جنگوں کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں۔ ہم اسلام کے پیروکار ہیں اور ہمارا دین ہمیں یہ تلقین کرتا ہے کہ جنگ کے دوران بھی اصول و ضوابط کی پاسداری کی جائے۔ رسول کریمﷺ نے حکم دیا کہ جنگ کے دوران بچوں‘ بوڑھوں‘ معذوروں اور خواتین کو نشانہ نہ بنایا جائے۔ نبی پاکﷺ نے جنگ پر بھیجتے ہوئے اپنے سپاہ سالاروں اور مجاہدین کو خصوصی تاکید کی کہ بے قصور افراد‘ معذوروں اور زاہدوں کو جنگ میں نہ دھکیلنا۔ اسی طرح فرمایا کہ کھیت کھلیانوں‘ درختوں اور باغات کو بھی نقصان نہ پہنچانا۔ دین اسلام نے دشمن کو غافل پاکر حملہ کرنے سے بھی منع کیا ہے‘ دشمنوں کو جلانے سے بھی منع کیا گیا ہے۔ لاش کی بے حرمتی بھی ممنوع ہے اور باندھ کر مارنے کی بھی ممانعت ہے۔ اگر قرآن کریم کا مطالعہ کریں تو اس میں جنگ کے اصولوں سے مالِ غنیمت کی تقسیم تک کا ذکر ہے۔
جب دورِ حاضر میں جنگی قوانین کے حوالے سے چارٹر بنانے کی ضرورت پڑی تو جنیوا کنونشن تشکیل دیا گیا تاکہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک اس کو فالو کریں اور ایک دوسرے کی شخصی اور جغرافیائی آزادی کا احترام کریں۔ اس کنونشن کے تحت اگر جنگ ہوتی ہے تو سویلنز‘ گھروں‘ سکولوں‘ ہسپتالوں اور عبادت گاہوں کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ بیمار اور زخمی لوگوں کو کچھ نہیں کہا جائے گا اور امدادی کارکنان کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ اسلام نے جو قوانین چودہ سو سال پہلے بنا دیے تھے‘ وہ اب جدید دنیا نے اپنائے ہیں۔ مگر یہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ ان قوانین پر عالمی طاقتیں عمل نہیں کرتیں۔ جس ملک کے پاس جتنی طاقت‘ جتنا پیسہ اور جتنے وسائل ہیں وہ اتنا ہی سرکش ہوتا جا رہا ہے۔ اگر دہشت گردوں کو نشانہ بنایا جائے تو سمجھ بھی آتا ہے لیکن سویلنز کو نشانہ بنانا سمجھ سے بالاتر ہے۔ اگر دہشت گرد کسی جگہ موجود ہوں یا بارود کے ڈھیر پر بیٹھے ہوں تو ان کو نشانہ بنانے کی کوئی نہ کوئی توضیح کی جا سکتی ہے لیکن آبادیوں پر حملہ کرنا بہت سنگین جرم ہے۔ بے قصور لوگ جن کا سیاست و حکومت سے کچھ لینا دینا نہیں‘ وہ کیوں جنگ کا تر نوالہ بنیں؟ ہم ایک جدید دنیا کا حصہ ہیں‘ اگر اتنے مہذب معاشرے میں بھی وحشیانہ طرز کی جنگیں ہوں گی تو ساری دنیا کا امن خطرے میں پڑ جائے گا۔
اس وقت تقریباً سارا مشرقِ وسطیٰ ہی آگ کی لپیٹ میں ہے۔ یوں تو فلسطین اسرائیل تنازع بہت قدیمی ہے لیکن گزشتہ چند برسوں میں جو کچھ ہوا وہ اتنا دردناک ہے کہ جس کی مثال نہیں ملتی۔اسرائیل ایک بدمعاش کی مانند پورے خطے میں چھیڑ چھاڑ کرتا رہا‘ فلسطین کے علاقوں پر قبضہ کرتا رہا لیکن امتِ مسلمہ اپنے مفادات کے تحت خاموش رہی۔ فلسطینیوں کی نسل کشی کی گئی‘ غزہ کو تباہ کر دیا گیا‘ سکول‘ ہسپتال‘ گھر‘ عبادت گاہیں‘ میڈیا ہائوسز ہر جگہ بمباری کی گئی۔ تقریباً ایک لاکھ لوگوں کے خون سے بھی اسرائیل کی پیاس نہیں بجھی تو اس نے ایران پر حملے شروع کر دیے۔ ایران نے ان حملوں میں اپنی مرکزی سیاسی اور عسکری قیادت کو کھو دیا۔ عوامی مراکز پر بھی حملے کر کے بھاری نقصان پہنچایا گیا۔ اس حملے کی وجہ سے پورا مشرقِ وسطیٰ جنگ کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔ ہر طرف افراتفری اور بے یقینی کی صورتحال ہے۔ لوگ ایئر پورٹس پر پھنس گئے ہیں اور ہر چیز کی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسرائیل اور امریکہ نے جب ایران پر حملہ کیا تو اس کی زد میں بچوں کا ایک پرائمری سکول بھی آگیا۔ جب میں نے والدین کو خون آلود بستوں اور کتابوں کے ساتھ روتے دیکھا تو مجھے سانحہ اے پی ایس یاد آگیا جب ہمارے 144 بچوں کو بشمول ان کے اساتذہ بیدردی سے قتل کیا گیا تھا۔ اُن والدین کی فریاد اور ایرانی والدین کی فریاد ایک سی تھی۔ دونوں ہی دیوانہ وار اپنے بچوں کو ڈھونڈ رہے تھے۔ پر وہاں خون کے علاوہ کچھ نہ تھا۔ چھوٹی بچیاں گھر سے سکول گئیں۔ کسی نے افطار میں اپنی پسند کی چیز کی فرمائش کی ہو گی۔ کسی نے اپنا پہلا روزہ رکھا ہو گا اور روزہ کشائی کی منتظر ہو گی۔ کسی نے عید کا جوڑا مانگا ہو گا‘مگر میزائل حملوں میں بہت سے خواب منوں مٹی تلے دب گئے۔ والدین جب جائے وقوعہ کی طرف بھاگے تو وہاں آگ‘ خون اور دھویں کے علاوہ کچھ نہ تھا۔ ایران کے جنوبی صوبے ہزمزگان کے شہر میناب میں واقع اس پرائمری سکول میں معمول کے مطابق پڑھائی ہو رہی تھی۔ شجرہ طیبہ سکول کے معصوم بچوں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ وہ لوٹ کر واپس گھر نہیں جا سکیں گے۔ جس وقت یہ حملہ ہوا‘ اس وقت سکول میں 200 سے زائد طالبات موجود تھیں۔ ایران کے وزیرخارجہ نے ڈرون کی ایک ایرئیل ویو تصویر شیئر کی‘ جس میں 160ننھی قبریں نظر آ رہی تھیں۔ یہ قبریں ان معصوم بچیوں کی تھیں جو سکول پر حملے میں شہید ہوئیں۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مزید کہا کہ بچیوں کے جسد خاکی کی جگہ ہمیں ٹکڑوں میں صرف انسانی اعضا ملے۔ یہ تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی اور ہر کوئی اس حملے کی مذمت کرنے لگا۔
ان معصوم بچیوں کے جنازوں میں رقت آمیز مناظر تھے۔ ہر طرف کہرام مچا ہوا تھا۔ والدین نے جس طرح سے اپنے بچوں کی تدفین کی‘ اس پر ہر آنکھ اشکبار تھی۔ یہ حملہ اتنا شدید تھا کہ دو منزلہ سکول کی عمارت مہندم ہوگئی۔ کچھ بچوں کی لاشیں شناخت کے قابل نہیں تھیں‘ ان کا ڈی این اے کرنے کے بعد باقیات لواحقین کے حوالے کی گئیں۔ 160 جنازے اٹھے تو وہ شور اور آہ و بکا ہوئی کہ میں اب بھی محسوس کر سکتی ہو۔ کیا اقوام متحدہ کو اس کی آواز جا رہی ہے؟ کیا سلامتی کونسل کو ان مائوں کا رونا سنائی دے رہا ہے جنہوں نے اس حملے میں اپنے بچے کھو دیے؟ کیا دنیا میں ضمیر نام کی کوئی شے باقی رہی ہے؟ کیا انسانیت اس سانحے پر شرمندہ ہو کر معافی مانگے گی؟ امریکہ کو ایران کی ایٹمی قوت سے مسئلہ ہے لیکن اسرائیل یا شمالی کوریا کی ایٹمی عزائم سے کوئی مسئلہ نہیں۔ دنیا کا معیار دہرا کیوں ہے؟ امریکہ اور اس کے حواریوں کا خیال تھا کہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد رجیم چینج ہو جائے گا۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ لوگ اب بھی اسی نظام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ بچوں کے جنازے میں ہزاروں لوگ ایرانی حکومت اور نظام کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔ جنگوں میں افواج لڑتی ہیں اور ملٹری اثاثے ٹارگٹ ہوتے ہیں لیکن بچوں یا سکول پر حملہ انتہائی قبیح عمل ہے۔ اسرائیل نے یہ پہلی بار نہیں کیا۔ یہ وار کرائم اسرائیل پہلے بھی متعدد دفعہ کر چکا ہے تاہم 28 فروری کو ایک ہی حملے میں ڈیڑھ سو سے زائد بچوں کا قتل عام پوری دنیا نے دیکھا۔ اس سے پہلے غزہ میں مئی 2025ء میں فہامی الجرجاوی سکول پر حملہ کرکے 36 افراد کو شہید کر دیا تھا۔ اگست 2024ء میں التابعین سکول میں حملہ کرکے 100 طالبعلموں کو شہید کیا گیا۔ جون 2024ء میں السردی سکول پر حملہ کرکے 35 طالبعلموں کو شہید کیا اور نومبر 2023ء میں البراق سکول پہ حملہ کر کے پچاس طالبعلموں کو شہید کیا گیا۔ مغربی کنارے اور مشرقی پروشلم میں بھی اسرائیل نے سکولوں پر متعدد حملے کئے۔ رواں سال فروری میں الاتحادی سکول میں حملہ ہوا جس سے سکول تباہ ہو گیا۔ اسی طرح 2025ء میں غیر قانونی یہودی آبادکاروں نے زانوٹا سکول کو مسمارکیا۔ 2023ء میں اسرائیلی فورسز نے لبنان میں پانچ سکول تباہ کیے۔ اس لیے جو لوگ ایران پر سکول پر حملے پر حیران ہیں‘ ان کو علم ہونا چاہیے کہ اسرائیل کی اس حوالے سے ایک تاریخ ہے‘ وہ مسلم بچوں کی نسل کشی اور ان کی درسگاہوں کو ختم کر رہا ہے۔ ان جنگی جرائم پر اسرائیل سخت ترین سزا کا مستحق ہے۔ امریکہ کو ان جرائم میں اسرائیل کا ساتھ نہیں دینا چاہیے۔ جہاں جہاں سے امریکہ اسرائیل نے ایران پر حملے کئے‘ ایران کے جواب سے وہاں افراتفری پھیل گئی۔ حالانکہ ایران کا ٹارگٹ سویلینز نہیں تھے۔ مشرقِ وسطی اس وقت بدامنی کا شکار ہے اور ان حالات کو قابو کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے‘ اور وہ ہے اقوام متحدہ کے چارٹر پر عملدرآمد‘ لیکن پتا نہیں یہ خواب کب شرمندۂ تعبیر ہوگا۔