آئی ایم ایف‘ سپر ٹیکس اور نجکاری کے معاشی اثرات

بجلی کے نرخوں میں ممکنہ ردو بدل پر آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ اس کا بوجھ متوسط اور کم آمدنی والے طبقے پر نہیں پڑنا چاہیے۔ یہ وارننگ صرف حکومت کے لیے نہیں بلکہ اس معاشی ماڈل کے لیے بھی ہے جو ہر بحران کا حل قیمت بڑھانے میں تلاش کرتا ہے۔ پاکستان اس وقت سات ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت اصلاحات کے مرحلے میں ہے اور توانائی کا شعبہ ہمیشہ کی طرح اس اصلاحاتی ایجنڈے کا محور ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں بجلی کی قیمت محض ایک عدد نہیں بلکہ پورے معاشی ڈھانچے کی عکاسی کرتی ہے۔ گردشی قرضہ مسلسل بڑھ رہا ہے‘ آئی پی پیز کو کیپسٹی چارجز کی مد میں ادائیگیاں جاری ہیں‘ لائن لاسز کم ہونے کا نام نہیں لیتے جبکہ تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی بدستور سوالیہ نشان ہے۔ ایسے میں جب بھی مالی دباؤ بڑھتا ہے تو سب سے آسان راستہ نرخوں میں اضافہ سمجھا جاتا ہے لیکن یہ آسان راستہ سب سے مہنگا ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس کی قیمت عام شہری ادا کرتا ہے۔ اگر صنعت کو مسابقتی بنانے کے لیے بجلی سستی کی جاتی ہے تو اس کا خیر مقدم ہونا چاہیے مگر سوال یہ ہے کہ اس رعایت کا بوجھ کون اٹھائے گا؟ کیا یہ بوجھ گھریلو صارفین پر منتقل ہوگا؟ اگر ایسا ہوا تو متوسط طبقہ شدید متاثر ہوگا۔ غریب طبقہ کسی حد تک ٹارگٹڈ سبسڈی سے فائدہ اٹھا لیتا ہے اور امیر طبقہ اضافی اخراجات برداشت کرنے کی سکت رکھتا ہے‘ لیکن متوسط طبقہ نہ سبسڈی کا مستحق ہوتا ہے اور نہ اضافی بوجھ سے محفوظ۔ یہی طبقہ ٹیکس بھی دیتا ہے اور مہنگائی کا براہِ راست شکار بھی بنتا ہے۔ یہ وقت ہے کہ سرکار آسان راستے کے بجائے درست راستہ اختیار کرے۔ اگر متوسط طبقہ مسلسل دباؤ میں رہا تو نہ صرف کھپت کم ہو گی بلکہ معیشت کی رفتار بھی متاثر ہو گی۔ پائیدار استحکام اسی وقت ممکن ہے جب اصلاحات کا بوجھ منصفانہ طور پر تقسیم ہو اور نظام کی خامیوں کو واقعی دور کیا جائے‘ نہ کہ ہر بار اس کا بوجھ عام آدمی پر لاد دیا جائے۔
سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کی جانب سے سپر ٹیکس کو برقرار رکھنے کا فیصلہ بظاہر حکومت کی بڑی قانونی کامیابی ہے مگر یہ فتح معاشی اعتبار سے کہیں مہنگی نہ پڑ جائے‘ اس کا خدشہ نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سپر ٹیکس دراصل اُن اداروں اور افراد پر اضافی ٹیکس ہے جن کی آمدن ایک مخصوص حد سے تجاوز کر جائے۔ سیاسی طور پر یہ نعرہ دلکش ہے کہ زیادہ کمانے والے زیادہ ٹیکس دیں۔ مالی دباؤ کے شکار ملک میں یہ بات عوامی سطح پر مقبول بھی محسوس ہوتی ہے لیکن معیشت محض نعروں سے نہیں چلتی‘ اس کی اپنی منطق اور نفسیات ہوتی ہے۔ پاکستان کا اصل مسئلہ یہ نہیں کہ موجودہ ٹیکس دہندگان سے مزید کیسے نکالا جائے بلکہ یہ ہے کہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کیسے کیا جائے۔ ملک کی بالغ آبادی کے مقابلے میں رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کی تعداد نہایت کم ہے۔ غیر دستاویزی معیشت کا حجم بڑا ہے۔ جب تک نئے افراد اور شعبے نظام میں شامل نہیں ہوں گے حکومت بار بار اسی محدود طبقے پر بوجھ ڈالتی رہے گی‘ مگر یہ حکمتِ عملی پائیدار نہیں۔ قانونی بحث اب ختم ہو چکی ہے۔ عدالت نے سپر ٹیکس کو جائز قرار دے دیا ہے مگر سوال قانونی نہیں‘ معاشی دانشمندی کا ہے۔ اگر سب سے زیادہ پیداواری اور ٹیکس دینے والے ادارے سست پڑ گئے‘ بیرونِ ملک منتقل ہو گئے یا بند ہو گئے تو ان کے ساتھ روزگار‘ سرمایہ کاری اور ترقی بھی چلی جائے گی۔ معیشت مضبوط ستونوں کو کمزور کر کے نہیں بلکہ انہیں مستحکم کر کے آگے بڑھتی ہے۔
ادھر پی آئی اے ایک نئے دور میں داخل ہونے جا رہی ہے۔ عارف حبیب گروپ کی قیادت میں قائم کنسورشیم نے اعلان کیا ہے کہ وہ حکومت کے پاس موجود باقی ماندہ 25 فیصد حصص بھی خرید کر مکمل کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے۔ دسمبر 2025ء میں اسی گروپ نے 75 فیصد شیئرز 135 ارب روپے میں حاصل کیے تھے‘ اور اب تقریباً 45 ارب روپے میں بقیہ حصص لینے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔ حکومت نے اس خریداری کے لیے 90 دن کی مہلت دی ہے۔ اگر یہ سودا مکمل ہو جاتا ہے تو پی آئی اے مکمل نجی کمپنی بن جائے گی اور اس کے بورڈ میں حکومتی نمائندے نہیں ہوں گے۔ نئے مالکان کا کہنا ہے کہ وہ اپریل کے آخر تک انتظامی تبدیلیاں کرنا چاہتے ہیں تاکہ ایئر لائن کو ایک نجی ادارے کی طرح چلایا جا سکے۔ تاہم خطرات بھی کم نہیں۔ ایوی ایشن ایک انتہائی مسابقتی صنعت ہے جہاں ایندھن کی قیمتیں‘ ایکسچینج ریٹ اور عالمی ریگولیٹری تقاضے منافع کو متاثر کرتے ہیں۔ اگر اصلاحات صرف ملکیت کی تبدیلی تک محدود رہیں اور ادارہ جاتی ثقافت نہ بدلی تو نتائج مختلف نہیں ہوں گے۔
حکومت نے پرانے نیٹ میٹرنگ سسٹم کو ختم کر کے نیٹ بلنگ شروع کر دی ہے۔ وفاقی وزیر توانائی کہتے ہیں کہ اس تبدیلی کا زیادہ اثر بڑے اور امیر صارفین پر پڑے گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ ملک میں بجلی صارفین کی تعداد تقریباً ساڑھے تین کروڑ ہے اور سولر نیٹ میٹرنگ صارف محض ساڑھے چار لاکھ کے لگ بھگ ہیں۔ یعنی تقریباً 1.4 فیصد لوگ نیٹ میٹرنگ سے جڑے ہیں‘ باقی 99 فیصد کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ بجلی کا نظام ایک جڑی ہوئی زنجیر کی طرح ہے۔ تھوڑی سی حرکت کا اثر پوری زنجیر پر پڑ سکتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ مسئلہ نیٹ میٹرنگ یا نیٹ بلنگ کا نہیں بلکہ مہنگے معاہدے‘ لائن لاسز اور بجلی چوری کا ہے۔ جب تک یہ مسائل حل نہیں ہوں گے عام آدمی کا مہنگائی اور لوڈشیڈنگ کے دائرے سے آزاد ہونا مشکل ہے۔
اس سال لاہور کی حد تک بسنت کا انعقاد محض ایک ثقافتی تقریب نہیں تھی‘ یہ معیشت کے لیے ایک غیر متوقع ''ڈیمانڈ شوک‘‘ ثابت ہوئی ہے۔ لاہور میں تین دن کے اندر چار سے چھ ارب روپے تک کی معاشی سرگرمی رپورٹ ہوئی جبکہ بعض کاروباری حلقوں نے غیر رسمی معیشت سمیت اس حجم کو 20 ارب روپے تک قرار دیا ہے۔ تقریباً 10ارب روپے کا چکن فروخت ہوا‘ پتنگ اور ڈور کی فروخت سے تقریباً دو ارب روپے کا کاروبار ہوا۔ بسنت 2026ء سے ظاہر ہوا ہے کہ پاکستانی معیشت میں طلب موجود ہے بس اسے موقع درکار ہے۔ مگر اصل چیلنج یہ ہے کہ کیا حکومت اس انرجی کو مستقل معاشی سرگرمی میں بدل سکتی ہے؟
2025ء کا معاشیات کا نوبیل انعام Philippe Aghion اور Peter Howittکو جب ''تخلیقی تباہی کے ذریعے پائیدار ترقی‘‘ کے نظریے پر دیا گیا تو پاکستان کی پالیسی اشرافیہ نے اسے گویا نجات کا نسخہ سمجھ لیا۔ اچانک یہ خیال عام ہو گیا کہ اگر درآمدی ٹیرف کم کر دیے جائیں‘ مسابقت بڑھا دی جائے اور غیر مؤثر صنعتوں کو ''ڈوبنے یا تیرنے‘‘ کے لیے چھوڑ دیا جائے تو معیشت میں جان آ جائے گی۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ نسخہ ایک غلط تشخیص پر مبنی ہے اور خطرناک بھی۔ ''کریئیٹو ڈسٹرکشن‘‘ کی خوبصورت تھیوری کو پاکستانی زمینی حقائق سے کاٹ کر اپنانا ایک فکری شارٹ کٹ ہے۔ یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ ہماری صنعتوں کی نااہلی ان کی اپنی اندرونی کمزوری ہے اور ناکامی کی ذمہ دار صرف ان کی اپنی کاروباری حکمتِ عملی ہے۔ حقیقت اس کے برعکس ہے! پاکستان میں صنعتیں ایسے ماحول میں کام کرتی ہیں جہاں بجلی خطے میں سب سے مہنگی ہے اور لوڈشیڈنگ عام ہے۔ ٹیکس کا بوجھ بعض اوقات 50 فیصد سے بھی اوپر چلا جاتا ہے۔ ایکسچینج پالیسی غیر یقینی کا شکار رہتی ہے۔ سمگلنگ اور انڈر انوائسنگ کے باعث اربوں ڈالر کی متوازی معیشت رسمی صنعت کو کاٹ رہی ہے۔ ریگولیٹری بوجھ ‘ کرپشن کی لاگت‘ ہنرمند افرادی قوت کی کمی‘ پانی اور سکیورٹی کے اضافی اخراجات اور پالیسیوں میں بار بار تبدیلیاں کاروبار کو غیر یقینی کی کھائی میں دھکیل دیتی ہیں۔ جب تک بیماری کی تشخیص درست نہیں ہو گی‘ کوئی نسخہ تیر بہدف ثابت نہیں ہو گا۔ معیشت کی بحالی کا راستہ سیاست کی اصلاح سے ہو کر گزرتا ہے۔ پہلے سیاست کی اصلاح‘ پھر معیشت کی درستی‘ یہی درست ترتیب ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں