10مئی کا دن پاکستان کی تاریخ میں درخشاں باب کے طور پر درج ہو چکا ہے‘ جب پاکستان کے شاہینوں نے فضاؤں کی وسعتوں میں‘ سمندروں کی لہروں پر اور زمین کے سینے پر اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کے تکبر کو خاک میں ملا کر ثابت کر دیا کہ جنگیں محض عددی برتری سے نہیں بلکہ ایمان کی حرارت اور جذبۂ شہادت سے جیتی جاتی ہیں۔ آج جب ہم معرکۂ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر جشن منا رہے ہیں تو پوری قوم کا سر سجدۂ شکر میں جھکا ہوا ہے۔ مئی 2025ء کا معرکہ محض ایک عسکری تصادم نہیں تھا بلکہ یہ حق اور باطل کے درمیان ایک واضح لکیر تھی۔ بھارت کی جانب سے جارحیت کا جو ناپاک خواب دیکھا گیا اسے پاکستان کے سپوتوں نے خاک میں ملا دیا۔ معرکۂ حق میں فتح نے خطے میں طاقت کے توازن کو ایک نئی سمت دی ہے۔ ذرا تصور کریں چند برس پہلے تک ہم عالمی برادری کو مسئلہ کشمیر سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے اور کہاں آج دنیا پاکستان کو ایک ایسی قوت کے طور پر دیکھ رہی ہے جس کے بغیر امن کا خواب ادھورا ہے۔ کبھی بھارتی لابی کی طرف سے ہماری آواز کو عالمی سطح پر دبانے کی کوشش کی جاتی تھی آج ہم عالمی سفارت کاری کا ایسا اہم حصہ بن چکے ہیں کہ دنیا کے بڑے تنازعات کے حل کے لیے سب کی نظریں پاکستان پر لگی ہیں۔ یہ معرکۂ حق کی کامیابی کا ہی ثمر ہے کہ آج ہم عالمی سطح پر ایک معتبر اور ذمہ دار قوم کے طور پر پہچانے جا رہے ہیں۔ معرکۂ حق کی کامیابی میں جہاں جذبۂ حب الوطنی کارفرما تھا وہاں جدید حربی ٹیکنالوجی اور مربوط کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کا بھی کلیدی کردار رہا۔ مئی 2025ء کے ان فیصلہ کن لمحات میں پاکستان کی تینوں مسلح افواج نے جس ہم آہنگی اور یگانگت کا مظاہرہ کیا اس نے دشمن کے اوسان خطا کر دیے۔ پاکستان نے پہلی بار ملٹی ڈومین آپریشنز کے ذریعے سائبر‘ سپیس‘ انفارمیشن اور الیکٹرانک وار فیئر کی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ دشمن کا مواصلاتی نظام مفلوج کر دیا گیا اور اس کی تکنیکی برتری کا زعم پلک جھپکتے میں بکھر گیا۔ پاکستان کے شاہینوں نے فضائی حدود میں وہ جوہر دکھائے کہ دنیا کے دفاعی ماہرین ورطۂ حیرت میں ڈوب گئے۔ یہ محض اتفاق نہیں تھا بلکہ یہ دہائیوں کی ریاضت‘ جدید خطوط پر استوار تربیت اور اپنے دفاعی نظام کو خود کفیل بنانے کی لگن کا نتیجہ تھا۔
اس معرکے کا ایک اہم پہلو بیانیے کی جنگ تھی۔ ایک طرف بھارتی میڈیا اور قیادت کا جھوٹا پروپیگنڈا تھا اور دوسری طرف پاکستان کا ذمہ دارانہ رویہ۔ پاکستان کے اداروں‘ میڈیا اور عوام نے جس صبر اور سچائی کا دامن تھامے رکھا اسے پوری دنیا نے سراہا۔ دشمن کے زہریلے بیانات اور جھوٹی خبریں خود ان کے لیے رسوائی کا باعث بنیں جبکہ پاکستان نے عالمی سطح پر اپنا مثبت امیج برقرار رکھا۔ غیرملکی میڈیا نے دیکھا کہ پاکستان کا مؤقف حقیقت سے قریب تر ہے جبکہ بھارت کا حقیقت سے کوسوں دور‘ جس سے بھارت بوکھلا کر رہ گیا۔ یوں دیکھا جائے تو بھارت کو میدانِ جنگ میں اٹھائی جانے والی ہزیمت سے بڑھ کر اصل میں اس ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا جو صدیوں تک اس کا پیچھا کرتی رہے گی۔ یہ معرکہ ثابت کرتا ہے کہ سچائی کی طاقت ایٹم بم سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ پاکستان کی فتح محض میدانِ جنگ تک محدود نہ تھی بلکہ یہ اخلاقیات اور سچائی کے محاذ پر بھی ایک عظیم کامیابی تھی۔
معرکہ حق کی داستان ان ہیروز کے تذکرے کے بغیر ادھوری ہے جنہوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ آج شہرِ اقتدار سے لے کر وطن کے چپے چپے تک جو جشن کا سماں ہے اس کی بنیاد ان شہیدوں کے لہو پر رکھی گئی ہے جو منوں مٹی تلے ابدی نیند سو رہے ہیں۔ وہ مائیں جنہوں نے اپنے لخت جگر قربان کیے‘ وہ بہنیں جن کے بھائیوں نے سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا اور وہ بچے جن کے سروں سے باپ کا سایہ اٹھ گیا۔ یہ سب معرکۂ حق کے ہیرو ہیں۔ معرکۂ حق میں نمایاں کردار ادا کرنے والے افراد کو آج تمغہ جرأت و بہادری اور قومی اعزازات سے نوازا جا رہا ہے‘ مہذب قومیں اپنے ہیروز کو ایسے ہی نوازا کرتی ہیں لیکن ملک کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے اور پاکستان کو ایٹمی قوت سے ہمکنار کرنے میں کسی بھی اعتبار سے کردار ادا کرنے والا ہر شخص خراجِ تحسین کا مستحق ہے۔
معرکۂ حق کی فتح ایک طویل سفر کا پڑاؤ ہے۔ اس کی بنیاد اس دن رکھی گئی تھی جب پاکستان نے ایٹمی قوت بننے کا فیصلہ کیا تھا۔ وہ تمام سائنسدان‘ انجینئرز اور پالیسی ساز جنہوں نے نامساعد حالات کے باوجود پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے دن رات ایک کیے‘ وہ سب معرکۂ حق کے ہیروز ہیں۔ معرکۂ حق نے پاکستانی قوم کو ایک لڑی میں پرو دیا ہے۔ معرکۂ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر آج ہر شہری خود کو ملک کا سپاہی محسوس کر رہا ہے۔ یہ یکجہتی ہی ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔ دشمن نے ہمیں اندرونی طور پر تقسیم کرنے کی سازش کی لیکن اس معرکہ نے ثابت کر دیا کہ جب بات وطن کی سلامتی کی ہو تو پوری قوم ایک جسم اور ایک جان بن جاتی ہے۔ معرکۂ حق میں نصیب ہونے والی یہ عظیم فتح محض ایک عسکری کامیابی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا خاص انعام اور اعزاز ہے جس نے ہمیں عالمی برادری میں ایک بلند مقام عطا کیا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اعزاز حاصل کرنے سے زیادہ مشکل اس کی پاسداری اور اسے برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ اللہ نے ہمیں جس مقامِ رفیع پر فائز کیا ہے وہاں قائم رہنے کے لیے ہمیں جہد مسلسل اور ہمہ وقت بیداری کو اپنا شعار بنانا ہو گا۔ جس طرح کسی بھی کھیل یا میدان میں اپنے ٹائٹل کا دفاع کرنے کے لیے سرتوڑ کوشش اور پہلے سے دوچند محنت درکار ہوتی ہے بالکل اسی طرح اس کامیابی کی حفاظت کرنا بھی ہماری قومی ذمہ داری ہے۔ معرکۂ حق میں عبرتناک شکست کے زخم چاٹتا مودی اپنے دامن سے ناکامی کا داغ دھونے کے لیے دوبارہ مہم جوئی کی کوشش ضرور کرے گا مگر اسے یاد رکھنا چاہیے کہ اب کی بار اسے پہلے سے کہیں زیادہ دندان شکن اور بھرپور جواب ملے گا۔
معرکۂ حق کے بعد جہاں دنیا بھر کی نظریں ہم پر لگی ہیں‘ وہیں پاکستان سے وابستہ عالمی توقعات میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ بالخصوص عالم اسلام کی ہم سے امیدیں ایک فطری امر ہیں کیونکہ مضبوط اور مستحکم پاکستان پورے خطے اور مسلم امہ کے لیے حوصلے کی علامت ہے۔ ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہو گا کہ ناقابلِ تسخیر دفاع کے خواب کو مستقل تعبیر دینے کے لیے توانا اور مستحکم معیشت ناگزیر ہے۔ جس بے مثال جذبے اور یکسوئی کے ساتھ ہم نے ملک کے دفاع کو فولادی بنایا‘ اب وقت آ گیا ہے کہ اسی شدت اور اخلاص کے ساتھ معیشت کی بحالی اور استحکام پر بھی توجہ مرکوز کی جائے۔ یقیناً ہمارے اربابِ اختیار اس حساسیت سے غافل نہیں ہوں گے کیونکہ معاشی خود انحصاری ہی وہ زینہ ہے جو ہمیں عالمی قیادت کے منصب پر فائز رکھ سکتا ہے۔ معرکۂ حق کی فتح کا تقاضا ہے کہ ہم دفاع اور معیشت‘ دونوں محاذوں پر خود کو اتنا مضبوط کریں کہ آنے والی نسلیں پُروقار‘ خوشحال اور محفوظ پاکستان کی وارث بن سکیں۔