گیلپ انٹرنیشنل کے ایک حالیہ سروے کے مطابق 53 فیصد پاکستانی سمجھتے ہیں کہ 2026ء معاشی اعتبار سے 2025ء سے بہتر ہو گا۔ بظاہر اس کی وجہ حالیہ برسوں میں ڈالر کی قدر میں استحکام‘ شرح سود میں کمی‘ ترسیلاتِ زر اور زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ‘ سیاسی استحکام اور گزشتہ برسوں کے مقابلے میں مہنگائی میں کمی ہے۔ حکومت نے جو معاشی وعدے کیے تھے‘ انہیں پورا کرنے کی کوشش بھی دکھائی دیتی ہے۔ حکومت تین برسوں سے بہتر کارکردگی کے دعوے کر رہی ہے اور عملی میدان میں کچھ بہتری بھی دکھائی دے رہی ہے۔ 2023ء میں مجموعی مہنگائی کی شرح تقریباً 30 فیصد تھی‘ 2024ء میں تقریباً 12فیصد اور 2025ء میں تقریباً پانچ فیصد رہی۔ پچھلے چند ماہ میں عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں واضح کمی ہوئی ہے اور مستقبل میں مزید کمی کی پیشگوئی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں براہِ راست مہنگائی کی مجموعی شرح پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ اگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کمی کی جانب گامزن رہیں تو مہنگائی میں کمی آ سکتی ہے۔ حکومت نے نئے سال کے آغاز پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں دس روپے تک کمی کی ہے اور یہ کہا جارہا ہے کہ یہ سلسلہ اگلے ماہ بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔ ان حالات کے پیشِ نظر شاید عوام کی اکثریت پُرامید ہے کہ ان کیلئے 2026ء مزید بہتر ہو سکتا ہے۔
معاشی استحکام کا ڈالر کی قیمت پر بھی بڑا دارومدارہوتا ہے۔ 2023ء میں ڈالر کی قیمت تقریباً 307روپے تک پہنچ گئی تھی جو 2024ء میں 284 اور 2025ء میں تقریباً 280روپے رہی۔ توقع کی جا رہی ہے کہ رواں سال بھی ڈالر کی قدر میں استحکام برقرار رہے گا بلکہ بعض رپورٹس کے مطابق ڈالر کی قدر میں کمی آ سکتی ہے۔ ڈوئچے بینک اور اے بی این ایمرو بینک سمیت کئی مالیاتی اداروں نے 2026ء میں عالمی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں کمی کی پیشگوئی کی ہے۔ 2025ء میں بھی عالمی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر کم ہوئی‘ ابتدائی چھ ماہ میں تقریباً 10سے 11فیصد کمی ہوئی۔ ڈوئچے بینک کے مطابق عالمی مارکیٹ میں 2026ء میں ڈالر کی قدر چھ فیصد تک کم ہو سکتی ہے۔ گو کہ آئی ایم ایف نے بجٹ سے پہلے ڈالر کی قدر میں اضافے کی شرط عائد کر رکھی ہے لیکن حکومت پاکستان ڈالر کی عالمی قدر میں کمی کو جواز بنا کر ملک میں ڈالر کی قیمت بڑھنے سے روک سکتی ہے۔ مبینہ طور پر پچھلے سال بھی وزراتِ خزانہ نے انہی حقائق کی بنا پر ڈالر کی قیمت کو نہیں بڑھایا تھا اور رواں سال یہ سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے۔ جب ڈالر کی قیمت میں زیادہ اتار چڑھاؤ نہ ہو تو شہری کے علاوہ کاروباری طبقے کو منصوبہ بندی کرنے میں آسانی رہتی ہے۔ پاکستان بنیادی طور پر ایک درآمدی ملک ہے اور سستا ڈالر ملک میں مہنگائی میں کمی اور مستحکم کاروبار کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق 2026ء میں پاکستان کی مجموعی شرح نمو تقریباً 3.6 فیصد رہ سکتی ہے۔ عمومی طور پر یہ شرح سست معاشی سرگرمیوں کو ظاہر کرتی ہے۔ جو ممالک اس شرح نمو کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں وہاں غربت اور بیروزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کم از کم پانچ فیصد تک شرح نمو ہو تو اس کا یہ مطلب لیا جاتا ہے کہ ملک میں بے روزگاری کی شرح کم ہوئی ہے۔ یہ شرح نمو حتمی نہیں ہے‘ سال کے اختتام تک ملک میں حقیقی شرح نمو آئی ایم ایف کی پیشگوئی سے مختلف بھی ہو سکتی ہے۔ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ حکومت 2026-27ء کا کیسا بجٹ پیش کرتی ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ حکومت شرح نمو میں فوراً اضافے کو مناسب نہیں سمجھتی کیونکہ یہ مانا جاتا ہے کہ اگر شرح نمو مرحلہ وار بڑھے تو اس سے دیر پامعاشی استحکام قائم رہ سکتا ہے۔ فوراً درآمدات کی کھلی چھوٹ دے کر اور درآمدات کیلئے شرح سود کم کرکے شرح نمو چھ فیصد تک لائی جا سکتی ہے‘ جیسا کہ ماضی میں ہوتا آیا ہے‘ لیکن ایسی شرح نمو غیرحقیقی ہوتی ہے اور جلد ہی اس کے مضر اثرات سامنے آنے لگتے ہیں۔ 2023ء میں معاشی شرح نمو تقریباً 0.21 فیصد‘ 2024ء میں تقریباً 2.5فیصد اور 2025ء میں تقریباً تین فیصد رہی ہے۔ اگر ماضی کی پالیسیاں برقرار رہیں تو 2026ء میں حقیقی شرح نمو میں مزید بہتری آسکتی ہے۔
ملکی معیشت میں ترسیلاتِ زر بہت اہمیت کی حامل ہیں۔ گزشتہ مالی سال 38ارب ڈالرز سے زیادہ ترسیلاتِ زر وصول ہوئیں۔ ہر سال برآمدات سے زیادہ ڈالرز ترسیلاتِ زر کے ذریعے حاصل ہوتے ہیں۔ پچھلے تین برسوں کے دوران ترسیلاتِ زر میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے لیکن اس سال حالات مختلف ہو سکتے ہیں۔ پاکستان میں ترسیلاتِ زر میں مسلسل اضافے کی کئی وجوہات ہیں لیکن سرفہرست وجوہات میں روزگار کی تلاش میں بیرون ملک جانے والے افراد کی تعداد میں اضافہ اور بینکوں اور انٹرنیشنل منی چینجرز کو دی جانے والی سبسڈی ہے۔ بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں کو ایئر پورٹ پر آف لوڈ کرنے کے جو واقعات سامنے آ رہے ہیں‘ اس کے باعث رواں سال ترسیلاتِ زر متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اس کے علاوہ آئی ایم ایف کی طرف بینکوں اور انٹرنیشنل منی چینجرز کو ہر سو ڈالر پر دی جانے والی سبسڈی ختم کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ اگر 2026ء میں یہ سبسڈی ختم کر دی گئی توحوالہ ہنڈی کے استعمال کا رجحان بڑھ سکتا ہے اور آفیشل ترسیلاتِ زر میں کمی آ سکتی ہے۔
ملکی معیشت پر اعتماد اور مضبوطی کا انحصار بڑی حد تک زرمبادلہ کے ذخائر پر ہوتا ہے۔ اس وقت زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 20 ارب ڈالرز ہیں۔ ان میں تین برسوں سے مسلسل اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ برآمدات بہتر ہو رہی تھیں‘ ترسیلاتِ زر میں بھی اضافہ ہو رہا تھا‘ دوست ممالک قرض رول اوور کر رہے تھے اور آئی ایم ایف کی قسط بھی بروقت وصول ہو رہی تھی‘ لیکن پچھلے چھ ماہ میں برآمدات میں مسلسل کمی اور درآمدات میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور حکومت نے 2026ء کیلئے ایسا کوئی متاثر کن منصوبہ پیش نہیں کیا جس سے توانائی کی قیمتیں کم کر کے برآمد کنندگان کے اخراجات کو حریف ممالک کے اخراجات کے برابر کیا جا سکے۔ گو کہ 2025ء کے مشکل حالات کے باوجود ٹیکسٹائل برآمدات تقریباً 7.1فیصد بڑھی ہیں اور آئی ٹی برآمدات میں بھی تقریباً 18فیصد اضافہ ہوا ہے لیکن ٹیکسٹائل سیکٹر رواں سال کے اختتام پر اس کارکردگی کو جاری رکھ پاتا ہے یا نہیں‘ اس حوالے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ اگر حکومت کی طرف سے مناسب ریلیف اور بہتر پالیسی نہ دی جا سکی تو خدشہ ہے کہ 2026ء کے اختتام برآمدات میں کمی کا رجحان جاری رہ سکتا ہے اور آئی ایم ایف دباؤ کی وجہ سے درآمدات مزید بڑھ سکتی ہیں۔ نتیجتاً تجارتی خسارہ بھی بڑھے گا۔ آئی ٹی سیکٹر میں بہتری کے امکانات زیادہ ہیں۔ فری لانسنگ مارکیٹ میں پاکستان کئی برسوں سے چوتھی پوزیشن برقرار رکھے ہوئے ہے۔ مہنگی توانائی آئی ٹی سیکٹر کیلئے زیادہ مسائل پیدا نہیں کرتی اور حکومت 2026ء میں فائیو جی ملک میں لا رہی ہے۔ اس کے علاوہ رواں سال سعودی عرب اور یو اے ای کے ساتھ سائبر سکیورٹی اور آئی ٹی کے بڑے وینچرز پر عملدرآمد کی بھی امید ہے۔ بہتر سفارتی تعلقات کے باعث قرضوں کو رول اوور کرانے اور آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں سے قرض لینے میں زیادہ مشکلات آنے کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔
2026ء میں اصل سوال یہ نہیں کہ عوام کیا سوچ رہے ہیں بلکہ یہ ہے کہ ریاست کیا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اگر 2026ء میں بھی معاشی پالیسیوں کا بوجھ صرف تنخواہ دار طبقے اور دستاویزی معیشت پر ڈالا گیا‘ جبکہ حکومتی اخراجات اور اشرافیہ کی مراعات کم نہ ہوئیں تو ملکی معیشت میں بہتری کے جو امکانات نظر آ ہے ہیں‘ وہ دم توڑ سکتے ہیں۔