"DRA" (space) message & send to 7575

ایران امریکہ پُرامن تعلقات ممکن ہیں؟

اگرچہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 8 اپریل سے جاری جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کر رکھا ہے مگر ان کے دھمکی آمیز بیانات کا سلسلہ بھی مسلسل جاری ہے۔ پچھلی بار کی طرح اس بار جنگ بندی میں کسی ڈیڈ لائن کا اعلان نہیں کیا گیا اور ٹرمپ کے سوشل میڈیا بیانات میں ایران کی طرف سے پیش کردہ تجاویز پر بحث مکمل ہونے تک فائر بندی کا یقین دلایا گیا مگر امریکی صدر کے اس اعلان پر جس امید اور خوشی کے اظہار کی توقع تھی اس کے آثار نظر نہیں آتے۔ اسلام آباد میں مذاکرات کا دوسرا ممکنہ دور جس طرح طرفین کے بدلتے مؤقف پر جھولتا رہا‘ اس سے پائیدار اور مستقل جنگ بندی معاہدہ ہنوز دور نظر آتا ہے۔ غالباً اس کی ایک وجہ صدر ٹرمپ کی طرف سے آبنائے ہرمز اور ایرانی بندرگاہوں کے محاصرے کو جاری رکھنے پر اصرار ہے۔ امریکہ کے اس اقدام کو ایران جنگ بندی کی خلاف ورزی اور اپنے خلاف اعلانِ جنگ قرار دیتا ہے۔ اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے دور میں ایران کی شرکت سے انکار کی ایک بڑی وجہ یہی بحری ناکہ بندی تھی جس کے تحت امریکہ نے آبنائے ہرمز کے راستے ہر اُس جہاز پر ایرانی بندرگاہوں سے باہر جانے اور باہر سے اندر آنے پر پابندی لگا رکھی ہے جس پر ایران کا جھنڈا لہرا رہا ہو۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق اب تک 40 سے زائد ایرانی جہازوں کو روکا یا رخ بدلنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ کئی جہازوں کو امریکہ کی بحریہ اپنے قبضہ میں لے چکی ہے۔ دنیا بھر کے ممالک اور ماہرین نے اس اقدام کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ عام رائے یہی ہے کہ اگر امریکہ مذاکرات کے اگلے دور میں ایران کی شرکت چاہتا ہے تو اسے پہلے ایران کے ساتھ مفاہمت کی بنیاد پر بحری ناکہ بندی کو ختم کرنا ہو گا‘ مگر اس کے باوجود دنیا کو امریکہ اسرائیل اور ایران کے تنازع کے جلد حل کی امید نہیں۔ بعض حلقوں کی رائے یہ ہے کہ ابھی متحارب ممالک کے درمیان جنگ کے مزید راؤنڈ ہوں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر لبنان میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملے جاری رہیں‘ غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں بے گناہ فلسطینیوں کا قتلِ عام جاری رہے اور دریائے اردن کے مغربی کنارے پر یہودی آباد کار اسرائیلی فوج کی مدد سے فلسطینیوں کے گھروں‘ جائیدادوں اور زمینوں پر قبضہ کرنے کے ساتھ بے گناہ افراد کو گولیوں کا نشانہ بناتے رہیں تو مشرقِ وسطیٰ میں امن کیسے قائم ہوگا اور اس صورتحال سے ایران کیسے الگ رہے گا؟
غیر یقینی اور جنگ کے خدشات کو فروغ دینے میں سب سے زیادہ صدر ٹرمپ کا ہاتھ ہے جنہوں نے دھمکیوں‘ توہین آمیز جملوں اور امریکی مؤقف میں بار بار تبدیلیوں کے ذریعے مذاکراتی عمل کو ڈی ریل کرنے کا کوئی موقع جانے نہیں دیا۔ اس میں اُن کا سب سے بڑا حربہ مخالف فریق کو ایسی شرائط کا پابند کرنے کی کوشش ہے جو کوئی آزاد‘ خودمختار اور غیرت مند ملک قبول نہیں کر سکتا۔ مثلاً ایران کے وزیر خارجہ ومذاکراتی ٹیم کے رکن عباس عراقچی کے مطابق اسلام آباد مذاکرات کے پہلے دور میں 21 گھنٹے کی نشست میں فریقین بیشتر امور پر اتفاق رائے کر چکے تھے لیکن اس کے بعد امریکی وفد نے اچانک پوزیشن بدل لی اور مطالبہ کر دیا کہ ڈیل کے لیے ایران یورینیم کی افزودگی کے حق سے کم ازکم 20 برس کے لیے دستبردار ہو جائے اور 60 فیصد تک افزودہ یورینیم کو امریکہ کے حوالے کر دے۔ حالانکہ ایران متعدد بار واضح کر چکا ہے کہ نہ تو وہ 60 فیصد تک افزودہ (تقریباً 400 کلو گرام) یورینیم امریکہ کے حوالے کرے گا اور نہ افزودگی کے حق سے دستبردار ہو گا کیونکہ یہ حق اسے باقی تمام اقوام کی طرح ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کے تحت حاصل ہے۔ ایران نے 1970ء میں این پی ٹی پر دستخط کیے تھے۔ اس کے علاوہ ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کا بھی ایک فتویٰ موجود ہے جس کے تحت انہوں نے ایٹمی ہتھیاروں کو انسانیت کے خلاف اور غیر اسلامی قرار دے کر ایرانی قوم کو اس کی تیاری سے منع کیا تھا۔ البتہ ایٹمی توانائی کو پُرامن مقاصد میں استعمال کرنے کے لیے ایران نے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے سخت قواعد اور کڑی نگرانی میں ایٹمی ریسرچ اور پاور پلانٹ قائم کر رکھا ہے‘ اور ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے بارے میں مغربی ملکوں کے خدشات کو دور کرنے کے لیے ایران نے نہ صرف امریکہ بلکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے چار دیگر مستقل اراکین‘ برطانیہ‘ فرانس‘ روس اور چین کے علاوہ جرمنی اور یورپی یونین کے ساتھ ایک تاریخ ساز ایٹمی معاہدے JCPOA پر بھی دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کے تحت ایران افزودگی کی سطح 3.67 فیصد حد تک قبول کرنے پر راضی ہو گیا تھا۔ اس معاہدے پر صدر اوباما کے دور میں 2015ء میں دستخط کئے گئے مگر بعد ازاں ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018ء میں اس معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کا اعلان کر کے معاہدے کو ختم کر دیا۔ صدر ٹرمپ کے اس اقدام پر خود ان کے یورپی اتحادی ممالک نے تنقید کی تھی کیونکہ اس معاہدے کے لیے دو سال تک ایران کے ساتھ مذاکرات ہوتے رہے تھے۔ اس معاہدے کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر جن شرائط کو تسلیم کیا اُن کے تحت ایران کے جوہری طاقت بننے کے تمام راستے مسدود کر دیے گئے تھے۔ مگر صدر ٹرمپ کی جانب سے اس معاہدے کو مسترد کرنے کا مطلب یہ تھا کہ ایران کے بارے میں امریکی عزائم محض اس کو ایک ایٹمی طاقت بننے سے روکنے تک محدود نہیں بلکہ ایران کی شکل میں امریکہ کو مشرقِ وسطیٰ میں اپنے ایجنڈے کے لیے سخت چیلنجز نظر آتے ہیں۔
ایران خطے کا پہلا ملک ہے جس نے 1953ء میں اپنی تیل کی صنعت کو قومی ملکیت میں لیا تھا‘ اس پر برطانیہ اور امریکہ نے سی آئی اے کی مدد سے وزیراعظم ڈاکٹر مصدق کی حکومت کا تخت اُلٹ دیا اور ان کی جگہ سابق شاہ آف ایران کو تخت پر لا بٹھایا۔ شاہ کے دورِ حکومت میں ایران نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ اردگرد کے خطوں میں سرگرمیوں کے لیے سی آئی اے کا ہیڈ کوارٹر بن گیا۔ ویتنام سے نکل جانے کے بعد امریکہ نے خلیج فارس‘ مشرق وسطیٰ اور بحر ہند کی حفاظت کے لیے جو حکمت عملی اختیار کی تھی اس میں ایران کو ایک کلیدی حیثیت حاصل تھی۔ مگر 1979ء میں شاہ ایران کے خلاف کامیاب انقلاب کے بعد جو حکومت قائم ہوئی‘ اس کا علاقائی سلامتی اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کے بارے میں مطمح نظر سابقہ حکومت سے یکسر مختلف تھا۔ نئی حکومت نے آتے ہی خلیج فارس میں امریکہ کی فوجی موجودگی کی مخالفت شروع کر دی اور خطے سے امریکی فوجی اڈوں کو ہٹانے کا مطالبہ کر دیا۔ شاہ کے دور میں ایران اور اسرائیل کے قریبی سیاسی اور تجارتی تعلقات تھے۔ اسلامی حکومت نے نہ صرف ان تعلقات کو ختم کر دیا بلکہ اسرائیل کے خلاف فلسطینی سیاسی گروپوں کی حمایت شروع کر دی۔ شاہ کے دور میں امریکہ کی ایمپائر جن ستونوں پر کھڑی تھی‘ ایران اُن میں سے ایک تھا لیکن 1979ء کے انقلابِ ایران کے بعد نہ صرف امریکہ سے ایران نے خود علیحدگی اختیار کر لی بلکہ دوسری عالمی جنگ کے اختتام کے بعد سے امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی کا جو ڈھانچہ کھڑا کر رکھا تھا اس کو سہارا دینے والے باقی ستون بھی ایران کے زیر اثر‘ غیر مؤثر ہوتے جا رہے ہیں۔ ایران سے متعلق امریکہ کا مخاصمانہ رویہ صرف اس کے جوہری پروگرام کی وجہ سے نہیں بلکہ دنیا کی پہلی اور تاریخ کی سب سے بڑی سپر پاور اور ایک شاندار تہذیب کے مالک ایران کی جانب سے امریکی ایمپائر کو کئی طرح کے چیلنجز درپیش ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں