"SK" (space) message & send to 7575

نظامِ حکمرانی پر آئی ایم ایف کی رپورٹ کا تنقیدی جائزہ

پاکستان میں نظامِ حکومت اور کرپشن پر آئی ایم ایف کی تجزیاتی رپورٹ طویل انتظار کے بعد‘ گزشتہ برس نومبر میں سامنے آئی۔ اس رپورٹ کی تیاری کیلئے پاکستان نے تقریباً 45لاکھ ڈالر خرچ کیے لیکن یہ رپورٹ خاصی مایوس کن ہے۔ جو معلومات‘ تجزیہ اور پیغام اس میں دیا گیا ہے‘ وہ بآسانی اس کے موجودہ حجم کے دسویں حصے میں بیان ہو سکتا تھا۔ رپورٹ کا بڑا حصہ لفاظی اور رسمی جملوں پر مشتمل ہے۔ درحقیقت یہ دستاویز سنی سنائی باتوں سے مزین اور اُن مسائل‘ نتائج اور تشخیصات کا مجموعہ ہے جو پاکستانیوں کو پہلے ہی معلوم ہیں اور جن کا میڈیا میں بارہا تجزیہ ہو چکا۔
آئی ایم ایف کی گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک رپورٹ میں ترقیاتی اصطلاحات کا استعمال تو بہت ہے لیکن اس بارے میں تجاویز نہ ہونے کے برابر ہیں کہ موجودہ صورتحال میں اصلاحات کیلئے کن سمتوں میں کون سے نئے اور مؤثر اقدامات کیے جائیں اور ان کے فریم ورکس کیا ہوں‘ اوریہ کہ پاکستان میں کرپشن کا حجم کتنا ہے؟ اس کے اظہارکیلئے اس رپورٹ نے صرف ایک مقداری پیمانہ پیش کیا اور وہ یہ کہ نیب کے ایک سنسنی خیز دعوے کو تنقیدی نگاہ ڈالے بغیر من و عن قبول کر لیا۔ وہ دعویٰ ہے کہ نیب نے گزشتہ دو سال میں 5300 ارب روپے (تقریباً 19 ارب ڈالر )وصول کیے اور یہ رقم پاکستان کے جی ڈی پی کے چار فیصد کے برابر ہے۔ اسی نکتے پر میڈیا میں زور دار بحث چھڑ گئی۔ رپورٹ میں شفافیت اور جوابدہی پر وعظ کے باوجود نیب کے ان اعداد کی تصدیق میں نہ کوئی ثبوت پیش کیا گیا اور نہ کوئی حوالہ اور طریقہ کار۔ حقیقت یہ ہے کہ نیب کی اپنی ویب سائٹ بھی اس کی تصدیق نہیں کرتی۔ وہاں صرف یہ بتایا گیا ہے کہ ادارے نے اپنی 25 سالہ تاریخ میں مجموعی طور پر 6700 ارب روپے وصول کیے۔ مزید یہ کہ اس امر کی کوئی تفصیل نہیں ملتی کہ کتنی نقد رقم وصولی ہوئی‘ جو سرکاری زمینیں واپس لیں ان کی قیمتوں کا تخمینہ کیا تھا یا جو پلی بارگین کی گئی‘ ان کی مالیت کیا تھی۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ کرپشن کے نمٹائے گئے مقدمات کی تعداد کیا تھی اور مجرموں کے خلاف کیا کارروائی کی گئی۔ نیب کی یہ مبینہ 'کامیابی‘مبالغہ آمیز ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اس نے ہر دوسرے سرکاری ادارے سے بہتر کارکردگی دکھائی ہے۔ اگر نیب ہر سال مجموعی قومی پیداوار کے دو فیصد کے برابر وسائل 'ریکور‘ کر رہا ہے تو ٹیکس اکٹھا کرنے کیلئے ہم ایف بی آر کی خدمات سے مکمل دستبردار ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب نیب کو اس بات پر ہدفِ تنقید بھی بنایا گیا کہ حکومتوں نے اپنے سیاسی مخالفین کو ستانے کیلئے اس ادارے کو آلہ کار کے طور پر استعمال کیا۔ یہ رپورٹ کا واضح تضاد ہے۔
رپورٹ کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ اس نے اُن پالیسیوں کا سنجیدہ جائزہ نہیں لیا جن سے کرپشن کو فروغ ملتا ہے۔ گو یہ دستاویز ٹیکس نظام‘ ریگولیشن‘ سرکاری اداروں اور انسدادِ کرپشن کے نفاذ میں ادارہ جاتی کمزوریوں کی درست نشاندہی کرتی ہے لیکن اس میں اس بنیادی سوال کو نظر انداز کیا گیا ہے کہ یہ ادارے ناقص کارکردگی دکھاتے کیوں ہیں؟ ادارہ جاتی نقائص‘ نگرانی کے ریگولیٹری خلا اور ذمہ دار افراد کی جانب سے غیر یکساں نفاذ کو تو رپورٹ میں موضوع بنایا گیا ہے لیکن اُن پالیسی فریم ورکس کو نظرانداز کردیا گیا ہے جو کرپشن کیلئے مستقل مواقع فراہم کرتے ہیں۔ادارے کرپٹ نہیں ہوتے‘ انہیں بعض پالیسی فریم ورکس بدعنوان بنا دیتے ہیں۔ آئی ایم ایف نے ڈائیگناسٹک رپورٹ میں ادارہ جاتی نقائص اور ریگولیٹری لغزشوں پر توجہ مرکوز رکھی لہٰذا رپورٹ اُن مخصوص پالیسیوں کی نشاندہی نہیں کرتی جو بنیادی طور پر کرپشن کے مواقع پیدا کرتی ہیں۔ یہ کوتاہی اتفاقی نہیں بلکہ اس کی ایک ٹھوس وجہ ہے۔ ملکی اور بیرونی‘ دونوں فریقوں نے پاکستان میں وہ پالیسیاں‘ نظام اور ڈھانچے تشکیل دیے جنہوں نے کرپشن کیلئے ترغیبات اور مواقع پیدا کیے اور گورننس کی ناکامیوں کو جنم دیا۔ بہت سی پالیسیاں وہ ہیں جنہوں نے کرپشن کے راستے کھول کر بگاڑ پیدا کیا۔ یہ پالیسیاں کئی دہائیوں کے دوران آئی ایم ایف اور اس کے شراکت داروں (بشمول ورلڈ بینک‘ ایشیائی ترقیاتی بینک) کی تائید و سفارش سے نافذ ہوئیں یا ان پالیسیوں کو ان اداروں کے دباؤ پر پر نافذ کیا گیا! رپورٹ میں پاکستان کے مبہم‘ حد سے زیادہ پیچیدہ اور بگاڑ پیدا کرنے والے ٹیکس نظام پر بھی تنقید کی گئی ہے لیکن آئی ایم ایف رپورٹ یہ فراموش کر دیتی ہے کہ اس نظام کی عجیب ساخت عالمی مالیاتی ادارے ہی کی نگرانی میں ہی تیار ہوئی اور اسی کی توثیق سے رائج رہی‘ اور ٹیکس کا شعبہ تو آئی ایم ایف کی بنیادی مہارت سمجھا جاتا ہے۔ اس میں اضافی کسٹم ڈیوٹیز‘ ریگولیٹری محصولات‘ سپر ٹیکس‘ کم از کم محصول‘ کاروباری حجم پر ٹرن اوور ٹیکس‘ پیشگی ٹیکس‘ کیپٹل ویلیو ٹیکس‘ مفروضہ آمدن کا تعین‘ سرچارجز‘ لیویز اور متعدد مختلف شرحوں کے ساتھ وِدہولڈنگ ٹیکس شامل ہیں۔ کئی مواقع پر آئی ایم ایف نے وقتی بگاڑ پیدا کرنے والے اقدامات پاکستان پر محض اس لیے مسلط کیے کہ ٹیکس کولیکشن بڑھ جائے‘ خواہ ملک کیلئے اس کی معاشی قیمت کچھ بھی ہو۔ نتیجتاً ایسا مسخ شدہ سٹرکچر وجود میں آیاجو خود آئی ایم ایف کے بیان کردہ بہترین پریکٹس کے معیارات اور عالمی مشوروں کے خلاف ہے۔
ڈائیگناسٹک رپورٹ کی ایک بنیادی کمزوری یہ ہے کہ اس میں دیرپا گورننس‘ مالیاتی فریم ورکس اور ترجیحات کے تعین میں بیرونی اداروں کے کردار کو تسلیم کرنے سے واضح طور پر گریز کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں اُس کردار سے یکسر لاعلمی ظاہر کی گئی ہے کہ آئی ایم ایف اور ملٹی لیٹرل اداروں نے پاکستان کو (پالیسی بنانے سے متعلق) تقریباً ایک ارب ڈالر قرض اس لیے دیا تھا کہ وہ ٹیکس اصلاحات کرے اور اس قرض کے ساتھ لمبی چوڑی شرائط اور ٹیکنیکل امداد بھی شامل تھی۔ اسی قرض کے نتیجے میں وہ ادارہ جاتی سٹرکچر اور نظام مرتب ہوا جس پر آج آئی ایم ایف تنقید کر رہا ہے۔ آئی ایم ایف اور ملٹی لیٹرل اداروں نے بارہا بگاڑ پیدا کرنے والی پالیسیوں کو منظور کیا۔ رپورٹ میں ان اقدامات پر بمشکل کوئی تنقید ملتی ہے حالانکہ رپورٹ تیار کرنے والی 10 رکنی ٹیم کے بعض ارکان انہی اداروں کی نمائندگی کر رہے تھے جو نام نہاد اصلاحات کے ان کاموں میں شامل رہے۔مثلاً پاکستان میں بزنس کو درپیش بھیانک ریگولیٹری صورتحال اور توانائی کے شعبے کی بد نظمی میں ملٹی لیٹرل اداروں کے کردار کو رپورٹ میں نظرانداز کیا گیا۔ اب وہی ادارے وعدوں کی عدم تکمیل پر شکایت کر رہے لیکن انہیں اس میں کوئی تضاد نظر نہیں آتا کہ وہ بار بار ایسے نافرمان بچے کو قرض دیتے رہے جس کا رویہ تبدیل نہیں ہوا۔ خلاصہ یہ کہ رپورٹ گورننس پر وعظ تو کرتی ہے مگر ذمہ داری سے بچتی ہے۔ یہ اُن خرابیوں کی ذمہ داری سے پہلو تہی کرتی ہے جن میں انہی اداروں خصوصاً ٰIMFنے مدد فراہم کی۔ اس سے فکری بددیانتی کی بو آتی ہے۔
ان سطور میں بیرونی اداروں کے اُس کردار پر تنقید کی گئی جس نے پالیسی دستاویزات‘ ان کے نفاذ کے طریقوں اور ادارہ جاتی ساخت کو تشکیل دینے اور انہیں مستحکم کرنے میں حصہ ڈالا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان کی بیورو کریسی اور سیاسی قیادت کو بری الذمہ ٹھہرایا جائے۔ درحقیقت رپورٹ کا یہ پہلو قبول کرنا مشکل ہے کہ تقریباً سارا الزام پاکستانی حکام پر ڈال دیا گیا جبکہ ملٹی لیٹرل اداروں کے کردار کو نظرانداز کردیا گیا۔ یہ رپورٹ گزشتہ حکومتوں کی گورننس کی ناکامیوں پر طویل گفتگو کرتی ہے لیکن موجودہ حکومتی سیٹ اَپ کی کمزور گورننس کا ذکر نہیں کرتی۔ حالانکہ یہ وہ سیٹ اَپ ہے جس میں قانون کے تحت حکمرانی کے بجائے قانون کے ذریعے حکمرانی کی پالیسی اپنائی گئی اور وقتی ریگولیشنز ‘ مبہم فیصلہ سازی اور ٹیکس کے من مانے اور ناقص اقدامات کا دور دورہ ہے۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے جائزہ میں مخصوص تاریخوں تک کے اعداد و شمار لیے لیکن اعلان کردہ دائرہ کار اور بلند دعوؤں کے پیش نظر یہ وضاحت کمزور اور غیر منطقی ہے۔ مدت کا یہ انتخاب ماضی پر کڑا احتساب اور موجودہ صورتحال پر خاموش ہے‘ جس کے باعث اس رپورٹ کی غیر جانبداری کمزور اور اس کی تجزیاتی ساکھ کم ہوگئی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

شاہد کارداد کے مزید کالمز