"SBA" (space) message & send to 7575

عالمی استعمار عمران خان سے خوفزدہ کیوں؟ …(1)

یہ کسی دیوانے کی بڑ ہرگز نہیں‘ بلکہ مغرب سے ابھرنے والی ایپسٹین فائلز کے ڈاکیومنٹس میں موجود حقیقت ہے۔ جیفری ایپسٹین عالمی استعمار کا وڈیو میکر اور اوپینئن میکر گماشتہ تھا۔ عمران خان کو عالمی استعمار کا یہ گماشتہ زمین پر سب سے زیادہ خطرناک آدمی کیوں کہتا تھا؟
یہ حقیقت جاننے کے لیے ہمیں پسِ پردہ چلنا پڑے گا۔ عالمی اسٹیبلشمنٹ کی نگاہوں میں غریب‘ پسماندہ‘ غیر ترقی یافتہ‘ ترقی پذیر؛ ان چار کیٹیگریز کے ایسے ممالک ہیں جن کے لوگوں کو وہ اپنا قیدی بنا کے رکھتے ہیں۔ قیدی بنانے کے لیے ایک زمانہ تھا جب لشکر حملہ آور ہوتے تھے‘ جو لوگوں کو باندھ کے‘ جو محنت مشقت کے قابل ہوتے‘ ساتھ لے جاتے۔ بچوں کوزبردستی فوج میں بھرتی کر دیتے‘ باقیوں کو مار ڈالتے۔ بستیاں جلا دیتے‘ جاتے ہوئے چوراہوں اور درختوں سے لاشیں لٹکا دیتے تاکہ پتا چلے ادھر زمین پر کوئی سب سے خطرناک شخص گزرا ہے۔ پھر دور بدل گیا‘ دور بدلنے کے ساتھ ساتھ خطرناک کی تعریف بھی۔ جو لوگ اپنی آزادی کے لیے عالمی استعمار‘ علاقائی استعمار یا مقامی ڈکٹیٹر کے خلاف لڑتے ہیں‘ انہیں سب سے پہلے ناپسندیدہ عناصر کہا جاتا ہے‘ دوسرے نمبر پہ وہ باغی کہلاتے ہیں‘ پھر غدار ٹھہرائے جاتے ہیں‘ جس کے بعد سب سے زمین پہ یا ملک میں خطرناک ترین شخص قرار دے دیے جاتے ہیں۔ لیکن یہ تعریف صرف غریب ملکوں میں چلتی ہے۔ عالمی سطح پہ موجود بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کس طرح سے کام کرتی ہے‘ یہ بہت کم لوگوں جانتے ہیں۔ یہی آج کے وکالت نامہ کا موضوع ہے۔
اس صدی کے اس عشرے میں چلتے ہوئے دور میں‘ جسے دورِ دوراں کہا جا سکتا ہے‘ زمین پر سب سے خطرناک شخص وہ نہیں جس کے پاس پرائیویٹ آرمی ہو‘ جس کے پاس بہت زیادہ پیسے ہوں‘ جس کے پاس بہت زیادہ پروٹوکول ہو اور جو مزید لشکر خریدنے کی اہلیت رکھتا ہو۔ بلکہ عالمی اسٹیبلشمنٹ کی نظر میں‘ اس زمانے میں زمین پر سب سے خطرناک شخص وہ ہے جس کو دھونس سے دبایا نہیں جا سکتا‘ جس کو مال وزر سے خریدا نہیں جا سکتا۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے دنیا کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ ہم ایک جمہوری دنیا کے باسی ہیں اور ہم جمہوری ماحول میں جی رہے ہیں‘ کیونکہ ووٹ ڈالتے ہیں‘ اپنے لیڈروں کا انتخاب ہم کرتے ہیں۔ لیکن حقیقت نوشتۂ دیوار نہیں ہے بلکہ پسِ دیوار ہے۔ دیوار کے پیچھے کالا سیاہ پردہ حقیقت کو چھپا کر رکھتا ہے۔ اس پردے کے پیچھے کالے سے بھی زیادہ تاریک کھیل کھیلا جا رہا ہے‘ جس کا تازہ ترین ثبوت حال ہی میں امریکہ میں لیک ہونے والی فائلیں ہیں۔ یہ فائلیں چند ہزار کاغذات نہیں بلکہ 35 لاکھ (3.5 ملین) صفحات سے زیادہ پر پھیلی ہوئی وہ فائلیں ہیں جنہیں 'جیفری ایپسٹین فائلز‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ فائلز ایک ایسے نظام کو آشکار کرتی ہیں جس کی خدمت میں جیفری ایپسٹین نے اپنی زندگی صرف کر کے دنیا کی طاقتور ترین ٹرافیاں اکٹھی کیں۔ یہ بذاتِ خود بہت طاقتور شخص تھا۔ جیفری ایپسٹین اکیلا آدمی نہیں تھا۔ اس کا تعلق صہیونی عالمی نیٹ ورک سے ثابت شدہ ہے۔ اس کی جیون ساتھی‘ جو پتا نہیں اہلیہ تھی یا نہیں‘ وہ اس نظام کی معتبر نمائندہ تھی جسے جیفری ایپسٹین کے ساتھ چپکایا گیا۔ دنیا بھر کے اعلیٰ ترین عہدیدار مختلف براعظم کے صدور‘ دیس دیس کے پرائم منسٹر‘ شہزادے‘ بڑے بڑے بادشاہ اور عالمی سطح کے سارے طاقتور ترین لوگ جیفری ایپسٹین کی شکارگاہ کے مختلف شکار شمار ہوئے۔ یہ شکار کرنے کے لیے اس کے پیچھے اتنا پیسہ تھا جتنا معلوم تاریخ میں کسی اور شخص کے پیچھے کبھی نہیں جھونکا گیا۔ اس کے اپنے جزیرے تھے۔ ساری دنیا میں بڑے بڑے فارمز تھے۔ پرائیویٹ سٹرپز یعنی ایئرپورٹ تھے۔ اس کے تصرف میں ایک جیٹ نہیں کئی جیٹ طیارے تھے۔ اس کی ملکیت ایک ہیلی کاپٹر نہیں‘ ہیلی کاپٹرز کا بیڑا اور وہ سب کچھ تھا جو آنکھوں کو خیرہ کر دیتا ہے۔ اس سب کے باوجود ایک سوال آپ ضرور جاننا چاہیں گے... کہ جیفری ایپسٹین جس کی اتنی بڑی سلطنت بن چکی تھی‘ کیا وہ کسی ہمارے جیسے عام ملک کے ایک لیڈر سے ڈرتا تھا۔ امریکہ‘ برطانیہ‘ فرانس‘ جرمنی‘ کینیڈا‘ آسٹریلیا‘ مڈل ایسٹ‘ شرق وغرب‘ عرب وعجم کی ساری دنیائوں کے Who is who‘ وہ جو طاقتور ترین ارب پتی‘ حکمران‘ سیاست کار‘ فوجی افسر‘ سپورٹس مین وہ سارے اس کی سلطنت کے زائرین رہے‘ اتنا طاقتور آدمی کیا کسی ایک شخص سے ڈرتا تھا؟
جواب تو یہ ہونا چاہیے کہ نہیں! بالکل نہیں! مگر جیفری ایپسٹین فائلز بتاتی ہیں کہ ایپسٹین کے خوف کے حوالے سے جواب ناں میں نہیں بلکہ ہاں میں ہے۔ وہ ایک مخصوص لیڈر سے ڈرتا تھا‘ سینکڑوں ارب پتیوں‘ شاہی خاندانوں‘ صدور اور وزرائے اعظم میں سے صرف ایک نام اس کے لیے ناقابلِ برداشت خطرے کے طور پر ہائی لائٹ کر کے فائلز میں محفوظ رہا۔ ایپسٹین نے اپنے نیٹ ورک کو بتایا کہ عمران خان مغرب کے عالمی نظام کے لیے روس اور چین کے لیڈروں سے زیادہ خطرناک ہے۔
اب آئیے اس ڈارک ویب کی تہہ کے نیچے چلتے ہیں جہاں سے عالمی نظام تشکیل پاتا ہے۔ اہم ترین سوال ہے اسے تشکیل دینے کے کتنے طریقے ہیں۔
عالمی طاقتوں کا پہلا طریقہ: عام آدمی سمجھتا ہے اسلام آباد کے ریڈ زون میں بیٹھے مغرب کے سفیر بہادر سازش کرتے ہیں اور وہ ان کا ذاتی فعل ہوتا ہے۔ اس کے پیچھے کوئی انٹرنیشنل پلاننگ نہیں ہوتی۔ اس کے پیچھے اور کچھ نہیں ہوتا‘ جو دکھائی دیتا ہے یا سنائی دیتا ہے وہی حقیقت ہے۔ مگر اصل صورت حال اس سے بالکل مختلف ہے اور متصادم بھی۔ ایک ترقی پذیر قوم کا آدمی عالمی اشرافیہ کے لیے آخر اکیلا ڈراؤنا خواب کیسے بن گیا؟ اسے سمجھنے کے لیے آپ یہ جان لیں کہ ہم ٹریپ والی خرابی کو تلاش کریں گے۔ اس میں ہنی ٹریپ بھی شامل ہے۔ اب ہم ایک ایسے لیورج آڈٹ کی طرف چلتے ہیں جو کسی فرد کی نہیں بلکہ پورے ملک کی زندگی پر قبضہ جما سکتا ہے‘ پھر ملک کو اپنی مرضی کے مطابق ہمیشہ کے لیے تبدیل کر سکتا ہے۔ اس کا نام ہے Repressive Art of Control۔ زیادہ تر لوگوں کے خیال میں عالمی استعمار پیسہ اور طاقت استعمال کرتا ہے‘ ساتھ تیل کی دولت کو بروئے کار لاتا ہے۔ سونا اس کا سب سے بڑا ہتھیار اور اثر و رسوخ کے بارے میں اس کا انٹیلی جنس نیٹ ورک بھی زیرِ کار آتا ہے۔ ایسا سمجھنے والے غلط ہیں۔ عالمی طاقتیں اس سے کہیں زیادہ قیمتی راستے پر چلتی ہیں۔ راستہ یہ ہے کہ اگر عالمی طاقت آپ کے کسی ڈارک سیکرٹ یعنی تاریکی میں رکھے ہوئے راز کو جان لے تو پھر وہ ماسٹر اور آپ سرونٹ! وہ مالک ومختار اور آپ مجبورِ محض۔ جو بھی پبلک لائف میں ہوگا اس کے لیے یہ فارمولا سب سے بڑی سٹرٹیجی کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ آج کل اسے وڈیو لیک کہا جاتا ہے۔
اب آئیے اس راز کی جانب! ایپسٹین عمران خان سے ڈرتا کیوں تھا...
صرف سودا ہی ضروری نہیں دیوانوں میں
سر بھی درکار ہے دیوار کو سر ہونے تک
(جاری)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں