آج کا عظیم دن

ایسا حسنِ اتفاق شاذ و نادر ہی ہوتا ہے کہ چاند کے اعتبار سے سارے عالمِ اسلام میں عیدالفطر یا عیدالاضحی ایک ہی دن ہو۔ اس بار ساری دنیا میں ذوالحج کی تاریخیں یکساں ہیں۔ لہٰذا 27 مئی کو سارے جہاں میں عیدالاضحی منائی جائے گی۔
آج 26 مئی کو میدانِ عرفات کی فضائیں لبیک اللھم لبیک لبیک لاشریک لک لبیک کی صداؤں سے گونج رہی ہیں۔ حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں‘ تیرا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں۔ اس صدائے حاضری کی لذت اور کشش ایسی ہے کہ جسے محسوس تو کیا جا سکتا ہے مگر بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اللہ نے مجھے تقریباً تین چار دہائیاں قبل بارہا حج کی سعادت بخشی تھی۔ تب ارضِ مقدس میں مقیم لوگوں کو اپنی گاڑیوں کے ذریعے حج کرنے کی سہولت حاصل تھی۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ لبیک اللھم لبیک کے نغمۂ بے خودی میں کچھ ایسی کشش ہے کہ آج بھی حجاج کرام کی کو سکرین پر میدانِ عرفات میں یہ صدائے حاضری و حضوری بلند کرتے سنتا ہوں تو دلِ بیتاب تڑپ اٹھتا ہے اور جی چاہتا ہے کہ اُڑ کر وہاں پہنچوں اور لبیک اللھم لبیک کی گونج میں اپنی صدا بھی شامل کر دوں۔ عرفات میں ہی جبل الرحمت ہے جہاں کھڑے ہو کر محسنِ انسانیتﷺ نے آخری حج کے موقع پر خطبۃ الوداع پیش کیا تھا۔ حج کے منظر نامے کی ایک جھلک دیکھ لیجیے۔ اس بار فریضۂ حج کی ادائیگی کیلئے باہر سے تقریباً 16 لاکھ عازمین حج حاضر ہوئے ہیں جبکہ تقریباً دو لاکھ کی تعداد مقامی سعودی اور وہاں مقیم غیرملکی باشندوں کی ہے۔ اس بار حجاج کے تحفظ کیلئے سعودی وزارتِ دفاع نے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔
خانۂ کعبہ سے وادیٔ منیٰ کا فاصلہ تقریباً آٹھ کلو میٹر ہے۔ منیٰ کو عارضی خیمہ بستی بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں حجاج کرام آٹھ ذوالحج کے روز پہنچتے اور وہاں شب بھر قیام کرتے اور نو ذوالحج کے روز علی الصباح میدانِ عرفات کیلئے روانہ ہو جاتے ہیں۔ منیٰ سے عرفات کا فاصلہ تقریباً بارہ کلو میٹر ہے۔ وہاں سے نو ذوالحج کے روز حجاج کرام غروبِ آفتاب کے فوراً بعد میدانِ مزدلفہ کیلئے واپسی اختیار کرتے ہیں۔ عرفات سے مزدلفہ تقریباً نو کلو میٹر دور ہے۔ 10ذوالحج کو حجاج کرام مزدلفہ سے واپس منیٰ آ جاتے ہیں جو وہاں سے تقریباً پانچ کلو میٹر کی مسافت پر واقع ہے۔ آج وحدتِ ملت کا پُرکیف نظارہ ایک خاص لطف دے رہا ہے۔ مسلمانانِ عالم دہائیوں سے نہیں بلکہ کئی صدیوں سے اتحادِ امت کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں اور اس کیلئے نغمے بھی الاپ رہے ہیں۔ مرشد اقبال نے بڑے جذب و سوز سے کہا تھا:
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر
اس وحدتِ امت کیلئے مختلف ادوار میں کوششیں ہوئی ہیں۔ مگر ہر بار ایسا ہی محسوس ہوا کہ بقول فردوسی: نشستند و گفتند و برخاستند سے بات آگے نہیں بڑھی۔ گزشتہ ڈیڑھ دو برس سے صہیونی اسرائیل نے غزہ کے فلسطینیوں پر بم برسائے‘ ہزاروں کو شہید کیا اور لاکھوں بچوں کو خاک و خون میں تڑپایا۔دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل نے ایرانیوں پر شب و روز بمباری کی۔ غیروں نے سازشوں کے ذریعے مسلمانوں کو آپس میں لڑانے اور مسالک کے اختلافات کو ہوا دے کر باہم دست و گریباں کرانے کی کوششیں بھی کیں۔ مگر اس بار ایران کے شیعہ اور خلیج کے سنی ان سازشوں اور سازشیوں کو اچھی طرح پہچان گئے اور صہیونیوں کے دام میں گرفتار ہونے سے محفوظ رہے۔ پاکستان نے بھی رات دن کی بھاگ دوڑ سے وحدتِ امت میں کسی طرح کی دراڑیں نہیں پڑنے دیں۔ پاکستان کے عسکری اور سیاسی قائدین کی شٹل ڈپلومیسی‘ ایران کے متعدد دورے اور دوطرفہ ملاقاتیں رنگ لے آئی ہیں‘ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کے صبح شام بدلتے ہوئے مزاج کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا مشکل ہے۔ وقوفِ عرفات حج کا رکنِ اعظم ہے۔ یقینا میدانِ عرفات میں حجاج کرام خطے میں امن کے قیام اور امریکہ ایران معاہدے کی کامیابی کیلئے بھی دست بدعا ہوں گے۔ اگر توقعات کے مطابق معاہدے کے بعد سعودی عرب‘ ایران‘ پاکستان اور ترکیہ کا عملی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ اتحادِ امتِ مسلمہ کی طرف بہت بڑی پیشرفت ہوگا۔ آج میدانِ عرفات میں دنیا بھر کی قوموں سے تعلق رکھنے والوں کا ایک عظیم اجتماع حیران کن ہے۔ لاکھوں حجاج کرام یکجہتی کے ساتھ‘ ہم خیالی و ہم آہنگی کے ساتھ‘ پاک جذبات اور پاک اعمال کے ساتھ یکسو اور یک رُو ہو کر ربّ ذوالجلال کے سامنے سر بسجود ہیں۔ یقینا امتِ مسلمہ کا یہ عظیم الشان اجتماع اتحادِ امت اور امن و استقرار کیلئے گڑ گڑا کر دعائیں کرے گا تو ربِ کائنات اُن کی دعاؤں کو شرفِ قبولیت بخشے گا۔
نو ذوالحج دس ہجری کو محسنِ انسانیتﷺ نے میدانِ عرفات کے جبل الرحمت پر کھڑے ہو کر اپنے آخری خطبے میں انسانیت کا منشور پیش کیا تھا۔ اولادِ آدم کی مساواتِ انسانی کا اعلان کرتے ہوئے اللہ کے آخری نبیﷺ نے فرمایا کہ کسی عرب کو کسی عجمی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں اور نہ کسی عجمی کو کسی عرب پر‘ نہ کالا گورے سے افضل ہے اور نہ گورا کالے سے۔ ہاں! بزرگی اور فضیلت کا کوئی معیار ہے تو وہ تقویٰ ہے۔ آپﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ انسان سارے ہی آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے بنائے گئے۔ آپﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ لوگو! تمہارے خون و مال اور عزتیں ہمیشہ کیلئے ایک دوسرے پر قطعاً حرام کر دی گئی ہیں۔ اللہ کے رسولﷺ نے ریاست کے حقوق‘ قانون کی حکمرانی‘ اللہ کی طرف سے انسانوں پر عائد کردہ حقوق و فرائض اور ہر کسی کیلئے انصاف کے حق کا اعلان کیا۔ آج ایک بار پھر دنیا کی ایک بڑی طاقت عدل و انصاف‘ تہذیب و تمدن اور آسمانی و زمینی اخلاقیات کو پس پشت ڈال کر پتھر کے زمانے میں انسانیت کو دھکیلنے پر تلی ہوئی ہے۔ ایسے حالات میں کرہّ ارض کے دو ارب مسلمانوں پر یہ فریضہ عائد ہوتا ہے کہ وہ بڑی طاقتوں‘ عالمی عدالتوں‘ سیاست کے ایوانوں اور ساری دنیا کے انسانوں کو یہ باور کرائیں کہ تقریباً آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے ہادیٔ اعظمﷺ نے انسانیت کے حقوق و فرائض متعین کئے تھے۔ آج امتِ مسلمہ کے حکمرانوں‘ دانشوروں‘ سفارتکاروں اور صحافیوں کا فرض ہے کہ وہ من مانی کرنے والے جابر حکمرانوں کو باور کرائیں کہ دوسرے ملکوں پر چڑھ دوڑنے اور وہاں کشت و خون کا بازار گرم کرنے کا ظالمانہ مشغلہ ختم کریں۔
مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودی نے لکھا تھا اور بارہا یہ حقیقت اپنے خطبات میں بھی بیان کی تھی کہ حکیم و دانا خالق دو جہاں نے ایسا بے نظیر انتظام کر دیا ہے کہ ان شاء اللہ قیامت تک اسلام کی عالمگیر تحریک مٹ نہیں سکتی۔ دنیا کے حالات خواہ کتنے ہی بگڑ جائیں مگر یہ کعبہ کا مرکز اسلامی دنیا کے جسم میں کچھ اس طرح رکھ دیا گیا ہے کہ جب تک دل حرکت کرتا رہے‘ آدمی مر نہیں سکتا۔ خواہ بیماریوں سے جسم کتنا ہی زار و نزار ہو جائے مگر جب تک دل کا مرکز قائم ہو جسم بھی کام کرتا رہتا ہے۔ آج آپ ٹیلی ویژن پر بچشم خود نظارہ کریں گے کہ دنیا کے کونے کونے سے اپنے مرکز کی طرف آئے ہوئے مسلمانوں کے رنگ مختلف‘ اُن کی شکلیں مختلف‘ اُن کی زبانیں مختلف مگر اُن کا دو چادروں پر مشتمل ایک ہی یونیفارم ہے۔ سب کا ایک قبلہ اور سب اللہ اکبر کے حکم پر رکوع و سجود کرتے ہیں۔ آج تقریباً اٹھارہ لاکھ حجاج کرام اپنی جبین نیاز میں تڑپتے ہوئے سجدوں کو میدانِ عرفات کی مٹی کے ذریعے ربِ ذوالجلال کے دربار میں پیش کر رہے ہیں۔
آج یوم عرفہ ہے‘ امتِ مسلمہ کے سالانہ عظیم الشان اجتماع کا دن ہے۔ آج ربِ ذوالجلال کی شانِ کبریائی کا دن ہے۔ آج محمد مصطفیﷺ کے عرفات میں ارشاد کردہ خطبے کی ساری دنیا کو یاد دہانی کا دن ہے۔ آج عظیم دن ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں