وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ فرقہ پرستوں نے علی خامنہ ای شہید کو شیعہ بنا کر چھوڑا۔ جس کے منہ میں زبان ہے وہ آل سعود پر تبرا کر رہا ہے۔ جس کے ہاتھ میں قلم ہے وہ گالیاں دے رہا ہے۔ ایک بار پھر 'کربلا بمقابلہ امت‘ کا مقدمہ کھڑا کیا جا رہا ہے۔اب یہ ریاست پاکستان کو بھی دھمکی دینے لگے ہیں۔ ان فرقہ پرستوں نے وہ موقع ضائع کر دیا جو وقت نے ان کے لیے مقدر کیا تھا۔
میرے لیے یہ غیر متوقع نہیں تھا۔ میں نے اس لیے بروقت متنبہ کیا تھا کہ شاید ان میں کوئی رجلِ رشید بھی ہو۔ اس میں شبہ نہیں کہ ایسے رجال موجود ہیں۔ انہوں نے خود کو فرقہ پرستی کے شر سے محفوظ رکھا۔ گروہ کی قیادت مگر بدقسمتی سے ان شعلہ بیانوں کے ہاتھ میں ہے جن کا اس وقت منبر پر قبضہ ہے۔ وہی نمائندہ قرار پائے ہیں اور وہ جذبات کو مشتعل کر رہے ہیں۔ وہ زبانِ حال سے گواہی دے رہے ہیں کہ ان کی وفاداری کے مراکز پاکستان کی سرحدوں سے باہر ہیں۔ اس وفاداری کی بنیاد کوئی اصول نہیں‘ مسلکی عصبیت ہے۔ انہوں نے پہلے گلگت اور سکردو میں آگ بھڑکائی۔ وہ اب اسے پورے ملک میں پھیلا دینا چاہتے ہیں۔
جناب علی خامنہ ای کی شہادت نے ایک بار پھر ہمیں موقع دیا تھا کہ ہم سنبھل جائیں اور اجتماعی مفاد میں سوچتے ہوئے خود کو شیعہ سنی کی تقسیم سے بلند کر لیں۔ میں نے لکھا تھا کہ انقلابِ ایران کے بعد قدرت نے ہمیں یہ دوسرا موقع دیا ہے۔ ہمیں اس شہادت کو اپنے لیے رحمت بنا لینا چاہیے۔ ہم نے اُس وقت یہ موقع ضائع کیا اور اب دوبارہ یہی کیا۔ میں نے ایران کو سنی دنیا کے لیے فصیل قرار دیا۔ بعض احباب نے خیال کیا کہ میں جذبات کی رو میں بہہ گیا۔ صدمے کی کیفیت میں جذباتی ہونا غیر فطری نہیں لیکن آج بھی مجھے اس رائے میں تبدیلی کی ضرورت محسوس نہیں ہو تی کہ ایران دیوار بن سکتا ہے۔ یہ مگر مشروط ہے۔ شرط یہ ہے کہ ہم شیعہ سنی کی تقسیم سے بلند ہو جائیں۔ اگر ہم شرط پوری کرنے پر تیار نہ ہوں تو پھر جوابِ شرط کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔ یہ حادثہ ہم پر پہلی بار نہیں گزرا۔
اس وقت میں اپنی گفتگو پاکستان تک محدود رکھنا چاہتا ہوں جہاں امریکہ اور اسرائیل کی مذمت میں سب یک زبان ہیں۔ مگر اس کے ساتھ‘ اس وقت ہماری ترجیح پاکستان کی سالمیت اور داخلی اتحاد ہے۔ ہمیں ان کی حفاظت کرنی ہے۔ اتحاد موجود ہے اور اسے فرقہ پرستوں کے شر سے محفوظ رکھنا ہے۔ سنی شیعہ‘ دونوں اطراف کی سنجیدہ قیادت کو اپنی صفوں میں موجود ان کرداروں پر نظر رکھنی ہے جن کی وفاداری کے مراکز پاکستان سے باہر ہیں۔ انہیں یہ موقع نہیں ملنا چاہیے کہ وہ پاکستان میں فساد برپا کریں‘ لوگوں کو گمراہ کریں اور ریاستِ پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچائیں۔ ان لوگوں کو بھی قومی ریاست کی شہریت اور مسلکی وابستگی میں فرق کو سمجھنا ہو گا۔ ہر شہری کا اپنی ریاست کے ساتھ ایک معاہدہ ہوتا ہے‘ وہ جس کا پابند ہے۔ وہ اس کے مفادات کو نقصان پہنچا سکتا ہے نہ اس کے خلاف کھڑا ہو سکتا ہے۔ حکومت پر تنقید کا اسے حق ہے مگر بغاوت کا نہیں۔ ریاست سے وفاداری اس عہد میں شامل ہے۔ پاکستان تو خیر ایک مسلم اکثریتی ملک ہے۔ اگر ایک مسلمان اس طرح کا کوئی عہد امریکہ جیسی کسی غیر مذہبی مملکت سے باندھتا ہے تو اسے نبھانا بھی اس پر لازم ہے۔ اگر ریاست اُس کے خیال میں کوئی ایسی حکمتِ عملی اختیار کرتی ہے جو اس کے نزدیک درست نہیں ہے تو اس کے پاس دو راستے ہیں۔ ایک یہ کہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اس پر تنقید کرے۔ دوسرا یہ کہ خود کو ریاست کے ساتھ معاہدے سے آزاد کر لے۔ ریاست سے بے وفائی کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔
یہ بات بھی واضح رہے کہ ریاست جب کسی دوسرے ملک کے ساتھ کوئی معاہدہ کرتی ہے تو شہری بھی اس کے پابند ہوتے ہیں۔ وہ اس کی خلاف ورزی نہیں کر سکتے۔ آج دنیا کی ہر ریاست پر کچھ بین الاقوامی قوانین کی پابندی لازم ہے۔ ان میں سے ایک پابندی یہ ہے کہ وہ غیر ملکی سفارت خانوں اور سفارت کاروں کی حفاظت کرے گی۔ کسی شہری کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ان کو نقصان پہنچائے۔ جو ایسا کرتا ہے‘ وہ عہد کی خلاف ورزی اور قانون شکنی کرتا ہے۔ یہ شرعاً‘ اخلاقاً‘ قانوناً ہر حوالے سے جرم ہے۔ اس لیے سفارت خانوں پر حملوں کی دھمکی دینا دراصل ریاست کے مفادات کو نقصان پہنچانا ہے۔ یہ بات باعثِ تشویش ہے کہ آج ریاست کو اس طرح کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور اس میں پاکستان کے مفاد کو صریحاً نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اس سے دوسرے ممالک کے ساتھ ہمارے تعلقات متاثر ہوں گے اور اس کا نقصان ریاست کو اٹھانا پڑے گا۔ ضرورت ہے کہ اس باب میں ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے اور ہر مسلک کے لوگ ایسے افراد سے اعلانِ برأت کریں جو اپنی مسلکی عصبیت میں ریاست کو ضرر پہنچانے کے درپے ہیں۔
اسی طرح سعودی عرب کے ساتھ ہمارا دفاعی معاہدہ ہے۔ ہمیں اس کا بھی لحاظ رکھنا ہے۔ پاکستان نے تادمِ تحریر اس بات کی پوری کوشش کی ہے کہ ایران اسرائیل کی یہ جنگ‘ عرب ایران جنگ میں تبدیل نہ ہو۔ پاکستان نے یہ سعی بھی کی ہے کہ ایران کے مفادات محفوظ رہیں۔ ایران میں رجیم کی تبدیلی بھی نہ ہو۔ اس کا احساس ایرانی قوم اور حکومت کو بھی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف صاحب اسی دوڑ بھاگ میں ہیں کہ مسلم ممالک باہمی تصادم سے محفوظ رہیں۔ تاہم ہمیں کسی ناپسند یدہ صورتحال کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ایسا ہوا تو لازم ہو گا کہ ہم داخلی اتحاد کو باقی رکھیں اور پاکستان کی سالمیت کو مقدم سمجھیں۔ اسے نقصان نہ پہنچائیں۔ بعض جماعتیں اور گروہ ریاست سے غیر حقیقت پسندانہ مطالبات کر رہے ہیں۔ صدام حسین کو امریکیوں نے مارا۔ کرنل قذافی بھی امریکہ کی لگائی ہوئی آگ میں جل گئے۔ ان کے لیے پاکستان میں کوئی جلوس نہیں نکلا۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر نہ صرف عوام بلکہ ریاست نے بھی دکھ کا اظہار کیا اور اس کی مذمت کی۔ اس سے بڑھ کر ریاست سے کوئی مطالبہ کرنا دانش مندی نہیں۔
آج پاکستان سفارتی طور پر درست جگہ پر کھڑا ہے۔ بطور قوم ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ ہم خود کو مشرقِ وسطیٰ کی اس آگ سے محفوظ رکھ سکیں۔ اس خطے کو اس آگ سے بچانے کے لیے ہم نے بساط بھر کوشش کر لی۔ ہماری ریاست اور عوام کی اولیں ذمہ داری یہ ہے کہ پاکستان محفوظ رہے۔ اس کے لیے ہمیں داخلی سطح پر اتحاد کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہاں امن قائم رکھنا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہر مسلک کی سنجیدہ قیادت اپنی اپنی صفوں میں ان لوگوں کو تلاش کرے جو ریاستِ پاکستان کو دھمکی دیتے اور اس نازک موقع پر پاکستان میں فرقہ واریت کو ہوا دے رہے ہیں۔ وہ ان سے اعلانِ برأت کریں۔ ہم یہ غلطی پہلے کر چکے‘ جب مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کو اپنے گھر لے آئے تھے۔ اس سے ہمیں جو نقصان پہنچا‘ آج تک اس کی تلافی نہیں ہو سکی۔ مکرر عرض ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت نے ہمیں ایک بار پھر جمع ہو نے کا موقع دیا ہے۔ اسے ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ میں صرف 'چاہیے‘ کی بات کر سکتا ہوں کہ میرا کام یہی ہے۔ ہونا وہی ہے جو آج تک ہوتا آیا۔ اس کا نتیجہ بھی وہی نکلے گا جو پہلے نکلتا آیا ہے۔ جو بات صدیوں کے تجربات سے سمجھ میں نہیں آئی‘ آج کیسے آئے گی۔