"RS" (space) message & send to 7575

آزاد کشمیر: نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت

گلگت بلتستان کی 24 جنرل نشستوں پر آج الیکشن ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدواروں کے علاوہ آزاد امیدواروں کی بڑی تعداد بھی انتخابی دوڑ میں شامل ہے۔دوسری طرف آزاد جموں و کشمیر میں الیکشن کمیشن کی جانب سے 27 جولائی 2026ء کو عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان ایک ایسا اقدام ہے جو تمام سٹیک ہولڈرز کو اپنے مطالبات اور تحفظات کو قانونی اور ادارہ جاتی سانچے میں ڈھالنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
عام انتخابات محض حکومت کی تبدیلی کا نام نہیں ہوتے‘ الیکشن عوام کو یہ اختیار دیتے ہیں کہ وہ اپنی ترجیحات کا تعین اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے کریں۔ جب ریاست انتخابی عمل کی طرف بڑھ رہی ہو تو سیاسی اور سماجی قوتوں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ اس عمل کو سبوتاژ کرنے کے بجائے اس کی مضبوطی کے لیے کام کریں۔ الیکشن سے قبل قانون ساز اسمبلی نے کشمیری مہاجرین کی 12نشستیں برقرار رکھنے کے حوالے سے جو قرارداد منظور کی ہے وہ اس حقیقت کا اظہار ہے کہ مستقل اور دیرپا فیصلے صرف ایوان کے اندر ہی ممکن ہیں۔ قرارداد یہ واضح کرتی ہے کہ مہاجرین کی نمائندگی ایک تاریخی اور آئینی حقیقت ہے جسے برقرار رکھنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں‘ بار ایسوسی ایشنز‘ بار کونسل‘ سول سوسائٹی اور آئینی ماہرین کے ساتھ وسیع تر مشاورت کی ضرورت ہے۔ انتخابی پیچیدگیوں کو دور کرنا اور اصلاحات کو ہر ایک کے لیے قابلِ قبول بنانا عوامی نمائندوں کا خاصا اور ان کا آئینی مینڈیٹ ہے۔ جب اعلیٰ ترین فورم ان معاملات پر غور کرنے کے لیے موجود ہو تو کسی بھی دباؤ کے ذریعے فیصلے مسلط کرنے کی کوشش نہ صرف اس فورم کی اہمیت کو کم کرتی ہے بلکہ جمہوری ڈھانچے کو کمزور کرنے کا باعث بھی بنتی ہے۔
آزاد جموں و کشمیر کی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کی جانب سے پے در پے ہڑتالوں اور احتجاج کا طریقہ کار عوامی مسائل کی آڑ میں شروع کیا گیا لیکن وقت کے ساتھ یہ طرزِ عمل تعمیری سیاست کے اصولوں سے دور ہوتا چلا گیا۔ جب حکومت نے کمیٹی کے 38میں سے 35مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے آٹے اور بجلی پر اربوں روپے کے ریلیف کو یقینی بنا دیا تو اس کے بعد بھی احتجاج کے تسلسل پر اصرار کرنا کسی بھی طور پر منطقی یا عوامی مفاد کے تابع دکھائی نہیں دیتا۔ یہ رویہ واضح طور پر مصالحتی رویوں سے انحراف اور تنظیمی انا پسندی کی عکاسی کرتا ہے جس میں بحران کے پائیدار حل کے بجائے تعطل کو برقرار رکھنے کی دانستہ کوشش دکھائی دیتی ہے۔
کسی بھی تحریک کا مقصد اگر عوامی فلاح ہو تو مطالبات کی اکثریت منظور ہونے کے بعد سفارتی اور انتظامی میز پر بیٹھ کر بقیہ مسائل کا حل نکالا جاتا ہے نہ کہ نظام کو مفلوج کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ماضی قریب میں اسی طرزِ عمل کے نتیجے میں ہونے والے احتجاج کے اثرات ہولناک اور خونریز ثابت ہوئے۔ پُرامن احتجاج کے دعوؤں کے برعکس جب ہجوم کی نفسیات حاوی ہوتی ہے تو اس کا نتیجہ قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور بڑے پیمانے پر پبلک اور پرائیویٹ پراپرٹی کی بربادی کی صورت میں نکلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محکمہ داخلہ نے امن و سلامتی کو لاحق خطرات اور شواہد کی بنیاد پر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 2014ء کے تحت کالعدم قرار دے کر اس کا نام فرسٹ شیڈول میں شامل کیا۔ ریاست کا یہ اقدام شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور قانون کی عملداری برقرار رکھنے کے لیے ایک ناگزیر انتظامی ضرورت بن چکا تھا کیونکہ کوئی بھی آئینی حکومت امنِ عامہ کو تباہ کرنے والے عناصر کو کھلی چھوٹ نہیں دے سکتی۔
آزاد جموں و کشمیر کی جغرافیائی اور تزویراتی پوزیشن اسے دنیا کے دیگر خطوں سے ممتاز کرتی ہے۔ یہ علاقہ لائن آف کنٹرول پر واقع ہونے کی وجہ سے مستقل بیرونی خطرات اور ازلی دشمن بھارت کی جارحانہ نظروں کے سامنے ہے۔ ایسے حساس ماحول میں ریاست کے اندر کسی بھی قسم کا اندرونی خلفشار یا سکیورٹی خلا پیدا ہونا سکیورٹی کے سنگین مسائل کو جنم دیتا ہے۔ جب مقامی سطح پر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں کے درمیان تصادم کی فضا پیدا ہوتی ہے تو سرحد پار بیٹھے دشمن عناصر اس صورتحال کو پروپیگنڈا اور ہائبرڈ وارفیئر کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ وہ ان تحریکوں میں اپنے مہرے شامل کر کے اندرونی انتشار کو ہوا دیتے ہیں تاکہ بین الاقوامی سطح پر یہ تاثر قائم کیا جا سکے کہ یہ خطہ غیر مستحکم ہے۔ اس لیے عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ ان کے احتجاج کا طریقہ کار کس طرح دشمن کو پاکستان اور آزاد کشمیر کے خلاف ایک ہتھیار فراہم کر رہا ہے۔ ملک کو اس وقت جن بیرونی اور اندرونی چیلنجز کا سامنا ہے‘ ان کا تقاضا ہے کہ ملکی صفوں میں مکمل اتحاد برقرار رکھا جائے۔ کسی بھی ایسی تحریک کو پنپنے کا موقع نہیں دیا جانا چاہیے جس کا فائدہ اٹھا کر دشمن عناصر اپنے مذموم مقاصد حاصل کر سکیں۔ احتجاج پر اصرار کرنا نہ صرف ملکی حالات کو دانستہ طور پر خراب کرنے کی کوششوں کو تقویت دیتا ہے بلکہ یہ دشمن کی اس سٹریٹجی کا حصہ بن جاتا ہے جس کا مقصد ریاست کو اندر سے کھوکھلا کرنا ہے۔
جدید عمرانیات میں عوامی مسائل کے حل کے لیے سب سے معتبر اور پائیدار فورم مقننہ (Legislature) ہے۔ ڈنڈے‘ طاقت یا دھونس کے زور پر حاصل کیے جانے والے فیصلے عارضی نوعیت کے ہوتے ہیں اور ان کے پیچھے کوئی قانونی جواز موجود نہیں ہوتا۔ کشمیری مہاجرین کی 12 نشستوں کا معاملہ ہو یا دیگر بنیادی نوعیت کی انتظامی اصلاحات‘ ان کا حل سڑکوں پر نعرے بازی سے نہیں بلکہ قانون سازی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ جب تک منتخب اور نمائندہ ایوان موجود نہ ہو تب تک کسی بھی اصلاحاتی عمل کو قانونی اور آئینی تحفظ حاصل نہیں ہو سکتا۔ اس مقصد کے لیے 27 جولائی کے انتخابات ایک سنہری موقع ہیں جن کے ذریعے عوام اپنے حقیقی اور آئینی نمائندوں کو ایوان میں بھیج سکتے ہیں۔ جب ایوان وجود میں آ جائے گا تو طے شدہ آئینی طریقہ کار کے تحت تمام تصفیہ طلب معاملات پر بحث و تمحیص کی جا سکتی ہے۔ پارلیمانی سیاست کا یہ حسن ہے کہ وہاں ہر مؤقف کو دلیل کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے اور ماہرینِ قانون‘ بار کونسلز اور سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر ایسی قانون سازی کی جاتی ہے جو طویل مدتی بنیادوں پر عوام کے حقوق کا تحفظ کر سکے۔ اس لیے عوامی ایکشن کمیٹی کو یہ سمجھنا ہو گا کہ وہ خود کو ایوان سے بالا تر کوئی طاقت تصور نہ کرے۔اگر وہ واقعی عوام کی خیر خواہ ہے تو اسے انتخابی عمل کا حصہ بن کر یا منتخب نمائندوں کے ذریعے اپنے مطالبات کو اسمبلی کے فلور پر اٹھانا چاہیے۔ دباؤ کی سیاست کے بجائے ادارہ جاتی سیاست کو فروغ دینا ہی باشعور قوم کی علامت ہے۔ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت کو اپنے اندر موجود ان عناصر کی نشاندہی بھی خود کرنی چاہیے جو اس تحریک کو ذاتی یا بیرونی ایجنڈے کے تحت ریاست کے خلاف استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ آزاد جموں و کشمیر کے پائیدار استحکام اور روشن مستقبل کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ہم اپنے ماضی کی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے ایک نئے عمرانی معاہدے کی طرف بڑھیں۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ مستقبل کی سیاست صرف اور صرف پارلیمنٹ‘ آئین اور قانون کے دائرے کے اندر ہو۔ جب ایوان مضبوط ہو گا تو بیرونی سازشیں خود بخود ناکام ہو جائیں گی اور عوام کو ان کے حقوق دہلیز پر میسر ہوں گے۔ دباؤ‘ ہڑتال اور انتشار کا راستہ صرف بربادی کی طرف جاتا ہے‘ جبکہ مکالمے‘ الیکشن اور ایوان کا فورم ہی ترقی‘ خوشحالی اور حقیقی عوامی بالادستی کا راستہ ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں