"KNC" (space) message & send to 7575

ایرانی مزاحمت کا راز

ایرانی قوم کی مزاحمت نے ایک دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال رکھا ہے۔ ایک عالمی قوت کے سامنے سود و زیاں سے بے نیاز ہو کر کھڑا ہو جانا آسان نہیں۔ جارح قوت کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ اسے ایسی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کا خیال تھا کہ دو چار تھپیڑوں کے بعد یہ ناؤ اپنے ناخداؤں کے خلاف بغاوت کر دے گی اور کنارے سے ہم آغوشی کی تمنا میں نئے ناخدا ڈھونڈ لے گی۔ پرکھنے کا یہ پیمانہ خرد نے ایجاد کیا ہے۔ تاریخ نے ہمیشہ اسی پیمانے سے فتح و شکست کا فیصلہ کیا ہے۔ بایں ہمہ یہ پہلو بھی تاریخ کے کسی باب کا عنوان ضرور بنتا ہے کہ کسی قوم نے مشکل حالات کا سامنا کیسے کیا؟ مؤرخ کا قلم داد نہ دے‘ شاعر یہ کہتے ہوئے اپنی گواہی ضرور تاریخ کے صفحات پر ثبت کر دیتا ہے کہ 'مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا‘۔
ایران کے پیکرِ خاکی میں جاں کیسے پیدا ہوئی؟ بیسویں صدی کے آخری نصف میں ایرانی قوم تشکیلِ نو کے مرحلے سے گزری۔ ملک نہیں قوم بدل گئی۔ جغرافیہ نہیں تاریخ بدل گئی۔ جسم نہیں روح بدل گئی۔ کہانی کچھ یوں ہے کہ ایران پہلے سنی اکثریتی ملک تھا۔ اہلِ تشیع کا مقدمہ یہ ہے کہ مسلم تاریخ دراصل ان کی مظلومیت کی داستان ہے۔ انہیں بالجبر اقتدار سے محروم رکھا گیا اور ان کے وجود کو مٹانے کے لیے سازشیں ہوئیں۔ ایک قلیل عرصے کے سوا‘ جب فاطمیوں کو حکومت ملی‘ وہ ظلم کا شکار رہے۔ بنو اُمیہ کے اقتدار سے اس مظلومیت کا آغاز ہوا‘ یہاں تک کہ ایران میں صفویوں کی حکومت قائم ہو گئی۔ صفوی اہلِ سنت تھے اور شافعی مذہب پر تھے۔ پھر ان میں ایک سردار نے مذہبِ تشیع اختیار کر لیا۔ اس کے بعد اس عہد کے چلن کے مطابق عوام کو بھی ملوک کا دین اپنانا پڑا۔ یوں ایران شیعہ اکثریتی ملک میں ڈھل گیا۔
عہدِ مظلومیت میں اپنے وجود کو باقی رکھنے کے لیے اہلِ تشیع نے کئی حیلے کیے۔ انہیں زندہ رہنا تھا اور ساتھ ہی اپنے تشخص اور روایت کی حفاظت بھی کرنا تھی۔ بقا کی اس جنگ میں ان کے پاس تین ہتھیار تھے: نظریۂ امامت‘ فلسفۂ شہادت اور تقیہ۔ اثنائے عشری اہلِ تشیع کا عقیدہ ہے کہ آخری دور میں امامِ زمان‘ امام مہدی تشریف لائیں گے۔ وہ اس زمین پر انصاف پر مبنی نظامِ حکومت قائم کریں گے اور تاریخ میں ان کے ساتھ ہونے والے مظالم کی تلافی کریں گے۔ اس عقیدہ کے مطابق امام کی موجودگی میں کسی غیر امام کا حق نہیں کہ وہ امت کی سیاسی و مذہبی قیادت کرے۔ آج آخری امام موجود ہیں لیکن غائب ہیں۔ چونکہ وہ موجود ہیں اس لیے اب کوئی سیاسی نظم قائم نہیں ہو سکتا جس میں کسی کی اطاعت لازم ہو۔ ہمیں اس دوران میں امام کی آمد کا انتظار کرنا ہے۔ اس کے ساتھ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کو مذہبی تشخص کی بقا کے لیے استعمال کیا گیا۔ ہر سال ان کا یومِ شہادت منایا گیا۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے سیاسی مؤقف سے اہلِ اقتدار کو اختلاف تھا لیکن ان کی مذہبی و سماجی شخصیت مسلمانوں میں متنازع نہیں تھی۔ یہ ایک بے ضرر سا تصورِ شہادت تھا جس میں امام کے فضائل کے بیان آہ و بکا اور ماتم کو کافی سمجھا جاتا تھا۔ سال میں چند دن سوگ منانے کا کسی کو نقصان نہیں تھا‘ اور اہلِ تشیع کو فائدہ یہ تھا کہ ان کا نظریہ زندہ رہ سکتا تھا۔
مزید یہ ہوا کہ تقیہ کا فقہی تصور اپنا لیا گیا۔ اس کامطلب یہ تھا کہ اگر حالات مخالف ہوں تو اپنی شناخت کو خفیہ رکھتے ہوئے اکثریت سے ہم آہنگ اسلوبِ حیات اپنا لیا جائے۔ اس کی فضیلت کی روایات بھی لوگوں کو سنائی گئیں تاکہ انہیں اس طرزِ حیات پر اطمینان نصیب ہو۔ یہ طرزِ عمل آئمہ نے بھی اختیار کیا کہ دین کو اصل حالت میں باقی رکھنے کی یہی صورت تھی۔ اس کو اہلِ تشیع کے سوادِ اعظم نے اپنا لیا اور وہ بیسویں صدی تک اس پر عامل رہے۔ تاہم ایک آدھ گروہ ایسا بھی پیدا ہوا جس نے تلوار کے زور سے اقتدار لینے کی کوشش کی اور اپنے مخالفین کو تہ تیغ کیا۔ جیسے مختار ثقفی۔ ثقفی کو تمام اہلِ تشیع قدر کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ مختارکا مزار کوفہ کی مسجدِ علی میں بنایا گیا ہے۔ مجھے بھی اسے دیکھنے کا موقع ملا۔
اس فلسفۂ حیات اور طرزِ عمل کا نتیجہ یہ نکلا کہ شیعہ نے سنی اکثریت کے سامنے عملاً شکست تسلیم کر لی۔ اس نے سیاسی زندگی میں بے عملی کو جنم دیا۔ صفویوں کی حکومت سے اہلِ تشیع کو کوئی نظریاتی یا مسلکی فائدہ نہیں ملا۔ انہیں صرف اپنے اقتدار سے غرض تھی۔ جیسے آج بہت سے سنی حکمرانوں کا اہلِ سنت کو کوئی فائدہ نہیں۔ اس بے عملی کے ردِ عمل میں شیعہ علما میں ایک طبقہ پیدا ہوا جس نے ان قدیم تصورات کو چیلنج کیا۔ اس ردِعمل کو روح اللہ خمینی صاحب نے ایک منظم فکر اور سیاسی تحریک میں بدل دیا۔ انہوں نے امام کی غیر موجودگی میں ولایتِ فقیہ کو ایک قابلِ عمل متبادل کے طور پر پیش کیا اور شیعہ فکر پر مبنی حکومت کے لیے راستہ کھولا۔ دوسری طرف فلسفۂ شہادت کی تشکیلِ نو کرتے ہوئے شہادتِ حسین رضی اللہ عنہ کی مکمل سیاسی تعبیر کی۔ انہوں نے بتایا کہ اقتدار کا قیام امام کا اصل مقصد تھا اور ان سے تعلق اسی صورت میں ثابت ہو گا جب ان ہی کی طرح ایک سیاسی نظم کے قیام کی جد و جہدکی جائے۔
اسی طرح خمینی صاحب نے تقیہ کے قدیم تصور کو بدل ڈالا۔ فقیہ اور عالم کے لیے انہوں نے تقیہ کو ناجائز قرار دیا۔ ان کے نزدیک یہ فقیہ اور عالم کی ذمہ داری ہے کہ وہ سیدناحسین رضی اللہ عنہ کی طرح میدان میں نکلے اور اسلام کی بقا کے لیے جنگ لڑے۔ یہ نماز اور روزے سے زیادہ اہم فریضہ ہے۔ انہوں نے لکھا: ''یہ وہ فریضہ ہے کہ جس کی ادائیگی کے لیے بعض اوقات خون بہانا لازم ہو جاتا ہے۔ کوئی خون خونِ حسین رضی اللہ عنہ سے زیادہ قیمتی نہیں لیکن اسلام کی خاطر یہ خون بھی بہہ گیا۔ ہمیں یہ بات سمجھنا اور اسے دوسروں تک پہنچانا ہو گا‘‘۔ (حکومتِ اسلامی)۔
انہوں نے اپنی کتاب میں جہاں اسلامی حکومت کے قیام کو اسلامی فریضہ قرار دیا وہاں اس کے قیام کا لائحہ عمل بھی دیا۔ انہوں نے تجویز کیا کہ عاشورہ کو ایک عصری رنگ دے دیا جائے اور شہادتِ حسین رضی اللہ عنہ کو موجودہ حالات سے متعلق کر دیا جائے۔ انہوں نے علما اور طالب علم کو بطورِ خاص دعوت دی کہ وہ نکلیں اور سماج کے ہر طبقے تک یہ پیغام پہنچائیں۔ سنی اسلام میں بھی جو لوگ 'سیاسی اسلام‘ کے علم بردار ہیں اور حکومتِ الہیہ کے قیام کو دینی فریضہ قرار دیتے ہیں‘ ان کے ہاں بھی سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کو اسی پیرائے میں بیان کیا گیا۔ اس حوالے سے مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا مودودی کے شہادتِ حسین رضی اللہ عنہ پر مضامین اہم ہیں۔
خمینی صاحب کی اس تعبیر اور پیغام کو قبولیتِ عام ملی۔ ان کے افکار اور جد وجہد نے ایرانی قوم کا شاکلہ بدل ڈالا۔ ان کے مذہبی تصورات بدل گئے۔ شہادت کو ان کے لیے گلیمرائز کر دیا گیا۔ 'تقیہ‘ قصۂ پارینہ بن گیا۔ اب وہ امام کا انتظار کر نے کے بجائے نائبِ امام کے اقتدار کے لیے میدان میں نکل آئے۔ ان میں وہ جوش و خروش پیدا ہوا کہ پہلے انہوں نے شہنشاہ کی فوج کو شکست دی اور پھر اپنے عہد کی سب سے بڑی سیاسی و فوجی قوت کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہو گئے۔ خمینی صاحب نے ایک نئی شیعہ قوم تیار کر دی جو ایرانی نسلی افتخار کی دستار بھی پہنے ہوئے ہے۔ حیرت ہے امریکیوں نے اقدام سے پہلے اس تبدیلی کا اچھی طرح مطالعہ نہیں کیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں