حالیہ دنوں وفاقی دارالحکومت کی انتظامی تاریخ میں ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جسے کچھ عرصہ قبل تک ناقابلِ تصور سمجھا جاتا تھا۔ اسلام آباد پولیس اور انتظامیہ نے شاہراہِ دستور پر واقع ون کانسٹیٹیوشن ایونیو نامی بلند و بالا عمارت کو خالی کروا کر ایک ایسی روایت کو توڑا ہے جس کے تحت بااثر طبقہ خود کو قانون سے بالاتر سمجھتا تھا۔ اشرافیہ کے اس پروجیکٹ پر ہاتھ ڈالنے کا کریڈٹ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر کو جاتا ہے جبکہ ان کے احکامات پر عملدرآمد کرانے کا سہرا وزیر داخلہ سید محسن نقوی کے سر باندھا جا سکتا ہے۔ جب سید محسن نقوی نے آہنی ہاتھوں سے اشرافیہ کو قانون کے دائرے میں لانے کی کوشش کی تو بہت سے مفاد پرستوں کو بے چینی لاحق ہو گئی جنہوں نے اس عمارت میں اپارٹمنٹس لے رکھے تھے؛ چنانچہ انہوں نے زہریلا پروپیگنڈا اور وزیر داخلہ کی کردار کشی شروع کر دی۔
مذکورہ عمارت کی تعمیر کا آغاز پرویز مشرف کے دور میں 2005ء میں ہوا تھا‘ جب اسلامی سربراہی کانفرنس کے موقع اسلام آباد میں ایک بین الاقوامی معیارکے ہوٹل کی ضرورت محسوس کی گئی۔ اس مقصد کے لیے سی ڈی اے نے بیک وقت دو اہم مقامات کو لیز پر دینے کا فیصلہ کیا۔ سب سے اہم مقام کانسٹیٹیوشن ایونیو تھا جہاں فائیو سٹار ہوٹل بننا تھا جبکہ دوسرا مقام ایک مال کے لیے مختص کیا گیا۔ کانسٹیٹیوشن ایونیو کی لیز تقریباً پونے پانچ ارب روپے تھی جبکہ مذکورہ مال والی جگہ کی لیز اس سے کہیں زیادہ‘ یعنی تقریباً ساڑھے سات ارب روپے میں دی گئی۔ اس منصوبے میں ملک کے متعدد بڑے سرمایہ کار اور صنعتکاربطور پارٹنر شامل تھے۔ ہوٹل انڈسٹری کے نمایاں نام بھی اس لیزنگ میں دلچسپی رکھتے تھے مگر پھر انہیں یہ منصوبہ منافع بخش محسوس نہ ہوا۔ اس کے برعکس ناتجربہ کار مل مالکان نے اس منصوبے کو آگے بڑھایا‘ حالانکہ ابتدا ہی سے ان کا ارادہ اس زمین پر ہوٹل بنانے کا نہیں تھا۔ سی ڈی اے کی شرائط کے تحت صرف 15 فیصد ادائیگی کر کے تعمیراتی کام شروع کر دیا گیا۔ اسی دوران ایک وزیرکا مبینہ فرنٹ مین سی ڈی اے میں ڈائریکٹر لیگل تعینات ہو گیا جس نے تعیناتی کے فوراً بعد لیز معاہدے میں پُراسرار تبدیلیاں کروا کر ہوٹل کی جگہ اپارٹمنٹس بنانے کی اجازت حاصل کر لی۔ جب ہوٹل گروپ کو اس تبدیلی کا علم ہوا تو انہوں نے سپریم کورٹ میں اس کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا۔ عدالت کی جانب سے سی ڈی اے کو نوٹس جاری کیے گئے‘ جس کے بعد ادارے نے اپنی غلطیوں کو درست کرنے کی کوشش کی۔ سی ڈی اے حکام نے متعلقہ افراد سے وضاحت طلب کی جس پر انہوں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس زمین پر وہ ہوٹل ہی تعمیر کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے یہ منصوبہ اپنے وسائل سے مکمل نہیں کیا تھا بلکہ بینک سے اربوں روپے کا قرض حاصل کیا اور ساتھ ہی اپارٹمنٹس کی فروخت بھی شروع کر دی۔ پھر ملک کی اشرافیہ نے یہاں اپارٹمنٹس خرید لیے۔ شنید ہے کہ چند مخصوص افراد کو بغیر ادائیگی کے بھی اپارٹمنٹس دیے گئے۔
اگر سی ڈی اے کو مکمل ادائیگی‘ یعنی پونے پانچ ارب روپے ایڈوانس میں ادائیگی کر دی جاتی تو قانونی طور پر اس زمین کی ملکیت حاصل کی جا سکتی تھی مگر صرف 15فیصد رقم ادا کی گئی۔ بعد ازاں 2019ء میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق تقریباً ساڑھے چودہ ارب روپے کے نادہندہ قرار پائے۔ مزید یہ کہ مکمل ادائیگی کی صورت میں بھی اپارٹمنٹس فروخت کرنے کے مجاز نہ تھے کیونکہ یہ زمین لیز پر تھی‘ اس کے باوجود فروخت کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔ اس ایونیو میں مجموعی طور پر 263اپارٹمنٹس بنائے گئے ‘ جن میں سے ہر ایک کی قیمت کروڑوں روپے میں ہے۔
اگر سابق چیف جسٹس گلزار احمد کراچی کے نسلہ ٹاور کو گرانے کا حکم دے سکتے ہیں تو پھر وَن کانسٹیٹیوشن ایونیو کے معاملے پر وزیراعظم کی جانب سے کمیٹی کی تشکیل سوالیہ نشان ہے اور انتظامی مداخلت محسوس ہوتا ہے۔ ون کانسٹیٹیوشن ایونیو نہایت اہم اور قیمتی مقام پر واقع خوبصورت ٹاورز ہیں۔ اس عمارت کو سیاسی تنازعات کی نذر کرنے کے بجائے اسے بین الاقوامی کانفرنسوں کیلئے سرکاری تحویل میں لیا جا سکتا ہے ‘ یوں اس کی نگرانی اور انتظام بہتر طریقے سے کیا جا سکتا ہے۔ جن افراد نے یہاں اپارٹمنٹ خرید رکھے ہیں‘ انہیں موجودہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق ادائیگی ڈویلپرز کے اثاثے فروخت کر کے کی جا سکتی ہے کیونکہ عدالتِ عظمیٰ پہلے ہی اس کی لیز منسوخ کر چکی ہے‘ جس کے بعد اس کی ملکیت بھی ختم ہو چکی ہے۔
اگر قومی منظر نامے کی بات کریں تو ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے بعد ملک کے اندرونی حالات پر بھی توجہ مرکوز ہونے کی ضرورت ہے۔ جن دنوں اسلام آباد ٹاکس کی وجہ سے دنیا بھر کی نظریں اسلام آباد پر مرکوز تھیں‘ ان دنوں صدرِ مملکت آصف علی زرداری سندھ میں اپنے فارم ہاؤس میں قیام پذیر تھے اور ٹنڈو الٰہ یار میں ایک سیاستدان کے ہاں تعزیت کے لیے بھی گئے۔ واپسی پر ان کی ایک نمایاں سرگرمی بلوچستان کے سردار یار محمد رند سے ملاقات تھی۔ مبینہ طور پر یہ ملاقات ایک عشائیے پر ہوئی جہاں صدر نے دعوتی کھانوں کے بجائے اپنے مخصوص خانساماں کے تیار کردہ سادہ اور پرہیزی کھانے پر اکتفا کیا۔ اس ملاقات میں زیرِ بحث آنے والے معاملات مستقبل میں اہم سیاسی پیش رفت کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ آصف علی زرداری اپنے منصبِ صدارت کے ساتھ ساتھ پس پردہ بھی سیاسی طور پر سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ بعض باخبر حلقے دعویٰ کر رہے ہیں کہ ان کے بعض قریبی ساتھیوں کو ہدف بنایا جا رہا ہے اور بعض اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کے خلاف کرپشن‘ اختیارات کے ناجائز استعمال‘ منی لانڈرنگ اور زمینوں پر قبضے جیسے الزامات کی تفصیلات بھی سامنے آنے والی ہے۔
ملک اس وقت ایک نازک معاشی دور سے گزر رہا ہے۔ بظاہر تو معیشت میں استحکام دکھائی دیتا ہے مگر یہ مصنوعی اور عارضی ہے‘ جس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ تیل کے بحران کو ایران امریکہ کشیدگی کے تناظر میں عوام پر بوجھ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔28فروری کو شروع ہونے والی ایران امریکہ جنگ کے بعد سے بنگلہ دیش میں پٹرول کی قیمت 130 ٹکہ پر برقرار ہے کیونکہ وہاں کی حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کا بوجھ خود اٹھایا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر کے عوام پر اربوں روپے کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ یہ رقوم کہاں جا رہی ہیں۔ ان حالات میں خواجہ آصف کی یہ بات چند ترامیم کے ساتھ درست معلوم ہوتی ہے کہ بیرونی ممالک خصوصاً پرتگال بیوروکریٹس کے لیے پُرکشش مقام بن چکا ہے مگر اس میں صرف افسر شاہی شامل نہیں سیاستدان اور دیگر بااثر طبقات بھی ان کے ہم قدم ہیں جبکہ ملک ایک نئے سیاسی و معاشی موڑ کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔