بجٹ اور توانائی کی قیمتیں

بجٹ سے قبل صنعتکاروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ ٹیکس نظام نہ صرف پیچیدہ ہے بلکہ یہ صنعت‘ برآمدات اور سرمایہ کاری میں بھی رکاوٹ بن رہا ہے۔صنعتکاروں کی جانب سے سنگل ونڈو نیشنل سیلز ٹیکس کمپلائنس سسٹم‘ فائنل ٹیکس رجیم کی بحالی‘ سپر ٹیکس کے خاتمے اور کارپوریٹ ٹیکس میں کمی کی تجاویز دی گئی ہیں۔ سنگل ونڈو ڈیجیٹل پلیٹ فارم دراصل ایک جدید اور ناگزیر ریفارم ہے۔ اگر پورے ملک میں رجسٹریشن‘ ٹیکس فائلنگ اور ادائیگی کیلئے ایک مربوط نظام قائم ہو جائے تو کاروباری سرگرمیوں میں آسانی پیدا ہو سکتی ہے‘ ٹیکس چوری میں کمی آ سکتی ہے اور حکومت کو بہتر ڈیٹا میسر آ سکتا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک خصوصاً سنگاپور اور متحدہ عرب امارات پہلے ہی ایسے مربوط ڈیجیٹل ٹیکس ماڈلز سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ پاکستان میں کارپوریٹ انکم ٹیکس عالمی سطح کی نسبت زیادہ ہے۔ اس وقت یہ تقریباً 29 فیصد ہے جبکہ دنیا کے بیشتر ممالک میں یہ شرح 21 سے 24 فیصد تک ہے۔ اگر حکومت بجٹ میں مینوفیکچرنگ سیکٹر کیلئے کارپوریٹ ٹیکس 25 فیصد تک لے آئے تو سرمایہ کاری‘ صنعتی پیداوار اور روزگار میں اضافہ ممکن ہو سکتا ہے۔ گزشتہ بجٹ تک اضافی ٹیکس کی شرح ایک فیصد تھی مگر اب مزید چار فیصد کا بوجھ شامل کر دیا گیا ہے۔ اس کا براہ راست اثر برآمدی شعبے پر پڑ سکتا ہے جو پہلے ہی توانائی کی بلند قیمتوں‘ مہنگی فنانسنگ اور عالمی منڈی میں سخت مسابقت کا سامنا کر رہا ہے۔ بجٹ میں اضافی ٹیکس کا بوجھ کم کرنے کی ضرورت ہے۔ سپر ٹیکس بھی صنعتکاروں کیلئے مستقل دردِ سر بن رہا ہے۔ عارضی بنیادوں پر لگایا جانے والا یہ ٹیکس اب مستقل شکل اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے جس سے پیداواری لاگت اور سرمایہ کاری‘ دونوں متاثر ہو سکتی ہیں۔ حکومت نے سپر ٹیکس کے حوالے سے اصلاحات کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے لیکن بجٹ منظور ہونے تک کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ آئی ایم ایف کا بھی دبائو ہے۔ نئے بجٹ کا ایک اہم پہلو کیش لیس اکانومی ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں معیشت کا بڑا حصہ اب بھی نقد لین دین پر چلتا ہے جس کے باعث اربوں روپے کی سرگرمیاں ٹیکس نیٹ سے باہر رہتی ہیں اور جو لوگ ٹیکس سسٹم میں رجسٹرڈ ہیں انہی پر اضافی بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔ ڈیجیٹل اکنامک ٹیکنالوجی اور فِن ٹیک کارڈز کے ذریعے صارفین کو مراعات دے کر اور لوگوں کو نقد کے بجائے ڈیجیٹل ادائیگیوں کی طرف لا کر انہیں ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اگر بجٹ میں ریٹیل سطح پر صارفین کو مخصوص شرح سے رعایت یا انعام دیا جائے تو نہ صرف معیشت کو دستاویزی بنانے میں مدد مل سکتی ہے بلکہ ٹیکس بیس بھی وسیع ہو سکتا ہے۔
ہر سال عید الاضحی کے موقع پر ملک بھر میں لاکھوں جانوروں کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔ مویشیوں کی خرید وفروخت‘ ٹرانسپورٹ‘ چارہ‘ کھالوں اور دیگر متعلقہ شعبوں کو ملا کر 500 سے 700 ارب روپے تک کی معاشی سرگرمی پیدا ہوتی ہے۔ اس بڑے مالی حجم کو دیکھتے ہوئے سٹیٹ بینک کی جانب سے اس سال 'گو کیش لیس‘ مہم شروع کی گئی ہے تاکہ مویشی منڈیوں میں نقد رقم کے بجائے ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دیا جا سکے۔ گزشتہ سال یہ سہولت54 مویشی منڈیوں میں دستیاب تھی‘ اس سال اس کا دائرہ 96 منڈیوں تک بڑھایا گیا ہے۔ اس مہم میں 22 بینک شریک ہیں جو منڈیوں میں خصوصی کیمپ‘ موبائل بینکنگ سہولتیں اور QR کوڈ ادائیگی کا نظام فراہم کریں گے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران ڈیجیٹل ادائیگیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ 2025ء میں ڈیجیٹل ریٹیل ٹرانزیکشنز کی تعداد تقریباً نو ارب سے زائد تھی جبکہ ان کی مالیت 612 کھرب روپے تک تھی۔عید الاضحی کی مناسبت سے ڈیجیٹل ادائیگیوں کو پروموٹ کرنے کیلئے سٹیٹ بینک نے 14 مئی سے 5 جون تک ٹرانزیکشن اور اکاؤنٹ بیلنس کی حد میں عارضی رعایت بھی دی ہے تاکہ لوگ بڑی ادائیگیاں آسانی سے کر سکیں۔ اس کے علاوہ موبائل بینکنگ وینز‘ اے ٹی ایمز اور کیش ڈپازٹ مشینیں بھی منڈیوں کے اطراف لگائی جائیں گی۔ اگر 20 سے 30 فیصد مویشی منڈیوں کی ٹرانزیکشنز بھی ڈیجیٹل نظام میں آ جائیں تو اس سے بینکاری نظام‘ ٹیکس نیٹ اور مالی شفافیت میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔
معاشی طور پر ملک اس وقت متعدد چیلنجز سے گزر رہا ہے‘ لیکن کچھ ایسے شعبے بھی ابھر رہے ہیں جو ملکی معیشت کو نئی سمت دے سکتے ہیں۔ انہی میں ایک اہم شعبہ بلیو اکانومی یعنی سمندری معیشت کا ہے۔ پاکستان کی مچھلی اور سمندری مصنوعات کی برآمدات پہلی مرتبہ 500 ملین ڈالر سے تجاوز کر گئی ہیں۔ اس میں ایک اہم عنصر روسی مارکیٹ کا کھلنا ہے جس نے پاکستان کی سمندری مصنوعات کیلئے نئی راہیں پیدا کی ہیں۔ اس وقت پاکستان کی 16 کمپنیاں روس کو سمندری خوراک برآمد کرنے کی منظوری لے چکی ہیں۔ اگر یہ سلسلہ اسی رفتار سے جاری رہا تو آئندہ چند برسوں میں پاکستان کی سالانہ سمندری برآمدات 800 ملین ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں جبکہ صرف روس کو برآمدات 300 ملین ڈالر تک جانے کا امکان ہے۔ اس وقت سمندری برآمدات میں فروزن مچھلی کا حصہ سب سے زیادہ ہے‘ جھینگے‘ کیکڑے‘ سارڈین‘ میکریل اور دیگر ویلیو ایڈڈ مصنوعات بھی عالمی مارکیٹ میں جگہ بنا رہی ہیں۔
اس وقت عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑھتی قیمتوں نے پوری دنیا کی معیشتوں کو متاثر کیا ہوا ہے۔ پاکستان میں بھی قیمتیں تقریباً 60 فیصد بڑھ گئی ہیں۔ ان حالات میں مقامی سطح پر تیل اور گیس کے ذخائر تلاش کرنے سے توانائی کی قیمتیں نیچے لائی جا سکتی ہیں۔ شاید کم لوگ جانتے ہیں کہ برصغیر پاک وہند میں تجارتی بنیادوں پر تیل کے ابتدائی ذخائر سب سے پہلے اٹک سے دریافت ہوئے تھے۔ یہی صنعت بعد میں پاکستان کے توانائی شعبے کی بنیاد بنی۔ یہی وجہ ہے کہ اٹک کو پاکستان کی تیل وگیس صنعت کی جنم بھومی کہا جاتا ہے۔ بیسویں صدی کے آغاز میں اٹک کے کھوڑ کے علاقے میں تیل دریافت ہوا تھا۔ برطانوی دور میں یہاں ڈرلنگ اور تجارتی پیداوار شروع کی گئی۔ اٹک آئل ریفائنری اور دیگر اداروں نے اس علاقے میں تیل کی تلاش اور پیداوار کا کام آگے بڑھایا۔ اٹک کے ڈھوک سلطان جیسے علاقوں سے ایک کنویں سے تقریباً 1400 سے 2100 بیرل روزانہ تک پیداوار حاصل ہوئی۔ سوگھری بلاک کے ایک کنویں سے روزانہ 14ملین سٹینڈرڈ کیوبک فٹ گیس حاصل کی جا رہی ہے۔ پاکستان پٹرولیم نے بھی اٹک میں بڑی دریافت کی ہے۔ حکومت اٹک میں سرمایہ کاری بڑھا کر تیل اور گیس کے مزید ذخائر حاصل کر سکتی ہے جو ملک میں توانائی کے بحران کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ بدین‘ سانگھڑ‘ گھوٹکی‘ دادو‘ خیرپور‘ کرک‘ ہنگو‘ بنوں‘ چکوال‘ جہلم‘ میانوالی‘ سبی‘ ڈیرہ بگٹی‘ کوئٹہ اور قلات میں بھی تیل اور گیس کے ذخائر موجود ہونے کے شواہد ہیں۔ ان علاقوں میں بھی سرمایہ کاری کے بہتر نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں