"KDC" (space) message & send to 7575

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے علاقائی اثرات

ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں عوام میں غم و غصے کی لہر پیدا ہونا قدرتی امر ہے۔اس صورتحال میں حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ یہاں موجود غیر ملکی سفارتخانوں خصوصاً امریکی سفارتخانے اور دیگر امریکی اثاثوں کو محفوظ رکھے اور ساتھ ہی اپنے ملک کو اس جنگ کے ممکنہ اثرات سے بھی بچائے۔ اس پیچیدہ صورتحال میں پاکستان کے علاقائی تعلقات بھی اسے ایک مشکل امتحان میں ڈال رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے قریبی تعلقات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ متحدہ عرب امارات نے پاکستان کو معاشی بحران سے بچانے کے لیے تقریباً تین ارب ڈالر پاکستانی بینکوں میں جمع کرا رکھے ہیں۔ اس وجہ سے متحدہ عرب امارات کی توقعات بھی پاکستان سے وابستہ ہیں۔ اسی طرح قطر پاکستان کو بڑی مقدار میں گیس فراہم کرتا ہے‘ جو پاکستان کی توانائی کی ضروریات کے لیے نہایت اہم ہے۔ قطر یہ بھی چاہتا ہے کہ پاکستان خطے میں ایک مثبت اور فعال کردار ادا کرے۔ پاکستان کو اس وقت جذباتی فیصلوں کے بجائے انتہائی سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا ہو گا۔ خطے کے تمام ممالک کے ساتھ توازن قائم رکھنا‘ اپنے قومی مفادات کو مقدم رکھنا اور اپنے عوام کو جنگ کے اثرات سے بچانا ہی پاکستان کی ناگزیر ضرورت ہے۔ ایک حساس ادارے کے سابق سربراہ نے امریکہ ایران جنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس جنگ کا نتیجہ غیر متوقع نکلے گا۔ اگر ایران کو شکست ہوتی ہے تو پاکستان کی مغربی سرحد پر اسرائیل کا اثر و رسوخ بڑھ جائے گا جو پاکستان کے لیے نہایت خطرناک ہوگا۔ اس صورت میں پاکستان پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے دباؤ بڑھ سکتا ہے۔یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ علاقائی صورتحال اور سیاسی عدم استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے مقتدرہ آئین کے آرٹیکل 234 میں ترمیم کر کے پارلیمانی انتخابات تین سال کے لیے ملتوی کروا سکتی ہے۔مگر پارلیمنٹ کی مدت میں تین سال کی توسیع ہو گی تو انتخابی سیاست سرد پڑ جائے گی اور سیاسی جماعتیں غیر فعال ہو جائیں گی۔
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر ملکی قیادت کی گہری نظر ہے اور وہ اس بین الاقوامی حکمت عملی کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ اس پس منظر میں چیف آف ڈیفنس فورسزفیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے حالیہ دنوں سعودی عرب کا دورہ کیا اور اہم شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔ ماضی میں بھی ایسے نازک مواقع پر اسی نوعیت کی سفارتی سرگرمیاں دیکھنے میں آئیں۔ 1965ء کی جنگ میں فیلڈ مارشل ایوب خان نے ایئر مارشل اصغر خان کو خصوصی پیغامات دے کر چین اور انڈونیشیا میں اہم ذمہ داریاں سونپی تھیں۔ اصغر خان نے جنگ کے دوران شاہ ایران رضا شاہ پہلوی سے بھی خصوصی ملاقات کی تھی۔ شاہ ایران ایئر مارشل اصغر خان کی ذہانت اور فراست سے بہت متاثر ہوئے تھے۔ جنرل ضیاء الحق نے جولائی 1977ء میں اقتدار سنبھالا تو شاہِ ایران کی خواہش تھی کہ ایئر مارشل (ر) اصغر خان کو عبوری حکومت کا وزیراعظم مقرر کیا جائے اور یہ خواہش چین اور انڈونیشیا کی بھی تھی۔
مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور اس کے اثرات کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان میں اس وقت پورے خطے سے مہنگا پٹرول فروخت ہو رہا ہے۔ بھارت‘ سری لنکا‘ بنگلہ دیش‘ نیپال‘ چین اور ایران کے مقابلے میں پاکستان میں پٹرول کی قیمت سب سے زیادہ ہے۔ اگر فی کس اوسط آمدنی کا موازنہ کیا جائے تو خطے میں پاکستان کی آمدنی سب سے کم ہے ۔ پاکستان میں فی کس ماہانہ آمدنی 39 ہزار روپے ہے جبکہ بنگلہ دیش میں 68 ہزار روپے‘ بھارت میں 70 ہزار روپے‘ ایران میں 97 ہزار روپے‘ سری لنکا میں ایک لاکھ روپے اور چین میں تین لاکھ روپے ہے۔ بھارت‘ چین اور بنگلہ دیش نے پٹرول کی قیمت میں پانچ سے دس روپے تک کا اضافہ کیا‘ ایران نے ایک روپیہ اضافہ کیا‘ جبکہ پاکستان نے 55 روپے کا اضافہ کر دیا۔ اس کی ایک وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ پاکستان کے وزیر خزانہ کا تعلق سرزمین پاکستان سے نہیں۔ ملک کے 22ہزار بیورو کریٹس بھی دہری شہریت کے حامل ہیں۔ ملک کی پالیسیاں یہی بیورو کریٹس بناتے ہیں جبکہ وزرا ٹاک شوز میں ہی نظر آتے ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نہ ختم ہونے والے اضافے اور مہنگائی کی شدید لہر نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ صاحبانِ اقتدار عوام کی مشکلات سے بالکل بے خبر دکھائی دیتے ہیں۔ پٹرول کی قیمت میں ابھی اضافے کا جواز نہیں تھا کیونکہ تیل کے ذخائر تو ایران‘ امریکہ جنگ سے پہلے سے ملک میں موجود تھے۔ اب اسی پرانے سٹاک پر ٹیکس لگا کر لگ بھگ ایک کھرب تیس ارب روپے کمائے جا رہے ہیں۔ اگر حکومت ملک میں مہنگائی کے سیلاب کو روکنا چاہتی ہے تو پاکستان کو روس سے سستا تیل منگوانا چاہیے۔ وزیراعظم امریکی صدر ٹرمپ کو نوبیل پیس پرائز دینے کی سفارش تو بہت کرتے ہیں مگر ان کے پاس جا کر روس سے سستا تیل لینے کی اجازت لینے کو کیوں تیار نہیں؟ ان حالات میں عوام کو ریلیف دینے کے بجائے سارا بوجھ عوام پر ڈالا جا رہا ہے۔ سیاسی طور پر حکومت اور اس کے اتحادیوں کا ووٹ بینک زیرو ہو چکا ہے۔جس ملک میں لوگ فی لیٹر 55 روپے اضافے کی خبر سن کر ٹنکیاں فل کرانے کیلئے نکل کھڑے ہوں وہاں ظلم‘ ناانصافی اور مہنگائی کے خلاف آواز اٹھانے کا تصور بے معنی ہو جاتا ہے۔
پاکستان کے سٹاک میں اس وقت تقریباً دس لاکھ ٹن پٹرول اور ڈیزل موجود ہے۔ گزشتہ روز چار بحری جہاز 25 کروڑ لیٹر پٹرول لے کر پورٹ قاسم پہنچے جس سے ملکی ذخائر میں مزید بہتری آئی۔ پہلے سے خریدے گئے پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 55 روپے کا اضافہ کر کے وفاقی حکومت نے محض اپنی جیبیں بھری ہیں جبکہ اسی دوران حکومت نے پٹرولیم پر لیوی میں بھی مزید اضافہ کر دیا۔ اس سب کی قیمت نچلے اور متوسط طبقے اور ملکی انڈسٹری کو چکانا پڑے گی۔ پاکستان معاشی لحاظ سے پہلے ہی تشویشناک صورتحال کا سامنا کررہا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر بتدریج کم ہو رہے ہیں۔ ایسے میں یہ خبریں تشویش میں اضافہ کرتی ہیں کہ سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات اور قطر سٹیٹ بینک میں رکھوائے گئے اپنے ڈالر واپس طلب کر رہے ہیں۔ دوسری جانب حکومت کی عیاشیاں ہیں کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہیں۔ حالیہ دنوں میں یہ باتیں بھی سننے میں آئیں کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے جہاز کے دو غیر ملکی پائلٹوں کی تنخواہ ہی 32 ہزار ڈالراور 38 ہزار ڈالر ماہانہ ہے۔ ایک اور خبر یہ ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نے کہا ہے کہ اسرائیل کے پاس ایرانی حکومت کو ختم کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی جارحیت دراصل قیادت کی تبدیلی کی جنگ ہے اور یہ مشرق وسطیٰ کے نقشے کو دوبارہ ترتیب دینے کا عالمی پلان معلوم ہوتا ہے۔ اس کے اثرات پاکستان کی سرحدوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ ایران کو عراق کی طرز پر تقسیم کرنے کی باتیں زیرِ بحث ہیں۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد اس خطے میں نئی سرحدیں کھینچی گئی تھیں۔ اب ایک بار پھر خلیجی ممالک کے نقشوں کو ازسرِ نو ترتیب دینے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں