چوٹی کا عالم فاضل

آج ہم بات کریں گے ایک ایسی شخصیت کی جو علامہ اقبال اور علامہ عنایت اللہ مشرقی کے بعد بجا طور پر علامہ کہلائی۔ وہ 1900ء میں Lviv (یوکرین) کے اُس گھرانے میں پیدا ہوئے جو آسٹریا؍ ہنگری کی شہریت رکھتا تھا اور مذہباً یہودی تھا۔ وہ عام یہودی خاندان نہ تھا بلکہ ان کے آبائو اجداد میں کئی ایسے ربی بھی شامل تھے جن کا مقام یہودیت کے بڑے علما جیسا تھا۔ انہوں نے آسٹریا کے دارالحکومت ویانا کی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ (اگر آپ کو یورپ کا کوئی عظیم الشان اور خوبصورت شہر دیکھنے کا موقع ملے تو آپ ویانا کو ضرور چنیں)۔
جب وہ مشرقِ وسطیٰ کے تعلیمی دورے پر گئے تو اسلام کا مطالعہ کرنے کے بعد دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ 1926ء میں انہوں نے اپنا پیدائشی مذہب یہودیت ترک کرکے اسلام قبول کر لیا۔ اس بلند پایہ عالم و فاضل شخصیت نے اپنا پرانا نام Leopold Weiss ترک کرکے محمد اسد اختیار کیا اور ایسی بے مثال کتابیں لکھیں جن میں سرفہرست قرآن پاک کا عربی سے انگریزی میں ترجمہ The Message of the Quran ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں قیام کے دوران انہوں نے عربی زبان پر بھی عبور حاصل کیا۔ جن اہم عرب شخصیات سے ان کے دوستانہ تعلقات قائم ہوئے ان میں سعودی عرب کے شاہی خاندان کے افراد بھی شامل تھے۔ مشرقِ وسطیٰ کے بعد وہ ہندوستان آئے۔ یہاں ان کا قیام لاہور‘ سری نگر‘ ایبٹ آباد اور ڈلہوزی میں رہا۔ (ڈلہوزی مری‘ شملہ اور نینی تال کی طرح ایک مشہور تفریحی مقام ہے)۔
جون 1932ء میں محمد اسد کراچی پہنچے اور وہاں سے لاہور آئے جہاں ان کی علامہ اقبال سے کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ اقبالؒ نے نہ صرف انہیں ہندوستان میں قیام کرکے نئی اسلامی مملکت پاکستان کی نظریاتی بنیادوں کو علمی اور عالمانہ خطوط پر استوار کرنے پر آمادہ کیا بلکہ صحیح بخاری کے چند ابواب کا انگریزی ترجمہ کرنے کی ذمہ داری بھی سونپی۔ قائداعظم نے قیامِ پاکستان کے بعد اسلامی حکومت کے سیاسی‘ معاشی اور معاشرتی پہلوؤں پر تحقیق کے لیے جو ادارہ قائم کیا علامہ محمد اسد کو اس کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا۔ جب وزیراعظم لیاقت علی خان نے 1947ء میں انہیں سعودی عرب حکومتِ پاکستان کی نمائندگی کے لیے بھیجنے کا فیصلہ کیا تو مسئلہ یہ پیش آیا کہ علامہ کے پاس کوئی سرکاری سفری دستاویز موجود نہ تھی۔ اس مشکل کو حل کرنے کے لیے اُن کے نام پر ایک پاسپورٹ جاری کیا گیا جو پاکستان کا پہلا پاسپورٹ تھا۔ کمال یہ ہے کہ پاکستان کا پہلا سرکاری پاسپورٹ اس شخصیت کو جاری ہوا جو بلاشبہ ملک کے سب سے زیادہ تعلیم یافتہ افراد میں شمار ہوتی تھی۔ علامہ اسد نے یہ پاسپورٹ 1992ء میں اپنی وفات تک استعمال کیا۔
سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات قائم کرنے میں علامہ اسد کے کردار کی غیر معمولی اہمیت ہے۔ اسلام قبول کرنے سے پہلے بھی وہ صہیونیت کے مخالف اور فلسطین پر فلسطینیوں کے دو ہزار سالہ حق کے حامی تھے۔ آج اس قوم نے اپنے جن عظیم محسنوں کو فراموش کر دیا ہے ان میں علامہ محمد اسد بھی شامل ہیں۔ اُن کی زندگی پر ایک فلم بھی بنائی گئی جس کا نام تھا ''روڈ ٹُو مکہ‘‘ یعنی مکہ مکرمہ کی طرف جانے والی شاہراہ۔ یہ نام اُن کی اُس تصنیف سے مستعار ہے جس میں انہوں نے اپنی قبولِ اسلام کی داستان قلمبند کی ہے۔ علامہ اسد نے دو شادیاں کیں۔ پہلی بیوی Elsa Schiemann تھیں جنہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد منیرہ اسد کا نام اختیار کیا۔ یہ شادی1927ء سے 1952ء تک رہی۔ دوسری اہلیہ حمیدہ اسد تھیں۔ ان کی واحد اولاد ایک بیٹا طلال تھا۔ 23فروری 1992ء کو علامہ محمد اسد نے Mijas (سپین) میں وفات پائی اور وہیں آسودۂ خاک ہوئے۔
علامہ محمد اسد ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ وہ صحافی‘ سیاح‘ مصنف‘ مترجم‘ کئی زبانوں کے ماہر‘ سیاسی مفکر اور سفارتکار تھے۔ وہ سات نہایت عمدہ کتابوں کے مصنف اور قرآن پاک کے مترجم تھے۔ میرے علم کے مطابق (اور کاش یہ بات غلط ثابت ہو) ان کی ان سات کتابوں میں سے شاید ایک بھی پاکستان کی کسی یونیورسٹی کے بی اے یا ایم اے اسلامیات کے نصاب میں شامل نہیں۔ جس قوم نے ڈاکٹر حمید اللہ جیسی شخصیت کو فراموش کر دیا‘ جنہوں نے نصف صدی پیرس میں صرف اسلامی موضوعات پر تحقیق‘ تصنیف اور ترجمے میں گزار دی‘ وہ علامہ محمد اسد کو کیسے یاد رکھ سکتی ہے؟
جنوری 1957ء یا 1958ء کی بات ہے‘ پنجاب یونیورسٹی لاہور کے زیرِاہتمام ایک بین الاقوامی اسلامی‘ خالصتاً عالمانہ کانفرنس منعقد ہوئی۔ اُن دنوں میں ایم اے او کالج لاہور کی یونین کا صدر تھا۔ وائس چانسلر نے یونیورسٹی انتظامیہ کی معاونت کے لیے جن طلبہ و طالبات کو رضاکارانہ طور پر تین دن خدمات انجام دینے کے لیے منتخب کیا میں بھی ان میں شامل تھا۔ ان تین دنوں میں جن 24عالم‘ فاضل اساتذہ اور دانشوروں نے تحقیقی مقالے پیش کیے‘ ان میں علامہ محمد اسد سرفہرست تھے۔ میری خوش قسمتی کہ مجھے ان سے تین مرتبہ ملنے اور مختصر گفتگو کا موقع ملا۔ دوپہر کے کھانے کے وقفے میں یا شام کو کانفرنس کی کارروائی ختم ہونے کے بعد میرے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ جرمن اور پولش اُن کی مادری زبانیں تھیں۔ 13برس کی عمر تک وہ عبرانی اور قدیم زبان Aramaic سیکھ چکے تھے جبکہ 25برس کی عمر تک انہوں نے انگریزی‘ فرانسیسی‘ فارسی اور عربی میں بھی لکھنا اور پڑھنا سیکھ لیا تھا۔ جب وہ سعودی عرب گئے تو زیادہ وقت بدو قبائل کے ساتھ گزارا اور سعودی مملکت کے بانی شاہ عبدالعزیز السعود کے ساتھ گہری دوستی قائم کی۔ ابنِ سعود کے حکم پر ہی انہوں نے قسطنطنیہ جا کر یہ معلومات اکٹھی کیں کہ بغاوت کرنے والے اخوان کی مالی معاونت کون کر رہا ہے۔
دوسری عالمی جنگ شروع ہوئی تو ہندوستان کی برطانوی حکومت نے جرمن نسل سے تعلق رکھنے کی انہیں یہ ''سزا‘‘ دی کہ انہیں پانچ برس تک جیل میں رکھا گیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد وہ وزارتِ خارجہ کے مشرقِ وسطیٰ ڈویژن میں ڈپٹی سیکرٹری مقرر ہوئے اور اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی بھی کی۔ انہوں نے قرآن کا جو ترجمہ 17برس کی عالمانہ تحقیق کے بعد مکمل کیا‘ وہ Marmaduke Pickthall اور عبداللہ یوسف علی کے تراجم کے ہم پلہ سمجھا جاتا ہے۔ اسلام کی تشریح اور تفسیر کرتے ہوئے وہ اجتہاد‘ عقل اور فہم کو اپنی رہنمائی کا بنیادی اصول قرار دیتے تھے۔ علامہ اسد کی خدمات اور انہیں ''مذاہب کے درمیان پل تعمیر کرنے والا‘‘ تسلیم کرتے ہوئے ویانا میں اقوامِ متحدہ کے دفاتر کے قریب ایک راہداری کا نام Muhammad Asad Platz رکھا گیا ہے۔
یہ مضمون دو ایسی باتوں پر ختم ہوگا جو مضمون نگار کے لیے باعثِ خوشی ہیں۔ پہلی یہ کہ 23مارچ 2013ء کو حکومتِ پاکستان نے ان کے اعزاز میں یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا تھا۔ دوسری یہ کہ 1957ء میں علامہ اسد اپنی اہلیہ کے ساتھ جوہر آباد (خوشاب) میں چودھری نیاز علی صاحب کے گھر گئے اور وہاں چند روز قیام کیا۔ جوہر آباد میرا دوسرا آبائی گاؤں ہے کیونکہ میرے والدین نے وہاں اپنا گھر تعمیر کیا تھا جس میں وہ پچیس برس مقیم رہے۔ میرا ایک بھائی اور والدہ محترمہ وہیں ابدی نیند سو رہے ہیں۔ میں خوش ہوں کہ حال ہی میں جب جوہر آباد گیا تو چودھری نیاز علی مرحوم کے گھر جانے کا موقع بھی ملا اور مجھے اس کمرے میں بیٹھنے کا اعزاز بخشا گیا‘ جہاں علامہ محمد اسد اور ان کی اہلیہ نے چند دن قیام کیا تھا۔ جوہر آباد کے لیے اس سے زیادہ قابلِ فخر بات اور کیا ہو سکتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں