امن کی میز پر جو فیصلے قلم کی نوک سے طے پا سکتے ہیں‘ وہ شمشیر و سنان کی جنگوں سے کبھی حاصل نہیں ہوتے۔ مشرقِ وسطیٰ کے بحران نے اس نظریے کی حقانیت پر ایک بار پھر مہر تصدیق ثبت کی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ایران کے خلاف چھیڑی جانے والی اصل جنگ اسرائیل کی تھی‘ جس نے دانستہ طور پر امریکی اثر و رسوخ اور عسکری طاقت کو اپنے ذاتی مقاصد کی بھٹی میں جھونکنے کے لیے اس دلدل میں دھکیلا۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی سچ ہے جسے دنیا کا ہر باشعور ذہن تسلیم کرتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ جنگ کے پیدا کردہ عالمی بحران میں پاکستان روزِ اول سے مظلوم فلسطینیوں کے حقوق کا اخلاقی و سیاسی وکیل رہا ہے اور اسی مضبوط اصولی بنیاد کے باعث اسلام آباد نے آج تک اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کیا۔ جب اسرائیل نے ایران کی خودمختاری پر شب خون مارا تو پاکستان نے نہ صرف اس جارحیت کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی‘ بلکہ یہیں سے پاکستان کی مدبرانہ سفارتی جدوجہد کا آغاز بھی ہوا۔ پاکستان نے جنگ کا فریق بنے بغیر عالمی فورمز پر ایسی سفارت کاری کا مظاہرہ کیا کہ بین الاقوامی امور کے ماہرین بھی اس بصیرت پر حیران رہ گئے۔ دنیا جانتی ہے کہ اسرائیل نے مئی 2025ء کی پاک بھارت جنگ میں بھارت کا ساتھ دیا‘ پاکستان پر جن ڈرونز سے حملے کیے گئے وہ اسرائیلی ساختہ تھے۔ مطلب یہ کہ اسرائیل نے درپردہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ مگر آج صورتحال یہ ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو عالمی تنہائی کا شکار ہیں۔ وہ اپنے مغربی اتحادیوں کے سامنے شکوہ کناں ہیں کہ اسرائیل اپنے اتحادیوں کے ہاں مقبولیت کھو رہا ہے۔ یہ حقیقت بھی ہے کیونکہ یورپی ممالک کے عوام اور وہاں کی حکومتیں اب اسرائیلی مہم جوئی کی سرِعام مذمت کر رہی ہیں۔ اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کی بظاہر حمایت کرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن ڈیموکریٹس میں بالخصوص اسرائیل کے اقدامات کے خلاف گہرا منفی تاثر پایا جاتا ہے۔ اپنی عالمی رسوائی کو چھپانے کے لیے نیتن یاہو نے اب اس ناکامی کا ملبہ پاکستان پر گرا دیا ہے اور یہ مضحکہ خیز دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان اسرائیل کے خلاف ایک منظم عالمی مہم چلا رہا ہے۔ تاہم دنیا جانتی ہے کہ نیتن یاہو کی حکومت کو بدنام کرنے کے لیے کسی بیرونی مہم کی ضرورت ہی نہیں‘ ان کا اپنا ہر وحشیانہ قدم ان کے چہرے سے نقاب الٹ رہا ہے۔
غزہ اس وقت تاریخ کے بدترین انسانی المیے کی آماجگاہ بنا ہوا ہے جہاں 80ہزار سے زائد معصوم جانیں لقمہ اجل بن چکی ہیں‘ ہزاروں افراد معذور ہو چکے ہیں اور لاکھوں انسانوں کو دانستہ طور پر فاقہ کشی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جب عالمی برادری کی طرف سے خوراک اور ادویات پہنچانے کی کوششیں کی گئیں تو اسرائیلی حکام نے اس بنیادی امداد کو بھی سنگدلی سے روک دیا۔ اسی گھٹن کے ماحول میں ''عالمی صمود فلوٹیلا‘‘ نے جنم لیا‘ جس کا واحد مقصد محصور اور بے بس شہریوں تک زندگی کی رمق پہنچانا تھا مگر سفاکیت کی انتہا دیکھیے کہ اس پُرامن مشن پر مامور عالمی رضا کاروں کو تضحیک آمیز طریقے سے گرفتار کر کے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ عموماً ایسے مظالم دنیا کی نظروں سے اوجھل رہ جاتے ہیں مگر مکافاتِ عمل کا اصول اٹل ہے اور جب قدرت کسی ظالم کی گرفت کا فیصلہ کرتی ہے تو اس کا بندوبست اس کے اپنے ہی گھر سے ہوتا ہے۔ اسرائیل کے انتہا پسند وزیرِ قومی سلامتی اتمار بن گویر نے اپنی دانست میں دنیا پر عبرت کا رعب جمانے کے لیے سوشل میڈیا پر ایک وڈیو پوسٹ کی‘ جس کا عنوان تھا ''اسرائیل میں خوش آمدید‘‘۔ اس وڈیو میں انہیں ایک حراستی مرکز کا معائنہ کرتے ہوئے دکھایا گیا جہاں فلوٹیلا کے انسانی حقوق کے کارکنوں کو قید کیا گیا تھا۔ وڈیو کے مناظر نے عالمی ضمیر کو ہلا کر رکھ دیا‘ تمام بین الاقوامی رضا کاروں کو زمین پر گھٹنوں کے بل بٹھایا گیا تھا‘ ان کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے اور ایک اسرائیلی اہلکار کو ایک خاتون امدادی کارکن کو بالوں سے پکڑ کر زمین پر پچھاڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا‘ جبکہ بن گویر خود اسرائیلی پرچم لہراتے ہوئے اپنے اہلکاروں کی اس بربریت پر پیٹھ تھپتھپا رہے تھے۔ بن گویر کے طرف سے رضا کاروں کے ساتھ تضحیک آمیز عمل کو فخریہ انداز میں پیش کیا گیا مگر اس سے اسرائیل کا وہ کریہہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو گیا جو اَب تک پروپیگنڈا کے پردوں میں چھپا ہوا تھا۔ مسلم ممالک تو اسرائیل کے وحشیانہ اقدامات سے پہلے ہی واقف تھے اب یورپ بھی حقیقت سے آشنا ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وڈیو کے وائرل ہوتے ہی پوری دنیا میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی‘ یہاں تک کہ خود اسرائیل کے اندر سے اس کی مذمت کی جا رہی ہے۔ اسرائیل کے مظالم کھلی کتاب کی طرح دنیا کے سامنے عیاں ہیں اور نیتن یاہو تلملاتے ہوئے اپنی بدنامی کا ملبہ پاکستان پر ڈال رہا ہے۔
کیا دنیا اسرائیلی الزامات کو تسلیم کرے گی؟ ہرگز نہیں۔ دنیا پاکستان کے مفاہمانہ کردار کو تسلیم کر چکی ہے۔ امریکہ اور یوریی ممالک پاکستان کی امن کے لیے کوششوں کو سراہ رہے ہیں۔ پاکستان کی سول و عسکری قیادت کے لیے تہنیتی پیغامات جاری کیے جا رہے ہیں۔ اس کے مقابلے میں جن ممالک نے جارحیت اور انتشار کا راستہ اختیار کیا‘ دنیا انہیں مسترد کر چکی ہے۔ پاکستان کی عالمی امن کے لیے کوششوں کا ہی نتیجہ ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ حتمی معاہدے کے قریب ہے۔ اس مقصد کے لیے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران کے اہم ترین دورے پر ہیں جہاں ایران کی اعلیٰ قیادت سے ان کی ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ شنید ہے کہ فریقین کے درمیان اکثر نکات پر اتفاق رائے ہو چکا ہے۔ صرف افزودہ یورینیم کی حوالگی کے معاملے پر اتفاق رائے ہونا باقی ہے۔ امریکہ افزودہ یورینیم اپنی تحویل میں لینا چاہتا ہے جبکہ ایرانی قیادت سمجھتی ہے کہ افزودہ یورینیم کو چھوڑ کر باقی معاملات طے کر لیے جائیں۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ متوقع طور پر افزودہ یورینیم روس یا چین کے حوالے کی جا سکتی ہے۔ اس تناظر میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ اہم سمجھا جا رہا ہے۔ تادم تحریر فیلڈ مارشل کے دورۂ ایران سے جو خبریں سامنے آئی ہیں وہ حوصلہ افزا ہیں۔ امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورۂ ایران سے پُرامید ہیں کہ حتمی معاہدہ طے پا جائے گا۔ تاہم امریکی قیادت بالا دستی کا تاثر بھی قائم کیے ہوئے ہے کہ اگر اس بار بھی حتمی معاہدہ طے نہیں پاتا ہے تو ایران حملوں کے لیے تیار رہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے موجودہ ملکی حالات اور ہنگامی صورتحال کے پیش نظر رواں ہفتے کے آخر میں ہونے والی اپنے بیٹے کی شادی کی تقریب میں بھی شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسرائیل بھی یہی چاہتا ہے کہ کم از کم وہ امریکی حمایت کے ساتھ ایران پر ایک بار بڑا حملہ کرے۔ اس مقصد کے لیے اسرائیلی لابی ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔ اگر پاکستان کی سفارتی کوششیں بارآور ہوتی ہیں تو امریکی حملوں کی نوبت نہیں آئے گی یوں اسرائیل کو ایک محاذ پر نہیں بلکہ کئی محاذوں پر شکست ہو گی اور اسرائیل کی اس تاریخی شکست میں پاکستان کی سفارتکاری کا اہم کردار ہو گا۔