تیل کی قیمت‘ قرضوں کی ادائیگی اور عالمی بحران

حکومت عوام پر مالی دباو ڈال رہی ہے لیکن آئل ریفائنریز کے منافعوں پر بات نہیں کی جا رہی۔ جب سے جنگ شروع ہوئی ہے حکومت نے پٹرول کی قیمت میں تقریباً 43 فیصد اور ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 90 فیصد اضافہ کیا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں ڈیزل کی قیمتیں پٹرول سے زیادہ بڑھی ہیں اور پاکستان میں ڈیزل کی قیمت تقریباً دو گنا بڑھ گئی ہے جبکہ پاکستان اپنی ضرورت کا تقریباً 75 فیصد ڈیزل مقامی سطح پر بناتا ہے اور صرف 25 فیصد درآمد کرتا ہے۔ ڈیزل کے لیے ریفائنریز جو خام تیل درآمد کر رہی ہیں اس کا ریٹ تقریباً 120 سے 150 ڈالر فی بیرل ہے۔ عالمی مارکیٹ میں ڈیزل کی قیمت تقریباً 260 ڈالر فی بیرل ہے جبکہ مقامی سطح پر خام تیل کی قیمت تقریباً 150 ڈالر فی بیرل ہے۔ صرف 25 فیصد ڈیزل 260 روپے کے حساب سے پاکستان آ رہا ہے لیکن آئل ریفائنریز 100 فیصد ڈیزل پر درآمدی ریٹ لگا رہی ہیں۔ پاکستان میں ڈیزل کا ریٹ 260ڈالر فی بیرل کے حساب سے چارج کیا جا رہا ہے۔ تقریباً 110سے 140ڈالر فی بیرل منافع کمایا جا رہا ہے۔ اس حساب سے ریفائنریز ڈیزل پر کم از کم 190روپے فی لٹر منافع کما رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ منافع جائز ہے؟ حکومت موجودہ حالات میں عوام پر بوجھ منتقل کرنے کی بجائے ریفائنریز کے ڈیزل منافع کو کم کر سکتی ہے۔ریفائنریز کا کہنا ہے کہ وہ پٹرول 160ڈالر فی بیرل درآمد کر کے 140ڈالر فی بیرل بیچ رہی ہیں اور اسی طرح فرنس آئل پر 50ڈالر فی بیرل نقصان اٹھا رہی ہیں۔ اس لیے ڈیزل پر زیادہ منافع رکھا ہے۔ اگر اس دلیل کو درست مان لیا جائے تو نقصان نکال کربھی تقریباً 60 ڈالر فی بیرل منافع کمایا جا رہا ہے۔ جو کہ عوام سے لے کر ریفائنریز کی جیب میں ڈالا جا رہا ہے جبکہ یہ وقت ہے کہ ریفائنریز سے منافع لے کر عوام کو فائدہ پہنچایا جائے۔ریفائنری بزنس میں 10ڈالر فی بیرل منافع بہترین سمجھا جاتا ہے۔ وزیراعظم جس طرح عوام کو سمجھا رہے ہیں اگر ریفائنری مالکان سے عوامی مفاد کے لیے مذاکرات کیے جائیں تو شاید عوام کے لیے بہتر نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ یہ مذاکرات زیادہ آسان ہو سکتے ہیں کیونکہ تقریباً 60فیصد ریفائنریز حکومت کی ملکیت ہیں۔ ریفائنری منافع کم کرنے سے مہنگائی بڑھنے کی رفتار میں کمی لائی جا سکتی ہے اور شرح سود میں شاید زیادہ اضافہ نہ کرنا پڑے۔بصورت دیگر حالات زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔
یہ کہنا شاید غلط نہیں ہوگا کہ دنیا ایک بڑے معاشی دھماکے کے قریب کھڑی ہے اور اس دھماکے کی آواز ابھی پوری طرح سنائی نہیں دی۔آبنائے ہرمز کی بندش کو ایک ماہ گزر چکا ہے مگر اس کے حقیقی اثرات ابھی آنا شروع ہو رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ تاخیر کیوں ہوئی؟ اور اب اچانک بحران کیوں شدت اختیار کر رہا ہے؟حقیقت یہ ہے کہ دنیا اس جنگ کے آغاز پر خالی ہاتھ نہیں تھی۔ 2025ء کے دوران عالمی طاقتوں نے غیر معمولی پیمانے پر تیل ذخیرہ کیا۔انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق عالمی ذخائر 8.2 ارب بیرل کی تاریخی سطح تک پہنچ گئے تھے۔ چین‘ یورپ اور دیگر صنعتی ممالک نے ممکنہ جنگ کو بھانپتے ہوئے بڑے پیمانے پر خریداری کی‘ جس نے وقتی طور پر عالمی منڈی کو سہارا دیا۔یہی وجہ تھی کہ فوری قلت محسوس نہیں ہوئی۔ قیمتیں ضرور بڑھیں مگر وہ زیادہ تر فریٹ اور انشورنس کے اخراجات میں اضافے کا نتیجہ تھیں‘ نہ کہ حقیقی کمی کا۔لیکن اب وہ حفاظتی دیوار گرنے لگی ہے اور اب دنیا کو روزانہ تقریباً 20 ملین بیرل کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے۔ یعنی وینٹی لیٹر کے مریض کی آکسیجن ختم ہو رہی ہے۔ پاکستان کے لیے صورتحال بظاہر کچھ بہتر دکھائی دیتی ہے کیونکہ سفارتی کوششوں کے باعث تیل کی سپلائی مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئی لیکن یہ ایک عارضی سہارا ہے اصل خطرہ قیمتوں کا ہے‘ جو جلد یا بدیر پاکستان کی معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اگر خلیجی ممالک کے ساتھ سفارتی توازن برقرار نہ رہا تو مالیاتی دباؤ بھی بڑھ سکتا ہے۔ اس جنگ نے صرف تیل کی ترسیل نہیں روکی بلکہ عالمی تعلقات کو بھی نئے امتحان میں ڈال دیا ہے۔
پاکستان کا متحدہ عرب امارات کو 3.5 ارب ڈالر کا قرض واپس کرنے کا فیصلہ بھی اسی جنگ سے جڑا محسوس ہوتا ہے۔ یہ رقم مرحلہ وار واپس کی جا رہی ہے‘ جس میں وہ 450 ملین ڈالر بھی شامل ہیں جو 1996-97ء میں لیے گئے تھے۔ پاکستان کو صرف اپریل کے مہینے میں 4.8 ارب ڈالر واپس کرنا ہیں جن میں 1.3 ارب ڈالر کا یورو بانڈ‘ دو ارب ڈالر اور ایک ارب ڈالر کی متحدہ ارب امارات کی ادائیگیاں شامل ہیں۔ 16.4 ارب ڈالرکے تقریباً 30 فیصد حصے کا استعمال صرف ایک ماہ میں ہو سکتا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے ماضی میں پاکستان کو بارہا مالی سہارا دیا لیکن رقم واپس لینے کا یہ وقت مناسب نہیں ہے۔ 2018ء میں دو ارب ڈالر اور 2023ء میں مزید ایک ارب ڈالر فراہم کیے گئے۔ ابتدا میں ان قرضوں پر تقریباً تین فیصد شرح سود تھی جو بعد میں 6.5 فیصد تک پہنچ گئی۔ اب جبکہ مکمل واپسی کا مطالبہ سامنے آیا ہے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی حالات اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے مالی فیصلوں کو بھی متاثر کیا ہے۔
اپریل میں پاکستان کو تقریباً 4.8 ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔ ان حالات میں ایک چیلنج ڈالر کی قیمت کو کنٹرول کرنا بھی ہے۔ ماضی میں پاکستان نے ایک ماہ میں اتنی بڑی ادائیگی نہیں کی۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مارکیٹ سے ڈالر اٹھانے کے لیے ریٹ بڑھایا جا سکتا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے پہلے ہی مہنگائی کی شرح کو 9.2 فیصد تک بڑھا دیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اپریل میں مہنگائی تقریباً 12 فیصد اور جون تک 14 فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔ حکومت کو اس موقع پر عوام کی زندگیاں آسان بنانے کی کوشش کرنی چاہیے نہ کہ لیوی اس وقت بڑھا دی جائے جب عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ ایسے فیصلے جلتی پر تیل کا کام کرتے ہیں۔ عوامی احتجاج نے سرکار کو لیوی کی آدھی رقم واپس لینے پر مجبور کیا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اگر کم ریٹ پر مینج کیا جا سکتا تھا تو لیوی کو بڑھایا کیوں گیا؟ جب جنگ شروع ہوئی تو پٹرول پر ٹیکسز تقریباً 83 روپے تھے اور حکومت نے انہیں بڑھا کر تقریباً 187 روپے کر دیا تھا۔ ایسے فیصلے عوامی ہمدردی اور درد کے دعوؤں کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کو مفت کر دینا‘ موٹر سائیکل کو 20 لٹر اور مال بردار ٹرکوں کو 70 اور 80 ہزار ماہانہ سبسڈی دینا ایک بہتر فیصلہ ہے اور اس سے عوامی سطح پر ریلیف بھی مل سکتا ہے لیکن پبلک ٹرانسپورٹ پر سبسڈی شہروں کے ساتھ دیہات میں بھی نافذ العمل ہونے کی ضرورت ہے اور جہاں پبلک ٹرانسپورٹ نہیں ہے‘ وہاں موٹرسائیکل والوں کو 20 لٹر کی بجائے 30 لٹر تک پٹرول پر 100 روپے فی لٹر سبسڈی دیے جانے سے عوامی مسائل میں کچھ کمی آ سکتی ہے۔
ان حالات میں ایشیائی ترقیاتی بینک کا 360 ملین ڈالر کا قرضہ‘ جو CAREC Tranche-III منصوبے کے لیے مختص ہے‘ اب ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ اگر یہ فنڈ پانچ اپریل تک جاری نہ ہوا تو پاکستان ایک اہم ترقیاتی موقع سے ہاتھ دھو سکتا ہے۔ یہ منصوبہ محض سڑکوں کی تعمیر نہیں بلکہ پاکستان کو وسطی ایشیا کے ساتھ جوڑنے کا ایک اہم اقتصادی راستہ ہے جس میں ڈی جی خان‘ راجن پور اور ڈیرہ اسماعیل خان جیسے علاقوں کی ترقی بھی شامل ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس منصوبے کے لیے تمام بڑے ادارے‘ نیشنل ہائی وے اتھارٹی‘ عدالتیں اور خود ایشیائی ترقیاتی بینک منظوری دے چکے ہیں۔ اس کے باوجود حتمی فیصلہ وزیراعظم کے ہاتھ میں ہے جو سیاست کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ یہ فیصلہ دراصل ایک منصوبے کا نہیں بلکہ پاکستان کی ترجیحات کا امتحان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان موقع سے فائدہ اٹھائے گا یا اسے ضائع ہونے دے گا؟

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں