یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ بڑے بڑے طاقتورلیڈر‘ جنہوں نے اپنی قوت‘ دولت اور اختیار پر غرور اور بھروسا کیا‘ بالآخر زوال کا شکار ہوئے۔ صدام حسین اور کرنل قذافی جیسے حکمران ہوں یا ماضی قریب کے دیگر آمر‘ سبھی نے خود کو ناقابلِ شکست سمجھا مگر وقت نے ثابت کیا کہ طاقت ہمیشہ عارضی ہوتی ہے۔ اقتدار‘ لشکر اور طاقت کے سائے میں کھڑے یہ لوگ انجام کے دن تنہا رہ گئے۔ شاہ ایران‘ شیخ مجیب الرحمن اور حسینہ واجد ماضی قریب کی مثالیں ہیں۔ اصل طاقت جبر میں نہیں انصاف‘ حق اور عاجزی میں ہوتی ہے‘ اور جو خود کو سب سے بالا سمجھتا ہے تاریخ اسے سب سے پہلے زمین پر لے آتی ہے‘ جیسے فرعون اور نمرود۔
شعور اور علم اگرچہ انسان کا پیٹ نہیں بھرتے مگر یہ انسان کو وسائل پیدا کرنے‘ روزگار حاصل کرنے اور معاشی مشکلات سے نبرد آزما ہونے کے قابل ضرور بناتے ہیں۔ ایک قوم جسے تعلیم اور شعور حاصل ہو‘ وہ غربت اور غذائی قلت سے بہتر طور پر نکل سکتی ہے۔ کسی غریب کو روزانہ کی بنیاد پر کھانا فراہم کرنا غربت کے خاتمے کا کوئی مستقل حل نہیں۔ پیٹ بھرنے کیلئے شعور اور معاشی وسائل دونوں ضروری ہیں‘ لیکن ہمارے حکمران چاہتے ہیں کہ قوم بس قیمے والے نان اور بریانی کے ڈبے کے پیچھے بھاگتی رہے اور شعور حاصل نہ کرے کیونکہ جس دن عوام میں عقل‘ سوال کرنے کی جرأت اور حق و باطل کی تمیز آجائے گی اسی دن حکمرانوں کا احتساب شروع ہو جائے گا۔ جیسا کہ تیونس‘ شام‘ بنگلہ دیش‘ نیپال اور سری لنکا میں ہوا جہاں عوام نے خود حکمرانوں کا احتساب شروع کر دیا۔ اس لیے ہمارے ہاں وقتی ریلیف‘ لنگر اور نعروں کے ذریعے لوگوں کو مصروف رکھا جاتا ہے جبکہ ان کی تعلیم‘ شعور اور فکری آزادی کو دانستہ نظرانداز کیا جاتا ہے۔ ایک باشعور قوم کو قابو میں رکھنا مشکل ہوتا ہے اس لیے بدحالی کو حکمت عملی بنا لیا گیا ہے تاکہ لوگ روزی روٹی کی جنگ میں الجھے رہیں اور اقتدار میں بیٹھے حکمران بلاخوف حکمرانی کرتے رہیں۔
جنرل ضیا الحق نے 1970ء میں یہی فلسفہ ایک پالیسی کی صورت اختیار کیا تھا کہ عوام کو غربت کی لکیر کے نیچے رکھا جائے تاکہ ان میں حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کی سکت ہی پیدا نہ ہو۔ جنرل ضیا الحق کی اس پالیسی کے حوالے سے مجھے ان کے وزیرداخلہ محمود ہارون نے ایک ملاقات میں بتایا تھا۔ اس ملاقات میں جنرل را ؤ فرمان‘ وزارتِ مذہبی امور کے سیکرٹری چودھری شوکت علی اور ملک کے نامور صحافی اظہر سہیل بھی موجود تھے۔ محمود ہارون بعد ازاں گورنر سندھ بھی رہے اور 1990ء کے انتخابات سے راہِ فرار اختیار کرتے ہوئے عمرے پر تشریف لے گئے اور وہاں سے کانوں کی بیماری کے بہانے لندن چلے گئے کیونکہ اُس وقت صدر غلام اسحاق خان اور جام صادق نے بینظیر بھٹو کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا ہوا تھا۔ بقول محمود ہارون‘ جنرل ضیا الحق اکثر یہ بات دہراتے تھے کہ مسٹر بھٹو کے دورِ حکومت میں ملک میں خوشحالی تھی لیکن عوام نے ناشکری کرتے ہوئے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی آڑ میں خونریز احتجاج شروع کر دیا۔ اگر ہمارے سیاسی تجزیہ کار غور کریں تو وہ جنرل ضیا الحق کی اس حکمتِ عملی کو سمجھ سکتے ہیں کہ 1980ء کے بعد عوامی احتجاج کیوں جڑ نہ پکڑ سکا‘ کیونکہ عوام کو 'قیمے والے نان‘ اور وقتی آسائشوں میں الجھا دیا گیا تھا۔ عمران خان کے دور میں بھی اسی مقصد کے تحت لنگر خانے اور عارضی پناہ گاہیں تیار کی گئیں۔ اس کے برعکس بنگلہ دیش میں نچلی سطح تک خوشحالی کی منتقلی کی حکمت عملی اپنائی گئی اور اس مقصد کیلئے حسینہ واجد حکومت اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کے تعاون سے خواتین میں تقریباً 50 لاکھ سلائی مشینیں اور دیگر وسائل تقسیم کیے گئے جس سے لاکھوں گھرانے خوشحال ہوئے۔ اگر حسینہ واجد اپنی ظالمانہ اور آمرانہ پالیسی ترک کر دیتیں تو شاید آج بھی ان کا اقتدار ہوتا‘ لیکن جب ظلم حد سے بڑھ گیا تو قدرت کے نظام نے حرکت میں آکر اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
حکومت پنجاب نے بسنت پر جو اربوں روپے لٹائے اس کا حساب بھی دینا پڑے گا۔ مقتدر حلقے اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس کا حساب رکھنے کے لیے مسٹر بھٹو کے دورِ حکومت کی طرز پر ڈوزیئر تیار کیے جانے کا امکان ہے۔ وزیراعظم بھٹو نے اپنے قابلِ اعتماد بیوروکریٹ ظہور آذر سے کابینہ کے اراکین کے خلاف ڈوزیئرز تیار کروا رکھے تھے‘ اس مقصد کے لیے وزیراعظم کی نگرانی میں ایک دستاویزات کمیشن قائم کیا گیا تھا۔ اس کمیشن میں ظہور آذر انتہائی رازداری کے ساتھ اپنا کام سرانجام دیتے رہے۔ بعدازاں جب مسٹر بھٹو اقتدار سے محروم ہوئے تو ظہور آذر نے یہ سینکڑوں فائلیں جنرل ضیا الحق کو پیش کردیں‘ انہی فائلوں کی بنیاد پر جنرل ضیا الحق نے پیپلز پارٹی کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ ایک گروپ کے کرتا دھرتا مولانا کوثر نیازی تھے اور دوسرے کے غلام مصطفی جتوئی‘ یوں پیپلز پارٹی کی قوت ٹکڑوں میں بٹ گئی۔
عسکری قیادت پاکستان کی حقیقی محافظ ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو قدرت نے پاکستان کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی ہے۔ جہاں وہ ملک سے کئی دیگر فتنوں کا خاتمہ کر رہے ہیں وہیں کرپشن جیسے فتنے کی سرکوبی کے لیے قومی احتساب بیورو میں ایسا ونگ قائم ہونا چاہیے جس کا کام کرپٹ ارکانِ اسمبلی‘ وزرا اور بیوروکریٹس کے خلاف ڈوزیئرز تیار کر کے براہِ راست فیلڈ مارشل کو پیش کرنا ہو‘ جس طرح بطور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی انہوں نے وزیراعظم عمران خان کو بشریٰ بیگم کی کرپشن سے متعلق دستاویزات پیش کی تھیں۔ اگر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کرپشن کے فتنہ کے انسداد کو اولین ترجیح بنا لیں تو چند ہی برسوں میں کرپٹ سیاستدان راہِ فرار اختیار کرنے پر مجبور ہو جائیں گے اور ملک خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکے گا۔ مزید یہ کہ انہیں اپنے ماتحت اداروں کے ذریعے اسلام آباد کے فائیو سٹار ہوٹلوں میں غیر معینہ مدت تک قیام پذیر بیوروکریٹس‘ ارکانِ اسمبلی اور وزرا کی بھی چھان بین کرانی چاہیے کہ آخر ان کے پُرتعیش سوئٹس کے اخراجات کون ادا کر رہا ہے۔
ملک کی ڈوبتی معیشت‘ امن و امان کی مایوس کن صورتحال‘ دو صوبوں میں اقتدار کی کمزور گرفت اور پنجاب میں تختِ لاہور کے منصوبوں پر اربوں روپے کے بے دریغ اخراجات نے ایک سیاسی شخصیت کی خودنمائی کو وفاق کے لیے سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔ ایسی شخصیت کے امیج پر اربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں جو محض تکنیکی بنیادوں پر مقدمات سے فارغ ہوئی جبکہ 2022ء اور 2023ء میں ایسے یکطرفہ ماحول میں قانون سازی کروائی گئی جب پارلیمنٹ میں حقیقی جمہوری توازن موجود نہیں تھا۔ ان تمام حالات اور دوست ممالک کے تحفظات کو سامنے رکھتے ہوئے موجودہ سسٹم میں اہم تبدیلیوں کی خاموش تیاری کی جا رہی ہے۔ شنید ہے کہ اپریل یا بجٹ اجلاس کے بعد اس سسٹم کی بساط لپٹ سکتی ہے جس کے بعد بے رحمانہ احتساب کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ موجودہ سیاسی نظام کو سمیٹنے سے متعلق حکمتِ عملی پر بھی تیزی سے کام ہو رہا ہے۔ ملک کے نامور‘ باخبر اورباشعور صحافی خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں اور ادارہ جاتی سطح پر بے رحمانہ آپریشن کے خدشات کو دلائل کے ساتھ اجاگر کر رہے ہیں۔