پٹھان کوٹ سے جوہر آباد تک

28 جون 1880ء کو مشرقی پنجاب کے ایک دور افتادگائوں ماہی پور میں پیدائش اور 24 فروری 1976ء کو (پاکستا نی) پنجاب کے ضلع خوشاب کے نوآباد شہر جوہر آباد میں وفات۔ 96 برس عمر پائی۔ بلاشبہ وہ ایک بڑے آدمی تھے۔ قیامِ پاکستان کے بعد پٹھانکوٹ سے ہجرت کر کے صحرائے تھل میں آباد ہوئے اور اُس وطن میں انہوں نے 29 برس قدرے گمنامی میں گزار دیے جس کے بنانے میں اُن کا بھی کردار تھا۔ وہ ایک ہمہ جہت شخصیت تھے‘ علم دوست‘ سول انجینئر‘ بڑے سرکاری افسر‘ زمیندار‘ کاشتکار‘ دارالعوام تحریک اور وقف کے بانی۔ پیدائش پر ان کا نام نیاز علی رکھا گیا‘ بڑے ہوئے تو نام سے پہلے چودھری اور آخر میں خان کے الفاظ کا اضافہ ہوا۔ خان راجپوت ہونے کی وجہ سے (حکومت نے 'خان‘ کا خطاب بھی دیا تھا) اور چودھری بڑا زمیندار ہونے کی وجہ سے۔ وہ چار بھائیوں میں سب سے بڑے تھے‘ دو بیٹوں اور تین بیٹیوں کے والد تھے۔ ان کا ایک بیٹا‘ محمد اعظم خان اعلیٰ تعلیم یافتہ تھا اور میرے دوستوں میں شامل تھا۔
1900ء میںاُنہوں نے روڑکی میں تھامسن کالج آف سول انجینئرنگ سے انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ اُن کے تین مشاغل تھے: اسلامی فلسفہ‘ تاریخ اور تفاسیر کا مطالعہ‘ گھڑ سواری اور فوٹو گرافی۔ اُن کے پاس کیمرے کافی تعداد میں تھے اور اپنی اتاری ہوئی تصاویر کو وہ خود ہی ڈویلپ کرتے تھے۔ پچاس کی دہائی کے نصف میں میری اُن کے بیٹے سے ملاقات ہوئی اور ساٹھ کی دہائی میں اُن سے‘ جب وہ خاصے ضعیف ہو چکے تھے مگر جذبہ جوان تھا۔ میرے مرحوم والد نے پچاس کی دہائی میں جوہرآباد میں چار کنال زمین خرید کر وہاں اپنا کشادہ مکان تعمیر کرایا اور ہم نے 1959ء میں وہاں رہنا شروع کر دیا۔ اُن دنوں چودھری نیاز علی خان کا پاکستان میں وہی بلند مقام تھا جو حکیم محمد سعید‘ سردار عبدالرب نشتر‘ جسٹس کیانی‘ فیض احمد فیض اور ان جیسی دوسری بلند پایہ شخصیات کا۔ فرق (اور بہت بڑا فرق) یہ ہے کہ چودھری صاحب صوفی منش اور درویش صفت انسان تھے۔ لائم لائٹ سے بہت دور۔ 1947ء سے پہلے دامنِ کوہ میں رہتے تھے اور ہجرت کے بعد ایک صحرا کی مشرقی سرحد پر۔ جوہر آباد میں گنتی کے پڑھے لکھے لوگوں کے سوا انہیں قصبہ نما شہر میں کوئی نہیں جانتا تھا۔ اہلِ پنجاب بالخصوص اور اہلِ پاکستان بالعموم اُن کے وجود اور اُن کی گراں قدر خدمات سے ناواقف تھے (اور غالباً آج تک ہیں)۔ دوسرے نوآبادیاتی ممالک کی طرح یہاں بھی ملک گیر تعارف اور شہرت کے لیے تعلقاتِ عامہ کے فن کا ماہر ہونا ضروری ہے۔ منیر نیازی ساہیوال چھوڑ کر لاہور منتقل نہ ہوتے تو مجید امجد کی طرح کبھی شعرا کی صفِ اول میں جگہ نہ بنا پاتے۔ لائل پور (فیصل آباد) میں تمام عمر بسر کرنے والے بہت اچھے شاعر احمد ریاض نے بھی مضافات میں رہنے کی سزا پائی۔
میرے والد مرحوم ڈاکٹر تھے اور چودھری صاحب کے ذاتی معالج۔ 'مریض‘ کی صحت ایسی تھی کہ اُس نے ڈاکٹر کے ساتھ دوستانہ رشتہ احتیاطی تدبیر کے طور پر قائم کر رکھا تھا۔ چودھری صاحب خلوت پسند اور اتنے کم گو تھے کہ ملنے والے کسی بھی شخص کی ہمت نہ پڑتی تھی کہ وہ اُن سے وہ تمام سوالات پوچھ پائے جو اُس کے ذہن میں اُبھرتے تھے۔ چودھری صاحب کی شخصیت عالمانہ اور بزرگانہ تھی۔ سفید داڑھی اُن کے چہرے پر بڑی سجتی تھی۔ اُنہوں نے برٹش انڈیا دور میں پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ (PWD) میں بطور انجینئر فرائض سرانجام دیتے ہوئے پٹھانکوٹ سے ڈلہوزی تک پہاڑی علاقے میں 80 کلومیٹر لمبی سڑک تعمیر کرائی۔ جب معدنیات کے محکمہ سے وابستہ ہوئے تو کھیوڑہ کی نمک کی کان (جو دنیا کی دوسری بڑی نمک کی کان ہے) میں کمال کی سرنگ بنوائی۔ دورانِ ملازمت شمال مغربی سرحدی صوبے (موجودہ خیبر پختونخوا) میں سیلاب سے ٹوٹ جانے والے ایک آبی ذخیرے کی مرمت کی ذمہ داری سونپی گئی۔ مرمت شروع ہوئی تو مقامی قبائل نے عملے پر فائرنگ کر دی۔ چودھری صاحب نے اپنی رائفل سنبھالی اور چند کارکنوں کے ہمراہ حملہ آوروں کے پاس گئے اور اُنہیں سمجھایا کہ ڈیم مقامی لوگوں کو زراعت اور آبپاشی کیلئے پانی فراہم کرے گا۔ حملہ آوروں نے اُن کی بات مان لی اور مرمت کا کام امن وسکون سے دوبارہ شروع ہو گیا۔ برٹش انڈین حکومت اس کارنامے سے اتنی خوش ہوئی کہ انہیں تمغۂ شجاعت دیا‘ جو صرف فوجی افسروں کو دیا جاتا ہے۔ 1931ء میں انگریز گورنر جنرل (لارڈ ولنگڈن) نے انہیں ''خان صاحب‘‘ کا اعزازی خطاب دیا۔ وہ سرکاری ملازمت سے 1935ء میں ریٹائر ہوئے اور پھر جمالپور میں اپنی ہزاروں ایکڑ پر پھیلی زمین پر اعلیٰ معیار کی کاشتکاری کی اور ایک لاکھ روپے (آج کے دسیوں کروڑ روپے) خرچ کر کے ایک شاندار گھر بنوایا۔ اسی دوران بہت سے ضرورت مند اور مستحق افراد کی مالی امداد اور اپنی زمین کا ایک قطعہ وقف کر کے انہوں نے اپنی آخرت بھی سنوارنا شروع کر دی۔
چودھری نیاز علی کا علامہ اقبال کے گھر اور ان کی محفلوں میں شرکت کا سلسلہ شروع ہوا تو وہ ان کے اتنے قریب ہو گئے کہ علامہ اقبال نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ تحقیق‘ تصنیف اور ترجمہ وتفسیر کا ادارہ قائم کریں تاکہ سرسیّد احمد خاں کی اجتہادی تحریک کے کام کو آگے بڑھایا جا سکے۔ چودھری صاحب نے اس مشورے کو قبول کرتے ہوئے دارالسلام کے نام سے ایک ادارہ اور وقف بورڈ قائم کیا اور اپنی جاگیر سے 66 ایکڑ زمین کا عطیہ دیا۔ جن بڑی عالم اور فاضل شخصیات نے اس ادارے سے وابستہ ہو کر فکر کے نئے چراغ جلائے اُن میں مولانا امین احسن اصلاحی‘ مولانا صدر الدین اصلاحی‘ علامہ محمد اسد‘ لاہور سے میاں نظام الدین‘ گورداسپور سے شیخ محمد یوسف (بیرسٹر)‘ چودھری رحمت علی اور میاں صلاح الدین کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ 1940ء میں اس ادارہ نے ''دارالسلام‘‘ کے نام سے ایک ماہنامہ جریدے کی اشاعت شروع کی۔ چودھری صاحب نے علامہ اقبال سے درخواست کی کہ وہ اس ادارے کی نظامت کیلئے کوئی موزوں شخص نامزد فرمائیں۔ غلام احمد پرویز کا نام تجویز ہوا‘ جو اُس وقت ''طلوع اسلام‘‘ کے نام سے جریدہ شائع کرتے تھے۔ انہوں نے قائداعظم سے یہ کام چھوڑ کر دارالسلام جانے کی اجازت مانگی جو اُنہیں نہ مل سکی۔ اسی دوران چودھری صاحب سے حیدرآباد دکن میں مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کا تعارف ہوا۔ چودھری نیاز نے مولانا مودودی کو اپنے پاس بلایا اور اُنہیں اتنا ہی موزوں شخص پایا جتنا کہ اُنہیں درکار تھا۔ چودھری نیاز ہی مودودی صاحب کے پٹھانکوٹ میں میزبان بنے اور انہیں علامہ اقبال سے ملوانے بھی لے گئے جنہوں نے مودودی صاحب کو پسند فرمایا۔ مولانا کی عمر اُس وقت محض 35 برس تھی۔ مولانا مودودی نے 1941ء میں پٹھانکوٹ میں قیام کے دوران ہی جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی۔ نظریاتی اختلاف کی وجہ سے چودھری صاحب اس میں شامل نہ ہوئے اور مسلم لیگ کی سطح پر سرگرم رہے۔ قیام پاکستان سے متعلق نظریات نے دونوں کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا۔ بعد ازاں مولانا مودودی نے اچھرہ‘ لاہور میں جماعت اسلامی کا دفتر بنایا اور چودھری صاحب نے 150 میل دور جوہرآباد کو اپنا مسکن بنایا۔ انہوں نے دارالسلام کا ادارہ وہاں بھی قائم کیا مگر برائے نام‘ جو نہ کوئی کتاب شائع کر سکا‘ نہ جریدہ اور نہ ہی کسی عالمانہ مذاکرے کا میزبان بنا۔ مگر ان کا ماضی اتنا درخشندہ تھا کہ علامہ محمد اسد اپنی اہلیہ کے ساتھ انہیں ملنے خصوصی طور پر جوہر آباد گئے اور وہاں چند روز انہیں شرفِ میزبانی بخشا۔ یہ بھی بہت کم دیکھنے میں آیا ہے کہ میزبان اور مہمان دونوں بلند مرتبت شخصیات ہوں۔ 96 برس کی عمر میں انتقال کے بعد‘ جس میں آخری تین عشرے قدرے خاموشی اور گمنامی کے ہیں‘ جب چودھری صاحب کو جوہر آباد کے اپنے گھر کے احاطہ میں ہی سپردِ خاک کیا گیا تو ان کا بنایا ہوا ادارہ بھی اُن کے ساتھ دفن ہو گیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں