راشد شاز صاحب اور جناب جاوید احمد غامدی... برصغیر کے دو صاحبانِ علم نے اس بحران میں ہماری دادرسی کی۔ ایک نے مسئلے کی تفہیم میں‘ دوسرے نے مسئلے کے حل کے لیے لائحہ عمل کی تشکیل میں۔ میں نے دونوں سے استفادہ کیا ہے اور پھر اس تنقیدی شعور کو بروئے کار لانے کی سعی کی ہے جو قدرت نے ہم سب کو ودیعت کر رکھا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کم لوگ ہی اس سے کام لیتے ہیں۔
باتیں دو ہی ہیں: مؤقف اور لائحہ عمل۔ ہمیں ایک بحران کا سامنا ہے۔ اس کی نوعیت کیا ہے اور ہم کیا چاہتے ہیں؟ اس سوال کا جواب ہی ہمارا مؤقف ہے۔ ہم اس بحران سے کیسے نکل سکتے ہیں؟ اس کا جواب لائحہ عمل میں ہے۔ مؤقف اصولی ہوتا ہے اور کوئی حرج نہیں اگر رومانوی بھی ہو۔ لائحہ عمل ہمیشہ حقیقت پسندانہ ہوتا ہے۔ مؤقف کے بیان میں حقیقت پسند ہونا لازم نہیں۔ ظلم اگر حقیقت ہے تو اس کی تائید مؤقف نہیں بن سکتی۔ لائحہ عمل کی تشکیل میں رومانوی نہیں ہونا چاہیے۔ موت موت ہے‘ اصطلاحات کا لبادہ پہنا دینے سے اس کا دکھ کم نہیں ہو سکتا۔
ہمارا مؤقف کیا ہے؟ اس کے دو اجزا ہیں۔ ہم ان پر الگ الگ بات کرتے ہیں۔ ایران ایک آزاد اور خودمختار ملک ہے۔ کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ اس کے داخلی معاملات میں مداخلت کرے۔ اس کی سرحدوں کا احترام بین الاقوامی قانون کا تقاضا ہے۔ دنیا کا ہر ملک اس احترام کا سزاوار ہے۔ جب ایران کی اس آزادانہ حیثیت کو مجروح کیا گیا تو ہم پر لازم ہے کہ ہم جارح قوتوں کی مذمت کریں۔ مسلم دنیا پر بدرجہ اولیٰ واجب ہے کہ وہ اس معاملے میں ایران کی تائید کرے۔ امریکہ اور اسرائیل نے پہلے فلسطین اور اب ایران کے ساتھ ظلم کا ارتکاب کیا ہے۔ یہی ہمارا مؤقف ہے اور یہ مقدمہ اصولی ہے۔ ہمارے مقدمے کا دوسرا جزو مسلمانوں کے داخلی اختلافات ہیں۔ ہمارا اصولی مؤقف یہ ہے کہ اہلِ اسلام مسلکی‘ سیاسی‘ جغرافیائی اور تاریخی اختلافات سے بلند تر ہو کر ایک کتاب اور ایک پیغمبر کے پرچم تلے جمع ہو جائیں۔ مسلمانوں کے ان اختلافات کی نوعیت ماضی کے سیاسی واقعات سے ہے یا فقہی مسائل سے۔ انہیں دورِ حاضر میں امتِ مسلمہ کے اجتماعی سیاسی ومعاشی مفادات کے راستے میں حائل نہیں ہونا چاہیے۔
اب حقائق کیا ہیں؟ مسلمان دنیا بالخصوص مشرقِ وسطیٰ کی مسلم ریاستوں کے مفادات امریکہ سے جڑے ہوئے ہیں۔ وہ سب قومی ریاست کے دائرے میں سوچتے ہیں نہ کہ امتِ مسلمہ کے پس منظر میں۔ ہر ملک کو اپنا مفاد عزیز ہے۔ وہ امریکہ سے کوئی جھگڑا مول نہیں لے سکتے۔ وہاں اگرچہ بادشاہتیں ہیں مگر عوام مطمئن اور خوش حال ہیں۔ جہاں کچھ آزادی دی گئی ہے وہاں فتنہ وخلفشار نے جنم لیا ہے۔ عرب بہار اب ایک ڈراؤنا خواب ہے۔ مزید یہ کہ امریکہ ایک عالمی قوت ہے۔ اس کی عسکری اور معاشی حیثیت کا مسلم دنیا سے کوئی موازنہ نہیں۔ اس کو للکارنے کا ناگزیر نتیجہ شکست ہے۔ عراق‘ افغانستان‘ لیبیا‘ سمیت ان گنت مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔
مسلمانوں کے داخلی اختلافات کے حوالے سے بھی حقائق بہت تلخ ہیں۔ ایک اختلاف تاریخی ہے۔ ایران شیعہ اکثریتی ملک ہی نہیں‘ شیعہ تعبیرِ دین کا موئد بھی ہے۔ یہ اختلاف محض تاریخی نہیں۔ اب اس کی حیثیت مذہبی ہے جس کی جڑیں شیعہ سنی نفسیات میں بہت گہری ہیں۔ اسے محض لفاظی سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ دوسرا اختلاف عصری ہے۔ ایران پر ایک بڑا اعتراض یا الزام یہ ہے کہ انقلاب کے بعد‘ یہاں کی مذہبی قیادت نے مسلم ملکوں میں اہلِ تشیع کی پشت پناہی کی اور یوں ان میں داخلی خلفشار کا باعث بنی۔ اس نے لبنان‘ بحرین‘ سعودی عرب‘ یمن‘ شام‘ پاکستان‘ ہر مسلم ملک میں شیعہ سیاسی تشخص کو ابھارا۔ مسلح گروہوں کی مدد کی جیسے لبنان کی حزب اللہ اور یمن کے حوثی۔ ان گروہوں کے ذریعے حکومتوں کو تبدیلی کرنے کی کوشش کی اور انتقالِ انقلاب کا نعرہ بلند کیا۔ اسی سبب سے عراق ایران جنگ ہوئی اور عرب وایران کا تنازع زندہ ہوا۔
جب ہم اس بحث کو سمیٹتے ہیں تو اس کا ایک ہی نتیجہ نکلتا ہے: موجودہ حقائق کی روشنی میں اصولی مؤقف اپنانا ممکن نہیں۔ نہ تو ہم امریکہ کی مخالفت کر سکتے ہیں اور نہ ہی مسلمانوں کے درمیان اختلافات کم ہو سکتے ہیں۔ امریکہ کی مخالفت اور مسلمانوں کی سیاسی وحدت دونوں کا تعلق مسلم ریاستوں کے مفاد سے ہے۔ جہاں مفاد کا تصادم ہو جائے وہاں یہ امید نہیں رکھنی چاہیے کہ لوگ اپنے اپنے مفادات کو‘ کسی اجتماعی مفاد کے لیے خیرباد کہہ دیں گے۔ بیک جنبشِ قلم یہ بھی ممکن نہیں کہ مسلم دنیا متحد ہو کر امریکہ کو للکارنے لگے اور اگلے دن پاکستان اور افغانستان‘ ایران اور سعودی عرب بھائی بھائی بن جائیں۔ اگر یہ تجزیہ درست ہے تو پھرکیا کیا جائے؟ کیا ان حقائق کا ادراک کرتے ہوئے‘ ہم اصولی مؤقف سے دستبردار ہو جائیں؟ کیا ظلم کی تائید میں کھڑے ہو جائیں؟ کیا مظلوم کے معاملے میں گونگے بن جائیں؟ انسان کا ضمیر اگر زندہ ہے تو اس کے لیے یہ ممکن نہیں ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مسلمانوں کو اہلِ علم کی راہنمائی درکار ہوتی ہے۔ ہمیں اپنے اصولی مؤقف پر کھڑا رہتے ہوئے‘ ایک حقیقت پسندانہ حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ اہلِ علم سے استفادے اور غور وفکر کے بعد‘ جو ظاہر ہے کہ ایک جاری عمل ہے‘ میں چند تجاویز پیش کر رہا ہوں۔
٭ او آئی سی کا ہنگامی اجلاس بلایا جائے اور اس میں یہ مؤقف اپنایا جائے کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق‘ ہر ریاست کی داخلی خودمختاری کا احترام لازم ہے۔ کسی ریاست کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ دوسروں پر اپنے فیصلے مسلط کرے۔ اس کے ساتھ عالمی سطح پر یہ کوشش کی جائے کہ اس جنگ کا خاتمہ ہو۔
٭ ایران سے رابطہ کیا جائے اور اس بات کی کوشش کی جائے کہ معاملات اصلاح پسندوں کے ہاتھ میں چلے جائیں۔ ایران میں ایک نئے طرزِ حکومت کا خاکہ بنایا جائے جس میں سب طبقات کی نمائندگی ہو۔ مذہبی قیادت سے یہ درخواست کی جائے کہ وہ اس وقت خود کو ریاستی امور سے الگ کر کے‘ عراق کے علما کی طرح علم اور سماجی اصلاح کیلئے خاص ہو جائے۔ شورائے نگہبان خود ہی اپنے اختیارات پارلیمان کے ہاتھ میں دے دے۔ ملک کو بچانے کیلئے وقتی پسپائی حکمت ہے‘ بزدلی نہیں۔ ایران کی تعمیرِ نو کیلئے مارشل پلان کی طرز پر منصوبہ بنایا جائے جس میں ساری دنیا شریک ہو۔
٭عرب ممالک اور ایران کے درمیان موجود اختلافات کے خاتمے کے لیے‘ او آئی سی پاکستان کے زیرِ نگرانی ایک فورم بنائے۔ یہ فورم یقینی بنائے کہ مداخلت کی شکایات کا ازالہ ہو۔ یہ فورم باہمی تعلقات کو خوشگوار بنانے کے لیے اقدام تجویز کرے۔ ایران‘ عراق‘ لبنان‘ سعودی عرب اور پاکستان میں ہونے والے علمی کام اور فتاویٰ کا تبادلہ ہو‘ جس نے ان مذہبی تصورات کو چیلنج کیا ہے جو شیعہ سنی کے مابین باعثِ نزاع رہے ہیں۔
٭ پاک سعودی دفاعی معاہدے میں‘ دیگر مسلم ممالک کی شمولیت کیلئے سرعت کے ساتھ کام کیا جائے۔ اس کے ساتھ معاشی استحکام اور خود انحصاری کیلئے مشترکہ منصوبے بنائے جائیں۔ یہ طے کر لیا جائے کہ کم از کم دس سال تنازعات سے ممکن حد تک گریز کیا جائے گا۔٭ گریٹر اسرائیل کی بات اب سیاسی سطح پر ہونے لگی ہے۔ اس کی روک تھام اور اسرائیل کی 1967ء کی سرحد پر واپسی کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی بنائی جائے۔ یہ کام اگر او آئی سی کی سطح پر نہ ہو تو پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکیہ اس پر ابتدا کر سکتے ہیں۔
یہ کام مشکل ہیں لیکن ناممکن نہیں۔ اصول اور رومان سے مکمل دستبرداری کا مطلب اخلاق کا زوال ہے۔ حقائق سے صرفِ نظر کا مطلب عقل سے بغاوت ہے۔ اخلاق اور عقل کے امتزاج کا نام ہی انسان ہے۔ ہمیں انسان بن کر سوچنا ہو گا۔