قرض اور ایف بی آر کے معاشی اثرات

پاکستان کی ڈیٹ پالیسی اسٹیٹمنٹ 2026ء ملک کی معاشی حالت کا آئینہ ہے۔ یہ رپورٹ اس حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے کہ پاکستان نہ صرف پارلیمنٹ کی مقرر کردہ قرض کی حد عبور کر چکا ہے بلکہ اب قرضوں کا بوجھ اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ قومی ترقی‘ عوامی فلاح اور معاشی خودمختاری خطرے میں پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ قانون کے مطابق پاکستان کا مجموعی عوامی قرضہ جی ڈی پی کے 56 فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے مگر گزشتہ مالی سال کے اختتام پر یہ 70.7 فیصد تک پہنچ چکا تھا۔ یوں پاکستان کا سرکاری قرضہ قانونی حد سے تقریباً 17 کھرب روپے زیادہ ہو چکا ہے۔ اصل مسئلہ قرضوں کی مقدار سے زیادہ اس کا مالی بوجھ ہے۔ آج پاکستان کا تقریباً نصف سالانہ بجٹ قرضوں کے سود اور اصل زر کی ادائیگی پر خرچ ہوتا ہے۔ اس صورتحال میں ترقیاتی منصوبے‘ تعلیم‘ صحت اور سماجی تحفظ کے پروگرام فطری طور پر پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ حکومت کے پاس واحد راستہ ٹیکس بڑھانا رہ جاتا ہے‘ جس کا بوجھ براہ راست عام آدمی پر پڑتا ہے۔ بیرونی قرضوں کی صورتحال زیادہ تشویشناک ہے۔ کمرشل بینکوں سے لیے گئے قرضے 7.2 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں جو مہنگے بھی ہیں اور قلیل مدت میں واپس بھی کرنا پڑتے ہیں۔ روپے کی قدر میں معمولی کمی بھی ان قرضوں کو ناقابلِ برداشت بنا سکتی ہے۔ اگرچہ حکومت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ بیرونی قرضوں کا بڑا حصہ اب بھی ملٹی لیٹرل اور بائی لیٹرل اداروں سے ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ آئی ایم ایف پر انحصار خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ حکومت یہ مؤقف پیش کر رہی ہے کہ اس نے قرضوں کے ری فنانسنگ رسک میں کمی کر لی ہے جو جزوی طور پر درست ہے۔ قلیل مدتی ٹریژری بلز کا تناسب کم کیا گیا اور طویل مدتی پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز اور سکوک کے اجرا سے اندرونی قرضوں کی مدت 2.8 سال سے بڑھ کر 3.8 سال ہو گئی۔ یہ اقدام وقتی دباؤ کم ضرور کرتا ہے مگر اس سے قرض کم نہیں ہوتا‘ صرف اس کی واپسی مؤخر ہوتی ہے۔
مالی بحران کی ایک بڑی وجہ ایف بی آر کی مسلسل ناکامی ہے۔ جولائی سے جنوری تک ٹیکس وصولیاں ہدف سے 347 ارب روپے کم رہیں جبکہ مجموعی گروتھ محض 10.5 فیصد رہی‘ حالانکہ سالانہ ہدف کے لیے دُگنی نمو درکار تھی۔ ریفنڈز روک کر‘ ایڈوانس ٹیکس لے کر اور عدالتی فیصلوں سے وقتی فائدہ اٹھا کر نمبرز بہتر دکھانے کی کوشش کی گئی مگر یہ سب عارضی حربے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا ٹیکس نظام چند ہی شعبوں پر بوجھ ڈال رہا ہے جبکہ رئیل اسٹیٹ‘ ہول سیل اور ریٹیل سیکٹر بڑی حد تک محفوظ ہیں۔ جب تک ٹیکس نیٹ وسیع نہیں ہوتا قرضوں پر انحصار کم نہیں ہو سکتا۔ قرضوں کی مدت بڑھا کر وقتی سانس تو لی جا سکتی ہے مگر جب تک بنیادی اصلاحات نہیں ہوتیں بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔
پاکستان نے ایک بار پھر آئی ایم ایف کی اگلی قسط کے لیے چند شرائط پوری کر لی ہیں اور حکومت اسے ایک کامیابی کے طور پر پیش کر رہی ہے مگر اعدادوشمار کے پیچھے جھانک کر دیکھا جائے تو یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ کامیابی پائیدار اصلاحات کی وجہ سے نہیں بلکہ عارضی بندوبست کی بدولت آئی ہے۔ اصل مسئلہ‘ یعنی ٹیکس نیٹ میں اضافہ‘ آج بھی جوں کا توں ہے۔ حکومت نے پرائمری بجٹ سرپلس دکھایا‘ صوبوں نے کیش سرپلس دیا اور صوبائی ٹیکس اہداف حاصل کر لیے گئے لیکن ایف بی آر نہ تو مجموعی ٹیکس ہدف پورا کر سکا اور نہ ہی ریٹیل سیکٹر سے انکم ٹیکس اکٹھا کرنے میں کامیاب ہوا۔ دراصل یہ سرپلس شرحِ سود اور پٹرولیم لیوی کی بدولت حاصل ہوا۔ پٹرول اور ڈیزل پر بھاری لیوی لگا کر 823 ارب روپے اکٹھے کیے گئے۔ اس کا بوجھ امیر اور غریب سب نے برابر اٹھایا‘ چاہے وہ موٹر سائیکل سوار ہو یا چھوٹی گاڑی والا۔ تاہم ٹیکس نظام کی حالت بدستور خراب دکھائی دیتی ہے۔ 'تاجردوست سکیم‘ ناکام ہوئی اور بعد میں ہدف بدل کر کچھ بڑی کمپنیوں کو بھی ریٹیل ٹیکس میں شامل کیا گیا‘ پھر بھی خاطر خواہ آمدن نہ ہو سکی۔ خود وزیر خزانہ مان چکے ہیں کہ ٹیکس بیس کو وسیع نہیں کیا جا سکا۔ سوال یہ ہے کہ اگر تاجر‘ بڑے دکاندار اور بااثر طبقے ٹیکس نہیں دیں گے تو ریاست کا خرچ کون اٹھائے گا؟ صوبوں نے مجموعی طور پر 1.18 کھرب روپے کا سرپلس دکھایا‘ جو ہدف سے زیادہ ہے۔ پنجاب‘ سندھ‘ خیبر پختونخوا اور بلوچستان سب نے کاغذی طور پر سرپلس بنایا مگر آزاد اداروں کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اس میں اعداد وشمار کا ہیر پھیر شامل تھا جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مالی معاملات میں شفافیت اب بھی ایک مسئلہ ہے۔ وفاقی حکومت کے اخراجات کی تصویر بھی عام آدمی کے لیے پریشان کن ہے۔ صرف چھ ماہ میں 3600 ارب روپے سود کی ادائیگی میں چلے گئے۔ دفاع‘ پنشن اور حکومتی امور پر خرچ الگ ہیں۔ جب آمدن کم اور خرچ زیادہ ہو تو نتیجہ قرض کی صورت میں نکلتا ہے۔ پاکستان نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت تقریباً 50 شرائط مان رکھی ہیں۔ ہر قسط وقتی سانس تو دے دیتی ہے مگر معیشت کی بیماری ٹھیک نہیں ہورہی۔ جب تک ٹیکس نظام منصفانہ نہیں بنتا‘ طاقتور طبقے قانون کے تابع نہیں ہوتے اور جب تک حکومت ایندھن اور بجلی کو آمدن کا ذریعہ بنائے رکھے گی مسئلے کا حل مشکل دکھائی دیتا ہے۔
پاکستان میں اس وقت سب سے زیادہ دباؤ تنخواہ دار طبقے پر ہے۔ تازہ اعداد وشمار کے مطابق موجودہ مالی سال کے پہلے سات ماہ میں تنخواہ دار افراد نے 315 ارب روپے انکم ٹیکس دیا جو پچھلے سال کے مقابلے میں 10 فیصد زیادہ ہے۔ بظاہر یہ حکومت کے لیے اچھی خبر ہے مگر عام آدمی کے لیے یہ ایک اور مشکل کی علامت ہے۔ تنخواہ دار لوگ پہلے ہی مہنگائی‘ بجلی‘ گیس اور دیگر اخراجات سے پریشان ہیں‘ اوپر سے ان کی تنخواہ کا بڑا حصہ ٹیکس کی نذر ہو جاتا ہے۔ اندازوں کے مطابق ایک تنخواہ دار شخص اپنی آمدن کا تقریباً 38 فیصد حکومت کو دے دیتا ہے‘ جبکہ رئیل اسٹیٹ‘ دکاندار اور کئی دیگر شعبے اتنا ٹیکس نہیں دیتے۔ حکومت بار بار انہی لوگوں پر بوجھ ڈال رہی ہے جو پہلے سے ٹیکس دے رہے ہیں۔ ٹیکس نیٹ بڑھانے اور بااثر لوگوں کو نظام میں لانے کے بجائے آسان راستہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ اسی وجہ سے پڑھے لکھے اور ہنرمند لوگ ملک چھوڑ رہے ہیں۔ گزشتہ سال سات لاکھ 62 ہزار پاکستانی ملک سے باہر گئے‘ جن میں سے ڈھائی لاکھ سے زیادہ ہنرمند اور اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔ آج اگر پاکستان کی معیشت چل رہی ہے تو اس کی بڑی وجہ اوور سیز پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر ہیں۔ برآمدات کم ہو رہی ہیں اور بیرونی سرمایہ کاری بھی تیزی سے گر رہی ہے‘ جو تشویش کی بات ہے۔
جنوری میں مہنگائی کی شرح 5.8 فیصد رہی جو حکومتی اور مارکیٹ اندازوں کے مطابق ہے۔ قیمتوں میں مجموعی طور پر استحکام ہے اور مہنگائی قابو میں دکھائی دیتی ہے‘ اس کے باوجود سٹیٹ بینک نے شرحِ سود کم نہیں کی جو ایک اہم سوال بن چکا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف خود مان چکے ہیں کہ بیروزگاری اور غربت بڑھ رہی ہے اور معیشت کو ترقی کی ضرورت ہے۔ کاروباری طبقہ بھی مسلسل مطالبہ کر رہا ہے کہ شرحِ سود میں کمی کی جائے کیونکہ مہنگی فنانسنگ کے باعث صنعتیں دباؤ کا شکار ہیں۔ سٹیٹ بینک کا مؤقف ہے کہ بنیادی مہنگائی اب بھی سات فیصد سے اوپر ہے لیکن وہ یہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ مہنگائی سے متعلق توقعات بہتر ہو رہی ہیں اور آئندہ مہنگائی پانچ سے سات فیصد کے ہدف میں رہ سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب مہنگائی قابو میں ہے تو معیشت کو سہارا دینے کے لیے شرح سود میں کمی کب کی جائے گی؟ اگر بروقت فیصلہ نہ ہوا تو اس کا نقصان عام آدمی اور نوجوانوں کو اٹھانا پڑے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں