"KNC" (space) message & send to 7575

رمضان کلچر

روزہ عبادت کا ایک مظہر ہے۔ مظاہرِ عبادت جب اجتماعی صورت اختیار کرتے ہیں تو کلچر میں ڈھل جاتے ہیں۔ کلچر زمان اور مکان سے متاثر ہوتا ہے۔ عبادت جب کلچر بنتی ہے تو اس میں بھی مقامی تہذیبی رنگ جھلکنے لگتا ہے۔ یہ فطری ہے‘ اگر عبادت کی روح اس سے متاثر نہ ہو۔ انسان کا معاملہ مگر یہ ہے کہ وہ ان امور میں افراط وتفریط میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ ہمارے ہاں بھی رمضان کے مہینے میں یہی ہوتا ہے۔
پہلے ایک نظر میڈیا پہ ڈالتے ہیں۔ میڈیا کے مذہبی پروگراموں کے بارے میں مولانا وحید الدین خاں نے یہ قولِ فیصل کہہ رکھا ہے کہ یہ مذہبی انٹرٹینمنٹ ہے۔ آج کل یہ محض انٹرٹینمنٹ ہے۔ سوشل میڈیا کے توسط سے کسی ٹی وی چینل کا ایک کلپ دیکھنے کا موقع ملا۔ امام مہدی کی تشریف آوری اور سیدنا مسیح علیہ السلام کا نزولِ ثانی زیرِ بحث تھا۔ سیدنا مسیحؑ تشریف لائیں گے تو پیغمبر کی حیثیت سے یا امتی کے طور پر؟ کون کس کی امامت میں نماز ادا کرے گا؟ اس نوعیت کے مباحث سے ایک ایسا خلطِ مبحث پیدا کیا گیا کہ 'کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی‘۔ میرے نزدیک تو فریقین میں سے کسی کا مؤقف درست نہیں تھا۔ دونوں نقطہ ہائے نظر کے تضادات سامنے آ رہے تھے۔ اس سے قطع نظر‘ میرے لیے سوال یہ تھا کہ عام آدمی اس سے کیا تاثر لے رہا ہو گا؟ یہ پروگرام دیکھ کر‘ کیا خدا کے ساتھ اس کا تعلق مضبوط ہوا؟ کیا اس میں مذہبی ذوق پیدا ہوا؟ اس بحث نے مذہب کی کیا خدمت سرانجام دی؟
علمی مباحث میڈیا میں زیرِ بحث آنے چاہئیں مگر ان کا محل اور ہے۔ رمضان تو اس کی دعوت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہم اپنے تعلق کی تجدید کریں اور اسے مضبوط بنائیں۔ ہمارے اخلاق وکردار میں وہ مظاہر دکھائی دیں جو ہمیں اللہ کا بندہ ثابت کرتے ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہماری محبت بڑھتی ہو۔ محبت اور سپاس گزاری کا احساس ہماری عبادت کا محرک بنے اور ہم اس میں سرشار ہو کر اپنے پروردگار کے حضور میں حاضر ہوں۔ میڈیا کے پروگراموں کا مقصد یہی ہونا چاہیے۔ امام مہدی آئیں گے یا نہیں‘ یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر علمی گفتگو تو کی جا سکتی ہے‘ اس سے رجوع الی للہ کی تحریک نہیں اٹھائی جا سکتی۔ پھر یہ بحث جس انداز میں ہو رہی تھی‘ اس میں علم کم اور مذہبی تعصب زیادہ تھا۔ اسی طرح کے ایک اور پروگرام کا کلپ دیکھا جس میں گدھے کے حرام حلال کی بحث جاری تھی اور ایک دوسرے کو اس مظلوم جانورکا مصداق قرار دیا جا رہا تھا۔ اسی میں یہ سوال بھی اٹھا دیا گیا کہ کون صدر ٹرمپ کی دعوت میں شریک ہوا اور اس شرکت سے مسلمانوں کو کتنا نقصان پہنچا؟ اب ان مباحث کا رمضان کے مقصد سے کیا تعلق جو قرآن مجید کی نگاہ میں 'تقویٰ‘ ہے؟ ان پروگراموں کاذکر ہی کیا جو سرتاپا بے ہودہ ہیں۔
رمضان کلچر کا ایک اور مظہرکھانے پینے میں حدِ اعتدال سے تجاوز ہے۔ گزشتہ رمضان کی ایک شب‘ مجھے چند دوست ایک بازار لے گئے جو راولپنڈی میں بطورِ خاص‘ رمضان کی راتوں میں سجتا ہے۔ جا کر دیکھا تو ایک انتہائی غیر متوقع منظر میرے سامنے تھا۔ طرح طرح کے کھانوں کی دکانیں اور ان پر انسانوں کا اتنا ہجوم کہ کھوے سے کھوا چھل رہا تھا۔ معلوم ہوا کوئی پائے پکانے کا ماہر ہے جو گوجرانوالہ سے بطورِ خاص یہاں آیا ہے اور کسی کی شناخت نہاری ہے‘ جو لاہور سے آیا ہے۔ ایک صاحب کچھ بیچ رہے تھے‘ اب یاد نہیں کہ کیا تھا۔ وہ کوپن دے رہے تھے۔ ہم پہنچے تو معلوم ہوا کوپن تو ختم ہو چکے۔ میرے ایک دوست نے دکاندار کو ایک پلیٹ پر دو سو روپے اضافی دینے کی لالچ دی تو کوپن مل گیا۔ لوگ سحری تک ایسے بازاروں میں گھومتے ہیں۔ سوچنا یہ ہے کہ اس رَت جگے کا رمضان کی شب بیداری سے کیا تعلق جو خدا کے حضور میں رکوع وسجود سے عبارت ہوتی ہے؟
تیسرا مظہر افطار پارٹیاں ہیں۔ یہ باہمی تعلقات کو تقویت پہنچانے کیلئے ہوتی ہیں۔ یہ گھروں میں ہوتی ہیں اور ریستورانوں میں بھی۔ میں اشتہارات دیکھتا ہوں جن میں پچاس پچاس پکوانوں پر مشتمل 'رمضان بوفے‘ کا ذکر ہوتا ہے۔ رمضان سے ایک آدھ دن پہلے‘ مجھے ایک دوست نے کھانے پر بلایا اور مغرب کا وقت طے کیا۔ ریستوران پہنچے تو معلوم ہوا کہ یہ افطار ڈنرکی ریہرسل ہے۔ انواع واقسام کے اتنے کھانے کہ میری گنتی ختم ہو گئی۔ میں سوچتا رہ گیا کہ کیا رمضان اس بسیار خوری کی دعوت ہے؟ ہم اگر افطار کرانا چاہتے ہیں تو اس کے مستحق وہ لو گ ہیں جن کے پاس وسائل نہیں۔ ان پر خرچ کرنا ہی انفاق فی سبیل اللہ ہے۔ نبیﷺ جیسے سخی تھے‘ سیرت کی کتابیں اس کے شواہد سے بھری ہوئی ہیں۔ صحابہ کی گواہی یہ ہے کہ رمضان میں آپﷺ سخاوت کا ابرِ باراں بن جاتے جو موسلا دھار برستا۔ ہر کام کا اجر اس کی نیت کے مطابق ہے۔ کھاتے پیتے لوگو ں کو پبلک ریلیشننگ کیلئے جو افطار کرائے جاتے ہیں‘ خدا کے ہاں ان کا کوئی اجر نہیں ہے۔
سوال یہ نہیں کہ عبادت کلچر کیوں بنتی ہے۔ اعتراض یہ ہے کہ کلچر کے نام پر ہم جو کچھ کرتے ہیں‘ اس سے عبادت کی روح متاثر ہوتی ہے۔ رمضان کا مہینہ پہلے بھی کلچر بنتا تھا مگر اس کی نوعیت مختلف تھی۔ رسالت مآبﷺ کا معاملہ تو یہ تھا کہ شعبان ہی سے اس کی تیاری کا آغاز ہو جاتا۔ صحابہ بھی یہی کرتے تھے کہ اللہ کے رسول کی ہر ادا کو محفوظ رکھنا ان کی عادت تھی۔ یہ روایت تو ہمارے ہاں نہیں رہی مگر اس میں آنے والا مقامی رنگ ایسا تھا کہ اس سے عبادت کی روح مجروح نہیں ہوتی تھی۔ شعبان کی 29تاریخ کو لوگ چھتوں پر چڑھ جاتے اور رمضان کا چاند دیکھنے کی کوشش کرتے۔ جو سب سے پہلے دیکھ لیتا اس کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہتا۔ وہ سب کی نگاہوں کا مرکز بن جاتا اور جس طر ف وہ انگلی سے اشارہ کرتا‘ سب کی نظریں اس سمت کو مڑ جاتیں۔ یہ ایسا شاندار منظر ہوتا کہ اس کو صرف محسوس کیا جا سکتا تھا۔ پھر تروایح کا اہتمام اس رونق کو بڑھا دیتا۔ دیہات میں وہ لو گ بھی مسجد کا رخ کرتے جو سارا سال اس حاضری سے محروم رہتے۔ مسجد میں لوگ اجتماعی افطاری کا اہتمام کرتے۔ دن بھر تنور اور چولہے ٹھنڈے رہتے۔ اب اگر کوئی اجنبی بستی میں آ جاتا تو در ودیوار زبانِ حال سے پکار اٹھتے کہ آج بستی والے روزے سے ہیں۔
دیہات کا ماحول اب بدل گیا ہے۔ کلچر زمان ومکان کے تابع ہے۔ اس کے مظاہر بھی تبدیل ہو جاتے ہیں۔ ہمیں صرف یہ دیکھنا ہے کہ یہ تبدیل ہوتا کلچرکہیں روزے کے مقصد کو نقصان پہنچانے والا نہ ہو۔ یہ کلچر ہے جو کسی عمل کو ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل کرتا ہے۔ ہم نے روزہ کتابوں سے پڑھ کر نہیں‘ گھر کے ماحول کو دیکھ کر رکھا ہے۔ اس لیے عبادت کا کلچر بننا مستحسن ہے۔ ایسی باتوں کی حوصلہ شکنی نہیں ہونی چاہیے۔ مجھے کھانے پینے کے خصوصی بازاروں کی آبادی پر بھی اعتراض نہیں‘ اگر وہ ہماری راتوں کو کھا نہ جائیں۔ اگر افطار اور سحری کے مقاصد بدل جائیں تو یہ بات باعثِ تشویش ہے۔ میری پوری کوشش ہوتی ہے کہ افطار گھر پر ہو۔ احباب سے بھی یہی درخواست ہوتی ہے کہ مدعو نہ کریں۔ ہر عبادت اصلاً انفرادی عمل ہے۔ روزہ تو بطورِ خاص۔ اسی وجہ سے اعتکاف اس کا منتہائے کمال ہے۔ اس مہینے میں کچھ وقت ایسا ضرور ہونا چاہیے جب بندے اور اس کے پروردگار کے مابین کو ئی حائل نہ ہو۔ عبادت کا اجتماعی پہلو اپنی جگہ مگر یہ بات پیشِ نظر رہے کہ عبادت اصلاً اس لیے ہے کہ فرد اپنے رب سے جڑا رہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں