ساڑھے سات دہائیوں پر مشتمل پاک چین تعلقات میں یہ سوال بہت اہمیت کا حامل ہے کہ دو طرفہ تجارت میں پاکستان کا حصہ کیا ہے؟ سادہ الفاظ میں اسے یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان چین سے درآمد تو بہت کچھ کرتا ہے مگر چین کو برآمد کیا کرتا ہے؟ اس سوال کے ضمن میں عام تاثر یہ ہے کہ ایک عالمی معاشی طاقت‘ جو پوری دنیا کو مصنوعات اور ٹیکنالوجی سپلائی کرتی ہے‘ اسے پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک سے بھلا کیا مل سکتا ہے۔ لیکن بین الاقوامی معاشیات کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ کوئی بھی ملک خواہ وہ کتنا ہی خودکفیل اور ترقی یافتہ کیوں نہ ہو‘ ہر چیز میں خودکفیل نہیں ہو سکتا اسے دوسرے ممالک سے کسی نہ کسی چیز کی ضرورت رہتی ہے۔ چین اپنی توانائی کی ضروریات کیلئے خلیج اور ایران پر انحصار کرتا ہے۔ اسی طرح اپنی ڈیڑھ ارب کے قریب آبادی کی غذائی ضروریات پوری کرنے کیلئے سالانہ تقریباً 100 ارب ڈالر کی زرعی اشیا درآمد کرتا ہے۔ پاکستان بہترین زرعی نظام‘ نہری نیٹ ورک اور زرخیز زمین کا حامل ملک ہے‘ جو اگر جدید خطوط پر استوار ہو تو چین کی وسیع زرعی ضروریات کو پورا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے دورۂ چین میں اس سلسلے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وزیراعظم نے پاک چین بزنس ٹو بزنس انویسٹمنٹ فورم سے خطاب میں اس سوال کا عملی جواب فراہم کیا ہے۔ حکومت نے اگلے پانچ سے سات برس میں چین کے ساتھ زرعی تجارت کا حجم 10ارب ڈالر سالانہ تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ وزیراعظم کے دورۂ چین کے دوران دونوں ملکوں کی نجی اور سرکاری کمپنیوں کے مابین سات ارب ڈالر سے زائد کے تجارتی معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہوئے ہیں۔ وزیراعظم نے چینی کمپنیوں کو اپنی صنعتیں پاکستان منتقل کرنے کی دعوت دی ہے اور کراچی میں چھ ہزار ایکڑ پر محیط ورلڈ کلاس سپیشل اکنامک زون کے قیام کا اعلان کیا ہے‘ جہاں سرمایہ کاروں کو وَن ونڈو آپریشن اور ریڈ کارپٹ ٹریٹمنٹ کے ذریعے بیورو کریٹک رکاوٹوں سے پاک ماحول فراہم کیا جائے گا۔ یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان اب امداد یا قرضوں پر انحصار کرنے کے بجائے باہمی تجارتی فوائد کی بنیاد پر تعلقات استوار کر رہا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں تقریباً ہر دور میں حکومتوں نے فوری نوعیت کے بحرانوں سے نمٹنے کیلئے دوست ممالک اور عالمی مالیاتی اداروں سے قرضے لینے کی پالیسی اپنائی۔ مگر اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک بتدریج قرضوں کے ایسے جال میں پھنس گیا جہاں نئے قرضے پرانے قرضوں کی اقساط چکانے کیلئے لیے جانے لگے۔ اس پورے عمل میں یہ سٹریٹجک پلاننگ غائب رہی کہ ان قرضوں کو پیداواری شعبوں میں لگا کر کیسے لوٹایا جائے گا۔ تاہم موٹروے جیسے منصوبے ایک مثال ہیں جن کی تعمیر اگرچہ قرض سے ہوئی لیکن ان میں ٹول ٹیکس اور تجارتی سرگرمیوں کے ذریعے قرض اتارنے کا ایک خودکار اور پائیدار نظام موجود تھا۔ چند برسوں میں موٹروے نے نہ صرف اپنا قرض اتار دیا بلکہ آج یہ قومی اثاثہ اور معاشی محور بن چکی ہے کیونکہ بنیادی انفراسٹرکچر اور شاہراہوں کے نیٹ ورک کے بغیر کوئی بھی قوم ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتی۔ اسی مائنڈ سیٹ کے تحت چین نے سی پیک کے تحت پاکستان کو ایسے طویل مدتی اور تزویراتی منصوبے دیے جو ملک کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔ گوادر پورٹ کو فعال اور کامیاب بنانے کیلئے ملک کے طول وعرض میں اقتصادی زونز کا ایک جال بچھایا جا رہا ہے۔ سی پیک کا پہلا مرحلہ بنیادی طور پر توانائی اور سڑکوں کے نیٹ ورک کی تعمیر پر مشتمل تھا جبکہ اس کا دوسرا مرحلہ صنعتی ترقی‘ زرعی جدت اور خصوصی اکنامک زونز کے قیام پر مرکوز ہے۔ یہ وہ کٹھن لیکن ناگزیر راستہ ہے جس پر چل کر پاکستان اقتصادی طور پر خودکفیل ہو سکتا ہے۔ قوموں کا مستقبل عارضی بیساکھیوں سے نہیں بلکہ طویل مدتی معاشی اصلاحات سے عبارت ہوتا ہے۔
چین کی بے مثال معاشی اور شہری ترقی جہاں دنیا کیلئے حیران کن ہے وہاں اس کا داخلی سلامتی کا ماڈل ایسا شاہکار ہے جس کا اعتراف عالمی سطح پر بھی کیا جاتا ہے۔ ڈیڑھ ارب سے زائد آبادی پر مشتمل اتنے بڑے جغرافیائی خطے میں امن وامان قائم کرنا اور جرائم کی شرح کو تقریباً صفر تک لے آنا کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ چین کا داخلی سلامتی کا ماڈل محض طاقت کے بے دریغ استعمال پر مبنی نہیں بلکہ یہ جدید ٹیکنالوجی‘ سماجی نظم وضبط اور عوامی بہبود کا مربوط امتزاج ہے۔ چین کے داخلی سلامتی ماڈل کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اول‘ سمارٹ اور تکنیکی نگرانی۔ چین نے دنیا کا سب سے ایڈوانسڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور کیمروں کا نیٹ ورک قائم کیا ہے۔ ہر گلی‘ چوک اور عوامی مقامات پر نصب یہ کیمرے نہ صرف چہروں کی شناخت کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کو جرم کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے پکڑ لیتے ہیں۔ دوم‘ کمیونٹی پر مبنی پولیسنگ۔ چینی شہروں اور قصبوں کو چھوٹے چھوٹے گرڈز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر گرڈ میں مقامی نمائندے اور سکیورٹی اہلکار موجود ہوتے ہیں جو اپنے علاقے کے لوگوں کے روزمرہ مسائل‘ تنازعات اور کسی بھی غیر معمولی تبدیلی پر نظر رکھتے ہیں۔ اس سے جرائم پیشہ عناصر کو چھپنے کی جگہ نہیں ملتی۔ سوم‘ معاشی انصاف اور قانون کی بالادستی۔ چین کی ترقی کا سب سے بڑا راز یہ ہے کہ وہاں قانون سب کیلئے برابر ہے۔ چاہے کوئی بڑا سرمایہ دار ہو‘ بیورو کریٹ ہو یا عام شہری۔ قانون کی خلاف ورزی پر سزا یقینی ہے۔ اس کے ساتھ ہی چین نے غربت کا خاتمہ کر کے جرائم کی سب سے بڑی وجہ یعنی معاشی مجبوری کو جڑ سے ختم کر دیا ہے۔ جب لوگوں کے پاس روزگار اور بنیادی سہولتیں موجود ہوں تو جرائم کی طرف رجحان خود بخود کم ہو جاتا ہے۔
چین کے اس سکیورٹی ماڈل کی کامیابی کا سب سے بڑا ثبوت وہاں کے شہریوں اور غیر ملکی سیاحوں کا غیر معمولی سطح کا اطمینان ہے۔ چین کا دورہ کرنے والا کوئی بھی شخص اس بات کی گواہی دے سکتا ہے کہ وہاں خواتین‘ بچے اور غیر ملکی سیاح رات کے کسی بھی پہر‘ کسی بھی شہر کی سڑکوں پر بلا خوف وخطر گھوم سکتے ہیں۔ سیاحوں کے اطمینان کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر کوئی شخص چین کے کسی ریلوے سٹیشن‘ پارک یا ہوٹل میں اپنا قیمتی سامان‘ لیپ ٹاپ یا پرس بھول جائے تو وہ گھنٹوں بعد بھی واپس جا کر اسے اسی حالت میں وہاں پا ئے گا۔ لوگوں کو یہ یقین ہوتا ہے کہ کوئی ان کا سامان نہیں چرائے گا کیونکہ چوری کرنے والے کا پکڑا جانا اور سخت سزا پانا تقریباً سو فیصد یقینی ہوتا ہے۔ ڈیڑھ ارب آبادی کے ملک میں کاروبار کیلئے ایسا پُرامن اور سازگار ماحول فراہم کرنا ہی وہ بنیادی وجہ ہے جس نے چین کو دنیا کی سب سے بڑی مینوفیکچرنگ حب بنا دیا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان طویل عرصے سے داخلی سلامتی کے شدید چیلنجز سے دوچار ہے۔ پاکستان میں امن وامان کی صورتحال نے ملک کے اندرونی ماحول کو سرمایہ کاری کیلئے انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔ ہمیں اس تلخ حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ اگر ہم ملک میں معاشی خوشحالی اور بیرونی سرمائے کی منتقلی چاہتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے اپنے داخلی سلامتی کے ماڈل کو یکسر تبدیل کرنا ہو گا۔ بیرونی سرمایہ کاروں کو پاکستان آنے پر قائل کرنے کیلئے سیمینارز سے کہیں زیادہ اہم اور بنیادی کام یہ ہے کہ ہم اپنے مقامی سرمایہ کاروں‘ تاجروں اور صنعت کاروں کو تحفظ فراہم کریں۔ جب ہمارا مقامی تاجر مطمئن اور پُرامن ماحول میں کاروبار کرے گا تو اس کی کامیابی کو دیکھ کر بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد خود بخود بحال ہو جائے گا۔