یورپ کئی دہائیوں سے مصلحتاً امریکہ کا پچھو لگ اور لائی لگ بنا ہوا تھا‘ مگر اب گزشتہ چند برسوں سے ضمیرِ مغرب بڑی حد تک بیدار ہو چکا ہے۔ یورپ کی اس بیداری میں موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بالواسطہ کردار ہے۔ ٹرمپ خود عہد شکن اور انسانیت کش سفاک قاتل نیتن یاہو کا پشتیبان بنا ہوا ہے۔ ٹرمپ کو صراط مستقیم دکھانے کے لیے یورپ کے جس قائد نے بھی بات کی اسے امریکی صدر نے نہایت درشتی سے جواب دیا۔ مرزا اسد اللہ غالب ٹرمپ جیسے لوگوں کے بارے میں بہت پہلے کہہ گئے ہیں:
گرمی سہی کلام میں لیکن نہ اس قدر
کی جس سے بات اس نے شکایت ضرور کی
یورپ کے کس کس لیڈر کا نام لیا جائے کہ جس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے زبانی کلامی یلغار نہ کی ہو۔ جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے ایران کے خلاف ٹرمپ کی جارحیت کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔ اس کے جواب میں ٹرمپ نے یورپ کے دفاع سے دستبرداری کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ جرمنی سے پانچ ہزار امریکی فوجیوں کو واپس بلا رہا ہے۔ اس نے یورپ کو اسلحہ کی ترسیل میں تاخیر کا اعلان بھی کیا ہے۔ ان دھمکیوں کے جواب میں جرمن چانسلر نے کہا کہ یورپ کو اپنے دفاع کیلئے اپنے قدموں پر کھڑا ہونا پڑے گا۔ اسی طرح ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے بھی کمال جرأت سے کام لیتے ہوئے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کے بارے میں روزِ اوّل سے پختہ مؤقف اختیار کر رکھا تھا۔ ان کا موقف تھا ''No to War‘‘۔ سپین نے اپنے ملک کے عسکری ہوائی اڈے امریکہ کو استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ اس انکار پر ٹرمپ لال پیلا ہوا اور اس نے کہا کہ ہم نیٹو سے سپین کی رکنیت معطل کروا دیں گے۔ ہسپانیہ کے اس وزیراعظم نے کہا کہ ہرچہ بادا باد۔ اس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی اور امریکی قتل و غارت گری کے خلاف ہمارے نقطۂ نظر اور طرزِ عمل میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ اور ایسا ہی ہے تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کی اس جارحانہ و ظالمانہ پالیسی کے خلاف یورپ کی سیاسی و سفارتی مزاحمت کی سب سے بڑی چیمپئن بن کر ابھرے والی اٹلی کی پہلی خاتون وزیراعظم جارجیا میلونی ہے۔ انہوں نے غزہ میں نیتن یاہو کی فلسطینی نسل کشی کی شدید مذمت کی اور اٹلی کے اسرائیل کے ساتھ 2003ء سے جاری دفاعی تعاون کے معاہدے کی تجدید کو معطل کر دیا۔ اطالوی وزیراعظم نے امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات کے باوجود ٹرمپ کی ایران پر مسلط کردہ جنگ کی بھی مذمت کی اور سیاسی‘ سفارتی اور تزویراتی کسی طرح سے بھی امریکہ کی حمایت کرنے سے اجتناب کیا ۔ اٹلی نے ایران کے خلاف امریکی بمباری و گولہ باری کو بین الاقوامی قانون کی ترین خلاف ورزی قرار دیا اور خطے میں امن و سلامتی کے لیے گفت و شنید اور مذاکرات کو ہی واحد حل قرار دیا۔ جب کچھ امریکی اہلکاروں نے اطالوی وزیراعظم پر تنقید کی تو اٹلی کے چیمبر آف ڈپٹیز (پارلیمنٹ) میں وہاں کی اپوزیشن لیڈر ریلی شلین نے جارجیا میلونی کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا ثبوت دیا۔ اس نے اطالوی وزیراعظم کی حمایت میں خطاب کیا۔
ایران کے خلاف امریکی جارحیت کی مذمت اطالوی وزیراعظم کا ذاتی مؤقف نہیں بلکہ وہاں کی کابینہ اور پارلیمنٹ کی متفقہ خارجہ پالیسی ہے۔ اٹلی کی حکومت کے اس مؤقف کی اٹلی کے سیاستدانوں اور عوام نے بھرپور حمایت کی ہے۔ 56 فیصد اطالوی ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی حملوں کی شدید مخالفت کر رہے ہیں۔ اطالوی وزیراعظم جنگ کی ابتدا سے ہی امریکہ پر تنقید کر رہی تھیں کہ بین الاقوامی قواعد وضوابط سے ماورا ہو کر دوسرے ملکوں پر حملوں کے نہایت خطرناک اور سنگین نتائج نکلتے ہیں۔ اٹلی کو ایران کے بارے میں کچھ تحفظات بھی تھے مگر انہوں نے اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے سے انکار کیا۔ اطالوی وزیراعظم نے یوکرین پر روسی حملے کی بھی مذمت کی۔ اس پرروسی میڈیا نے اطالوی وزیر اعظم پر کڑی تنقید کی۔
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے بھی امریکہ ایران جنگ کے بارے میں متوازن پالیسی اختیار کرتے ہوئے امریکہ اوراسرائیل کی ایران پر مسلط کردہ جنگ کی حمایت نہیں کی اور انہوں نے کسی بھی انداز سے اس جنگ میں امریکہ یا اسرائیل کا ساتھ دینے سے انکار کیا۔ اگرچہ خلیج میں ایران کی پالیسی کے بارے میں میکرون کو بہت سے تحفظات تھے تاہم انہوں نے روزِ اوّل سے علی الاعلان یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ جنگ کے شعلوں کو ہوا دینے کے بجائے امن مذاکرات پر فریقین کو زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ فرانسیسی صدر خلیج فارس میں امریکی ناکہ بندی کو بھی خطے کے امن کیلئے خطرناک سمجھتے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر فریقین میں جنگ شدت اختیار کرتی ہے تو یہ خطے کیلئے ہی نہیں عالمی امن کیلئے بھی خطرہ ہے۔ فرانسیسی صدر نے ایران کے خلاف امریکی جنگ کے بعض پہلوؤں پر کھل کر تنقید کی مگر مکمل طور پر امریکہ کی مخالفت بھی نہیں کی۔ اس متوازن پالیسی کے باوجود فرانس نے ایران کے خلاف امریکی جنگ میں کسی بھی طرح کی شرکت سے اجتناب کیا ہے۔ فرانس نے ایک سنجیدہ پالیسی اختیار کرتے ہوئے جنگ بندی پر زور دیا ہے۔ فرانس اس جنگ کو یورپ کے اقتصادی استحکام کیلئے بہت بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔ مختصراً ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ فرانس نے امنِ عالم کو ترجیح قرار دیتے ہوئے درمیانی راستہ اپنایا ہے۔
فرانسیسی صدر اور دیگر یورپی قائدین نے امریکی صدر کو اس بات پر بھی نشانۂ تنقید بنایا ہے کہ انہوں نے نیٹو کے فورم پر اپنے یورپی اتحادیوں سے جنگ شروع کرنے سے پہلے کوئی مشاورت نہیں کی تھی۔ جرمن چانسلر نے صدر ٹرمپ سے سوال کیا ہے کہ انہوں نے ایران میں واضح اہداف والی کوئی پالیسی اختیار نہیں کی۔ جرمنی سے پانچ ہزار امریکی فوجیوں کو نکالنے پر بھی یورپی اتحادی صدر ٹرمپ سے ناخوش ہیں۔ سپین کے وزیراعظم نے تو ایران پر مسلط کی گئی جنگ کو غیرمعمولی غلطی قرار دیا ہے۔ یورپی قائدین اس بات پر بھی ڈونلڈ ٹرمپ سے برہم ہیں کہ وہ نیٹو کے ان ممبران کو سزا دینا چاہتے ہیں جنہوں نے ٹرمپ کی مسلط کردہ غیرقانونی و غیر اخلاقی جنگ کی حمایت نہیں کی۔ یورپی قائدین یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ تجارتی اور سیاسی دھمکیوں سے یورپ کو سبق سکھانا چاہتے ہیں‘ اس لیے انہوں نے ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نیٹو کے حوالے سے انہیں دھمکیاں دینے کا سلسلہ بند کریں۔ یہ بات اب عیاں ہے کہ حالیہ جنگ کے بعد نہ پہلے والا خلیج ہوگا اور نہ ہی امریکی سرپرستی والا یورپ۔ یورپی قائدین کے لب و لہجہ اور ان کے بیانات سے واضح ہے کہ اب یورپ اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کا فیصلہ کرے گا۔
تازہ ترین خبروں کے مطابق پاکستان کی ثالثی اور شٹل ڈپلومیسی کی بنا پر امریکہ اور ایران کے درمیان سلسلہ جنبانی قائم ہے۔ دوطرفہ تجاویز آ جا رہی ہیں۔ امریکہ و یورپ میں بالخصوص صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کا گراف بہت نیچے جا چکا ہے۔ آبنائے ہرمز کے بارے میں امریکہ یکطرفہ اقدام سے اجتناب کرے۔ امریکی صدر کو فیس سیونگ کا جو موقع مل رہا ہے اس سے فائدہ اٹھائیں۔ ایشیا اور یورپ ہی نہیں ساری دنیا کی معیشت جاں بلب ہے۔صدر ٹرمپ امریکی اور یورپی آوازِ خلق پر کان دھریں اور عالمی امن و سکون برباد کرنے سے اجتناب کریں۔