گزشتہ ہفتے اور اتوار کی رات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو الٹی میٹم دیا تھا کہ اگر اس نے آئندہ 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کے راستے خلیجی ممالک کے تیل اور گیس بردار بحری جہازوں کی آمد و رفت پر عائد پابندیاں نہ اٹھائیں تو امریکہ یکے بعد دیگرے اس کے بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کو تباہ کر دے گا۔ اس کے جواب میں ایران نے دھمکی دی کہ اگر امریکہ نے اپنی دھمکی کو عملی جامہ پہنایا تو خلیج فارس میں اس کے اتحادی ممالک میں نہ صرف بجلی پیدا کرنیوالے بلکہ سمندر کے پانی کو قابلِ استعمال بنانے والے پلانٹس اور تیل و گیس کے ذخائر کو بھی تباہ کر دیا جائے گا۔اس ایرانی ردِعمل کے بعد صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ ایران کے جوہری مراکز پر ممکنہ حملے کی دھمکی کو جمعہ تک روک رہے ہیں جبکہ گزشتہ روز انہوں نے یہ مدت چھ اپریل تک بڑھا دی ہے۔ اس اقدام کی وجہ انہوں نے یہ بتائی ہے کہ امریکہ اور ایران کی ایک اہم شخصیت کے درمیان بات چیت ہوئی ہے جس میں حوصلہ افزا پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس بات چیت کے نتیجے میں نہ صرف امریکہ اور ایران کے درمیان یورینیم کی افزودگی اور دور مار میزائلوں کی تیاری کو پانچ سال کیلئے منجمد کرنے پر سمجھوتا ہو جائے گا بلکہ ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازعات بھی حل ہو جائیں گے اور یوں پورے مشرق وسطیٰ میں مستقل بنیادوں پر امن و استحکام قائم ہو سکے گا۔
صدر ٹرمپ کی طرف سے ایران کو دیے گئے الٹی میٹم کو مؤخر کرنے کا اعلان غیر متوقع یا حیران کن نہیں کیونکہ دنیا میں تقریباً ایک ماہ سے جاری اس جنگ پر بین الاقوامی تشویش میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔ اس کی ایک بڑی وجہ عالمی منڈی میں خام تیل کی دستیابی میں کمی اور قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہے جس نے تیل درآمد کرنے والے ممالک کی معیشتوں کو سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے تازہ ترین اعلان کے مطابق دنیا کو اس جنگ کے باعث تیل کے جس بحران کا سامنا ہے وہ 1973-74ء کی عرب اسرائیل جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے آئل امبارگو سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
اس سے بھی زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ امریکہ ایران کے ردِعمل اور مزاحمت کے باعث بدحواسی کا شکار ہو کر بڑے پیمانے پر اسلحہ اور گولہ بارود جنگ میں جھونک رہا ہے۔ اگر اس عمل کو نہ روکا گیا تو یہ جنگ بہت جلد اس نہج پر پہنچ سکتی ہے جہاں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے علاوہ کوئی چارہ باقی نہیں رہے گا۔ چین کے ایک سفارتکار اور جنگی امور کے ماہر ڈاکٹر وِکٹر گاؤ کے مطابق یہ جنگ تیزی سے ایک علاقائی بلکہ عالمی تصادم میں تبدیل ہو رہی ہے جس میں اسرائیل کی طرف سے ایران کے ٹھکانوں پر ایٹمی حملہ ناگزیر ہو سکتا ہے کیونکہ اس وقت خطے میں صرف اسرائیل ہی جوہری ہتھیاروں کا حامل ملک ہے اور وہ انتہائی خطرے کی صورت میں ان کے استعمال کا عندیہ بھی دے چکا ہے۔ اسی لیے دنیا بھر کے ممالک اس جنگ کو فوری طور پر بند کرنے اور سفارتی ذرائع سے حل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں‘ جبکہ بعض ممالک اس سلسلے میں عملی کوششوں میں بھی مصروف ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان سفارتی کوششوں کا ذکر کیا تھا اور اس رائے کا اظہار کیا تھا کہ اس تنازع میں اگر کوئی ملک مؤثر مصالحتی کردار ادا کر سکتا ہے تو وہ چین ہے کیونکہ اسکے ایران‘ امریکہ اور اسرائیل تینوں کیساتھ متوازن تعلقات ہیں۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے الٹی میٹم مؤخر کرنے کے بعد امریکی میڈیا میں یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ ترکیہ‘ مصر‘ عمان اور پاکستان نے بھی پس پردہ سفارتی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اگرچہ جنگ بدستور جاری ہے اور امریکی و اسرائیلی حملے ایران کے طول و عرض میں ہو رہے ہیں تاہم امریکی سینٹ کام نے واضح کیا ہے کہ جنگ بندی تک یہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے بھی اعلان کیا ہے کہ جب تک کوئی معاہدہ طے نہیں پاتا ایران پر اسرائیلی حملے جاری رہیں گے۔ ایران کی طرف سے بھی جوابی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں جس کے باعث خطہ شدید کشیدگی کی لپیٹ میں ہے۔ آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول برقرار ہے اور امریکی اتحادی ممالک کے تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت بدستور محدود ہے۔اس تمام تر صورتحال کے باوجود صدر ٹرمپ کے اعلان کا عالمی سطح پر خیر مقدم کیا گیا ہے۔ برطانیہ کے وزیراعظم کیئر سٹارمر نے اسے مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اور دیرپا امن کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ مزید برآں اس اعلان کے عالمی تیل کی قیمتوں اور سٹاک مارکیٹس پر بھی خوشگوار اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
دنیا بھر کے تجزیہ کار اس بات پر حیران ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ‘ جو اپنے متضاد بیانات اور بار بار پالیسی تبدیلیوں کے باعث ناقابلِ اعتبار سمجھے جاتے ہیں‘ کے ایک ٹویٹ پر عالمی منڈیوں نے اتنا مثبت ردِعمل کیوں ظاہر کیا۔ کیا دنیا اس بار انہیں سنجیدگی سے لے رہی ہے؟ اور کیا وہ واقعی اپنے اعلان پر عمل کریں گے؟ اگرچہ جنگ کے بارے میں حتمی پیش گوئی ممکن نہیں‘ تاہم ٹرمپ کے ایک حالیہ ٹویٹ میں بعض ایسی باتیں ضرور شامل ہیں جو اس سے قبل امریکہ کی جنگی حکمت عملی کا حصہ نہیں تھیں۔ مثلاً اب تک امریکی اہداف میں رجیم چینج‘ زیرو یورینیم افزودگی اور میزائل نظام کی تباہی شامل رہے ہیں‘ جبکہ حالیہ ٹویٹ میں ایران اسرائیل تنازع کو خطے کا دیرینہ مسئلہ قرار دے کر اسے مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل کرنے کی بات کی گئی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں قیامِ امن کے لیے ایک نسبتاً جامع سیاسی حل کی ضرورت کو تسلیم کیا ہے۔ اگرچہ اس سمت میں پیش رفت آسان دکھائی نہیں دیتی کیونکہ مشرق وسطیٰ کا مسئلہ انتہائی پیچیدہ ہے اور اس سے وابستہ فریقوں کے مفادات ایک دوسرے سے شدید متصادم ہیں‘ تاہم بنیادی اسباب کو مذاکرات کا حصہ بنانے کا اعتراف بذاتِ خود ایک مثبت اشارہ ہے جو دیرپا امن کی امید کو تقویت دیتا ہے۔
بعض حلقوں کا خیال ہے کہ امریکی انٹیلی جنس اداروں نے صدر ٹرمپ کو واضح طور پر آگاہ کر دیا ہے کہ ایران کی توانائی تنصیبات کو تباہ کرنے یا آبنائے ہرمز کے اطراف فوجی تعیناتی کے باوجود امریکہ اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکے گا۔ بلکہ یہ جنگ‘ جو کئی ماہرین کے مطابق پہلے ہی امریکی کنٹرول سے باہر ہو چکی ہے‘ مکمل طور پر ٹرمپ کے ہاتھ سے نکل سکتی ہے۔ ایسی صورت میں وہ نہ صرف اپنی سیاسی ساکھ کو مزید نقصان پہنچائیں گے بلکہ امن کے داعی کے طور پر ابھرنے اور نوبیل انعام کے ممکنہ دعویدار بننے کا موقع بھی کھو دیں گے۔ڈاکٹر وِکٹر گاؤ کے مطابق ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں اس جنگ کو اس نہج تک لے جا چکے ہیں کہ مستقبل کا مؤرخ جب 2026ء پر نظر ڈالے گا تو ممکن ہے وہ انہیں امریکہ کی عالمی بالادستی کے زوال کی بنیاد رکھنے کا ذمہ دار قرار دے۔
گزشتہ ایک ماہ کی جنگ نے مشرق وسطیٰ میں کئی نئے جیو پولیٹکل حقائق کو جنم دیا ہے۔ ان میں ایک اہم حقیقت یہ ہے کہ امریکہ جنگ شروع کرنے کی صلاحیت تو رکھتا ہے مگر اسے اپنی شرائط پر ختم کرنے کی مکمل قدرت نہیں رکھتا۔ اگر یہ جنگ طویل ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کو بھی اپنی لپیٹ میں لیتے جائیں گے۔ یہ بھی بعید از قیاس نہیں کہ امریکہ‘ جو پہلے ہی ٹرمپ کی پالیسیوں کے باعث عالمی سطح پر اپنی ساکھ کھو چکا ہے اور ماضی کی طاقت کی سیاست کی طرف لوٹنے کی کوشش کر رہا ہے‘ عالمی نظام میں اپنا اثر و رسوخ مزید کھو دے۔ ایسی صورت میں وہ مشرق وسطیٰ کے ممالک‘ جو اَب تک امریکہ پر انحصار کرتے آئے ہیں‘ خود کو ایک غیر یقینی اور نازک صورتحال میں پائیں گے اور اس کے نتائج سب کے سامنے ہوں گے۔