ڈرگ ڈیلر کی شاہانہ گرفتاری

بعض خبریں اتنی خود وضاحتی ہوتی ہیں کہ مزید کسی تبصرے کی گنجائش کم ہی رہتی ہے۔12 مئی کو کراچی کی ایک عدالت میں منشیات مافیا کی سرغنہ انمول عرف پنکی جس انداز میں پیش ہوئی وہ دراصل ایک ایسا آئینہ تھا جس میں ہمارے ملک کا معاشرتی و سیاسی‘ قانونی عملداری‘ حکومتی گورننس اور پولیس کا چہرہ دیکھا جا سکتا ہے۔ ملزمہ بغیر ہتھکڑی عدالت کی راہداریوں میں آزادانہ گھوم رہی تھی‘ اور اُس کے پیچھے پیچھے تفتیشی پولیس افسر ہاتھ باندھے چل رہا تھا۔
مذکورہ ڈرگ کوئین کہیں سے اچانک نمودار نہیں ہوئی۔ ملزمہ کے بقول وہ تیرہ برس سے کوکین‘ کرسٹل اور آئس وغیرہ فروخت کر رہی ہے۔ وہ یہ خصوصی منشیات بحفاظت کلائنٹس تک پہنچانے کی شہرت رکھتی تھی۔ ایک بار وہ لاہور میں گرفتار ہوئی اور کئی بار گرفتاری سے بال بال بچی یا مبینہ طور پر اس کے ایلیٹ کلائنٹس اور اس سے مالی طور پر فیض یاب ہونے والوں کے اشارے پر بچالی گئی۔ سندھ حکومت کی معصومیت ملاحظہ ہو‘ اس کا کہنا ہے کہ کئی بار ملزمہ کو گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی مگر کامیابی نہ ہوسکی۔ کسی مطلوب یا نامطلوب سیاستدان کو گرفتار کرنا ہو تو کیا ہماری حکومتیں اسی عدم دلچسپی والے انداز سے کام کرتی ہیں؟ ملزمہ کراچی کی سڑکوں اور گلیوں میں موت بانٹنے کا بھیانک نیٹ ورک چلا رہی تھی اور زبانِ حال سے کہہ رہی تھی کہ روک سکو تو روک لو۔ اگر کوئی ایک نمبر تفتیش ہوئی تو معلوم ہو جائے گا کہ اس پر کس کس کا دستِ شفقت تھا۔ اس کہانی میں کئی پردہ نشینوں کے نام آتے ہیں۔
اس ڈرگ ڈیلر کا سب سے بڑا صارفین اور لیڈیز رائیڈر نیٹ ورک کراچی میں تھا اور منشیات کی ڈبیوں پر ''کوئین‘ میڈم پنکی ڈان‘‘ لکھا ہوتا تھا۔ ان منشیات کی ایک بڑی پروڈکشن فیکٹری لاہور میں تھی۔ ملزمہ اپنے برانڈز اپنی زیر نگرانی مخصوص نسخے کے مطابق خود تیار کرواتی تھی اور کہا کرتی تھی کہ ان منشیات میں کوئی اس کا ثانی نہیں۔ ابتدائی تفتیش میں یہ بات ثابت ہو گئی کہ اس میدان میں اور بھی بہت سے ڈرگ ڈیلرز ہیں جو نوجوانوں کو موت کے منہ میں دھکیل رہے ہیں مگر ملزمہ پنکی کے مقابلے کا کوئی نہیں۔ ملزمہ ایامِ جوانی سے پوش علاقوں کی ہائی فائی پارٹیوں میں شرکت کر رہی تھی۔ وہ اس کلاس کے '' آدابِ محفل‘‘ سے بخوبی آگاہ تھی۔ اس کے کلائنٹس میں پوش علاقوں کے علاوہ عام آبادیاں بھی شامل تھیں۔ تاہم اس کی سب سے بڑی شکار گاہیں تعلیمی ادارے تھے۔ آج تیرہ برس بعد کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے ملزمہ کو ''خفیہ معلومات‘‘ کی بنا پر گرفتار کیا۔ ناطقہ سر بگریبان ہے اسے کیا کہیے۔
یہاں اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا طرح طرح کی پولیس‘ اس کے مدد گار رینجرز اور اینٹی نارکوٹکس کا وسیع اختیارات رکھنے والے ادارے کو اس بات کی کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ کراچی کا عام آدمی بھی جانتا تھا کہ ملزمہ پنکی سوشل میڈیا اور واٹس ایپ کے ذریعے اپنا نیٹ ورک چلاتی تھی۔ اگر واقعی ایسا ہی ہے کہ سندھ پولیس اتنی بے خبر تھی تو یہ بڑی تشویش کی بات ہے۔ کئی برس سے دنیا بھر کے ادارہ برائے انسدادِ منشیات‘ یو این او اور باخبر میڈیا ہائوسز خبر دار کر رہے تھے کہ پاکستان میں منشیات کی لت ایک بہت بڑا معاشرتی‘ صحت اور لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ بن چکا ہے۔ اقوام متحدہ کے شعبہ برائے انسدادِ منشیات اور جرائم نے 2012ء اور 2013کے دوران پاکستان میں منشیات کے عادی لوگوں کے اعداد و شمار اکٹھے کرنے کیلئے ایک سروے کروایا تھا۔ اس سروے کے مطابق تقریباً 70لاکھ لوگ اس موذی لت کا شکار ہوئے۔ ان میں سے تقریباً 45لاکھ لوگ زندگی کی دوڑ سے باہر ہو کر ایڑیاں رگڑنے کی کیفیت میں مبتلا ہو چکے تھے۔ہماری قومی کارکردگی کا اندازہ کر لیجئے کہ 2025ء کے آخر میں قومی اسمبلی کے ارکان کو ایک سوال کے جواب میں حکومتی بنچوں سے بتایا گیا کہ 2012ء کے بعد منشیات کے حوالے سے پاکستان میں کوئی سروے نہیں ہوا۔ اس لیے حتمی اعداد و شمار پیش کرنے سے معذرت کی گئی۔ حال ہی میں بعض اداروں کی طرف سے اکٹھی کی گئی معلومات کے مطابق تقریباً 90لاکھ پاکستانی اس موذی لت کا شکار بن چکے ہیں۔
ہماری جمع کردہ معلومات کے مطابق کیمیائی منشیات‘ آئس‘ ہیروئن اور درد کش ادویات کی بھاری مقدار بطور نشہ استعمال کرنے کی لت نوجوانوں میں بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔یو این او ڈرگ کنٹرول شعبے نے خبر دار کیا ہے کہ پاکستان میں ''اعلیٰ کوالٹی‘‘ منشیات کیمیکلز سے بنائی جا رہی ہیں جو اور بھی جان لیوا ہوتی ہیں۔ یہ صرف پوش علاقوں تک محدود نہیں کراچی کے لیاری جیسے غریب اور پسماندہ علاقوں میں بھی استعمال کی جا رہی ہے۔ کراچی‘ لاہور اور پشاور میں کالج اور یونیورسٹیاں ان منشیات کے استعمال کے خاص ٹھکانے ہیں۔ کراچی کے ایک بحالی سنٹر میں ایک 22 سالہ لڑکی نے نشے کی لت اختیار کرنے کے بارے میں اپنا تفصیلی قصۂ درد سنایا تھا‘جسے بی بی سی سے نشر کیا گیا تھا۔ اس درد ناک کہانی کا خلاصہ یہ تھا کہ مختلف نفسیاتی و معاشرتی پریشانیوں کیلئے اس نے ایک لڑکے کے ساتھ دوستی کر لی۔ اس کا کہنا یہ تھا کہ وہ لڑکا خود تو نشہ کرتا ہی تھا‘ مجھے بھی لا کر دیتا تھا۔ ملک کی وفاقی اور صوبائی حکومتیں اتنی غافل ہیں کہ انہیں اس جان لیوا آفت کا یا تو کما حقہٗ اندازہ نہیں یا اس کا انسداد ان کی ترجیحات میں شامل نہیں۔ اس لت میں مبتلا 90لاکھ لوگوں کے علاج اور بحالی کیلئے ملک میں جو سرکاری و غیر سرکاری سنٹرز ہیں‘ وہ صرف 30ہزار افراد کیلئے کافی ہیں۔
عالمی اداروں کے سروے کے مطابق پاکستان کے سرکاری بحالی سنٹرز کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔ کراچی کے ایک ویلفیئر بحالی سنٹر کی ایک ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس جو کیسز آ رہے ہیں ان میں طالبات‘ ایئر ہوسٹسز اور نرسوں کے گروپوں کے گروپ شامل ہیں۔ ماہر نفسیات کے بقول ان کے گھر والوں کو پتا نہیں کہ ان کی بچیاں کیا کرتی ہیں۔ ماڈرن بننے کی بھیڑ چال بالعموم فیشن ایبل یونیورسٹیوں میںہائی فائی پارٹیاں‘ لڑکوں کے ساتھ دوستیاں اور بعد میں نشہ کی موذی عادت کا شکار میاں بیوی اور ان کی نشہ زدہ اولاد کے بارے میں سوچ کر روح فنا ہو جاتی ہے مگر یہاں حکومتوں‘ تعلیمی اداروں‘ دینی و فلاحی تنظیموں کو تباہی کی اس دلدل میں دھنستے ہوئے مصیبت زدہ نوجوانوں کی کوئی فکر نہیں۔
اب آیئے حکومتی''گڈ گورننس‘‘ اور معاشرتی مسائل میں ان کی ''دلچسپی‘‘ کی طرف۔ اصل بات ترجیح کی ہے جس قومی اسمبلی نے اعتراف کیا کہ 2012ء کے بعد ملک میں منشیات کے حوالے سے کوئی سروے نہیں ہوا‘ اسی سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ارکان نے اپنی ترجیحات کے مطابق فروری 2025ء میں ایک بل کے ذریعے اپنی ماہانہ تنخواہ ایک لاکھ 80ہزار سے بڑھا کر پانچ لاکھ 19ہزار کر لی ہے۔ اس کے بعد یہ ممبران یہ کہہ کر زخموں پر نمک یوں چھڑکتے ہیں کہ غریب ہی نہیں ہم ایلیٹ بھی مہنگائی سے متاثر ہوتے ہیں۔ کیا کم از کم 20لاکھ ماہانہ مراعات لینے والا اور 30ہزار ماہانہ کمانے یا 60ہزار میں سے اڑھائی فیصد ٹیکس کٹوانے والا سفید پوش کلرک برابر ہو سکتے ہیں۔ 2026ء میں ارکانِ اسمبلی نے ایک اور بل کے ذریعے اپنے اور اپنی اولادوں اور مستقبل میں اپنے سابق ہونے کے باوجود بلیو آفیشل پاکستانی پاسپورٹ کا حق محفوظ کر لیا ہے۔ یہ سب ترجیحات کا حوالہ ہے۔
ایڑیاں رگڑ رگڑ کر زندہ درگور ہونا موت سے کہیں بڑا صدمہ ہے۔ڈرگ مافیا کی سرغنہ انمول عرف پنکی کی دبنگ انٹری ہمیں نہ صرف چونکا گئی ہے بلکہ بہت کچھ سمجھا بھی گئی ہے مگر یہاں سمجھنے والا کوئی نہیں تاہم تیرہ برس سے باخبر ہو کر بے خبر بنے رہنے والے حکمرانوں‘ افسروں اور سیاستدانوں کی بھی خبر لی جانی چاہیے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں