"KNC" (space) message & send to 7575

رومان‘ حقیقت پسندی اور اقبال شناسی

حقیقت پسند ی اچھی چیز ہے مگر اتنی اچھی بھی نہیں کہ خواب اور رومان زندگی سے نکل جائیں۔ آدمی اتنا بدذوق ہو جائے کہ شاعری کو فقہ کے پیمانے سے ناپنے لگے۔
مجھ پر اللہ تعالیٰ کے بڑے احسانات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے مجھے استادِ گرامی جاوید احمد غامدی صاحب کے دروازے تک پہنچا دیا۔ بقدرِ ظرف ان سے معارف سیکھے اور آداب بھی۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ دین کی حقیقت جانی۔ یہ جانا کہ قرآن مجید کو کیسے سمجھنا چاہیے۔ راویوں نے رسالت مآبﷺ سے جو باتیں منسوب کیں ان کی حقیقت تک کیسے پہنچا جائے۔ ہماری علمی روایت نے جن علوم کی صورت میں ظہور کیا ان کا مقام و مرتبہ کیا ہے۔ فقہ‘ کلام اور تصوف کے باب میں ہونے والے مباحث کو سمجھنے کا قرینہ کیا ہے۔ روایت سے تعلق کیوں ضروری ہے اور جدید ہونے کا مفہوم کیا ہے۔ ان سوالات کے جواب اسی بارگاہِ علم سے ملے اور تادمِ تحریر ان پر فی الجملہ اطمینان ہے۔
اس نظامِ فکر کی تفہیم میں شاہ کلید کی حیثیت ایک لفظ کو حاصل ہے۔ وہ ہے: خوش ذوقی۔ آدمی خوش ذوق نہ ہو تو قرآن مجید کے مفاہیم تک اس کی رسائی ہو سکتی ہے اور نہ وہ نبی کریمﷺ کے ارشادات کی حکمت کو جان سکتا ہے۔ اگر وہ عہدِ جاہلیت کی شاعرانہ روایت تک رسائی نہیں رکھتا تو اس پرکبھی یہ حقیقت منکشف نہیں ہو سکتی کہ قرآن مجید کس درجے کا ادب ہے۔ وہ اس راز سے کبھی واقف نہیں ہو سکتا کہ قرآن مجید کیسے زبان و بیان کا معجزہ ہے۔ وہ اسالیبِ کلام کے تنوع کو نہیں جان پاتا اور یہ بدذوقی فہمِ قرآن میں سب سے بڑا مانع ہے۔ قرآن ایک اسلوب کو رفعِ الزام کے لیے استعمال کرتا ہے اور اہلِ تفسیر اسے الزام کے معنی میں لے لیتے ہیں۔ 'تدبرِ قرآن ‘‘ اور ''البیان‘‘ اس کی مثالوں سے مملو ہیں۔ فہمِ قرآن کے باب میں فراہیِ دبستان کا سب سے قابلِ قدر اضافہ یہی ہے کہ اس نے لوگوں میں خوش ذوقی پیدا کی۔ انہوں نے سیدنا عمرؓ کے اس قول کی عملی شرح ہمارے سامنے رکھی کہ عہدِ جاہلیت کے اشعار یاد کرو کہ اس میں تمہاری کتاب کی تفسیر اور کلام کے معانی ہیں۔
یہی معاملہ ارشاداتِ پیغمبر کا ہے۔ نبیﷺ نے کبھی کوئی بات آداب کے دائرے میں بیان کی اور لوگوں نے اسے احکام کے معنی میں لیا۔ کسی چیز کو تہذیب کے باب میں واضح کیا اور فقہا نے اسے حلال و حرام کا ماخذ مان لیا۔ کوئی بات آپﷺ نے نصیحتاً ارشاد فرمائی اور اسے واجب الاطاعت حکم کا درجہ دے دیا گیا۔ غامدی صاحب کی 'علم النبی‘ میں اس کے بے شمار شواہد جمع کر دیے گئے ہیں۔ مولانا مودودی نے کہیں یہ نکتہ بیان کیا ہے کہ جو آدمی مسلسل احادیث اور سیرت کا مطالعہ کرتا ہے وہ مزاج شناسِ پیغمبر ہو جاتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ عرب کی سب سے فصیح ہستی جب کلام کرتی ہے تو اس کا معیار کیا ہوتا ہے۔ جملہ خود بول اٹھتا ہے کہ وہ زبانِ پیغمبر سے صادر ہوا ہے یا نہیں۔ مکتبِ فراہی نے اس خوش ذوقی کو فہمِ دین میں اصل الاصول بنا دیا۔ جو اس رازکو پا لیتا ہے اسے یہ جاننے میں دقت نہیں ہوتی کہ قرآن ہو یا حدیث‘ کہاں الفاظ ظاہری مفہوم پر دلالت کر رہے ہیں اور کہاں مجازی معنوں میں ہیں۔ کہاں گریز ہے اور کہاں براہِ راست کلام کیا جا رہا ہے۔ یہ کہنے کی حاجت نہیں کہ یہ انسانی کاوش ہے جس میں غلطی کا پورا امکان ہے۔ یہاں صرف یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ کلام کی تفہیم کے لیے خوش ذوقی کیوں لازم ہے۔
میں نے جاوید صاحب کا جو مضمون سب سے پہلے پڑھا اور پھر ان کا اسیر ہو گیا وہ 'دبستانِ شبلی‘ کے عنوان سے ان کی کتاب 'مقامات‘ کا حصہ ہے۔ یہ سر تا پا ادب ہے۔ یہ پڑھنے والے پر ایک رومان کا دروازہ کھولتا ہے۔ میں اسی باب سے اس شہرِ علم میں داخل ہوا۔ اس مضمون سے متاثر ہو کر میں نے اسی عنوان سے ایک مضمون لکھا جو غالباً 1989ء میں 'اشراق‘ میں شائع ہوا۔ پھر جاوید صاحب سے علامہ اقبال کے کمالِ فن کی نمائندہ کتاب 'جاوید نامہ‘ بھی سبقاً سبقاً پڑھی۔ اس سے اقبال کی عظمت اور علم کا جو نقش قائم ہوا وہ ابھی تک سلامت ہے۔ معلوم ہوا ا قبال محض شاعر نہیں ہیں۔ وہ شاعری کی زبان میں زندگی کے بڑے حقائق سے متعارف کراتے ہیں۔ حقائق کو ادب کی زبان میں شاید ہی کسی نے اس کامیابی کے ساتھ بیان کیا ہو۔
بڑے آدمی کا ایک نظامِ فکر ہوتا ہے۔ بلاتشبیہ عرض ہے کہ جس طرح دین کا عمومی تصور سامنے نہ ہو تو یہ طے کرنا مشکل ہے کہ قرآن و سنت میں کون سی بات احکام کے باب میں کہی گئی ہے‘ کہاں تہذیب کے دائرے میں کلام کیا جا رہا ہے‘ کہاں محض نصیحت کرنا مطلوب ہے اسی طرح اگر آپ اقبال کے مجموعی نظامِ فکر سے واقف نہیں ہیں تو آپ نہیں جان سکتے کہ کہاں وہ کمزور کی ہمت بندھا رہے ہیں‘ کہاں تقلید کے خوگر میں ذوقِ تحقیق پیدا کر رہے ہیں‘ کہاں تہذیبی احساسِ کمتر ی کے مریض کو پیغامِ شفا دے رہے ہیں‘ کہاں غلام کو انسانی تاریخ کے عروج و زوال کی داستان سنا کر اس کو جدو جہد پر آمادہ کر رہے ہیں اور کہاں عظمتِ رفتہ کی تلاش میں سرگرداں اپنی قوم کو نئے راستوں کی ضرورت اور اس کی مشکلات سے آگاہ کر رہے ہیں۔ ان سب سے ناواقفیت ان کے کلام کی تفہیم میں حجاب بن جاتی ہے۔ ایک بار پھر بلا تشبیہ عرض ہے کہ آپ پھر اقبال کے اشعار سے وہی سلوک کرتے ہیں جو ہمارے اہلِ تفسیر نے قرآن مجید سے کیا ہے۔ پھر وہ رفعِ الزام کو الزام کے معانی میں لے کر اس کو حسبِ ذوق معانی پہناتا ہے۔ پھر وہ شاعری سے عملی حکمتِ عملی کے اصول کشید کرتا اور استہزا کرتا ہے کہ دیکھو اقبال نے کیسے بچوں والی بات کر دی۔ دیکھیے‘ اقبال نے کس خوش ذوقی سے اس علمی کوتاہ قامتی کو بیان کیا ہے:
تری نگاہ فرو مایہ، ہاتھ ہے کوتاہ
ترا گنہ کہ نخیلِ بلند کا ہے گناہ
دینی علم سے واجبی سا تعلق رکھنے والا بھی جانتا ہے کہ اقبال دین کا ماخذ نہیں ہیں۔ دین کا واحد ماخذ اللہ کے آخری رسول سیدنا محمدﷺ کی ہستی ہے۔ ان کا دیا ہوا دین قرآن و سنت کی صورت میں ہمارے پاس محفوظ ہے۔ اب اقبال ہوں یا ابو حنیفہؒ‘ دین کے باب میں ان کے کلام کو اسی کسوٹی پر پرکھا جائے گا۔ تفہیم کے عمل میں مگر یہ سمجھنا ہو گا کہ ابو حنیفہؒ فقیہ ہیں اور اقبال شاعر و مفکر۔ دونوں کے فرمودات کو ایک پیمانے پر نہیں پرکھا جا ئے گا۔ اس فرق کو سمجھنے کے لیے خوش ذوق ہونا لازم ہے۔ فراہی دبستان کا بڑا احسان یہی ہے کہ اس نے اس بات کی اہمیت کو واضح کیا۔ یہ اسی کی فرع ہے کہ فہمِ دین ہی نہیں فہمِ اقبال کے لیے بھی خوش ذوقی لازم ہے۔ مجھ پر جاوید صاحب کا احسان ہے کہ انہوں نے میرے لیے اس بات کی تفہیم کو آسان کر دیا۔ اب مجھے دین کی باتوں کو سمجھنے میں کوئی دقت پیش آتی ہے نہ اقبال کے کلام کی تفہیم میرے لیے مشکل ہوتی ہے۔ مجھے یہ بھی معلوم ہو گیا ہے کہ رومان اور حقیقت پسندی میں تصادم نہیں اگر دونوں کو اپنے اپنے مقام پر رکھا جائے۔ رومان عزمِ سفر کو مہمیز دیتا ہے جب کہ حقیقت پسندی راستے کی مشکلا ت سے آگاہ کرتی اور ان سے بچنے کی تدبیر سجھاتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں