکم معاشی مستقبل کا تصور ممکن نہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں