پاکستان کی معیشت اس وقت ایک ایسے رجحان کا شکار ہے جہاں اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں مگر اصلاحات نظر نہیں آ رہیں۔ گزشتہ چار برسوں میں پاکستان کے قرضوں اور واجبات کا حجم 55 کھرب روپے سے بڑھ کر 85 کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ یعنی 30 کھرب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ تقریباً ساڑھے سات کھرب روپے سالانہ‘ تقریباً 625 ارب روپے ماہانہ اور تقریباً 20 ارب روپے یومیہ اضافہ ہے۔سادہ الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہر روز حکومت اتنا قرض بڑھا رہی ہے جتنا ایک بڑے موٹروے منصوبے پر خرچ ہو سکتا ہے‘ مگر اس کے بدلے میں کوئی بڑا اثاثہ یا ترقیاتی منصوبہ سامنے نہیں آ رہا۔ بجلی کے شعبے کی صورتحال بھی مختلف دکھائی نہیں دیتی۔ گردشی قرضہ 2.2کھرب روپے سے بڑھ کر 3.2 کھرب روپے ہو چکا ہے۔ یعنی چار برسوں میں ایک کھرب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ سرکاری ادارے بھی معیشت پر ایک بڑا بوجھ دکھائی دے رہے ہیں۔ پاکستان میں 110 سے زائد سرکاری ادارے ایسے ہیں جن کے مجموعی واجبات 30 کھرب روپے سے زیادہ ہیں۔ یہ ادارے ہر سال تقریباً 800ارب سے ایک کھرب روپے تک کا نقصان کرتے ہیں۔ پاکستان ریلوے چل رہی ہے مگر اپنے اخراجات پورے نہیں کرتی جبکہ سٹیل ملز پیداوار نہ ہونے کے باوجود وسائل استعمال کر رہی ہے۔ یعنی اثاثے تو موجود ہیں مگر ان سے آمدن نہیں ہو رہی۔ حکومتی اخراجات کا ایک اور پہلو بھی توجہ طلب ہے۔ وفاق اور چاروں صوبائی حکومتیں مل کر تقریباً 85,500 گاڑیوں کا بیڑا چلاتی ہیں۔ ان گاڑیوں کے ایندھن پر سالانہ تقریباً 114 ارب روپے خرچ ہوتے ہیں۔ یہ اخراجات اس بات کی نشاندہی کررہے ہیں کہ وسائل کا بڑا حصہ صرف نظام کو چلانے پر لگ رہا ہے نہ کہ معیشت کو آگے بڑھانے پر۔برآمدات کی صورتحال بھی حوصلہ افزا نہیں۔ چار برس پہلے پاکستان کی برآمدات تقریباً 32ارب ڈالر تھیں جو اَب 30ارب ڈالر سے بھی نیچے آ چکی ہیں۔ اگر ان تمام شعبوں کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو صورتحال زیادہ اچھی دکھائی نہیں دیتی۔ اخراجات بڑھ رہے ہیں مگر کارکردگی اور اصلاحات نظر نہیں آ رہیں۔ یہ صورتحال شاید زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہ سکتی‘ مشکل مگر ضروری فیصلے لینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
حکومت نہ تو ملکی اخراجات کم کرنے کو تیار دکھائی دے رہی ہے اور نہ ہی کاروباری طبقے کے اخراجات کم کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ سوئی سدرن گیس کمپنی نے گیس کی قیمتوں میں اضافے کی تجویز دے دی ہے۔ درخواست کے مطابق اگر تمام خسارے شامل کیے جائیں تو قیمت میں اضافہ 286 فیصد تک جا سکتا ہے اور گیس تقریباً 6,855 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو تک پہنچ سکتی ہے جو صنعت کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ گیس کی کھپت 9.4فیصد کم ہوئی لیکن اخراجات 108فیصد بڑھ گئے جبکہ مجموعی مالی بوجھ 1.28کھرب روپے تک جا پہنچا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ پرانے خسارے جو تقریباً 956ارب روپے ہیں وہ موجودہ صارفین پر ڈالے جا رہے ہیں جبکہ صنعت پہلے ہی مہنگی توانائی کے باعث پچاس فیصد تک گیس استعمال کم کر چکی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چوری‘ لیکیج اور نااہلی جیسے مسائل جوں کے توں ہیں۔ پالیسی اور حکومتی اخراجات بھی قیمت میں شامل کیے جا رہے ہیں‘ جو انصاف نہیں۔ ایسے میں اوگرا کو سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ گیس مہنگی کرنا نہیں بلکہ نظام کو بہتر بنانا ہے۔ اسی طرح تیل کی اصل قیمت کے علاوہ لیوی اور اب غریب عوام کو دی جانے والی سبسڈی کا بوجھ بھی متوسط طبقے سے وصول کیا جارہا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات میں حالیہ دو اضافے عالمی قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے نہیں بلکہ مبینہ طور پر سبسڈی دینے کیلئے کیا گیا ہے اور وہ سبسڈی کسے مل رہی ہے ابھی تک واضع نہیں ہو سکا کیونکہ عوامی سطح پر اکثریت کامؤقف یہی ہے کہ ایپ کام نہیں کر رہی اور سستا پٹرول نہیں مل رہا۔ تیل کی کمپنیاں امیر ہو رہی ہیں اور عوام غریب ہو رہے ہیں۔یکم فروری کو بنگلہ دیش میں پٹرول تقریباً 130 ٹکہ فی لٹر تھا اور اب تک زیادہ تبدیل نہیں ہوا۔ نئی دہلی میں پٹرول 94.72بھارتی روپے فی لٹر تھا اور آج بھی وہی ہے‘ اسی دن پاکستان میں پٹرول 257 روپے فی لٹر تھا جو اَب 399.86 روپے ہو چکا ہے‘ یعنی تقریباً 56 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ہمسایہ ممالک میں حکومت نے پٹرول پر ٹیکس کم کیے اور سرکاری آئل کمپنیاں کچھ نقصان برداشت کرتی رہیں تاکہ عوام کو فوری ریلیف مل سکے‘ اس کے برعکس پاکستان میں مقامی ریفائنریز کو بھی درآمدی قیمت کے برابر اور کئی مرتبہ اضافی ادائیگی کی گئی ہے۔ جس سے عوام پر بوجھ بڑھ گیا ہے۔
صدرِ پاکستان چین کے پانچ روزہ دورے کے بعد پاکستان واپس آچکے ہیں۔ دورے کا مقصد پاکستان اور چین کے درمیان صنعت‘ زراعت اور بندرگاہوں کے شعبوں میں معاشی تعاون کو بڑھانابتایا جا رہا ہے۔ کئی معاہدوں پر دستخط بھی کیے گئے جن میں زرعی ٹیکنالوجی‘ سمندری پانی کو صاف کرنے کے منصوبے‘ چائے کے شعبے‘ مشینری‘ جانوروں کی ویکسین اور میڈیکل ٹیکنالوجی شامل ہیں۔یہ سب سننے میں مثبت لگتا ہے کیونکہ پاکستان کو اس وقت سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کی سخت ضرورت ہے۔ خاص طور پر سی پیک کے دوسرے مرحلے میں صنعت اور برآمدات پر توجہ دینا درست سمت ہے۔ اگر ان منصوبوں پر صحیح طریقے سے کام ہو جائے تو اس سے ملک میں روزگار بڑھ سکتا ہے اور معیشت کو سہارا مل سکتا ہے۔ لیکن اصل مسئلہ شاید یہاں سے ہی شروع ہوتا ہے۔پاکستان میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ معاہدے تو ہو جاتے ہیں مگر ان پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو پاتا۔ فائلیں چلتی رہتی ہیں‘ منصوبے سست روی کا شکار ہو جاتے ہیں اور کئی مواقع ضائع ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سی پیک کے پہلے مرحلے کے باوجود ملکی برآمدات اور صنعتی ترقی میں وہ کامیابی حاصل نہیں کی جا سکی جس کی امید کی جا رہی تھی۔ چین مواقع دے سکتا ہے‘ مگر کامیابی خود حاصل کرنا ہوتی ہے۔ اگر ادارے مضبوط ہوں‘ پالیسی واضح ہو اور فیصلوں میں تسلسل ہو تو یہی معاہدے بڑی کامیابی میں بدل سکتے ہیں۔ ورنہ یہ صرف خبروں تک محدود رہ سکتے ہیں۔
سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کیلئے وزیراعظم نے ورچوئل اثاثوں کو باقاعدہ قانونی دائرے میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کیلئے ورچوئل اثاثہ ایکٹ 2026ء نافذ کیا گیا ہے اور وزیراعظم نے ہدایت دی ہے کہ ایک مؤثر ریگولیٹری نظام جلد مکمل طور پر فعال کیا جائے تاکہ پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت کو فروغ ملے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے۔ اس کے ساتھ نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل فنانس کی تربیت دینے پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل کی معیشت کیلئے افرادی قوت تیار ہو سکے۔ پاکستان کی تقریباً 64 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر ہے‘ جو اگر ڈیجیٹل فنانس میں مہارت حاصل کر لے تو ملک میں روزگار کے لاکھوں نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔حکومت نے ایک ریگولیٹری سینڈ باکس بھی متعارف کرایا ہے جہاں نئی ٹیکنالوجی کو محدود پیمانے پر آزمایا جاسکتا ہے۔سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بھی ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے کے بعد واضح کیا ہے کہ اب اس شعبے میں ہر منصوبے یا پائلٹ پروجیکٹ کے لیے باقاعدہ اجازت ضروری ہوگی۔ عالمی ڈیجیٹل معیشت کا حجم 2024ء میں تقریباً 16 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکا تھا اور ہر سال اس میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے میں اگر پاکستان اس شعبے میں سے ایک فیصد بھی حصہ حاصل کر لے تو یہ اربوں ڈالر کی معیشت بن سکتی ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اس کیلئے تیار ہے؟پاکستان میں مسئلہ اکثر پالیسی بنانے کا نہیں بلکہ اس پر عملدرآمد کا ہوتا ہے۔ ادارے کمزور ہیں‘ نظام سست ہے اور پالیسیوں میں تسلسل نہیں۔ اگر یہی صورتحال رہی تو یہ بڑا موقع بھی ضائع ہو سکتا ہے۔