پاکستان کی تاریخ میں شاید پہلی مرتبہ ایسا ہو رہا ہے کہ ایک ہی وقت میں تین بڑے ڈیم تعمیر ہو رہے ہیں۔ دریائے سندھ پر دیامر بھاشا ڈیم‘ دریائے سندھ ہی پر داسو ڈیم اور دریائے سوات پر مہمند ڈیم۔ پاکستان کا آخری بڑا ڈیم‘ تربیلا 1976ء میں مکمل ہوا تھا۔ یعنی تقریباً پچاس سال تک ملک بڑے آبی ذخائر کے خواب‘ سیمیناروں‘ کمیٹیوں اور سیاسی نعروں میں پھنسا رہا ہے۔ اب پہلی بار ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ریاست واقعی دریاؤں کے بہاؤ پر قابو پانے کی سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے۔ ان تینوں منصوبوں کی مجموعی پیداواری صلاحیت 9620 میگاواٹ ہے۔ صرف داسو ڈیم 4320 میگاواٹ جبکہ دیامر بھاشا 4500 میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا۔ یہ دونوں منصوبے مکمل ہونے کے بعد پاکستان کی پن بجلی صلاحیت تقریباً دُگنی ہو سکتی ہے۔ مجموعی لاگت تقریباً 2.6 کھرب روپے ہے‘ جو بظاہر ایک بہت بڑی رقم ہے مگر یہ منصوبے اب صرف فائلوں میں نہیں رہے۔ داسو میں فروری 2023ء اور دیامر بھاشا میں دسمبر 2023ء کے دوران دریائے سندھ کا رخ کامیابی سے موڑا جا چکا ہے‘ جو کسی بھی بڑے ڈیم کی تعمیر کا انتہائی اہم مرحلہ ہوتا ہے۔ دیامر بھاشا پر اس وقت بیک وقت 13 مقامات پر کام جاری ہے جبکہ 2026ء کے آغاز میں مرکزی ڈیم باڈی پر رولر کمپیکٹڈ کنکریٹ کا کام بھی شروع ہو چکا ہے۔ مہمند ڈیم کی تعمیر 2019ء میں شروع ہوئی تھی اور حکومتی دعوؤں کے مطابق یہ 2026-27ء تک مکمل ہو سکتا ہے۔ یہ صرف بجلی کی کہانی نہیں‘ پانی کی بقا کی بھی کہانی ہے۔ ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اس وقت صرف 30 دن کا پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ بھارت تقریباً 220 دن کا پانی ذخیرہ کر سکتا ہے۔ دیامر بھاشا‘ داسو اور مہمند ڈیم مکمل ہونے کے بعد پاکستان کی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت تقریباً 45 دن تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ اب بھی ناکافی ہے مگر کم از کم تباہی کی طرف بڑھتے قدموں کو کچھ دیر کے لیے روکا جا سکتا ہے۔ 2022ء کے تباہ کن سیلابوں نے پاکستان کو 30 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچایا۔ لاکھوں گھر تباہ ہوئے‘ فصلیں بہہ گئیں‘ سڑکیں ٹوٹ گئیں اور پورا ملک معاشی جھٹکے سے سنبھل نہ سکا۔ ان ڈیموں کا ایک اہم پہلو سیلابی پانی کو منظم کرنا بھی ہے۔ آبی ذخائر کے ذریعے پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کر کے انسانی جانوں‘ زرعی زمینوں اور انفراسٹرکچر کو بڑے پیمانے پر بچایا جا سکتا ہے۔
اب بات کرتے ہیں پاکستان کی معیشت کے اندر ہونے والی ایک نئی ڈیجیٹل تبدیلی کی‘ جو بظاہر خاموش ہے مگر معیشت کے لیے اس کے اثرات بہت اہم ہیں ۔ایک دہائی پہلے پاکستان میں باقاعدہ وینچر کیپٹل یعنی وی سی فنڈز تقریباً نہ ہونے کے برابر تھے۔ آج ملک میں 53 وینچر کیپٹل فنڈز کام کر رہے ہیں جن میں سے 23 صرف کراچی میں موجود ہیں۔ صرف چند برسوں میں پاکستانی سٹارٹ اپس تقریباً 4.77 ارب ڈالر کی مجموعی سرمایہ کاری حاصل کر چکے ہیں۔ یہ تبدیلی خاموش ضرور ہے لیکن اس کے اثرات آنے والے برسوں میں پاکستان کی معیشت کا نقشہ بدل سکتے ہیں۔ دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ یہ بڑی کامیابیاں کراچی سے سامنے آئیں۔ حقیقتاً پاکستان کا موجودہ سٹارٹ اپ انقلاب زیادہ تر کراچی کی کہانی ہے۔ سرمایہ کار‘ فنڈنگ‘ کامیاب بانی اور بڑے آئیڈیاز زیادہ تر اسی شہر میں جمع ہیں۔ سندھ حکومت کی دلچسپی سے یہ کامیابیاں ممکن ہوئی ہیں۔
وفاقی بجٹ کی بات کی جائے تو ملک بھر کی تاجر تنظیموں نے حکومت سے ٹرن اوور ٹیکس کم کر کے 0.5 فیصد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ بظاہر یہ ایک عام ٹیکس مطالبہ لگتا ہے لیکن حقیقت میں یہ پاکستان کی کمزور معیشت‘ مہنگائی‘ کاروباری بحران اور حکومتی ریونیو کے درمیان جاری کشمکش کی ایک بڑی تصویر ہے۔ پاکستان میں تقریباً 50 لاکھ سے زائد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار ہیں‘ لیکن ٹیکس نیٹ میں شامل تاجروں کی تعداد اس کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ ایف بی آر کے مطابق ملک کی آبادی 24 کروڑ سے زیادہ ہے مگر فعال ٹیکس فائلرز کی تعداد تقریباً 50 لاکھ کے قریب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ معیشت کا ایک بڑا حصہ اب بھی غیر دستاویزی ہے۔ پیچیدہ ٹیکس نظام‘ بار بار چھاپے‘ پوائنٹ آف سیل سسٹم اور ایف بی آر اہلکاروں کا رویہ کاروباری طبقے کو خوفزدہ کرتا ہے۔ کم شرح ٹیکس اور آسان نظام کاروباری افراد کو رضاکارانہ طور پر ٹیکس نیٹ میں لا سکتا ہے۔ پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب تقریباً 9 سے 10 فیصد ہے جبکہ بھارت میں یہ شرح تقریباً 18 فیصد اور کئی ترقی یافتہ ممالک میں 25 سے 35 فیصد تک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے مسلسل پاکستان پر ٹیکس نیٹ وسیع کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ پاکستان کو صرف زیادہ ٹیکس نہیں بلکہ بہتر ٹیکس نظام کی بھی ضرورت ہے۔ ایسا نظام جو آسان‘ شفاف اور کم کرپشن والا ہو۔ اگر حکومت تاجروں کا اعتماد بحال کرنے میں کامیاب ہو گئی تو ممکن ہے لاکھوں نئے کاروبار رضاکارانہ طور پر ٹیکس نیٹ میں شامل ہو جائیں۔ لیکن اگر پرانا دباؤ‘ چھاپے اور پیچیدہ قوانین جاری رہے تو معیشت کا بڑا حصہ بدستور غیر رسمی رہے گا۔ اسی طرح کے معاملات رئیل اسٹیٹ کے ساتھ ہیں۔ تاجروں کا سب سے بڑا اعتراض ایف بی آر کی پراپرٹی ویلیوایشن پر ہے‘ جو اُن کے مطابق اصل مارکیٹ ریٹس سے تقریباً 30 سے 40 فیصد زیادہ رکھی جاتی ہے۔ اس فرق کی وجہ سے خریدار کو زیادہ ٹیکس دینا پڑتا ہے جس سے جائیداد کی خرید وفروخت متاثر ہوتی ہے۔ اگر ایف بی آر کی پراپرٹی ویلیوایشن کم از کم 40 فیصد تک کم کر دی جائے تو مارکیٹ میں حقیقی قیمتیں بحال ہو سکتی ہیں اور سرمایہ کاری بڑھ سکتی ہے۔ موجودہ ٹیکس نظام میں غیر حقیقت پسندانہ قیمتیں کاروبار کو مزید سست کر رہی ہیں۔ اوور سیز پاکستانیوں کا کردار بھی اس شعبے میں نہایت اہم ہے۔ پاکستان کو سالانہ تقریباً 27 سے 30 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے حاصل ہوتی ہیں۔ اگر انہیں پراپرٹی خریداری میں خصوصی رعایتیں اور آسانیاں دی جائیں تو سرمایہ کاری بڑھ سکتی ہے اور ملک میں ڈالر کی آمد میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔
ادھر وزیراعلیٰ پنجاب کا آذربائیجان کے دارالحکومت باکو کا حالیہ دورہ پاکستان خصوصاً پنجاب کی معیشت کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ اس دورے میں تجارت‘ سرمایہ کاری‘ سمارٹ سٹی‘ انفراسٹرکچر‘ توانائی‘ زراعت اور آئی ٹی سمیت کئی شعبوں میں تعاون پر بات چیت ہوئی۔ سب سے اہم پیشرفت پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان جوائنٹ ورکنگ گروپ کے قیام کا فیصلہ ہے‘ جس کا مقصد سیاسی تعلقات کو براہِ راست معاشی منصوبوں میں تبدیل کرنا ہے۔ پاکستان کو اس وقت فوری طور پر غیر ملکی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تاکہ صنعتی شعبہ‘ برآمدات اور روزگار بہتر ہو سکیں۔ ایسے میں آذربائیجان جیسے توانائی سے مالا مال ملک کی دلچسپی پاکستان کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے۔ آذربائیجان پہلے ہی پاکستان میں تقریباً دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کر چکا ہے ۔ حالیہ ملاقاتوں میں اس سرمایہ کاری کو عملی منصوبوں میں تبدیل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔اگر یہ سرمایہ کاری حقیقت بن جاتی ہے تو یہ حالیہ برسوں میں پاکستان میں آنے والی بڑی علاقائی سرمایہ کاریوں میں شامل ہو سکتی ہے۔