اسلام آباد کی عائلی عدالتوں میں‘ ہر روز طلاق وخلع کے تین سو مقدمات درج ہو رہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے‘ مہینے میں نو ہزار۔
ایک دوست نے جب مجھ سے اس خبر کا ذکر کیا تو میں چونک اُٹھا۔ میرا پہلا تاثر تھا: یہ اعداد وشمار مبالغہ آمیز ہیں۔ میں نے اپنے دوست سے بھی یہی کہا۔ اس نے جواب میں مجھے ایک سے زیادہ ابلاغی اداروں کی خبریں دکھائیں۔ صحافت سے وابستہ ایک دوسرے باخبر دوست سے تذکرہ ہوا تو اس نے بھی تصدیق کی۔ خود کھوج لگانے کی کوشش کی تو کئی خبریں سامنے آئیں۔ ایک خبر کے مطابق: ''اسلام آباد کی فیملی کورٹس میں مقدمات کے انبار لگ گئے۔ عدالتی ذرائع کے مطابق ہر گھنٹے میں اوسطاً 38 خلع اور نان نفقہ کے مقدمات درج ہو رہے ہیں۔ رواں سال اب تک 45 ہزار سے زائد کیسز دائر کیے جا چکے ہیں۔ اعداد وشمار کے مطابق 2023ء میں 85 ہزار‘ 2024ء میں 91 ہزار جبکہ 2025ء میں کیسز کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ ایسے واقعات بھی سامنے آئے جہاں شادی کے صرف ایک سے تین ماہ بعد خلع لے لی گئی۔ ذرائع کے مطابق زیادہ تر مقدمات پسند کی شادی کرنے والے جوڑوں کی جانب سے دائر ہو رہے ہیں‘ جبکہ وکلا کے مطابق منشیات اور بیروزگاری طلاق وخلع میں اضافے کی بڑی وجوہات بن رہی ہیں‘‘۔ انگریزی روزنامہ ''نیشن‘‘ کی خبر تو زیادہ چونکا دینے والی ہے۔ اس کے مطابق اسلام آباد میں‘ 2025ء میں طلاق کے چار لاکھ ننانوے ہزار مقدمات درج ہوئے (10 فروری 2026ء)۔ یہ ایک دن میں 1367 بنتے ہیں۔ یہ اعداد وشمار صرف ایک شہر‘ اسلام آباد کے ہیں۔ مزید کھنگالا تو معلوم ہوا کہ راولپنڈی میں 2025ء کے دوران میں 15ہزار198 مقدمات درج ہوئے۔ ان میں طلاق‘ خلع اور نان نفقہ سمیت خاندان سے متعلق تمام معاملات شامل ہیں۔ مسیحی عائلی قانون میں تبدیلی کے بعد‘ اب مسیحی خواتین بھی طلاق کیلئے عدالتوں کا رخ کر رہی ہیں۔
یہ صرف دو شہروں کی خبریں ہیں۔ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ملک بھر میں کیا حال ہو گا۔ ممکن ہے ان خبروں میں کچھ مبالغہ ہو لیکن مشاہدہ تصدیق کرتا ہے کہ ہمارا خاندانی نظام شدید بحران کی زد میں ہے۔ ازدواجی رشتے کی ناکامی نوشتۂ دیوار ہے۔ اگر کسی نے طلاق یا خلع کا مقدمہ درج نہیں کرایا تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ ایک خوشگوار ازدواجی زندگی گزار رہا ہے۔ اسی بحران کی کو کھ سے ناجائز تعلقات بھی جنم لے رہے ہیں جو اسے سنگین تر بنا رہے ہیں۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اس کے حقیقی اسباب کو قبول کرنے کیلئے آمادہ نہیں ہیں۔ ہم کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں یا پھر اس کے وہ اسباب بیان کر رہے ہیں جو حقیقی نہیں‘ ہمارے سماجی ومذہبی تصورات کی دین ہیں۔ اپنے ان تصورات کو مقدس جان کر ہم ان واقعات کے بارے میں رائے قائم کر تے ہیں اور یوں اس بحران سے نکل نہیں پاتے۔
سماجیات کے ایک طالب علم کے طور پر‘ میں جب خاندان کو درپیش مسائل کو دیکھتا ہوں تو چند اسباب نمایاں دکھائی دیتے ہیں:
1۔ سب سے بڑا سبب جہالت ہے۔ عوام کی اکثریت یہ جانتی ہی نہیں کہ خاندان کا ادارہ کیا ہوتا اور یہ کیوں قائم کیا گیا ہے؟ اس جہالت کے دو بڑے مظاہر ہیں: مذہب کی غلط تعبیر اور سماج کی ساخت سے عدم واقفیت۔ خاندان کے بارے میں قرآن مجید نے تفصیل کے ساتھ بتایا ہوا ہے۔ نبیﷺ نے اس ادارے کو جس حکیمانہ انداز سے دیکھا‘ اس کے بارے میں بھی حیاتِ طیبہ میں بہت سے نظائر موجود ہیں۔ ان سب کو نظر انداز کرتے ہوئے‘ یہاں اس پر مورچہ لگایا جاتا ہے کہ اسلام میں شادی کی عمر مقرر نہیں کی جا سکتی اور نو برس کی بچی بھی شادی کے قابل ہو سکتی ہے۔ اسی طرح ہمیں یہ معلوم نہیں ہے کہ خاندان کا ادارہ کن مقاصد کیلئے وجود میں آتا ہے اور شادی سے پہلے لڑکے اور لڑکی میں کن خصائص کا ہونا ضروری ہے۔ اس جہالت کا تعلق ڈگریوں سے نہیں ہے۔ اس باب میں اَن پڑھ اور ڈگری رکھنے والے ایک پیج پر ہیں۔
2۔ دوسرا سبب ہمارا سماجی نظام ہے۔ یہ پدر سرانہ ہے۔ اس میں عورت مرد سے کمتر حیثیت رکھتی ہے۔ اس کی کوئی شناخت ہے نہ اس کی کوئی رائے۔ ہم نے اسے ہمیشہ بیٹی‘ بہن اور ماں کے روپ میں دیکھا ہے‘ ایک عورت یا پوری شخصیت کے طور پر نہیں۔ اس کی سماجی حیثیت کا تعین مرد کی نسبت سے کیا گیا ہے۔ وہ کسی کی بیٹی ہو گی یا بہن۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ خود کوئی وجود نہیں رکھتی؟ اگر رکھتی ہے تو فیصلہ سازی میں کہاں ہے؟ بیٹوں کی طرح‘ ہم نے اس کی شخصیت کی تعمیر کا کیا اہتمام کیا ہے؟ واقعہ یہ ہے کہ ہم اس کو ایک مکمل شخصیت ماننے کیلئے آمادہ نہیں۔ اس حیثیت کے ساتھ جب وہ ایک ازدواجی رشتے میں داخل ہوتی ہے تو گویا ایک قید خانے میں داخل ہو گئی۔ اب جس ادارے کا ایک فریق آزاد اور دوسرا غلام ہو‘ وہ کیسے متوازن اور کامیاب ہو سکتا ہے؟
3۔ جدید پڑھے لکھے طبقے نے اس پدر سرانہ نظام پر ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ اس ردِعمل کو ہمارے این جی او کلچر نے ایک تحریک کی صورت میں منظم کر دیا ہے جسے 'خواتین کے حقوق‘ کا عنوان دیا گیا ہے۔ یہ تصور مغرب سے مستعار اور لبرل ازم کی اساس پر کھڑا ہے۔ یہ بھی جدید جاہلیت کی ایک شکل ہے۔ یہاں اس بنیادی حقیقت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ رشتۂ ازدواج میں بندھ جانے کے بعد‘ مرد اور عورت کو لازماً کچھ پابندیاں قبول کرنا پڑتی ہیں۔ اپنی کچھ آزادیوں سے دستبردار ہونا پڑتا ہے۔ مطلق آزادی ایک واہمہ ہے جو دنیا میں کہیں نہیں پایا جاتا۔ اس کلچر نے خاندانی نظام کو اتنا ہی نقصان پہنچایا ہے جتنا پدر سرانہ سوچ نے۔ اسلام آباد میں ان واقعات میں غیر معمولی اضافے کا سبب یہی کلچر ہے جو شہروں میں زیادہ پھیلا ہے۔
اسباب کی اس فہرست میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ معاشی ابتری اس خاندانی نظام کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ مجھے اس سے اتفاق ہے مگر اس کا تعلق بھی ان تین اسباب ہی سے ہے جو میں نے بیان کیے ہیں۔ معیشت ملک کی ہو یا خاندان کی‘ یہ وسائل اور مسائل میں درست نسبت قائم کرنے کا نام ہے۔ اس کے لیے معیشت سے وابستہ عناصر میں اعتماد اور حکمت کا ہونا ضروری ہے۔ خاندان ہے تو اس کے متعلقہ افراد کو اس کا شعور ہو کہ ان کے وسائل کیا ہیں اور ضرویات کی تکمیل کے لیے ترجیحات کا تعین کیسے کیا جائے۔ اس کا تعلق غربت سے نہیں‘ حکمت سے ہے۔ اسی طرح ساس بہو کے جھگڑوں کا تعلق بھی پدر سرانہ نظام سے ہے۔
اس بحران کاعلاج کیا ہے؟ یہ سادہ ہے‘ اگر کوئی کرنا چاہے۔ شادی کی عمر کو پہنچنے والے لڑکوں اور لڑکیوں کیلئے عائلی تعلیم پر مبنی ایک لازمی کورس اور تربیتی نظام۔ شادی کیلئے اس کورس کا سرٹیفکیٹ لازمی قرار دے دیا جائے جیسے موروثی بیماریوں سے بچنے کیلئے خون کا ٹیسٹ لازمی ہو۔ اس کورس میں خاندان اور مذہب کے بارے میں اصل ماخذ پر مبنی تعلیمات شامل ہوں جو پدر سرانہ ہیں نہ مطلق آزادی پر مبنی۔ اس کے ساتھ سماجی تناظر کا علم بھی اس کورس کا حصہ ہو کہ خاندان کا ادارہ اصل کیا ہے اور یہ کہ شادی محض جنسی خواہش کی جائز تکمیل کا نام نہیں‘ اس سے کہیں بڑھ کر ایک سماجی عمل ہے جس کے ساتھ بہت سی ذمہ داریاں وابستہ ہیں۔