توانائی بحران اور عالمی مالیاتی اداروں کا دباؤ

وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں ربیع اور آئندہ خریف سیزن کیلئے کھاد کی کوئی قلت متوقع نہیں۔ بظاہر یہ ایک اطمینان بخش خبر ہے‘ خصوصاً ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی توانائی اور زرعی نظام کیلئے خطرات بڑھا رہی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ملک کا زرعی شعبہ اس عالمی طوفان سے محفوظ ہے؟ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملکی ضروریات کی تقریباً 90 سے 95فیصد یوریا کھاد مقامی سطح پر تیار کی جاتی ہے جبکہ باقی ضروریات درآمدات کے ذریعے پوری کی جاتی ہیں۔ اسی طرح ڈی اے پی کی دستیابی بھی طلب سے کچھ زیادہ دکھائی جا رہی ہے‘ جو بظاہر ایک مستحکم سپلائی چین کی نشاندہی کرتی ہے۔ مگر اس استحکام کی بنیاد کھاد کی صنعت کو قدرتی گیس کی بلاتعطل فراہمی ہے۔ ملک کا کھاد کا شعبہ روزانہ 700سے 800ایم ایم سی ایف ڈی گیس استعمال کرتا ہے‘ جس کا بڑا حصہ سوئی ناردرن گیس کے ذریعے فراہم کیا جاتا ہے۔ اگر عالمی حالات کے باعث توانائی کی قیمتیں بڑھتی ہیں یا سپلائی میں خلل آتا ہے تو یہ گیس فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں کھاد کی موجودہ ''خود کفالت‘‘ محض ایک عارضی تصویر ثابت ہو سکتی ہے۔ ملک میں کھاد کی قیمتیں عالمی مارکیٹ کے مقابلے میں کم ہیں‘ جو کسانوں کیلئے فائدہ مند ہے مگر اس کے پیچھے سبسڈی‘ سستی گیس اور حکومتی پالیسیوں کا کردار ہے۔ اگر عالمی دباؤ کے تحت یہ سہولیات کم ہو جاتی ہیں تو ملک میں کھاد کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے جس کا براہِ راست اثر زرعی پیداوار اور خوراک کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔ یہاں ایک اور اہم پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ملک کی زرعی معیشت تقریباً 21سے 22ملین ہیکٹر رقبے پر پھیلی ہوئی ہے‘ جہاں ربیع میں گندم اور خریف میں چاول‘ کپاس اور گنا جیسی اہم فصلیں کاشت کی جاتی ہیں۔ کھاد کی بروقت اور مناسب فراہمی ان فصلوں کی پیداوار کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگرچہ موجودہ اعداد و شمار ایک بفر یا اضافی ذخیرے کی نشاندہی کرتے ہیں مگر یہ بفر صرف پانچ سے 10 فیصد تک محدود ہے‘ جو کسی بڑے بحران کی صورت میں ناکافی ثابت ہو سکتا ہے۔ لہٰذا حکومت کا یہ دعویٰ کہ ملک میں کھاد کی کوئی قلت نہیں‘ وقتی طور پر تو درست ہو سکتا ہے مگر آنے والے وقت میں اس بارے حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ نہ صرف اپنی توانائی پالیسی کو مستحکم بنائے بلکہ زرعی شعبے میں مقامی وسائل‘ متبادل کھادوں اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو بھی فروغ دے۔
توانائی کا بحران پالیسی سازوں کیلئے مشکل حالات پیدا کر سکتا ہے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے صنعتوں کیلئے گیس پر اضافی لیوی کم کرنے یا مؤثر پاور پلانٹس کو اس سے استثنیٰ دینے کی درخواست مسترد ہونا اسی کشمکش کی عکاسی کر رہا ہے۔ ایک طرف حکومت صنعتوں کو ریلیف دینا چاہتی ہے جبکہ دوسری طرف آئی ایم ایف اس بات پر زور دے رہا ہے کہ گیس مہنگی کر کے فیکٹریوں کو قومی گرڈ سے بجلی لینے پر مجبور کیا جائے۔ یہ معاملہ بظاہر سادہ لگتا ہے مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ پاکستان میں بجلی پہلے ہی بہت مہنگی ہے‘ جس کی وجہ سے صنعتیں برسوں سے اپنی بجلی خود پیدا کر رہی ہیں۔ اب اگر گیس بھی مہنگی کر دی جائے تو صنعتوں کی پیداواری لاگت میں مزید اضافہ ہو گا جس سے نہ صرف ملک میں مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا بلکہ برآمدات بھی متاثر ہو سکتی ہیں‘ یوں ایک فیصلہ پوری معیشت پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔ حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ جو صنعتیں گیس کو مؤثر طریقے سے استعمال کر رہی ہیں انہیں رعایت دی جانی چاہیے مگر آئی ایم ایف کے نزدیک زیادہ تر ایسے پلانٹس غیر مؤثر ہیں اور ان کی حوصلہ شکنی ضروری ہے۔ حقیقت شاید ان دونوں کے درمیان کہیں موجود ہے۔ توانائی کے ضیاع کو روکنا یقینا ضروری ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ صنعتوں کو کسی متبادل کے بغیر مہنگی بجلی کے نظام میں دھکیل دینا عملی طور پر مسائل کو بڑھا سکتا ہے۔ اصل مسئلہ پالیسی کی ترتیب کا ہے۔ اگر پہلے سستی بجلی فراہم کی جائے اور پھر صنعتوں کو گیس سے ہٹایا جائے تو یہ تبدیلی نسبتاً آسان ہو سکتی ہے لیکن اگر اس کے برعکس پہلے گیس مہنگی کر دی جائے اور متبادل بعد میں آئے تو اس کا بوجھ براہِ راست صنعت اور معیشت پر پڑ سکتا ہے۔
توانائی بحران میں بعض اوقات ایسے مواقع بھی ملتے ہیں جو بظاہر بہت اچھے لگتے ہیں لیکن حقیقت میں ان کا فائدہ محدود ہوتا ہے۔ امریکہ کی طرف سے ایران کے تیل پر پابندیوں میں ممکنہ نرمی بھی ایسا ہی ایک موقع ہے۔ پہلی نظر میں یہ پاکستان کیلئے فائدہ مند لگتا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ فائدہ طویل مدتی نہیں ہو گا۔ ایسی پابندیوں میں نرمی عارضی ہوتی ہے اور اس عارضی نرمی پر پاکستان کوئی طویل مدتی پالیسی نہیں بنا سکتا۔ ایران پر دوبارہ پابندیوں کے بعد یہ سپلائی فوراً رک سکتی ہے۔ دوسری بڑی مشکل ادائیگی کا نظام ہے کیونکہ عالمی بینکاری نظام اب بھی امریکہ کے اثر میں ہے۔ اس لیے صرف تیل دستیاب ہونا کافی نہیں‘ اس کی ادائیگی کا طریقہ کار بھی اتنا ہی اہم ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان اس وقت آئی ایم ایف پروگرام میں ہے‘ جہاں ایسے فیصلوں میں احتیاط کرنا پڑتی ہے۔ لیکن ایران پر پابندیاں کم ہونے سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں کم ہوں گی جس سے پاکستان پر مہنگے تیل کا بوجھ بھی کم ہو سکتا ہے۔
ملکی معیشت ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی پانچ سالہ کنٹری پارٹنر شپ سٹریٹجی (2026-2030ء) ایک اہم موقع فراہم کر رہی ہے۔ اندازاً 10سے 12ارب ڈالر کے اس پیکیج کا مقصد صرف قرض دینا نہیں بلکہ معیشت کی بنیادیں مضبوط کرنا ہے جس میں نجی شعبے کی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی سرفہرست ہے۔ اس میں مین لائن ریلوے کی بحالی‘ معدنیات کے شعبے کی ترقی‘ پنشن‘ انشورنس اصلاحات اور کلائمیٹ فنانس جیسے اقدامات شامل ہیں۔ پاکستان کے پاس معدنی وسائل کے باوجود ان کا اقتصادی فائدہ بہت کم ہے اور بنیادی ڈھانچے کی کمی اور گورننس کے مسائل بھی درپیش ہیں۔ یہی چیلنج اس پیکیج کی کامیابی کیلئے ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اگر یہ وسائل مؤثر منصوبوں‘ انفراسٹرکچر اور نجی شعبے کی ترقی میں استعمال ہوئے تو یہ معیشت میں کئی گنا بہتری پیدا کر سکتے ہیں لیکن بغیر سنجیدہ اصلاحات کے اس موقع سے فائدہ اٹھانا مشکل ہو سکتا ہے کیونکہ ترقی قرض سے نہیں بلکہ اصلاحات اور مؤثر پالیسی سے آتی ہے۔
دوسری جانب ملک کا ٹیکس نظام ایک نئے چیلنج کا سامنا کر رہا ہے۔ آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ ایف بی آر ٹیکس آڈٹ اور ڈیجیٹل انوائسز کے ذریعے بہتر نتائج دکھائے اور ٹیکس کی وصولی میں اضافہ ہو۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ایف بی آر کے پاس ہر کیس پر مکمل کنٹرول نہیں ہے۔ ٹیکس دہندگان کے قانونی حقوق ہیں‘ اس لیے ہر آڈٹ سے مقررہ ریونیو حاصل کرنا ممکن نہیں۔ گزشتہ سال تقریباً 57 ہزار ممکنہ آڈٹ کیسز شناخت کیے گئے جن میں سے آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ سب سے زیادہ خطرناک کیسز پر آڈٹ کیا جائے لیکن یہ عملی طور پر اتنا آسان نہیں ہے۔ ڈیجیٹل انوائسنگ بھی ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ پاکستان میں سالانہ تقریباً 64کھرب روپے کی خرید و فروخت ہے مگر صرف ایک تہائی کاروباری ادارے آن لائن انوائسز شیئر کر رہے ہیں۔ ایف بی آر نے کاروباری شعبے کی کچھ شرائط قبول کی ہیں تاکہ نظام زیادہ قابل عمل ہو‘ جیسے 72گھنٹے میں غلط انوائس درست کرنا ایک اچھا فیصلہ ہے۔ آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ ٹیکس ہدف پورا کرنے کیلئے ایف بی آر اقدامات کرے لیکن قانونی پیچیدگی اور کاروباری طبقے کی مزاحمت بڑی رکاوٹ ہیں۔ کامیابی کیلئے صرف قوانین کافی نہیں‘ عملی اقدامات اور کاروباری تعاون بھی ضروری ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں