"DRA" (space) message & send to 7575

کیا امریکہ جوہری حملہ کر سکتا ہے؟

ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے سے شروع ہونے والی جنگ اب بند گلی میں داخل ہو چکی ہے۔ جنگ کے آغاز پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے خلاف یہ کارروائی زیادہ سے زیادہ دو سے چار ہفتے تک جاری رہے گی کیونکہ انہیں یقین دلایا گیا تھا کہ سپریم لیڈر اور باقی قیادت کے خاتمے کے بعدایرانی عوام اپنی حکومت کے خلاف سڑکوں پر آ جائیں گے۔ لیکن نہ تو ایرانی حکومت کا شیرازہ بکھرا اور نہ ہی ایرانی عوام حملہ آوروں کو خوش آمدید کہنے کیلئے سڑکوں پر آئے‘ بلکہ نتیجہ اس کے بالکل برعکس نکلا اورامریکہ اور اسرائیل کی مسلسل بمباری کے باوجود ایرانی عوام نے تہران سمیت ملک کے دیگر بڑے شہروں میں سڑکوں پر نکل کر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی مذمت کی اور اپنی حکومت کی حمایت میں آواز بلند کی۔ایرانی حکومت نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت سے حوصلہ ہارنے کے بجائے حملہ آوروں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا اعلان کیا۔ اب یہ جنگ تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور مزید کتنے عرصے تک جاری رہے گی‘ اس کے بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ حتمی طور پر کچھ بھی کہنے سے قاصر ہیں۔
جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ آپ جنگ شروع تو اپنی مرضی سے کرتے ہیں مگر اسے ختم کرنے کا اختیار آپ کے ہاتھ میں نہیں ہوتا کیونکہ جنگ بہتے ہوئے پانی کی طرح ہے جو قدرتی قوانین کے تحت اپنا راستہ خود بناتا ہے۔ وقتی طور پر پانی ذخیرہ کر کے یا راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر کے اس کا بہاؤ روکا جا سکتا ہے یا رخ موڑا جا سکتا ہے مگر اسے ہمیشہ کیلئے قید نہیں کیا جا سکتا۔ یہی حال ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی چھیڑی ہوئی جنگ کا ہے۔ حملہ آوروں نے جن مفروضوں کی بنیاد پر اسے اپنی مرضی سے شروع اور مرضی سے ختم کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی‘ وہ سب غلط ثابت ہوئے ہیں۔ اب وہ اس جنگ سے نکلنے کا سوچ رہے ہیں مگر ویتنام‘ افغانستان اور عراق کی مثالوں کو سامنے رکھیں تو ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ جنگ چھیڑنے کی تو بے پناہ استعداد کا مالک ہے مگر اس سے نکلنے کیلئے اس کے پاس کوئی واضح حکمت عملی نہیں ہوتی۔ ایران کے خلاف جنگ امریکہ کے کنٹرول سے باہر ہو چکی ہے کیونکہ ایران ٹرمپ کے الٹی میٹم کے باوجود ہتھیار ڈالنے پر تیار نہیں۔ جوں جوں اس جنگ کی طوالت کے بارے میں تشویش اور غیر یقینی پھیل رہی ہے‘ ڈونلڈ ٹرمپ پر نہ صرف عالمی دباؤ بلکہ امریکی عوام کی طرف سے بھی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔اس صورتحال میں امریکی صدر ایک طرف تو یہ کہتے ہیں کہ اگر وہ چاہیں تو یہ جنگ چند گھنٹوں میں ختم ہو سکتی ہے اور دوسری طرف یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے کہ یہ کب ختم ہو گی۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران اس اہم سوال یعنی جنگ کب اور کیسے ختم ہوگی‘ پر ٹرمپ کے متضاد بیانات میں ایک ایسے آپشن کے اشارے بھی ملے ہیں جس کے بارے میں سوچ کر ہی انسان کانپ جاتا ہے‘ اور وہ ہے جوہری ہتھیار کا استعمال۔ ڈونلڈ ٹرمپ ایران جنگ پر جو بیانات دے رہے ہیں ان میں ایک ایسی دھمکی کا اشارہ بھی موجود ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اگر اس جنگ کو امریکی اور اسرائیلی شرائط پر ختم نہ کیا گیا تو اس کیلئے جوہری ہتھیار استعمال کرنے سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ اس دھمکی کو سنجیدہ لینے کی ضرورت ہے ۔
اسرائیل‘ امریکہ جنگ ایک ایسے ڈیڈ لاک کا شکار ہو چکی ہے جسے دوسری عالمی جنگ کے آخری لمحات سے تشبیہ دی جا رہی ہے۔ مئی 1945ء میں جرمنی کے ہتھیار ڈالنے کے بعد یورپ میں جنگ ختم ہو چکی تھی‘ منچوریا میں چین اور سوویت یونین کے ہاتھوں جاپانی افواج کا صفایا ہو چکا تھا مگر جاپان کے جزیروں پر تعینات جاپانی فوج ہتھیار ڈالنے سے انکاری تھی۔ اگرچہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کو کسی لحاظ سے بھی جائز نہیں سمجھا جا سکتا مگر امریکی مؤقف کے مطابق جنگ کو فوری طور پر ختم کرنے کیلئے یہ واحد آپشن تھا۔ چھ اور آٹھ اگست 1945ء کو بالترتیب جاپان کے دو بڑے شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر امریکی صدر ہیری ٹرومین کے حکم پر ایٹم بم گرائے گئے جس کے بعد جاپان نے فوراً ہتھیار ڈال دیے اور جنگ ختم ہو گئی۔صدر ٹرمپ اگر اس مثال کو دہرانا چاہتے ہیں تو انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ایران کے خلاف جنگ اور دوسری عالمی جنگ میں بہت فرق ہے۔ گزشتہ تقریباً آٹھ دہائیوں میں دنیا پر ایٹمی تصادم کے خطرات کئی بار منڈلائے مگر ان کے استعمال کی نوبت نہیں آئی۔ سب سے پہلے یہ خطرہ اس وقت پیدا ہوا تھا جب سوویت یونین نے برطانیہ کے ساتھ معاہدے کے باوجود ایران کے شمالی حصوں سے اپنی فوجیں واپس کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ تب بھی امریکی صدر ہیری ٹرومین نے سٹالن کو عدم پیروی کی صورت میں ایٹم بم استعمال کرنے کی دھمکی دی تھی۔ دوسرا خطرہ 1956ء میں پیدا ہوا جب مصر کے صدر جمال عبدالناصر نے نہر سویز کو قومی ملکیت میں لے لیا اور برطانیہ اور فرانس نے اسرائیل کے ساتھ مل کر مصر پر حملہ کر کے نہر سویز کے اردگرد قبضہ کر لیا۔ اس جنگ میں امریکہ شریک نہیں تھا لیکن سوویت یونین نے برطانیہ اور فرانس کو فوری جنگ بند کرنے اور فوجیں واپس بلانے کا مطالبہ کیا بصورت دیگر لندن اور پیرس کو ایٹم بم بردار راکٹوں سے تباہ کرنے کی دھمکی دی تو امریکہ نے اس دھمکی کے جواب میں مشرقی بحیرہِ روم میں اپنا بحری بیڑہ داخل کر دیا جس پر ایٹمی ہتھیاروں سے لیس بمبار طیارے بھی موجود تھے۔ تاہم اقوام متحدہ کی کوششوں اور امریکہ کی طرف سے برطانیہ اور فرانس پر دباؤ ڈالنے سے نہ صرف اسرائیل بلکہ برطانیہ اور فرانس کو بڑی رسوائی کے بعد مصر کے علاقے خالی کرنا پڑے۔
مشرقِ وسطیٰ ایک دفعہ پھر ایٹمی جنگ کے دہانے پر کھڑا تھا اور اس دفعہ سوویت یونین اور امریکہ کے درمیان ممکنہ تصادم کے بجائے اسرائیل کی طرف سے 1973-74ء کی جنگ میں مصر اور شام کو ایٹمی حملے کا نشانہ بنانے کی تیاری تھی۔ اس جنگ میں مصر اور شام نے اکتوبر 1973ء میں اسرائیل پر حملہ کر کے اس کی فوجوں کو بالترتیب صحرائے سینائی اور مقبوضہ سطح مرتفع گولان سے پیچھے ہٹا کر جون 1967ء کی جنگ سے پہلے کی سرحدوں تک دھکیل دیا تھا۔ اسرائیلی فوج مصر اور شام کے ہاتھوں شدید دباؤ کا شکار ہو گئی تھی اور شمال میں سطح مرتفع گولان اور جنوب میں صحرائے سینا کی سرحدوں پر شامی اور مصری افواج اسرائیل کے اندر داخل ہونے کیلئے تیار تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس موقع پر اسرائیل نے ایٹمی ہتھیار بمبار طیاروں اور میزائلوں میں نصب کر کے مصر اور شام پر حملہ کرنے کی تیاری مکمل کر لی تھی اور امریکہ نے بھی ایٹمی الرٹ کا اعلان کر دیا تھا۔ تاہم امریکہ کی طرف سے اسرائیل کے تباہ شدہ ہتھیاروں‘ خاص طور پر ٹینک‘ آرٹلری اور ان میں استعمال ہونے والے گولہ بارود کو ایک ایئر کوریڈور کے ذریعے اسرائیل پہنچانے اور بحیرۂ روم میں اپنے بحری جہازوں پر نصب جاسوسی آلات کے ذریعے مصری افواج کی لوکیشن اور نقل و حرکت کے بارے اسرائیل کو مطلع کرنے سے جنگ کا پانسہ پلٹ گیا۔وہی اسرائیلی فوج جو بھاری جانی اور حربی نقصان اٹھا کر اپنی سرحدوں پر دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور ہو گئی تھی‘ نہر سویز کو عبور کر کے نہ صرف مصری افواج کو گھیرے میں لینے میں کامیاب ہو گئی بلکہ قاہرہ پر حملہ کرنے کی پوزیشن میں بھی آ چکی تھی۔
ٹرمپ ایران کے خلاف آخری چارہ کار کے طور پر ایٹمی حملے کی دھمکی دے رہے ہیں مگر جس طرح انہیں نہ صرف سفارتی اور قانونی بلکہ اخلاقی طور پر بھی اس جنگ میں ایک کے بعد ایک شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے‘ اس بات کا بہت کم امکان ہے کہ امریکہ اسرائیل کی خاطر ایران کو ایٹمی حملے کا نشانہ بنائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں