توانائی کی قیمتوں کے معاشی اثرات

پاکستان مشرقِ وسطیٰ کی جاری جنگ کا حصہ نہیں ہے مگر اس کے معاشی اثرات سب سے پہلے پاکستان پر ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ پاکستان کے پاس اس وقت تقریباً 28 دن کا تیل ذخیرہ موجود ہے جو پرانی قیمتوں پر خریدا گیا تھا۔ وہ تیل جس کی قیمت ابھی عالمی منڈی میں بڑھی ہے اور جو ابھی سمندری راستوں میں ہے‘ اس کا بوجھ پہلے ہی پاکستانی عوام پر ڈال دیا گیا ہے۔ اس فیصلے نے عام لوگوں اور کاروباری طبقے کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ مہنگائی پہلے ہی بلند سطح پر ہے‘ ایسے میں پٹرول مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ‘ خوراک اور روز مرہ اشیاکی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو گا۔ صنعتی شعبہ خاص طور پر ٹیکسٹائل انڈسٹری اس صورتحال سے شدید پریشان ہے۔ پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات پہلے ہی کم منافع پر چل رہی ہیں‘ توانائی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے سے ان مصنوعات کی لاگت بڑھ جائے گی اور عالمی منڈی میں مقابلہ مشکل ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف شپنگ کمپنیوں نے بھی کرایوں میں اضافہ شروع کر دیا ہے جس سے برآمدات مزید مہنگی ہو سکتی ہیں۔ جنگ کے اثرات اب عالمی تجارت کے اہم شعبے‘ سمندری نقل وحمل اور انشورنس تک پہنچ چکے ہیں۔ خلیج کے خطے میں جہازوں کے لیے جنگی خطرات کی انشورنس منسوخ ہونے کی اطلاعات نے پاکستان جیسے درآمدی معیشت رکھنے والے ملک کے لیے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔ اس فیصلے کا فوری طور پر پاکستانی انشورنس کمپنیوں پر بڑا مالی اثر نہیں پڑے گا لیکن اس کے معاشی اور تجارتی اثرات دوررس ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کی انشورنس صنعت میں میری ٹائم انشورنس ایک اہم شعبہ ہے۔ انشورنس انڈسٹری کے کل پریمیم میں تقریباً 10 سے 13 فیصد حصہ میری ٹائم انشورنس کا ہے۔ اس شعبے کا سالانہ پریمیم تقریباً 25 ارب روپے کے قریب ہے جبکہ ہر سال اوسطاً پانچ ارب روپے تک کے کلیمز ادا کیے جاتے ہیں۔ یہ کلیمز زیادہ تر کارگو کے نقصان‘ سمندری حادثات یا دیگر تجارتی خطرات سے متعلق ہوتے ہیں۔ پاکستان کی انشورنس صنعت کو اس صورتحال کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ انشورنس ایسوسی ایشن آف پاکستان اور متعلقہ اداروں کو انشورنس کمپنیوں کے ساتھ مشاورت کرنی چاہیے تاکہ ممکنہ خطرات کو کم کیا جا سکے اور مالی استحکام برقرار رکھا جا سکے۔
اس جنگ کے پاکستان کی معیشت پر کئی ممکنہ اثرات ہو سکتے ہیں۔ مہنگائی میں اضافہ‘ شرح سود میں اضافہ‘ بجٹ خسارے میں اضافہ‘ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافہ اور روپے پر دباؤ بڑھنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ حکومت پہلے ہی بے تحاشا قرض لے رہی ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران حکومت نے بینکوں سے تقریباً دو کھرب 41 ارب روپے قرض لیا‘ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ قرض 724 ارب روپے تھا۔ یعنی اس سال قرض تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔ اسی طرح ملکی قرضہ بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ جنوری 2025ء سے جنوری 2026ء تک پاکستان کا اندرونی قرضہ بڑھ کر تقریباً 56 کھرب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ قرضوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان پر سود کی ادائیگی بجٹ کا بڑا حصہ کھا جاتی ہے۔ جب حکومت زیادہ قرض لیتی ہے تو ترقیاتی منصوبوں کے لیے پیسے کم رہ جاتے ہیں جس کا اثر معاشی ترقی پر پڑتا ہے۔ دوسری طرف اگر مشرقِ وسطیٰ کی جنگ طویل ہو گئی تو پاکستان کو بیرونی محاذ پر بھی مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ اس خطے میں پاکستانی برآمدات کم ہو سکتی ہیں اور وہاں کام کرنے والے پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ فی الحال سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 16 ارب 30 کروڑ ڈالر تک ہیں‘ لیکن اگر مشرقِ وسطیٰ کی معیشتیں متاثر ہوئیں تو یہ ذخائر دباؤ میں آ سکتے ہیں۔ پاکستان جنگ کا حصہ نہ ہونے کے باوجود اس کے معاشی اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ‘ بڑھتی مہنگائی‘ قرضوں کا بوجھ اور برآمدات کی لاگت میں اضافہ ایسے عوامل ہیں جو آنے والے مہینوں میں معیشت کے لیے بڑے چیلنج بن سکتے ہیں۔
پاکستان میں ٹیکس کے نظام پر ایک بڑی تنقید یہ ہے کہ اس کا سب سے زیادہ بوجھ تنخواہ دار طبقے پر پڑتا ہے۔ وزیراعظم نے اس بوجھ کو کم کرنے کے لیے چند تجاویز کی منظوری دی ہے جو جلد آئی ایم ایف کو پیش کی جا سکتی ہیں۔ حکومتی تجاویز میں امیر افراد اور کارپوریٹ سیکٹر پر لگایا گیا سپر ٹیکس ختم کرنا اور تنخواہ دار افراد کے لیے زیادہ سے زیادہ انکم ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کر کے 30 فیصد کرنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ ٹیکس سلیب میں بھی تبدیلی کی تجویز ہے تاکہ زیادہ آمدنی والے ملازمین کو کچھ ریلیف مل سکے۔ رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ (جولائی سے جنوری) کے دوران تنخواہ دار افراد نے تقریباً 315 ارب روپے ٹیکس دیا جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ رقم 285 ارب روپے تھی۔ یعنی ایک سال میں ٹیکس وصولی میں 30 ارب روپے اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان میں تنخواہ دار طبقے سے حاصل ہونے والا ٹیکس کئی بڑے شعبوں سے زیادہ ہے جبکہ اندازوں کے مطابق یہ طبقہ اپنی آمدنی کا تقریباً 38 فیصد تک ٹیکس ادا کرتا ہے۔ دوسری طرف رئیل اسٹیٹ‘ ریٹیل اور زراعت جیسے بڑے شعبے ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں۔ اصل مسئلہ ٹیکس کی شرح نہیں بلکہ ٹیکس کے نظام میں عدم توازن ہے۔ جب تک تمام بڑے شعبے ٹیکس نیٹ میں نہیں آئیں گے‘ حکومت کو بار بار اسی محدود طبقے سے زیادہ ٹیکس لینا پڑے گا۔ اگر ٹیکس کا نظام منصفانہ بنایا جائے تو نہ صرف تنخواہ دار طبقے کو ریلیف مل سکتا ہے بلکہ معیشت بھی مستحکم ہو سکتی ہے۔
پاکستان نے 142 گورننس اور اینٹی کرپشن اقدامات کے نفاذ کے لیے آئی ایم ایف کی تکنیکی مدد کو مسترد کر دیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس میں خود یہ صلاحیت موجود ہے۔ حکومت کی جانب سے ایک ایکشن پلان تیار کیا گیا ہے جس میں منی لانڈرنگ‘ اثاثہ جات کی شفافیت اور کرپشن کے خلاف اقدامات شامل ہیں۔ تین کمیٹیاں اصلاحات کی نگرانی کریں گی۔ لیکن نفاذ کے نظام میں کمزوریاں اور سیاسی حساسیت کی وجہ سے تاخیر کے امکانات زیادہ ہیں۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے صرف داخلی صلاحیت پر انحصار ناکافی ہے۔ اگر آئی ایم ایف کی تکنیکی معاونت شامل کی جائے تو اصلاحات شفاف اور مؤثر ہو سکتی ہیں‘ ورنہ یہ اقدامات محض کاغذی منصوبے بن کر رہ سکتے ہیں۔
پاکستان میں بجلی کا بحران صرف قیمتوں کا مسئلہ نہیں بلکہ انتظامی اور نظام کی کمزوریوں کا نتیجہ ہے۔ حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے تقریباً ایک کھرب روپے بجلی سبسڈی رکھنے کی تجویز دی ہے جس پر آئی ایم ایف نے اعتراض کیا ہے اور سبسڈی کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ بجلی کے شعبے میں بڑا مسئلہ چوری‘ کم بل وصولی اور لائن لاسز کا ہے۔ گزشتہ سال صرف ان عوامل کی وجہ سے تقریباً 497 ارب روپے نقصان ہوا۔ وزیر توانائی فرماتے ہیں کہ ان نقصانات کو ٹیرف میں شامل کرنے کے بجائے سبسڈی سے پورا کیا جاتا ہے۔ لیکن منسٹر صاحب نے عوام کو یہ نہیں بتایا کہ ٹیرف ہو یا سبسڈی‘ اس کی ادائیگی تو عوام کی جیب سے ہی ہو گی۔ حکومت بجلی کے گردشی قرضے کو کم کرنے کے لیے 1.23 کھرب روپے کا نیا قرض بھی لے چکی ہے اور گردشی قرضہ مکمل ختم کرنا 2031ء سے پہلے ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ اصل مسئلہ بجلی کی قیمت نہیں بلکہ نظام کی کمزوری ہے۔ جب تک بجلی چوری‘ کم وصولی اور انتظامی مسائل حل نہیں ہوں گے‘ بحران برقرار رہے گا۔ صرف قیمتیں بڑھانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات ضروری ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں