ستاروں پر کمند ڈالنے والے جوان

اللہ تبارک و تعالیٰ ان دنوں اس خطے بالخصوص پاکستان پر بہت مہربان ہیں۔ اسی لیے ہر روز مرشد اقبالؒ کا کوئی نہ کوئی خواب شرمندۂ تعبیر ہو جاتا ہے۔ مرشد کا ایک خواب یہ بھی تھا کہ
گراں خواب چینی سنبھلنے لگے
چینی سنبھلنے ہی نہیں لگے بلکہ مثالی انداز میں سنبھل چکے ہیں اور ساری دنیا کے سامنے اپنا امن پسند قوت اور معیشت کا قابلِ تقلید نمونہ پیش کر چکے ہیں۔ زمین کے قریب ترین سیارچے چاند پر انسان کے اترنے کی کہانی تو اب پرانی ہو چکی ہے۔ اب خلا میں گھومتی ہوئی دوسری دنیاؤں اور کہکشاؤں کو مسخر کرنے کیلئے چین امریکہ و روس سے کہیں آگے نکلتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔ چین نے اپنے اگلے خلائی پروگرام کیلئے دو پاکستانی خلا بازوں کو بھی منتخب کیا ہے۔ یہ خبر پاکستان کیلئے باعثِ مسرت و انبساط ہونے کے ساتھ ساتھ باعثِ فخر بھی ہے۔ چینی خلائی سٹیشن پر دو میں سے ایک خلا نورد خلائی مشن پر جائے گا۔ یہ دونوں خوش قسمت اور بلند حوصلہ خلا باز اقبال کے شاہین اور پاکستان ایئر فورس کے ہوا باز ہیں۔ محمد ذیشان علی اور خرم داؤد۔ دونوں پاکستانی پائلٹس کو چین کی خلا باز سپیس ایجنسی نے منتخب کیا ہے۔ ان پاکستانی خلا نوردوں کی ایڈوانس تربیت خلا باز سنٹر آف چائنا (اے سی سی) بیجنگ میں ہو گی۔ جمعرات کے روز ان قابلِ فخر جوانوں نے وزیراعظم سے چینی سفیر کی موجودگی میں ملاقات کی۔ اب تک یہ دونوں ہوا باز خلا نورد بننے کیلئے بیجنگ روانہ ہو چکے ہوں گے۔ اس قابلِ فخر پروگرام کی ایک بہت بڑی افادیت و اہمیت یہ ہے کہ اب پاکستان کا خلائی ادارہ سپارکو سیٹلائٹس تک محدود رہنے کے بجائے چین کے تعاون کے ساتھ خلاؤں کے سفر پر اپنی حیثیت میں بھی جا سکے گا۔ پاکستان کیلئے یہ بہت بڑی خوشخبری ہے۔ چین پاکستان کے ساتھ دوستی و ہمسائیگی کے اعلیٰ ترین تقاضوں کے مطابق یہ رشتہ نبھا رہا ہے۔
امریکہ ایٹمی قوت اور خلائی تسخیر کو اپنی چودھراہٹ مزید مستحکم کرنے کیلئے استعمال کرتا ہے۔ امریکہ کا دعویٰ یہ ہے کہ میں اتنی بڑی قوت ہوں اس لیے ساری دنیا کو میرے سامنے سرنگوں ہونا چاہیے۔ اسی طرح انسانوں کی باہمی امن و سلامتی کیلئے کام کرنے والے اداروں کو بھی امریکہ پرِکاہ کی حیثیت نہیں دیتا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یو این او ہو یا سلامتی کونسل‘ عالمی عدالتِ انصاف ہو یا مسیحیوں کا پوپ‘ سب کو امریکی مرضی کے تابع ہونا چاہیے۔ اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں غزہ‘ لبنان اور ایران میں ساری تباہی و بربادی امریکہ براہِ راست یا اسرائیل کے ذریعے کر رہا ہے۔
امریکہ کو ایٹم بم ملا تو اس نے اسے ہیروشیما اور ناگاساکی پر گرانے میں دیر نہیں لگائی۔ کل اس کی دسترس میں کوئی بہت بڑی خلائی تسخیر آ جاتی ہے تو وہ اسے اپنے رعب و دبدبے میں اضافے کیلئے ہی استعمال کرے گا۔ اس کے برعکس چین کی اعلانیہ پالیسی یہ ہے کہ ایٹمی و سائنسی ترقی کی طرح وہ خلاؤں کی تسخیر کو ساری دنیا کی فلاح و بہبود کیلئے استعمال کرنے کا مشن رکھتا ہے۔ چین اسی پروگرام پر عمل پیرا ہے۔ وہ سیاروں اور ستاروں کی تسخیر اور اس سے حاصل ہونے والے فوائد کو ساری دنیا کا مشترکہ اثاثہ سمجھتا ہے۔ جو پاکستانی خلا باز چین کے تعاون سے خلا میں جائے گا‘ وہاں وہ کئی طرح کے سائنسی تجربات‘ خاص طور پر کششِ ثقل کے بارے میں تحقیق کرے گا۔ چاند پر ہماری زمین کی نسبت کشش چھ گنا کم ہے۔ اسی طرح باقی خلائی مقامات پر کیا صورتحال ہو گی‘ اسی کا اندازہ کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ بعض نہایت اہم نوعیت کی سائنسی تحقیقات بھی کی جائیں گی۔ اس تحقیق سے نتائج بھی ترتیب دیے جائیں گے تاکہ ان کی روشنی میں زمین پر مختلف سائنسی مراکز اور ریسرچ سنٹرز میں خلاؤں کی لامتناہی دنیاؤں کے بارے میں زیادہ سے زیادہ آگہی حاصل کی جا سکے۔
منگل کے روز امریکی خلائی مرکز ناسا نے ایک نئی ٹیلی سکوپ کی نقاب کشائی کی ہے۔ اس ٹیلی سکوپ کے خلا میں جانے سے ایک ایسی کھڑکی کھل جائے گی جس کے ذریعے ہزارہا نئے سیارے اور ہمارے سولر سسٹم سے باہر لاکھوں نہیں بلکہ اربوں دنیائیں بڑے واضح وژن کے ساتھ سامنے آ جائیں گی۔ تاریک دنیائیں بھی دیکھی جا سکیں گی۔ کروڑوں نوری سال کی دوری سے چلی ہوئی یہ شعاعیں اب خلا میں پہنچ رہی ہیں۔ آج خلائی سائنس ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر لحظہ یہ کائنات پھیلتی بھی جا رہی ہے اور منکشف بھی ہوتی جا رہی ہے۔ دیکھیے اقبال نے قرآن میں غوطہ زن ہو کر کتنی بڑی حقیقت کو کتنے واضح اسلوب میں بیان کر دیا تھا: یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید؍ کہ آ رہی ہے دمادم صدائے کن فیکون
اوپر ہم نے جس امریکی ٹیلی سکوپ کا ذکر کیا ہے اسے نینسی گریس رومن کا نام دیا گیا ہے۔ 1925ء کو اس دنیا میں وارد اور 2018ء میں سوئے عدم روانہ ہونے والی نینسی ناسا کے شعبۂ فلکیات کی چیف تھی۔ نینسی نے ہبل نامی خلائی ٹیلی سکوپ بنائی تھی۔ یہ ٹیلی سکوپ اس کی کئی دہائیوں پر پھیلی ہوئی شبانہ روز محنت کا ثمر تھی۔ انہی بنیادوں پر کام کو آگے بڑھاتے ہوئے خلاؤں کیلئے ہبل سے سو گنا بہتر جو ٹیلی سکوپ بنائی گئی ہے اس پر چار ارب ڈالر کی لاگت آئی ہے۔ نئی ٹیلی سکوپ کو نینسی رومن کے نام سے پکارا جانا اس خاتون ماہرِ فلکیات کی خدمات کا اعتراف ہے۔
مرشد اقبالؒ کا سب سے بڑا خواب اسلام کی عظمتِ رفتہ کی واپسی ہے۔ تبھی تو انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ:
کبھی اے نوجواں مسلم! تدبر بھی کیا تُو نے
وہ کیا گردوں تھا تُو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا
سپین میں مسجدِ قرطبہ کی زیارت کے موقع پر اقبال نے یہاں پر مسلمانوں کی شان و شوکت اور ان کی علمی و تحقیقی عظمت کو یاد کر کے کہا تھا: آبِ روانِ کبیر تیرے کنارے کوئی؍ دیکھ رہا ہے کسی اور زمانے کا خواب
ماضی کو یاد کرکے علامہ اقبالؒ مستقبل کا سنہری خواب دیکھ رہے تھے۔ اقبال کے نقوشِ پا تلاش کرتا ہوا یہ طالب علم اپنی بیگم رخسانہ کے ساتھ مسجدِ قرطبہ سپین جا پہنچا۔ وہاں ہمیں دو رکعت نفل ادا کرنے کی توفیق عطا ہوئی۔ ''ایں سعادت بزورِ بازو نیست‘‘۔
امریکہ نے دنیا کو گلوبل ویلیج کا نعرہ تو دیا ہے مگر اس نے تباہ کن ہتھیار بنا کر اس ''عالمی گاؤں‘‘ کا امن‘ چین اور سکون تباہ و برباد کر دیا ہے۔ اب موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کرکے ایک طرف ایران کی معیشت کا گلا گھونٹنا چاہتا ہے اور دوسری طرف موجودہ امریکی پالیسی نے اژدھا بن کر ساری دنیا کی اقتصادیات کو ہڑپ کر رکھا ہے اور یورپ و ایشیا بلکہ امریکہ میں بھی لوگ ہولناک مستقبل کے بارے میں سوچ کر نہایت مضطرب و پریشان ہیں۔ اب نئی خلائی تسخیر سے انسانیت کو امریکہ سے خیر کی امید نہیں البتہ مزید شر کا خدشہ ہے۔ علامہ اقبالؒ نے سچ ہی تو کہا تھا کہ
ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزرگاہوں کا
اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا
آج خلدِ بریں میں اقبالؒ کو جب ستاروں پر کمند ڈالنے والے پاکستانی مسلم خلا نوردوں محمد ذیشان علی اور خرم داؤد کی تسخیرِ کائنات کے سفر پر روانگی کی خبر ملی ہو گی تو انہیں کتنی خوشی ہوئی ہو گی۔ ایسے جوانوں کے بارے میں ہی مرشد نے فرمایا تھا:
محبت مجھے اُن جوانوں سے ہے؍ ستاروں پر جو ڈالتے ہیں کمند

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں