امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ‘ جس کے آغاز پر ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو نے بڑے اعتماد کے ساتھ کہا تھا کہ چند روز میں ختم ہو جائے گی‘ اب دوسرے مہینے میں داخل ہو چکی ہے اور اس کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ کب ختم ہو گی۔ ایک طرف صدر ٹرمپ دعویٰ کرتے ہیں کہ اسرائیل کے ساتھ مل کر انہوں نے ایران کی سویلین اور عسکری قیادت ختم کر دی ہے‘ اس کی بحریہ اور فضائیہ کو ناکارہ بنا دیا گیا ہے اور اب ایران میں کچھ نہیں بچا۔ دوسری طرف وہ یہ دھمکی بھی دیتے ہیں کہ اگر ایران نے فوری طور پر آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کے گزرنے پر پابندیاں نہ اٹھائیں تو نہ صرف اس کے پاور پلانٹس بلکہ تیل کے کنویں بھی تباہ کر دیے جائیں گے۔ کبھی وہ اعلان کرتے ہیں کہ ممکن ہے دی گئی ڈیڈ لائن سے پہلے ہی جنگ کا دائرہ مزید وسیع کر دیا جائے۔ صدر ٹرمپ کے برعکس امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ایران کے خلاف جنگ میں اپنے اہداف حاصل کر لیے ہیں مگر صدر ٹرمپ اس جنگ کو مزید جاری رکھنے کے خواہشمند ہیں۔ اس طرح یہ جنگ جسے امریکہ ''دنیا کی طاقتور ترین فوج اور مضبوط ترین معیشت‘‘ کے بل بوتے پر چند ہفتوں میں جیتنے کا اعلان کر چکا تھا‘ اب غیر یقینی اور کنفیوژن کے ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں اس کی آئندہ نوعیت اور مدت کے بارے میں کچھ بھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا۔ تاہم موجودہ حالات چند واضح امکانات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ یہ لڑائی تیزی سے ایک بین الاقوامی جنگ کی شکل اختیار کر رہی ہے۔ دوسرا‘ امریکہ کو یہ جنگ جیتنے کیلئے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران میں اپنی فوج اتارنا پڑے گی جس کا فوری امکان دکھائی نہیں دیتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹرمپ کے عسکری مشیروں نے انہیں متنبہ کیا ہے کہ ایران پر زمینی حملہ‘جس میں آبنائے ہرمز کا کنٹرول اور بڑے شہروں پر قبضہ شامل ہو سکتا ہے‘ انسانی جانوں اور مالی اخراجات کے لحاظ سے نہایت مہنگا ثابت ہوگا۔
دراصل ٹرمپ کے مشیروں نے ٹرمپ کے اندر موجود بزنس مین کی حس کو 1991ء کی پہلی خلیجی جنگ کی یاد دلائی جس میں امریکہ کی سربراہی میں شریک 21 عرب ملکوں کو‘ نیو یارک ٹائمز کے مطابق 620 ارب ڈالر کا بھاری بوجھ برداشت کرنا پڑا تھا۔ اس رقم کا بڑا حصہ کویت اور سعودی عرب نے ادا کیا‘ جس کے نتیجے میں ان ممالک کی سالانہ جی ڈی پی گروتھ ایک سے سات فیصد تک متاثر ہوئی اور انہیں اپنے تیل کے ذخائر کئی برسوں تک گروی رکھنا پڑے۔ اسی تناظر میں اب ایران کے خلاف ایک بین الاقوامی اتحاد تیار کرنے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ یوکرین اور تین خلیجی ممالک‘سعودی عرب‘ قطر اور متحدہ عرب امارات کے درمیان طویل مدتی دفاعی تعاون کے معاہدے طے پا چکے ہیں‘ جن کے تحت ایرانی ڈرونز کو مار گرانے والے انٹرسیپٹرز کی تیاری‘ ریسرچ اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر کیلئے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی‘ اور ان کے استعمال کی تربیت کیلئے یوکرینی ماہرین اور ایڈوائزرز کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔
بظاہر یہ اقدام روس یوکرین جنگ میں ایرانی ڈرون سپلائی کے ردعمل میں کیا جا رہا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اس ڈیل میں سہولت کاری کر کے ایک تیر سے دو شکار کیے ہیں۔ ایک طرف عرب ممالک کو ایران کے خلاف صف آرا کیا گیا‘ اور دوسری طرف ولودیمیر زیلنسکی کو یوکرین جنگ کیلئے مالی وسائل کا متبادل ذریعہ فراہم کیا گیا ہے تاکہ وہ امریکی امداد پر مکمل انحصار سے نکل سکے۔ یاد رہے کہ امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ مارکو روبیو نے حال ہی میں زیلنسکی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے امریکی امداد بند کرنے کی دھمکی دی تھی۔ اگرچہ یوکرین نے تاحال اس جنگ میں براہِ راست شرکت کا اعلان نہیں کیا تاہم خلیجی ممالک کے ساتھ اس کے دفاعی معاہدے مستقبل میں اس امکان کو رد نہیں کرتے۔ آبنائے ہرمز کو کلیئر کرنے کا پیچیدہ آپریشن فی الحال ملتوی کیا گیا ہے‘ منسوخ نہیں۔ صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ نیٹو ممالک یا وہ ممالک جو اپنی توانائی کا بڑا حصہ اس راستے سے حاصل کرتے ہیں جیسے چین‘ جاپان‘ بھارت اور پاکستان‘ وہ اس مشن میں شامل ہوں مگر اب تک کسی نے آمادگی ظاہر نہیں کی اور سب سفارتی حل کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اس کی ایک مثال اسلام آباد میں پاکستان کی میزبانی میں ترکیہ‘ مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کا اجلاس تھا‘ جس میں آبنائے ہرمز کا مسئلہ مرکزی حیثیت کا حامل تھا۔ اب صدر ٹرمپ کی توجہ نیٹو کے بجائے خلیجی ممالک پر مرکوز ہے‘ اور وہ ایران کے خطرے کو بنیاد بنا کر جنگی اخراجات کا بوجھ انہی پر ڈالنا چاہتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس اور محکمہ خارجہ کی جانب سے اس کے واضح اشارے دیے جا چکے ہیں۔
اس جنگ کے بارے میں ایک اور اہم بات یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کے دعوؤں کے باوجود اس کے جلد خاتمے کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔ امریکی وزیر دفاع کی دھمکی کہ اگر ایران نے ڈیل قبول نہ کی تو حملوں میں شدت لائی جائے گی‘ اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکہ اپنی شرائط پر جنگ بندی چاہتا ہے‘ جس پر ایران کے راضی ہونے کا امکان کم ہے۔ نتیجتاً جنگ جاری رہے گی اور اس کے اخراجات خلیجی ممالک کو برداشت کرنا پڑیں گے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یوکرین جنگ کی طرح اس جنگ میں بھی کرائے کے فوجیوں کا استعمال کیا جائے۔ مشرقی افریقہ کے ملک یوگنڈا کی جانب سے پہلے ہی ایسی پیشکش سامنے آ چکی ہے۔ اگر خلیجی ممالک دفاعی نظام کے لیے اربوں ڈالر خرچ کر سکتے ہیں تو وہ جنگی افرادی قوت کے لیے بھی بیرونی ذرائع کا سہارا لے سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ اہلکار کے مطابق یہ جنگ خلیجی ممالک کو بہت مہنگی پڑ رہی ہے۔ اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل کے مطابق صرف ایک ماہ میں خلیجی ممالک کو186 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے‘ اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو عالمی معیشت پر اس کے شدید منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ یوں ایک طرف جنگ کو جلد ختم کرنے کی ضرورت کا احساس بڑھ رہا ہے تو دوسری طرف اسے تیز کرنے کے دباؤ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکی وزیر دفاع کے مطابق آئندہ چار سے چھ ہفتے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں‘ مگر اس جنگ کا بوجھ اب مکمل طور پر خلیجی ممالک پر منتقل کیا جا رہا ہے کیونکہ نیٹو نے اس جنگ میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ ایسی صورتحال میں صدر ٹرمپ خلیجی ممالک سے یہ تقاضا کر سکتے ہیں کہ وہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے خود مالی اور عسکری ذمہ داری اٹھائیں‘ اسلحہ امریکہ یا یوکرین سے خریدیں اور افرادی قوت کے لیے دیگر ممالک سے تعاون حاصل کریں۔ اس حکمت عملی کے نتیجے میں امریکہ اور اسرائیل کے لیے مشرق وسطیٰ میں اپنے مفادات کا تحفظ آسان ہو جائے گا جبکہ خلیجی ممالک ایران کے ممکنہ حملوں کے خلاف دفاع تک محدود رہیں گے۔ تاہم امریکی بحری بیڑے اور اڈے خطے میں موجود رہیں گے‘ جہاں سے ضرورت پڑنے پر ایران پر حملے کیے جا سکیں گے مگر دفاعی نظام کی بھاری لاگت خلیجی ممالک کو ہی برداشت کرنا ہوگی۔
دوسری جانب یورپی ممالک کی توجہ اس جنگ کو پھیلنے سے روکنے پر ہے جبکہ بیجنگ میں پاکستان اور چین کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ اعلامیے میں بھی فوری جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو کھولنے پر زور دیا گیا ہے۔ تاہم جب تک لبنان اور غزہ میں اسرائیلی کارروائیاں نہیں رکتی‘ خطے میں پائیدار امن کی جانب پیش رفت ممکن نظر نہیں آتی۔