سٹاک مارکیٹ‘ برآمدات اور آئی ایم ایف کے معاشی اثرات

مشرقِ وسطیٰ میں جنگی صورتحال اور آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی توانائی نظام کو بُری طرح متاثر کیا ہے۔ پاکستان جیسے ملک‘ جو اپنی توانائی ضروریات کا 70 سے 80 فیصد حصہ درآمد کرتا ہے‘ کے لیے یہ صورتحال بیک وقت خطرہ بھی ہے اور موقع بھی۔ حالیہ اعداد وشمار ایک دلچسپ تصویر پیش کرتے ہیں۔ پورٹ قاسم اتھارٹی کے مطابق رواں ماہ 17 جہازوں کے ذریعے ساڑھے چار لاکھ ہزار ٹن پٹرولیم مصنوعات ہینڈل کی گئیں‘ جن میں 11 جہازوں کے ذریعے چار لاکھ 17 ہزار ٹن پٹرولیم مصنوعات اور چھ جہازوں کے ذریعے 33 ہزار ٹن ایل پی جی فراہم کی گئی۔ اسی طرح قاسم انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل پر دو جہازوں کے ذریعے 3485 کنٹینرز ہینڈل کیے گئے‘ جو بڑھتی ہوئی ٹرانس شپمنٹ سرگرمیوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ اگر پاکستان درست پالیسی اختیار کرے تو پورٹ کی آمدن میں 20 سے 30 فیصد تک اضافہ ممکن ہے‘ ملک ریجنل ٹرانس شپمنٹ ہب (Hub) بن سکتا ہے اور آئل سٹوریج اور لاجسٹکس کے شعبے میں بڑی سرمایہ کاری آ سکتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اپنی آئل سٹوریج صلاحیت کو بڑھائے اور کم از کم 90 دن کے ذخائر کا ہدف حاصل کرے اور بندرگاہوں کو فری ٹریڈ اور ٹرانزٹ ہب میں تبدیل کرے۔ ہرمز کی بندش نے پاکستان کو ایک نادر موقع فراہم کیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان ساڑھے چار لاکھ ٹن کے اس وقتی اضافے کو مستقل معاشی فائدے میں بدل پاتا ہے یا ماضی کی طرح ایک اور موقع ضائع کر دیا جائے گا؟ کیونکہ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ قومیں وہی ترقی کرتی ہیں جو بحرانوں میں چھپے مواقع کو پہچان لیتی ہیں۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ میں پاکستان کی یورپ کو برآمدات میں صرف 0.95 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 6.122 ارب ڈالر رہیں۔ یعنی برآمدات بڑھی تو ہیں لیکن بہت کم‘ جو دراصل کمزوری کی علامت ہے۔ خاص طور پر اس لیے کہ پاکستان کو جی ایس پی پلس کی سہولت بھی حاصل ہے‘ جس کے تحت کئی مصنوعات ڈیوٹی فری یورپ جاتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ یورپ کے بڑے ممالک میں پاکستانی مصنوعات کی مانگ کم ہو رہی ہے۔ مغربی یورپ جیسے علاقوں میں برآمدات 3.22 فیصد کم ہو گئی ہیں اور جنوبی یورپ میں برآمدات معمولی سی بڑھی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ اس کی چند سادہ وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ یورپی یونین نے بھارت کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ کیا ہے‘ جس سے بھارت کو یورپ میں زیادہ فائدہ ملے گا اور پاکستان کے لیے مقابلہ سخت ہو جائے گا۔ میں اپنے کالموں میں اس خدشے کا اظہار تسلسل سے کرتا آیا ہوں۔ صرف جی ایس پی پلس ہونا کافی نہیں رہا۔ دنیا میں مقابلہ بڑھ گیا ہے‘ اگر پاکستان نے اپنی مصنوعات بہتر نہ کیں‘ نئی منڈیاں تلاش نہ کیں اور اپنی لاگت کم نہ کی تو برآمدات مزید کم ہو سکتی ہیں۔
آئی ایم ایف نے پاکستان کو ایک ارب 20 کروڑ ڈالر دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے لیکن اس کے ساتھ ایک بڑی شرط بھی رکھ دی ہے۔ پاکستان کو پہلے عدالتوں کے فیصلوں کی بنیاد پر 322 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کرنا ہوگا یا اسے اکٹھا کرنے کے لیے قابلِ عمل منصوبہ پیش کرنا ہو گا۔ ایف بی آر پہلے ہی اپنے ٹیکس ہدف میں 640 ارب روپے پیچھے ہے۔ یعنی جس ادارے سے مزید پیسے اکٹھا کرنے کی توقع کی جا رہی ہے وہ خود اپنی کارکردگی میں کمزور ہے۔ آئی ایم ایف نے صرف یہی شرط نہیں رکھی بلکہ مزید سخت باتیں بھی کہی ہیں۔ اگر مہنگائی بڑھے گی تو سٹیٹ بینک کو شرح سود بڑھانا ہو گی‘ روپے کو اپنی مرضی سے نہیں بلکہ مارکیٹ کے مطابق چلانا ہو گا‘ اور حکومت کو اپنے اخراجات سختی سے کنٹرول کرنا ہوں گے۔ اگر پاکستان یہ شرط پوری کر لیتا ہے تو اسے تقریباً ایک ارب ڈالر ای ایف ایف پروگرام کے تحت اور 210 ملین ڈالر آر ایس ایف کے تحت ملیں گے‘ اور مجموعی امداد تقریباً ساڑھے چار ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ اگر حکومت واقعی اصلاحات کرے‘ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرے اور اداروں کو مضبوط بنائے تو شاید یہ آخری بار ہو کہ ہمیں ایسی سخت شرائط ماننا پڑیں۔
حکومت پاکستان نے پراپرٹی اور ہاؤسنگ سیکٹر کو بہتر بنانے کے لیے ایک منصوبہ تیار کیا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کی وجہ سے وہاں کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ متاثر ہوئی ہے اور سرمایہ کار نئے محفوظ مواقع تلاش کر رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے جو اہم تجاویز سامنے آئی ہیں ان میں پراپرٹی کی فروخت پر ٹیکس کو 4.5 فیصد سے کم کر کے 1.5 فیصد کرنا‘ خریداری پر ٹیکس کو 1.5 فیصد سے کم کر کے 0.25 فیصد کرنا‘ پہلی بار گھر یا پلاٹ کی خرید پر ٹیکس ختم کرنا اور ایک فیصد deemed income tax کو ختم کرنا شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہاؤسنگ کے لیے آسان قرضوں کا نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے جس میں قرض کی حد ایک کروڑ روپے تک بڑھا دی گئی ہے اور شرح سود تقریباً پانچ فیصد تک کم کی گئی ہے‘ جبکہ سٹیٹ بینک بھی اس نظام کو سہارا دے رہا ہے۔ ٹیکس میں کمی سے سرمایہ کاری بڑھ سکتی ہے اور عام لوگوں کے لیے گھر خریدنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے‘ لیکن اس منصوبے کی منظوری آئی ایم ایف سے لینے کی شرط عائد ہے۔ ٹیکس میں کمی کے ساتھ ساتھ شفاف نظام‘ مؤثر نگرانی اور عام آدمی کے لیے حقیقی سہولتیں بھی یقینی بنائے جانے کی ضرورت ہے تاکہ یہ پالیسی واقعی ملک کی معیشت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکے۔
پاکستان سٹاک ایکسچینج اس وقت دباؤ کا شکار ہے اور مسلسل نویں ہفتے بھی مارکیٹ میں مندی دیکھی گئی۔ گزشتہ ہفتے کے ایس سی 100 انڈیکس تقریباً 151708 پوائنٹس پر بند ہوا‘ یعنی تقریباً 1033 پوائنٹس کی کمی ہوئی۔ مالی ہفتے میں غیر ملکی کمپنیوں اور بڑے اداروں نے تقریباً 23 ملین ڈالر سے زائد کے شیئرز فروخت کیے جبکہ مقامی سرمایہ کاروں نے تقریباً 17 ملین ڈالرز سے زائد کی خریداری کر کے مارکیٹ کو سہارا دیا۔ غیر ملکی سرمایہ کار شاید زیادہ پریشان ہیں لیکن مقامی سرمایہ کار اب بھی کسی حد تک اعتماد برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ایک اور اہم پہلو شرح سود ہے۔ حالیہ ٹریژری بلز کی نیلامی میں منافع کی شرح میں 90 سے 225 بیسس پوائنٹس تک اضافہ ہوا‘ اور پانچ سالہ بانڈ پر تقریباً 12.5 فیصد منافع دیا جا رہا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مستقبل میں سٹیٹ بینک شرح سود بڑھا سکتا ہے۔ جب شرح سود بڑھتی ہے تو لوگ سٹاک مارکیٹ کے بجائے بینکوں اور بانڈز میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیتے ہیں جس سے سٹاک مارکیٹ پر دباؤ بڑھتا ہے۔ اچھا پہلو یہ ہے کہ مارکیٹ کی ویلیو اب کافی کم ہو چکی ہے۔ کے ایس ای 100 انڈیکس ریشو تقریباً 7.5 ہے جبکہ ڈیویڈنڈ ییلڈ تقریباً 6.8 فیصد ہے۔ یہ اعداد ظاہر کرتے ہیں کہ لمبے عرصے کے لیے یہ ایک پُرکشش موقع ہو سکتا ہے‘ اگر حالات بہتر ہوں۔
حکومت عوام پر مالی دباؤ کم کرنے کی کوشش کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ عوام کو مہنگائی سے بچانے کے لیے 100 ارب روپے کی پٹرول سبسڈی دی ہے۔ یہ اقدام بظاہر عوام دوست ہے کیونکہ اس سے فوری طور پر لوگوں کی جیب پر پڑنے والا بوجھ کم ہوتا ہے۔ اس فیصلے کے ساتھ ایک اہم معاشی پہلو بھی جڑا ہوا ہے۔ حکومت نے اسی سبسڈی کو پورا کرنے کے لیے ترقیاتی بجٹ میں بھی تقریباً 100 ارب روپے کی کٹوتی کی ہے۔ جہاں ایک طرف عوام کو فوری ریلیف مل رہا ہے‘ وہیں دوسری طرف سڑکوں‘ توانائی‘ صحت اور تعلیم جیسے اہم ترقیاتی منصوبے متاثر ہو سکتے ہیں۔ 100 ارب روپے کی سبسڈی ایک وقتی سہارا ہے‘ مگر ملک کی اصل ضرورت پائیدار معاشی اصلاحات ہیں۔ اگر حکومت اس سمت میں آگے بڑھتی ہے تو نہ صرف عوام کو ریلیف مل سکتا ہے بلکہ معیشت بھی مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہو سکتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں