انسان جب پتھر کے دور سے تہذیب کے سفر پر نکلا تو سب سے پہلے اس نے اپنے رہن سہن کو بدلنا شروع کیا۔ اندھیرے سے خوف آتا تھا‘ سردی میں بدن کانپتا تھا تو اس نے پتھروں کو رگڑ کر روشنی اور حرارت‘ یعنی آگ ایجاد کر لی۔ اس نے غاروں اور جنگلات کو چھوڑ کر رہائش کیلئے گھر بنائے‘ سیوریج کا نظام قائم کیا‘ سواری کے لیے پہلے جانوروں کو استعمال کیا‘ پھر دیگر ایجادات کیں۔ سڑنینکیں بنائیں اور لڑائی کیلئے ہتھیار بھی تیار کرلیے۔ شاہی خاندان اور قبائل وجود میں آئے‘ افواج نے جنم لیا اور طاقت کی کشمکش میں بڑی بڑی جنگیں ہوئیں۔ گروہوں کی صورت میں رہنے والے انسان جغرافیائی طور پر تقسیم ہوئے اور یوں ممالک وجود میں آگئے۔ بڑی بڑی عبادت گاہیں‘ خانقاہیں‘ محل‘ باغات اور درس گاہیں تعمیر ہوئیں۔ بادشاہ‘ قاضی‘ وزرا اور امرا کے دفاتر محل نما عمارتوں میں قائم کیے گئے۔ انسان ترقی کرتے کرتے ہوا‘ پانی اور ایٹم کو تسخیر کرگیا اور اب خلا کو مسخر کر رہا ہے۔
ابتدا میں انسان جنگلوں میں جانوروں کے ساتھ رہتا تھا۔ جب تک انسان قدرت کے قریب رہا‘ سب کچھ متوازن تھا۔ اس کی فطرت میں قدرت کے ساتھ رہنا شامل تھا۔ وقت گزرتا گیا اور انسان قدرت‘ نباتات‘ پرندوں‘ جانوروں اور حشرات سے دور ہوتا چلا گیا۔ اس دوری کو ترقی کا نام دیا گیا کہ انسان درختوں‘ جانوروں‘ پرندوں اور نباتات سے کٹ جائے۔ پھر انسان نے خود کو کنکریٹ کے قلعوں میں قید کر لیا اور گھروں میں گھاس تک نقلی لگوالی تاکہ دیکھ بھال کی زحمت نہ ہو اور پاؤں بھی میلے نہ ہوں۔ انسان‘ جو خود مٹی سے بنا ہے‘ اگر مٹی سے دور ہو جائے تو اس کی قوتِ مدافعت بھی کمزور پڑ جاتی ہے۔ پہلے لوگوں کی اوسط عمر زیادہ ہوا کرتی تھی جو اَب گھٹ کر اوسطاً ساٹھ‘ پینسٹھ برس رہ گئی ہے۔ مٹی سے دوری انسان کو کھوکھلا کر رہی ہے۔ اس ترقی کے سفر نے موسموں کا نظام بدل دیا ہے‘ گرمی طویل ہوگئی ہے‘ سردی کا دورانیہ کم مگر شدت بڑھ گئی ہے‘ بارشیں سیلاب کی صورت اختیار کر جاتی ہیں‘ اوزون کی تہہ میں شگاف پڑ چکا ہے اور فضا آلودہ ہے‘ مگر انسان اپنی دھن میں مگن ہے۔ درخت کاٹنے کو ترقی کہا جا رہا ہے۔ ہمارے ملک میں اگرچہ ترقی کی رفتار محدود ہے مگر تعمیرات کے نام پر درختوں کا بے دریغ صفایا جاری ہے۔ ہم شدید موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں ہیں لیکن کسی کو اس بات کی فکر نہیں کہ ان سے بچاؤ کیلئے ماحول دوست سرگرمیاں ناگزیر ہیں۔ تمام بڑے شہروں کا حال یکساں ہے۔ کچرے کے ڈھیر‘ بے ہنگم تجاوزات‘ آبادی میں بے تحاشا اضافہ اور سہولتوں کی کمی نے شہری زندگی کو مشکل تر بنا دیا ہے۔
اسلام آباد کو بھی اب شاید کسی کی نظر لگ گئی ہے۔ یہاں کا حسن ماند پڑتا جا رہا ہے۔ ہر طرف دھول‘ مٹی‘ ٹریفک جام اور درختوں کی کٹائی نے شہر کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ میں بطور صحافی کئی برسوں سے اس شہر کو کور کر رہی ہوں۔ میرے سامنے زیرو پوائنٹ پر پائن کے قدیم درخت کاٹے گئے‘ جس پر مجھے شدید رنج ہوا۔ ہمارے شہر میں ترقی صرف سڑکوں‘ انڈر پاسز اور ایونیوز تک ہی محدود ہے‘ اس کے سوا کوئی ترقی نظر نہیں آتی۔ جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر‘ پارکنگ کا فقدان‘ صاف پانی کی عدم دستیابی اور آسمان کو چھوتے کرائے شہریوں کا مقدر بن چکے ہیں۔ پرائیوٹ رہائشی کالونیاں تو یہاں بہت ڈویلپ ہیں مگر شہری انتظامیہ کے اپنے رہائشی سیکٹر یا تو ڈویلپ نہیں کیے جاتے‘ اگر کیے بھی جائیں تو اتنے مہنگے ہوتے ہیں کہ عام شہری وہاں رہائش کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ پچھلے تین برسوں میں اسلام آباد یکسر بدل چکا ہے۔ ایک طرف نئی تعمیرات‘ دوسری جانب نت نئے انڈر پاسز اور ایونیوز‘ اپنے ہی شہر میں اب اجنبیت کا احساس ہونے لگا ہے۔ ہر طرف شور‘ دھواں‘ ٹریفک جام اور ہریالی کی کمی نمایاں ہے۔ لوگ بھی سڑکوں پر بے چینی اور افراتفری کا شکار نظر آتے ہیں۔ بل بورڈز کی تیز روشنی دورانِ ڈرائیونگ آنکھوں کو اذیت دیتی ہے۔ جگہ جگہ تنگ انڈر پاس بنا دیے گئے ہیں جس سے ٹریفک کا بہاؤ مزید سست ہوا ہے۔ کیا شہر کی سبھی سہولتیں صرف بلیو ایریا یا مارگلہ روڈ تک ہی محدود ہونی چاہئیں؟ اسلام آباد کے تمام علاقوں کو متوازن ترقی درکار ہے لیکن شہر میں ترقی کے نام پر دھڑا دھڑ درخت کاٹ کر محض شہر کا حلیہ بگاڑا جا رہا ہے۔ پہلے شہر کے ہر حصے سے مارگلہ کا پہاڑی سلسلہ صاف دکھائی دیتا تھا‘ اب شہر شدید آلودگی کی لپیٹ میں ہے۔ جس وجہ سے سانس کی بیماریاں‘ الرجی‘ دمہ اور ڈینگی جیسی وبائیں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ عوام کی کوئی شنوائی نہیں۔ صبح اور رات کے اوقات میں گیس غائب ہو جاتی ہے۔ شہر کے سرکاری ہسپتالوں پر نظر ڈالیں تو دیہی ڈسپنسری اور جنرل ہسپتال میں زیادہ فرق محسوس نہیں ہوتا۔
کوئی بھی شہر محض کنکریٹ کی عمارتوں سے نہیں پہچانا جاتا بلکہ اس کی اصل شناخت ہریالی‘ طرزِ رہن سہن اور شہری سہولتوں سے ہوتی ہے۔ یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہاں کے شہری کتنے خوشحال ہیں‘ تفریح گاہیں کیسی ہیں‘ بازاروں اور عبادت گاہوں میں صفائی کا نظام کیسا ہے اور لوگ کس حد تک تعلیم یافتہ ہیں۔ مگر یہاں پل‘ انڈر پاسز اور ایونیوز کو ہی ترقی سمجھ لیا گیا ہے۔ یہاں ایک الگ ہی نظام چل رہا ہے جہاں امرا کو سب کچھ کرنے کی آزادی ہے جبکہ غریبوں کی بستیاں اجاڑی جارہی ہیں۔ حال ہی میں اسلام آباد میں 1960ء سے قائم مسلم کالونی مسمار کی گئی ہے۔ یہ کالونی تقریباً چھ دہائیوں تک ہزاروں افراد کا مسکن رہی۔ یہ ایوانِ صدر اور بری امام کے مابین واقع تھی۔ شاید امرا کو یہاں غریبوں کا رہنا ناگوار گزرا۔ آج یہ بستی کھنڈرات کا ڈھیر بن چکی ہے۔ لوگوں کے برسوں کی محنت سے بنائے گھر مسمار کر دیے گئے ۔ آج وہ سڑکوں پر بیٹھے فریاد کر رہے ہیں مگر سننے والا کوئی نہیں۔ اگر کالونی ختم ہی کرنا تھی تو اس کے رہائشیوں کو کسی اور جگہ مالکانہ حقوق دے کر منتقل کیا جاتا مگر ایسا نہیں ہوا۔ روٹی‘ کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانے والے آج شہریوں کے سروں سے چھت چھین رہے ہیں۔ کیا شہریوں کے کوئی حقوق نہیں؟ اسلام آباد ہائیکورٹ نے دسمبر میں اس کالونی میں کوئی بھی آپریشن نہ کرنے کا حکم دیا تھا‘ لیکن اسے بھی پس پشت ڈال دیا گیا۔
اسلام آباد کے عوام آج بڑھتی آلودگی‘ بے ہنگم ٹریفک‘ وی آئی پی روٹس اور درختوں کی کٹائی پر شدید نالاں ہیں۔ شہری انتظامیہ بعض عوامی شکایات پر تو فوری ایکشن لیتی ہے اور چند دن کیلئے بہتری بھی نظر آتی ہے‘ مگر کچھ دیرینہ مسائل اب بھی حل طلب ہیں‘ جن میں درختوں کی بے دریغ کٹائی‘ ویسٹ مینجمنٹ‘ صاف پانی کی فراہمی اور وی آئی پی کلچر کا خاتمہ سرفہرست ہیں۔ شہری روزانہ گھنٹوں وی آئی پیز روٹس کے سبب پھنسے رہتے ہیں۔ وی آئی پی روٹس کے علاوہ دیگر روٹس پر ٹریفک پولیس کم ہی دکھائی دیتی ہے۔ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ ذاتی طور پر مجھے اسلام آباد پولیس یا ٹریفک پولیس سے کوئی خاص شکوہ نہیں‘ جس طرح پولیس اہلکار وی آئی پی ڈیوٹیوں میں پِس رہے ہیں‘ ان سے ہمدردی ہوتی ہے۔ سخت دھوپ اور شدید گرمی میں کھلے آسمان تلے یہ اپنی ڈیوٹی انجام دیتے ہیں۔
شہرِ اقتدار میں درختوں کی بے دریغ کٹائی پر اسلام آباد کے شہری اور صحافی شہری انتظامیہ پر تنقید کر رہے ہیں۔ جب وہ کوئی اچھا کام کرتے ہیں تو میں ان کی تعریف کرتی ہوں‘ لیکن جہاں تنقید ضروری ہو وہاں خاموش نہیں رہ سکتی۔ اکثر معاملات کی جب میں ٹویٹر پر نشاندہی کرتی ہوں تو انتظامیہ کا عملہ فوری ایکشن لے کر مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر اس بار درختوں کی کٹائی میں آری چلانے والوں نے ایسا وار کیا ہے کہ شہر گنجا دکھائی دے رہا ہے۔ اسلام آباد‘ جو کبھی ہریالی‘ سبزے اور جنگلات کا شہر تھا‘ اب کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل ہوتا جارہا ہے۔ متعلقہ حکام کو اس حوالے سے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔