"KDC" (space) message & send to 7575

بلدیاتی انتخابات کے التوا کا جواز؟

وفاقی کابینہ نے لوکل گورنمنٹ آرڈی نینس میں ترمیم کیلئے گزشتہ ہفتے اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات ملتوی کر دیے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری کیا جا چکا تھا‘ جس کے مطابق 15فروری کو بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ہونا تھا مگر یہ ایک بار پھر ملتوی ہو گئے ہیں۔ اسلام آباد میں تقریباً پانچ سال سے بلدیاتی انتخابات مسلسل تاخیر کا شکار ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وفاقی حکومت اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کرانے میں سنجیدہ نہیں جبکہ بیوروکریسی بھی اپنے اختیارات عوامی نمائندوں کو تفویض کرنے میں تذبذب کا شکار دکھائی دیتی ہے۔موجودہ حکومت اور نظام کی ایک نمایاں خوبی یہ ہے کہ یہ خاموشی پر یقین رکھتے ہیں۔ اگر نظام میں کوئی تبدیلی مقصود ہے تو اس کیلئے سات اکتوبر 1958ء‘ 25 مارچ 1969ء‘ پانچ جولائی 1977ء‘ 12 اکتوبر 1999ء اور آٹھ فروری 2024ء کے حالات کو مدنظر رکھنا ناگزیر ہے جبکہ ڈوبتی ہوئی معیشت کا ازالہ بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ اسی پس منظر میں آئین کے آرٹیکل 243اور 248میں اہم ترامیم کے بعد حکومت کی پالیسی زبانی سے زیادہ عملی اقدامات پر مبنی دکھائی دیتی ہے۔ موجودہ وفاقی کابینہ ملکی تاریخ کی سب سے بڑی کابینہ ہے لیکن اس کے باوجود عوام اس کی کارکردگی سے مطمئن نہیں۔ اسی لیے یہ تھیوری جنم لے چکی ہے کہ مستقبل قریب میں ایک ایسا نظامِ حکومت نافذ کیا جا سکتا ہے جس کے خدوخال 20دسمبر 1971ء اور 14اگست 1973ء کے درمیانی عرصے کی آئینی حیثیت سے مشابہ ہوں۔ ممکن ہے کہ آنے والے وقت میں کوئی بہت بڑی تبدیلی سامنے آ جائے۔
میں جس دورانیے کی طرف اشارہ کر رہا ہوں‘ اُس وقت میری جسٹس حمود الرحمن سے تین گھنٹے طویل ایک نہایت اہم ملاقات ہوئی‘ تب وہ ملک کے چیف جسٹس تھے۔ ملاقات کے دوران انہوں نے بتایا کہ جنرل یحییٰ خان نے 25مارچ 1969ء کو اقتدار سنبھالتے ہی 1962ء کا آئین معطل کر دیا۔ اس کے ایک سال بعد‘ مارچ 1970ء میں لیگل فریم آرڈر (ایل ایف او) کے ذریعے صوبوں کی بحالی‘ وَن یونٹ کے خاتمے‘ نیشنل سکیورٹی کونسل کے قیام اور بالغ رائے دہی کی بنیاد پر انتخابات کا اعلان کیا گیا۔ یہ زیادہ تر وہی مطالبات تھے جو فیلڈ مارشل ایوب خان عوامی مخالفت کے بعد 12مارچ 1969ء کی گول میز کانفرنس میں مجبوراً تسلیم کر چکے تھے۔ ایل ایف او کے تحت انتخابات کیلئے پہلے اکتوبر 1970ء کا وقت مقرر کیا گیا‘ جسے بعد میں دسمبر 1970ء کر دیا گیا۔ جسٹس حمود الرحمن نے آئینی نکتے پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ ایل ایف او میں یہ شق بھی شامل تھی کہ قومی اسمبلی کو 120دن کے اندر ملک کا آئین بنانا ہوگا‘ بصورتِ دیگر اسمبلی خودبخود ٹوٹ جائے گی اور صدر دوبارہ انتخابات کرا دے گا۔ اسی ایل ایف او کے تحت پاکستان میں انتخابات کرائے گئے اور قومی اسمبلی کا اہم ترین اجلاس تین مارچ 1971ء کو بلانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔ لیکن ذوالفقار علی بھٹو کے دباؤ کے تحت جنرل یحییٰ خان نے قومی اسمبلی کے اجلاس کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا اور آئین ساز اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دیا گیا۔ اسی دوران 16دسمبر 1971ء کو سقوط ڈھاکہ کا سانحہ پیش آگیا۔ اس سانحے کے بعد جنرل یحییٰ خان نے اقتدار ذوالفقار علی بھٹو کے سپرد کر دیا اور ایل ایف او خودبخود تحلیل ہو گیا۔
چیف جسٹس حمود الرحمن نے یہ بھی بتایا کہ جنرل یحییٰ خان کے گرد موجود افراد نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ سقوطِ ڈھاکہ کے بعد اقتدار ذوالفقار علی بھٹو کو دینے کے بجائے چیف جسٹس حمود الرحمن کے سپرد کیا جائے کیونکہ آئین ساز اسمبلی 120 دن کے اندر آئین بنانے میں ناکام رہی تھی اور ایل ایف او کی روشنی میں وہ از خود تحلیل ہو چکی تھی‘ لہٰذا اب اُن انتخابات کی کوئی آئینی حیثیت نہیں تھی۔ بقول چیف جسٹس حمود الرحمن‘ ان افراد کی اس رائے کو جنرل گل حسن اور جنرل ٹکا خان نے مسترد کرتے ہوئے اقتدار ذوالفقار علی بھٹو کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا۔ چیف جسٹس آف پاکستان کو اقتدار سپرد کرنے کی تجویز دینے والوں میں جنرل عمر‘ جنرل حمید اور جنرل پیرزادہ پیش پیش تھے اور غالباً جنرل ابوبکر مٹھا بھی اسی رائے کے حامل تھے۔ ان کی تجویز یہ تھی کہ نئی آئین ساز اسمبلی کے انتخابات چیف جسٹس آف پاکستان کی نگرانی میں کرائے جائیں۔ تاہم جنرل گل حسن نے اقتدار مسٹر بھٹو کو دینے پر زور دیا۔ انہی دنوں پاکستان ٹائمز کے چیف ایڈیٹر زیڈ اے سلہری اور ڈان کے چیف ایڈیٹر الطاف گوہر نے الگ الگ مطالبہ کیا کہ مسٹر بھٹو کے خلاف غداری کے مقدمات درج کیے جائیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ چونکہ جنرل یحییٰ خان کے جاری کردہ ایل ایف او کے تحت 120دن کے اندر آئین نہیں بنایا جا سکا اور سقوطِ ڈھاکہ کے بعد متحدہ پاکستان کا تصور بھی ختم ہو چکا تو ایسے میں مسٹر بھٹو کو اقتدار دینے کی گنجائش کیسے پیدا ہوئی‘ یہ ایک بڑا آئینی سوال ہے۔
اسی طرح غالباً مارچ 1972ء میں الطاف گوہر اور ملک غلام جیلانی کی صاحبزادی عاصمہ جیلانی نے مسٹر بھٹو کے اقتدار کو چیلنج کیا۔ جنرل یحییٰ خان کے خلاف دائر آئینی پٹیشن میں الطاف گوہر نے بیان دیا کہ فیلڈ مارشل ایوب خان نے اقتدار جنرل یحییٰ خان کے سپرد نہیں کیا تھا بلکہ انہوں نے 1962ء کے آئین کے تحت جنرل یحییٰ خان کو خط لکھا تھا کہ وہ اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کریں‘ جس کا واضح مطلب یہ تھا کہ اقتدار قومی اسمبلی کے سپیکر عبدالجبار کے سپرد کیا جائے۔ اس کے برعکس جنرل یحییٰ خان نے آئین معطل کر کے اقتدار پر قبضہ کیا۔ الطاف گوہر اور عاصمہ جیلانی کیس میں جسٹس حمود الرحمن نے جنرل یحییٰ خان کو غاصب قرار دینے پر اکتفا کیا جبکہ مسٹر بھٹو کے معاملے میں خاموشی اختیار کرتے ہوئے نظریۂ ضرورت کا سہارا لیا۔
2026ء کا آغاز ہو چکا‘ ایک اور سال گزر گیا مگر عوام کی زندگی میں کوئی خاص بہتری نہیں آ سکی۔ چند افراد اور خاندان اپنی کامیابیوں پر خوش ہیں اور اس وقت ملک کے تقریباً ہر فیصلے پر ان کی گرفت ہے۔ ان کی کامیابی کا معیار ایک عام آدمی کی زندگی میں خوشحالی‘ احساسِ تحفظ اور خوشیوں سے وابستہ نہیں ہے۔ رواں برس ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر مزید کم ہوتی دکھائی دیتی ہے جبکہ وزیر خزانہ کی تقاریر محض لفاظی کے مترادف ہیں۔ جس ملک میں بجٹ خسارے کا شکار ہو‘ بیرونی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہو‘ ٹیکس چوری کا رجحان ہو‘ برآمدات مسلسل کمی کا شکار ہوں‘ بیروزگاری روز افزوں ہو‘ وہاں کرنسی مستحکم نہیں رہ سکتی۔ معاشی ماہرین کے مطابق حکومت نے مصنوعی طریقے سے ڈالر کی قدر میں اضافے کو روکا ہوا ہے‘ جس میں کسی بھی وقت بڑا اضافہ ہو سکتا ہے۔
اسی طرح خارجہ محاذ پر حکمرانوں کے بیرونی دوروں میں تو اضافہ ہوا ہے مگر ان کا ملک کو مجموعی طور پر کوئی فائدہ ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ ملک میں سیاسی اور معاشی عدم استحکام کے باعث پاکستانی تیزی سے اپنا سرمایہ بیرونِ ملک بالخصوص دبئی منتقل کر رہے ہیں۔ بادی النظر میں سیاستدانوں کی غلطیوں اور ذاتی مفادات نے ملک کو اس بدحالی کی طرف دھکیلا ہے۔ ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کیلئے ضروری ہے کہ ہر شعبے کے ماہرین پر مشتمل ایک ایسا گروپ تشکیل دیا جائے جو ملک کو درست سمت میں لے جانے کیلئے ایک جامع پلان تیار کرے۔ موجودہ کابینہ کو تبدیل کرکے ازسرِنو ماہرین کی کابینہ تشکیل دی جائے‘ چاروں صوبائی حکومتوں کو تحلیل کر کے ایک ایمرجنسی کونسل کے زیرِسایہ لایا جائے‘ اور وفاق میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں کی جائیں۔ 28ویں ترمیم میں آئین کے آرٹیکل 243میں مزید اہم ترامیم کی جا سکتی ہیں اور اس کا روڈ میپ مناسب وقت پر سامنے آئے گا۔ جو حکومت آئین کے آرٹیکلز 3‘ 4‘ 25‘ 132 اور 140(اے) کے تحت بلدیاتی انتخابات تک نہ کرا سکے‘ اس کے اقتدار میں رہنے کا کیا جواز رہ جاتا ہے؟

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں