ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے

عوام دوست‘ منصفانہ اشتراکی نظام کیلئے ناکام جدوجہد کرنے والے فیض احمد فیض 1954ء میں منٹگمری (اب ساہیوال) کی سینٹرل جیل میں راولپنڈی سازش کیس میں سزا پانے کے بعد قید تھے۔ افسوس کہ جب میں جیل کے بیرونی احاطے میں ایک افسر کے گھر رہنے پہنچا (جو میرے والد تھے) تو دیر ہو چکی تھی۔ ایک سال پہلے فیض صاحب وہاں سے کسی اور جیل منتقل کیے جا چکے تھے۔ ان سے کئی ملاقاتیں ہوئیں مگر کئی سال بعد‘ وہ بھی جیل سے باہر۔ فیض صاحب نے 15مئی 1954ء کو ایک کمال کی نظم لکھی جو اُن کی جیل سے دس ہزار میل دور امریکہ کی ایک جیل میں سزائے موت پانے والے ایک باضمیر‘ بہادر اور بے خوف ادھیڑ عمر کے امریکی جوڑے کی یاد میں لکھی گئی تھی‘ جن کے نام تھے ایتھل اور جولیس روزن برگ۔ یہ نظم ان کے مجموعہ ''زنداں نامہ‘‘ کے صفحات 76تا 78 پر موجود ہے اور خون کے آنسو رلاتی ہے۔ پاکستان میں ایسے افراد کی فہرست بنائی جائے تو حسن ناصر اور نذیر عباسی کے نام لکھے جائیں گے۔ بدقسمتی سے میں ان دونوں سے ایک لمحہ کیلئے بھی نہ ملا۔
نظریاتی اختلاف اپنی جگہ‘ مضمون نگار دائیں بازو کے شہدا کو بھی ٹوپی اتار کر سلام کرتا ہے۔ چاہے وہ ڈیرہ غازی خان کے ڈاکٹر نذیر احمد ہوں یا لاہور کے خواجہ محمد رفیق۔ ان کے علاوہ لیاقت باغ میں صوبہ سرحد سے آئے ہوئے سیاسی کارکن ہوں یا بابڑہ میں خدائی خدمتگار یا ذوالفقار علی بھٹو اور اُن کی بیٹی بینظیر بھٹو۔ زیرِ نظر مضمون میں جن شخصیات کو خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا‘ ان کے انتخاب کا جواز یہ ہے کہ وہ مضمون نگار کے نظریاتی ہم خیال تھے۔ مجھے فخر ہے کہ میرا تعلق ان کی برادری سے ہے۔ وہ مجھے دل و جان سے عزیز ہیں اور میں ان سب پر فخر کرتا ہوں۔ میں ان کے بارے میں پڑھتا اور سوچتا ہوں تو میرا سر فخر سے مزید بلند ہو جاتا ہے۔ مجھے ان کی جدوجہد‘ نظریے سے وابستگی اور قربانی پر فخر ہے۔ شروع کرتے ہیں میجر اسحاق محمد سے۔ وہ اگر راولپنڈی سازش کیس میں گرفتار ہو کر فیض صاحب اور سجاد ظہیر کے ساتھ قید کی سزا نہ کاٹتے تو شاید وہ کبھی وہ نہ بن پاتے جو وہ جیل سے بن کر نکلے۔ اپریل 1921ء میں پنجاب میں جالندھر کے ایک نواحی گائوں کے متوسط درجے کے کسان گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ایم اے او کالج امرتسر سے بی اے کیا‘ جہاں ان کے اساتذہ میں فیض صاحب اور محمود الرشید شامل تھے‘ اور پرنسپل تھے ڈاکٹر تابش۔ وہ فوج میں کمیشن لے کر دوسری جنگ عظیم میں برما کے محاذ پر بہادری سے لڑے۔ فوجی ایوارڈ (ملٹری کراس) اور جڑانوالہ میں زرعی زمین بطور انعام ملی۔ قیامِ پاکستان کے بعدکشمیر کی آزادی کی جنگ میں پہاڑی کے مشہور معرکہ میں انہوں نے شجاعت کے جوہر دکھائے۔ راولپنڈی سازش کیس میں جنرل اکبر خان سے لے کر میجر اسحاق محمد اور کیپٹن ظفر اللہ پوشنی جیسے افسروں پر مقدمہ چلایا گیا اور تعزیر کے طور پر انہیں نہ صرف فوج سے برطرف کیا گیا بلکہ قید کی سزا بھی دی گئی۔ میجر صاحب کو چار سال قید کی سزا دی گئی۔ ان کا اُردو ادب کے مطالعہ اور ادبی ذوق کی پختگی کا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ فیض صاحب کے ایک شعری مجموعہ‘ زنداں نامہ کا فیض صاحب کی فرمائش پر دیباچہ لکھا اور بہت اچھا لکھا۔ قید ختم ہوئی تو انہوں نے قانون کی ڈگری حاصل کر لی مگر زیادہ کار آمد ثابت نہ ہوئی‘ کیونکہ انہوں نے بہت تھوڑا عرصہ وکالت کی اور پھر ہمہ وقتی سیاسی کارکن بن گئے۔ حسن ناصر کی لاہور قلعہ میں تفتیش کے دوران ہلاکت کے بعد میجر اسحاق نے حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کیا اوربڑی بہادری اور مستقل مزاجی سے اس مقدمہ کی پیروی کی۔ انہوں نے اس موضوع پر ایک اچھی کتاب بھی لکھی۔ نیشنل عوامی پارٹی میں 1960ء کے عشرہ میں پھوٹ پڑجانے کے بعد اس پارٹی کے بھاشانی گروپ سے وابستہ ہو گئے۔ چند سال وہ اس کے پرچم تلے سیاسی جدوجہد کرتے رہے اور پھر مزدور کسان پارٹی کے نام سے الگ سیاسی جماعت بنا لی جس نے (موجودہ) خیبر پختونخوا کے ایک علاقہ (ہشت نگر) میں بڑے زمینداروں کے خلاف کسانوں اور مزار عین کی زبردست تحریک چلائی۔ وہ کئی بار پھر قیدی بنے۔ انہوں نے اُردو میں ایک اور پنجابی میں دوڈرامے بھی لکھے جو کئی بار سٹیج کیے گئے۔ جنرل ضیا الحق کے زمانہ میں قید میں رہے۔ پہلے فالج اورپھر دل کے دورے کے باعث کسانوں اور مزدوروں کا بہترین دوست ان سے دور چلا گیا۔ انہوں نے 61 سال کی عمر میں فیصل آباد ہسپتال میں دواپریل 1982ء کو ڈھائی بجے دوپہر وفات پائی۔ انہیں تحصیل جڑانوالہ کے چک 644 گ ب میں اپنی والدہ کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ اس جگہ سے وہ گائوں زیادہ دور نہ تھا جہاں 75 سال پہلے انقلابی ذہن والے بھگت سنگھ پیدا ہوئے تھے۔ ان کی وفات پر فہمیدہ ریاض نے لکھا:
اس اندھیری دکھی رات میں
کہاں چلے معیار
اب نہیں ساتھ نبھائو گے
مجھے ان کے ساتھ سیاسی نوعیت کا کوئی موقع نہ ملا مگر ذاتی ملاقاتیں مشترکہ دوستوں کے توسط سے کئی بار ہوئیں۔ وہ ایک تنومند اور بارُعب شخصیت کے مالک تھے۔ انقلاب کی باتیں کرتے وقت اپنی آواز دھیمی اور لہجہ نرم رکھتے تھے۔ ان کی وفات کے بعد مزدور کسان پارٹی کی قیادت پختو نخوا کے کسان رہنما افضل بنگش کے پاس چلی گئی اور بنگش صاحب کے بعد کراچی کے فتح یاب علی خان (جنہیں میں پچاس کی دہائی میں اپنی طالب علمی کے دور میں بین الکلیاتی مباحثوں کی وجہ سے اچھی طرح جانتا تھا) کے پاس چلی گئی۔ بنگش اور فتح یاب دونوں نہ کسان تھے اور نہ مزدور۔
اگر آپ کا پاکستان میں اشتراکی حلقوں سے دور کا تعلق بھی رہاہے‘ تو یہ ہو نہیں سکتا کہ آپ مرزا محمد ابراہیم صاحب کو ملے نہ ہوں اور اگر آپ مجھ سے عمر میں کم یا بہت چھوٹے ہیں (جس کا زیادہ امکان ہے) تو آپ نے ان کا نام اور کارناموں کے بارے میں سنا ضرور ہو گا۔ مرزا صاحب ضلع جہلم میں کالا گوجراں میں ایک چھوٹے کسان گھرانے میں 1905ء میں پیدا ہوئے۔ غربت کے باعث سکول میں اپنی تعلیم جاری نہ رکھ سکے۔ برطانوی سامراج سے دشمنی کا آغاز 1919ء میں جلیانوالہ باغ (امرتسر) کے المیہ (جنرل ڈائر کی ایک پُر امن اجتماع پر اندھا دھند فائرنگ میں سینکڑوں مرد‘ عورتیں اور بچے ہلاک ہوئے) اور مرکزی پنجاب میں انگریز حکومت کے خلاف زبردست شورش سے ہوا۔ اس شورش کی قوت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انگریز سرکار کو گوجرانوالہ میں ریلوے سٹیشن پر قابض حریت پسندوں کو منتشر کرانے کیلئے ہوائی جہازوں سے بمباری اور مشین گن سے فائرنگ کرنا پڑی۔ 1920-21ء میں سرائے عالمگیر میں ملٹری کالج کے قیام کے خلاف مظاہرے میں گرفتار ہوئے اور سزا پائی۔ 1925ء میں جہلم کی ریلوے برج ورکشاپ میں ملازم ہو کر وہاں مزدوروں کو منظم کیا۔ 1920ء کی کسادبازاری اور بیروزگاری کے دور میں ایم اے خان اور مِلر کی راہنمائی میں بڑی کامیاب ہڑتالوں کی قیادت کی۔ مرزا صاحب شمالی ہندوستان میں ایک بڑے مزدور رہنما کے طور پر اُبھرے۔ کامیاب ٹریڈ یونین سرگرمیوں کے بعد پہلی بار ریلوے مزدوروں کیلئے پے کمیشن بنایا گیا۔ انہوں نے NWR ورکرز یونین بنائی۔ قیامِ پاکستان سے پہلے آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگریس کے نائب صدر چنے گئے۔ 1946ء میں پہلا یوم مئی منانے کے ''جرم‘‘ میں گرفتار ہوئے۔ 1946ء کے انتخابات میں مسلم لیگ نے انہیں پنجاب اسمبلی میں مزدوروں کی نشست کیلئے نامزدگی کی پیشکش کی مگر شفقت نذیر مرزا اپنی کتاب کے صفحہ نمبر 418 پر لکھتے ہیں کہ مرزا صاحب نے انکار کر دیا۔ ہم آج تک نہیں جانتے کہ انکار کی اصل وجہ کیا تھی؟ (جاری)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں