معرکۂ حق کے بعد والا پاکستان

قارئین کو گزشتہ سال کے واقعات تھوڑی سی ترتیب سے یاد دلا دوں تاکہ ہمارے خطے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو بآسانی سمجھا جا سکے۔ 22 اپریل 2025ء کو مقبوضہ کشمیر کی ایک سرسبز و شاداب وادی پہلگام میں دہشت گردی کا ایک واقعہ ہوا جس میں 26 سیاح ہلاک ہو گئے جس کا الزام بھارت نے پاکستان پر عائد کر دیا۔ پاکستان نے اس واقعے کی پُرزور مذمت کی اور بھارتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کسی بھی عالمی فورم جیسے سلامتی کونسل‘ یو این او یا عالمی عدالتِ انصاف وغیرہ سے اس کی تحقیقات کرا لے‘ مگر بھارت نے حسب ِسابق صرف الزام تراشی پر اکتفا کیا۔ پاکستان پوری طرح تیار تھا کہ اب بھارت پاکستان پر حملے کرے گا۔ پھر ایسا ہی ہوا۔چھ اور سات مئی 2025ء کی درمیانی رات بھارت نے پاکستان میں مساجد‘ مدارس اور عام شہریوں کے گھروں پر بمباری کی۔ ان حملوں کے نتیجے میں 31پاکستانی شہید ہوئے۔ پاکستان ایئر فورس نے بلاتاخیر بھارتی جنگی جہازوں کو جواب دیا اور دشمن کے آٹھ جہازوں کو مار گرایا۔ پاکستان کو کامیابی نصیب ہوئی جبکہ بھارت بدترین ہزیمت سے دوچار ہوا۔ یہ بھی ذہن میں تازہ کر لیں کہ 10مئی 2025ء کو پاکستان نے آپریشن بنیانٌ مرصوص کے تحت بھارت کی فوجی تنصیبات پر بھرپور حملے کیے۔ ماڈرن سائبر وار فیئر کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے پاور گرڈ اور بھارت کی حکومتی ویب سائٹس پر حملے کیے جن سے بھارت اور اس کا آپریشن سندور عملاً جام ہو گئے۔ پاکستان کے غیرمتوقع حملوں سے بھارت بدحواس ہو گیا اور منہ سے شعلے اگلنے والے نریندر مودی نے امریکہ سے سیز فائر کروانے کی درخواست کی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے دو ایٹمی قوتوں کے ٹکراؤ کو عالمی امن کیلئے شدید خطرہ سمجھتے ہوئے فوراً جنگ بندی کروا دی۔
بھارتی جارحیت کے خلاف ایک طرف پاکستان کی فضائی اور آئی ٹی برتری قائم ہوئی اور دوسری طرف پاکستان کے بارے میں دہشت گردی کے تاثر کا یکسر خاتمہ ہو گیا۔ پہلے دنیا بھارت کے الزامات کو تسلیم کر لیتی تھی مگر معرکۂ حق کے بعد دنیا نے بھارت کی کذب بیانی اور افترا پردازی کو یکسر مسترد کر دیا۔ اس کے بعد کئی ممالک نے پاکستان سے سکیورٹی فراہم کرنے والی قوت کے طور پر رجوع کر لیا۔ سب سے پہلے ہمارے برادر ملک سعودی عرب نے پاکستان سے ایک دفاعی معاہدہ کیا۔ پاکستان جنوبی ایشیا‘ سینٹرل ایشیا اور مغربی ایشیا کے سنگم پر واقع ہے۔ ان سب ممالک نے اپنے دفاع کیلئے پاکستان کی طرف ایک طاقتور‘ مخلص اور بااعتماد ساتھی کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا۔ یہاں اہم سوال یہ بھی ہے کہ مئی 2025ء کے معرکۂ حق سے خطے میں کیا تبدیلیاں آئی ہیں؟ سب سے پہلی تبدیلی تو یہ آئی کہ پاکستان کے ہاتھوں بھارت کا جو حشر ہوا اس کے بعد علاقے میں اس کی چودھراہٹ کا خواب چکنا چور ہو گیا۔ بھارت جنوبی ایشیا کا اپنے آپ کو تھانیدار سمجھتا تھا۔ وہ برسوں سے یہی کوشش کر رہا تھا کہ اس خطے کے سارے ممالک اس سے دب کر رہیں۔ اس کے اسی رویے کی بنا پر خطے کے تمام ممالک بھارت سے نالاں تھے‘ لیکن پاکستان نے اس کی علاقائی برتری کا خواب چکنا چور کر دیا۔
پاکستان کو معرکۂ حق سے کیا ملا؟ مئی 2025ء کے بعد نہ صرف بھارت بلکہ ساری دنیا کو یہ پیغام چلا گیا کہ پہلے پاکستان کی آرمی اور ایئر فورس کی ساری دنیا میں دھوم تھی‘ اب دنیا کو یہ بھی باور ہو گیا کہ پاکستان کا ماڈرن وار فیئر میں بھی کوئی ثانی نہیں اور بھارتی ہزیمت نے یہ ثابت کر دیا کہ اس میدان میں بھارت پاکستان سے بہت پیچھے ہے۔ ساری دنیا پر یہ بھی عیاں ہو گیا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بھارت مسلسل جھوٹ بولتا چلا آ رہا ہے کہ پاکستان سے دہشت گردی کی جاتی ہے۔ اب ایک سال بعد بھی بھارت پہلگام دہشت گردی سے متعلق ایک ثبوت بھی پیش نہیں کر سکا کہ اس میں پاکستان کا کہیں دور دور تک کوئی دخل تھا۔ بھارت کے خلاف پاکستان کی عسکری برتری کے بعد اس کی خطے میں ہی نہیں ساری دنیا میں سفارتی حیثیت بہت مضبوط ہو گئی ہے۔ جس طرح امریکہ اور ایران نے اپنی جنگ بندی کیلئے پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اس سے عالمی کمیونٹی میں پاکستان کا مقام و مرتبہ بہت بلند ہوا ہے۔ معرکۂ حق کے بعد پاکستانی قوم کو بھی ایک نیا اعتماد اور حوصلہ ملا ہے۔ اب پاکستانی قوم پر بھارت کا کوئی جھوٹا سچا رعب اور دبدبہ نہیں۔ اب اہلِ پاکستان کو حق الیقین کا تحفہ ملا ہے کہ وہ جنگ کے روایتی‘ فضائی‘ بحری اور جدید وار فیئر سمیت ہر شعبے میں بھارت کو دھول چٹا سکتے اور اس کے غرور و تکبر کو خاک میں ملا سکتے ہیں۔ پاکستانی قوم وزیراعظم شہباز شریف‘ فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی عسکری و سفارتی حسنِ کارکردگی کے دل و جان سے مداح ہیں۔
معرکۂ حق سے بھارت نے کوئی مثبت سبق سیکھا ہے؟ کیا اتنی بڑی ہزیمت سے دوچار ہونے کے بعد بھارت کے اندر حقیقت پسندی کا عنصر آیا ہے یا نہیں؟ بادیٔ النظر میں ان دونوں سوالوں کا جواب نفی میں ہے۔ نریندر مودی نے اپنی خوئے بد کو چھوڑنا تو دور کی بات اس پر نظرثانی کی ضرورت تک محسوس نہیں کی۔ حال ہی میں نریندر مودی نے جس طرح سے مغربی بنگال میں انتخابی دھاندلی کی ہے اس سے بھارت کی جمہوری شہرت بہت داغدار ہوئی ہے۔ مغربی بنگال میں الیکشن جیتنے کیلئے بی جے پی نے ہر جمہوریت کش حربہ استعمال کیا۔ مغربی بنگال میں آل انڈیا ترنمول کانگریس کی ممتا بینر جی 2011ء سے وہاں کی وزیراعلیٰ چلی آ رہی تھیں۔ ان کی جیت کا راز وہاں کی 27 فیصد مسلم اور 23 فیصد دلت آبادی میں مضمر تھا۔ شہریت ایکٹ 2019ء کے ذریعے لاکھوں مسلمانوں کی شہریت منسوخ کی گئی جو باقی بچے ان کے نام ووٹر لسٹوں سے خارج کر دیے گئے۔ اس پر ممتا بینر جی نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا مگر وہاں بھی اُنکی شنوائی نہیں ہوئی۔ اسی طرح الیکشن کمیشن آف انڈیا بھی پری پولنگ اور ووٹنگ کے دوران ہونیوالی دھاندلی کو نہ روک سکا۔ مغربی بنگال میں آر ایس ایس کے غنڈے مسلمانوں اور دلتوں پر حکومتی سرپرستی میں حملے کرتے ہیں۔ نریندر مودی ملک کے اندر مسلم‘ مسیحی اور دلت اقلیتوں اور پڑوسی ملکوں میں انتہائی غیرمقبول ہو چکے ہیں۔
مئی 2025ء کی ہزیمت کے بعد خطے کے سارے ممالک سکیورٹی اور تحفظ کیلئے بھارت کی طرف نہیں‘ پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ آج بھارت ساری دنیا میں تنہا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان پر اللہ کا فضلِ خاص ہے۔ امریکہ اس پر مہربان‘ چین راز دان اور روس بھی قدر دان ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ جنگ میں امریکہ اور ایران دونوں نے پاکستان کو ثالث تسلیم کیا ہے۔ پاکستان نہایت اخلاص اور سفارتی ہنر مندی کے ساتھ اس فرض کو نبھا رہا ہے۔ امکانات یہی ہیں کہ آئندہ چند دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان مستقل اور پائیدار امن کا معاہدہ طے پا جائے گا۔ پاک بھارت جنگ اور پھر ایک سال کی مسلسل کشیدگی کے دوران بھارتی میڈیا کے ایک بڑے حصے نے نہایت غیر ذمہ دارانہ کردار ادا کیا اور دروغ گوئی کے وہ ریکارڈ قائم کیے جن کو بی بی سی‘ سی این این اور الجزیرہ جیسے معتبر چینلز نے یکسر مسترد کر دیا۔ بی جے پی کے ہی ایک سابق‘ شاعر وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے کہا تھا:ہم نے چھیڑی جنگ بھوک سے بیماری سے؍ آگے آ کے ہاتھ بٹائے دنیا ساری؍ ہری بھری دھرتی کو خونی رنگ نہ لینے دیں گے؍ جنگ نہ ہونے دیں گے
نریندر موی کی سوچ واجپائی کے الٹ‘ خون خرابے اور تباہی و بربادی والی ہے۔ اب بھارتی دانشور اور وہاں کی پارلیمنٹ فیصلہ کر لے کہ انہوں نے نریندر مودی کو خوں آشامی سے روکنا ہے یا بھارت کے غریب عوام کو مزید بدحالی و تباہی سے دوچار کرنا ہے۔ بھارت کو یہ ادراک بھی کر لینا چاہیے کہ معرکۂ حق کے بعد والا پاکستان بھارت کے مقابلے میں وسائل کی کمی کے باوجود بہت بڑی قوت اور ساری دنیا کا منظورِ نظر بھی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں