بنگال ہمیشہ وسائل سے مالامال رہا ہے‘ کبھی کنگال نہیں ہوا۔ مگر بنگال کی بدبختی کی داستان نواب سراج الدولہ کے ساتھ اپنوں کی غداری اور اہلِ افرنگ سے وفاداری سے شروع ہوتی ہے۔ اس طویل کہانی کے نتیجے میں بنگال جسے ایشیا میں ''شونار بنگلہ‘‘ کہتے تھے‘ وہ استعمار کے بوٹوں تلے روندا جانے لگا۔ شونار بنگلہ کا مطلب ہے سونے کا بنگال۔ یہ سال 1757ء تھا‘ جب امیرِ بنگال نواب سراج الدولہ کی افواج کے کمانڈر انچیف میر جعفر نے انگریزی فوجوں سے ساز باز کر کے اپنا آزاد وطن برطانوی فوج کے کماندار لارڈ رابرٹ کلائیوکے آگے سرنڈر کر دیا۔ اگلے 200 سال بنگال کی سونے جیسی پٹ سن (Jute)‘ ریشم سے بڑھیا ململ اور باقی وسائل سمندری راستے سے تاجِ برطانیہ کے کام آتے رہے۔ دوسری جانب بنگالی عوام جبراً صرف ایک چولا اور ایک دھوتی تک محدود کر دیے گئے۔ بنگال میں ظلم کی دوسری داستان تقسیمِ بنگال‘ سال 1905ء میں تب لکھی گئی جب گوروں نے ایسٹ اور ویسٹ بنگال کے دو یونٹ بنا کر اُس کے وسائل تیزی سے انگلستان ٹرانسفر کرنے کے لیے The First Partition of Bengal کے نام سے شاہی حکم نامہ جاری کیا۔ اس جبری تقسیم اور وسائل میں حصہ داری سے محرومی کے نتیجے میں صرف تین عشروں بعد بنگا ل میں ایسا المناک قحط پڑا کہ بنگال کی بَل کھاتی ندیاں‘ دھان کے کھیت اور سونا اُگلتی زمینیں لاشوں سے بھر گئیں۔ ساحر لدھیانوی نے قحطِ بنگال پہ یوں تاریخ ساز نوحہ لکھا:
یہ شاہراہیں اسی واسطے بنی تھیں کیا
کہ ان پہ دیس کی جنتا سسک سسک کے مرے
زمیں نے کیا اسی کارن اناج اُگلا تھا
کہ نسل آدم و حوا بلک بلک کے مرے
ملیں اسی لیے ریشم ڈھیر بُنتی ہیں
کہ دخترانِ وطن تار تار کو ترسیں
چمن کو اس لیے مالی نے خوں سے سینچا تھا
کہ اُس کی اپنی نگاہیں بہار کو ترسیں
اتنے بڑے اور تاریخی جبرِ مسلسل کے باوجود بھی بنگال بنگال ہی رہا۔ چنانچہ بنگال نے اپنی منفرد حیثیت اور قومی وحدت بچا کر رکھی اور اجتماعی طور پر جبر کے سامنے کبھی سر نہ جھکایا۔ نہ سرنڈر کیا۔ بنگالی کس درجے کے حُریت پسند ہیں اس کا اندازہ لگانے کے لیے تاریخ ہمیں واپس برٹش راج میں لے جاتی ہے۔ یہ بنگال ہی تھا جہاں سال 1937ء میں پورے برِصغیر کی مسلم قیادت جمع ہوئی۔ اس دور بین اور دور اندیش قیادت نے اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ایک علیحدہ وطن‘ پاکستان تعمیر کرنے کے لیے ابتدائی اینٹ رکھی تھی۔
14 اگست 1947ء کو مشرقی بنگال میں تقسیم ہندوستان وقوع پذیر ہوئی۔ تاریخ سے سبق نہ سیکھنے والوں کا المیہ دیکھیں۔ بنگالیوں کو ایک کمتر درجے کی نسل قرار دیا‘ جس کے نتیجے میں بنگال کے گورنر‘ منیجرز اور اعلیٰ عہدیدار غیر بنگالی چنے گئے۔ ایسٹ پاکستان رائفلز (EPR) کو محض مقامی ملیشیا کا درجہ دیا گیا۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان‘ زرعی ترقیاتی بینک اور دارالخلافہ‘ مشرقی بنگال جو مشرقی پاکستان بن چکا تھا‘ اُس سے دو ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر بنائے گئے۔ جب پالیسی سازی میں پالیسی بنانے والے اپنے آپ کو آسمانی مخلوق سمجھیں اور باقیوں کو انگریزی محاورے کے مطابق Children of the lesser god جیسے سلوک کا مستحق قرار دیں‘ تو اس کا نتیجہ ناراضی سے نفرت تک‘ نفرت سے بغاوت تک اور بغاوت سے علیحدہ شناخت تک کے علاوہ اور کچھ نہیں نکل سکتا۔ ہماری بدبختی کہ قائداعظم کے پاکستان کو محض 24 سال چار ماہ اور تین دن کے مختصرترین عرصے میں دو لخت کر دیا۔ لیکن سقوطِ ڈھاکہ کے سانحے کے54 سال ایک ماہ اور 29 دن کا طویل عرصہ گزر جانے کے بعد بھی ہم نے مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے سے کچھ سبق نہیں سیکھا۔
حال ہی میں قیدِ عمران کے دوران دو واقعات ایسے پیش آئے جو ہمارے ریاستی ذمہ داران اور اُن کے کارندوں کے ذہنیت کو کھول کر سامنے رکھتے ہیں۔
قیدِ عمران کا پہلا واقعہ: قارئینِ وکالت نامہ اَب میں آپ کے سامنے عمران خان کی دائیں آنکھ میں بیماری کے حوالے سے مستند ڈاکٹرز کی مرتب کردہ Khan's vision loss timeline رکھتا ہوں ۔ اکتوبر 2025ء میں عمران خان کی نظر 6/6 ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس لیے اُنہیں کسی علاج کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ قیدِ تنہائی‘ کم روشنی اور سیل کے اندر کی شدید ماحولیاتی خرابی کی وجہ سے نومبر؍ دسمبر‘ سال 2025ء میں عمران خان کی نظرBlur ہوئی‘ جس کو میڈیکل زبان میںHazy Vision کہتے ہیں۔ ہسپتال کے نو آموز ڈاکٹرز نے اُنہیں روٹین کے قطرے تجویز کیے‘ جو اُنہوں نے آنکھوں میں ڈالنا شروع کر دیے۔ 16 جنوری 2026ء کو Sudden loss of vision رپورٹ ہوا‘ جس کے نتیجے میں سپرنٹنڈنٹ جیل کو قربانی کا بکرا بنا کر تبدیل کر دیا گیا۔ 24 جنوری 2026ء کو رات کے اندھیرے میں عمران خان صاحب کو سرکاری پمز ہسپتال کی ایمرجنسی میں فوری سرجری کے لیے لے جایا گیا۔ اس کے بعد سپریم کورٹ کی مداخلت سے جو رپورٹ عدالتی کمیشن نے 12 فروری 2026ء کو پیش کی اس کے مطابق خان کی دائیں آنکھ کی نظر صرف 15 فیصد رہ گئی ہے۔ آنکھ کے ماہر ڈاکٹروں کے مطابق جب کسی آنکھ میں بینائی صرف 15 فیصد رہ جائے اُس کا مطلب ہے اُس آنکھ سے سبز رنگ کا ایک ہیولا نظر آتا ہے لیکن فگرز نظر نہیں آتے۔ یعنی کسی چیز یا شخص کی پرچھائیں نظر آتی ہے لیکن یہ سمجھ نہیں آتا کہ یہ اصل میں ہے کیا شے۔ ابھی چند گھنٹے پہلے خان کو ہسپتال لے جانے کے بجائے جیل میں معائنے کا ڈرامہ رچایا گیا‘ عمران خان کو اتنے شدید مرض میں سپریم کورٹ کے آرڈر کے باوجود اُن کی تسلی کے ڈاکٹرز اوراُن کے اپنے ہسپتال تک رسائی نہ دی گئی۔ اُن کے کروڑوں ووٹرز کو نجانے کس انتظار کی سولی پر لٹکا کر مزید نفرت اور غم وغصے میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔
قیدِ عمران کا دوسرا واقعہ: ایک انگریزی اخبار میں وزارتِ داخلہ کے ذرائع سے سٹوری چلائی گئی جس میں کہا گیا کہ عمران خان کے بیٹوں قاسم اور سلمان نے برطانیہ میں پاکستان مشن کو ویزا لینے کے لیے درخواست فارم جمع کرائے۔ عذر یہ بتایا گیا اُن فارمز کے حوالے سے قاسم اور سلمان سے کچھ مزید انفارمیشن حاصل کرنا مطلوب ہے‘ اس لیے اُن کے ویزے میں تاخیر ہو رہی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی خبریں چلوائی گئیں کہ قاسم اور سلمان جب بھی چاہیں وہ وزارتِ داخلہ سکرٹریٹ کے مجاز افسر کے پاس پیش ہوکر اپنے ویزہ فارم میں غلطیوں کا ازالہ کر سکتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے لندن میں بیٹھے ہوئے قاسم اور سلمان بغیر ویزے کے پہلے اسلام آباد وزارتِ داخلہ کے مجاز افسر کے پاس حاضری کے لیے پیش ہوں‘ اُس کے بعد قاسم اور سلمان کو ویزہ مل جائے تو پھر وہ لندن پہنچ کر لاہور یا اسلام آباد میں لینڈنگ کے لیے پاکستان کا سفر شروع کریں۔ تاریخ سے انجان ذہن یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں زمین پر اُن کی خدائی ہے‘ ان کے اَمر کے بغیر کوئی پتّا بھی نہیں ہل سکتا۔ بنگلہ دیش کا سبق نہ سیکھنے والے قیدِ عمران کے سبق سے ناآشنائی کی ناکام اداکاری کر رہے ہیں۔ شاعر نے زمین پر خدائی کے دعویداروں کی تاریخ یوں بیان کی:
یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا
یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں