تقریباً دو ماہ سے مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے دوران ایران کے جوہری پروگرام کے بعد سب سے زیادہ آبنائے ہرمز (خلیج فارس کو بحیرہ عرب سے ملانے والی آبی راہداری) کا ذکر ہو رہا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ دنیا کے استعمال میں آنے والے تیل کی کُل مقدار کا تقریباً 21 فیصد اور ایل این جی کا 20 فیصد خلیج فارس کی اس تنگ آبی گزرگاہ سے مختلف ممالک میں پہنچتا ہے۔ ان ممالک میں چین‘ جاپان اور بھارت بھی شامل ہیں‘ جو دنیا کی پانچ بڑی معیشتوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان ممالک کی صنعتی اور معاشی ترقی کا انحصار بہت حد تک آبنائے ہرمز کے راستے درآمد کی جانے والی توانائی پر ہے مگر آبنائے ہرمز کے بند ہونے اور امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے سبب نہ صرف ان ممالک بلکہ خلیج فارس اور مشرق وسطیٰ سے تیل اور گیس درآمد کرنے والے دیگر ملکوں کی معیشت بھی بُری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر اشیا مثلاً اناج‘ کھاد‘ مشینری اور ادویات وغیرہ کی تجارت میں بھی رخنہ اندازی ہو رہی ہے۔ اس وجہ سے آبنائے ہرمز کی عالمی اہمیت اور اس کے بند ہونے سے پیدا ہونے والے اثرات پر ہر حلقے میں تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں تیل تو 1908ء میں دریافت ہوا تھا مگر آبنائے ہرمز زمانہ قبل از مسیح سے نہ صرف علاقائی بلکہ اُس وقت کی دنیا کے معاملات خصوصاً تجارت میں اہم کردار ادا کرتی آئی ہے۔ آج کے کالم میں اس قدیم آبی گزرگاہ کے تاریخی اور جیو سٹرٹیجک تناظر میں اس کی بدلتی ہوئی اہمیت اور کردار کے بارے میں معروضات پیش کی جائیں گی۔
آبنائے ہرمز کا نام خلیج فارس میں ایرانی ساحل پر واقع بندرگاہ‘ بندر عباس سے آٹھ کلومیٹر دور جزیرے ہرمز کی نسبت سے مشہور ہے۔ ماضی میں یہ تمام علاقہ قدیم سلطنت فارس کا حصہ تھا۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس جزیرے کا نام قدیمی فارسی سلطنت کے مذہبی رہنما زرتشت کے کئی ناموں میں سے ایک (ہرمزد) کی نسبت سے رکھا گیا ۔ جزیرہ ہرمز اُس زمانے میں خلیج فارس کے راستے ہندوستان‘ مشرق وسطیٰ اور اس سے آگے یورپ اور افریقہ کے درمیان مختلف اشیا خصوصاً مسالہ جات پر مشتمل تجارت کا مرکز تھا‘ کیونکہ یہ آبنائے ہرمز کے عین دہانے پر واقع ہے۔ اس لیے اُس دور میں مختلف قومیں ہرمز اور اس کے ارد گرد سمندروں میں اپنی بحری موجودگی اور اثرو نفوذ قائم کرنے کی جدوجہد کرتی رہتی تھیں۔ ان میں قدیم مصر‘ سلطنت روم‘ عرب اور سلطنتِ عثمانیہ بھی شامل رہیں۔ 1453ء میں جب ترکوں نے قسطنطنیہ پر قبضہ کر کے جبرالٹر تک بحرِ روم پر اپنا غلبہ قائم کرلیا تو یورپی ملکوں نے مشرق اور مغرب کے مابین منافع بخش تجارت کو بحال رکھنے کیلئے ہندوستان کیلئے متبادل بحری راستہ تلاش کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔ ان کوششوں کے نتیجے میں کولمبس نے مغرب کی طرف سفر کرتے ہوئے 1492ء میں امریکہ دریافت کر لیا اور پرتگال کا ایک ملاح واسکوڈے گاما 1498ء میں ہندوستان کے مغربی ساحل پر موجود بمبئی کے نزدیک ایک مقام کالی کٹ تک پہنچ گیا۔ یوں پرتگیزی سمندر کے راستے ہندوستان پہنچنے والی پہلی یورپی قوم بن گئے۔ جب پرتگیزی بحرِ ہند کے اس شمال مغربی حصے میں پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ نہ صرف بحیرہ عرب اور خلیج فارس (آبنائے ہرمز) بلکہ یمن اور افریقہ کے درمیان سے گزرنے اور بحیرہ احمر اور بحر ہند کو ملانے والی تنگ آبی پٹی باب المندب کے راستے بھی بحری تجارت زوروں پر ہے۔ ہندوستان بلکہ جنوب مشرقی ایشیا اور چین سے تجارتی سامان آبنائے ہرمز اور باب المندب کے راستے بحیرہ روم کے مشرقی ساحل پر واقع بندرگاہوں تک پہنچایا جاتا تھا جہاں سے یورپی تاجر سامان چھوٹے جہازوں اور کشتیوں میں لاد کر یورپ کے مغربی ساحل پر واقع منڈیوں تک لے جاتے تھے۔ اس تجارت کی دو خصوصیات تھیں: ایک یہ کہ یہ پُرامن اور آزاد تجارت تھی۔ اگرچہ اس میں ایرانی‘ عرب‘ ترک اور مصری جہاز بھی شامل تھے مگر کسی قوم کی طرف سے بحر ہند کی منافع بخش تجارت پر اجارہ داری کی کوشش نظر نہیں آتی تھی۔ دوسری‘ یہ خالصتاً تجارتی جہاز تھے‘ ان میں اسلحہ یا مسلح افراد سوار نہیں ہوتے تھے۔
سولہویں صدی کے آغاز میں پرتگیزی اپنے ساتھ مسلح جہاز لے کر آئے۔ ان کا مقصد نہ صرف بحر ہند کی تجارت پر اپنی اجارہ داری قائم کرنا تھا بلکہ وہ خلیج بنگال سے خلیج فارس تک اپنی سلطنت قائم کرنا تھا۔ چنانچہ انہوں نے آتے ہی بحر ہند میں تجارتی جہازوں پر حملے شروع کر دیے۔ چونکہ یہ جہاز غیر مسلح ہوا کرتے تھے اور بحر ہند میں بحری مسابقت کی کوئی روایت نہیں تھی‘ اس لیے پرتگیزی بہت جلد بحر ہند کی اس تجارت پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اپنے اس قبضے کو مستحکم کرنے اور ایک ایمپائر کی مضبوط بنیاد رکھنے کیلئے پرتگیزیوں نے اپنے مشہور امیر البحر الفانسو ڈی البوقرق کی سرکردگی میں پہلے سوکوترا (Socotra) اور پھرہرمز کے جزیرے پر یکے بعد دیگرے 1507ء میں قبضہ کر لیا۔ جزیرہ سوکوترا یمن کے جنوب اور صومالیہ کے مشرق میں 380 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس کے ذریعے پرتگیزیوں کو باب المندب کے راستے بحر ہند اور بحر احمر کی تجارت پر کنٹرول حاصل کرنے میں مدد ملی۔ آج کل یہ جزیرہ یمن کا حصہ ہے اور یمن نے اس پر ایک ہوائی اور ایک بحری اڈا تعمیر کر رکھا ہے۔ ہرمز پر قبضے سے پرتگیزیوں کو بحیرہ عرب اور خلیج فارس کی منافع بخش تجارت کو اپنے ہاتھ میں لینے میں کامیابی ملی۔ بحر ہند کی تجارت پر اجارہ داری قائم کرنے اور اس پورے خطے کو اپنے کنٹرول میں لانے کیلئے پرتگیزیوں نے ہرمز کے بعد بحر ہند کے عین وسط میں واقع سیلون (موجودہ سری لنکا)‘ خلیج بنگال کے جنوب مشرق میں ساؤتھ چائنا سی کو بحر ہند سے ملانے والی آبی گزرگاہ آبنائے ملاکا پر قبضہ کر لیا۔ مگر ان سب میں زیادہ اہمیت جزیرہ ہرمز ہی کو حاصل تھی کیونکہ اُس زمانے میں بحر ہند کا یہ خطہ ہندوستان اور مشرق وسطیٰ کے مابین تجارتی سرگرمیوں کا سب سے بڑا مرکز تھا۔ پرتگیزیوں نے یہاں ایک قلعہ تعمیر کر رکھا تھا‘ جس کے آثار آج بھی باقی ہیں۔
پرتگیزیوں کی بحر ہند میں ایمپائر زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکی کیونکہ یورپ کی دیگر قومیں مثلاً ولندیزی‘ انگریزی اور فرانسیسی بھی بحر ہند کی تجارت سے فائدہ اٹھانے کیلئے میدان میں کود پڑیں۔ پرتگیزیوں کو سب سے زیادہ نقصان ولندیزیوں کے ہاتھوں پہنچا‘ جنہوں نے آبنائے ملاکا (1641ء) اور اُس کے بعد سیلون (1658ء) ان سے چھین لیا۔ لیکن سب سے کاری ضرب 1622ء میں انہیں پہنچ چکی تھی جب ایران اور برطانیہ نے ایک مشترکہ کارروائی میں جزیرہ ہرمز پر قبضہ کر لیا ۔ انگریزوں نے جزیرہ ہرمز کے بجائے باب المندب کے کنارے پر واقع عدن کے مقام پر ایک مضبوط بحری اڈہ قائم کیا‘ کیونکہ برطانیہ کی دفاعی پالیسی کا فوکس ہندوستان‘ برما اور ملایا کی نوآبادیاتی مقبوضات کا تحفظ تھا اور اس کیلئے وہ مصر میں بیٹھ کر بحر احمر کے راستے زیادہ مؤثر کارروائی کر سکتا تھا۔ 1869ء میں نہر سویز کھلنے سے عدن کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوا۔ تاہم اُس زمانے میں سوویت روس کی وسطی ایشیا میں پیش قدمی سے برطانیہ نے ہندوستان کو ممکنہ روسی خطرے سے محفوظ کرنے کیلئے برٹش انڈیا حکومت کے ذریعے خلیج فارس کی ریاستوں کو ایسے دوطرفہ معاہدوں پر مجبور کر دیا جن کے تحت برطانیہ کی رضامندی اور اجازت کے بغیر وہ کسی اور ملک کے ساتھ تعلقات قائم نہیں کر سکتے تھے۔ اُس وقت جزیرہ نما عرب سلطنتِ عثمانیہ کا حصہ تھا‘ اس لیے ترکوں کے ساتھ کشیدگی اور روس کے ممکنہ ردعمل سے بچنے کیلئے برطانیہ نے خلیج فارس کی ان ریاستوں پر براہ راست نوآبادیاتی قبضے سے گریز کیا مگر دوطرفہ معاہدوں کے ذریعے اور غیر رسمی طریقے سے برطانیہ کو ان کی دفاعی اور خارجہ پالیسیوں پر مکمل کنٹرول حاصل ہو گیا۔ یہ کنٹرول 1971ء تک جاری رہا‘ جب برطانیہ نے نہر سویز کے مشرق میں واقع فوجی اڈوں کو خالی کرنے اور خلیج فارس کی ریاستوں کو مکمل آزادی دینے کے اعلان پر عملدرآمد شروع کیا۔ (جاری)