ادارۂ شماریات اور گیلپ پاکستان کے ڈیٹا کے مطابق جو پاکستان کی ساتویں ڈیجیٹل مردم شماری پر مشتمل ہے‘ ملک میں سات ملین خاندان کرائے کے مکانوں میں رہتے ہیں۔ ایک خاندان میں اوسطاً اگر پانچ؍ چھ افراد بھی ہوں تو چار کروڑ سے زائد افراد گھر کی نعمت سے محروم ہیں۔ یہ محض اعداد وشمار نہیں بلکہ ان لاکھوں سفید پوش خاندانوں کی کہانی ہے جو اپنی عمر کا بہترین حصہ محض کرائے کی ادائیگیوں کی نذر کر دیتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ جو شخص اپنی پوری زندگی کرائے کے گھر کی نذر کر دیتا ہے‘ اس کی آنے والی نسل بھی اسی تلخ تسلسل کا حصہ بننے پر مجبور ہوتی ہے کیونکہ موجودہ معاشی نظام میں گھر کے روزمرہ اخراجات چلانے کے ساتھ ساتھ مکان کی خریداری کیلئے بچت کرنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ ایک عام شہری 25 یا 30 سال تک کرائے کی مد میں لاکھوں روپے ادا کر دیتا ہے لیکن اس طویل مدت کے اختتام پر اس کے پاس ایک انچ زمین بھی نہیں ہوتی جسے وہ اپنا کہہ سکے۔ اگر یہی رقوم آسان اقساط پر مبنی ہائوس فنانسنگ کی صورت میں ادا کی جاتی تو کم از کم اسے یہ تسلی تو ہوتی کہ وہ اپنی زندگی کی جمع پونجی اپنے بچوں کے لیے ایک محفوظ چھت کی صورت میں منتقل کر رہا ہے۔غالباً اسی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے حکومت نے ''وزیراعظم اپنا گھر پروگرام‘‘ کے تحت 321 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی ہے۔ اس منصوبے کے مطابق پہلے سال 50 ہزار گھروں کی فنانسنگ کی جائے گی جبکہ اگلے چار برسوں میں اس کا دائرہ کار پانچ لاکھ گھروں تک وسیع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اگرچہ پاکستان کی برق رفتار آبادی اور گھروں کی مجموعی طلب کے تناظر میں یہ تعداد بظاہر ایک قطرہ معلوم ہوتی ہے‘ کیونکہ پاپولیشن کونسل کے مطابق 2040ء تک ہمیں مزید ایک کروڑ 55 لاکھ گھروں کی ضرورت ہو گی۔ تاہم کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہرحال غنیمت ہے۔ یہ ایک مثبت آغاز ہے اور امید کی جانی چاہیے کہ مستقبل میں اس سکیم کے حجم اور رفتار میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔
ہائوسنگ سیکٹر محض اینٹ اور گارے کا نام نہیں بلکہ یہ معیشت کا وہ انجن ہے جو جب حرکت میں آتا ہے تو اس سے منسلک 40 سے زائد صنعتوں کا پہیہ گھومنے لگتا ہے۔ جب ہائوسنگ سیکٹر فعال ہوتا ہے تو معیشت کا جامد خون گردش کرنے لگتا ہے۔ سریا‘ اینٹیں‘ بجری اور سیمنٹ بنانے والی فیکٹریوں میں پیداوار بڑھتی ہے۔ انجینئرز اور آرکیٹیکٹس سے لے کر مزدور اور دیہاڑی دار طبقے تک‘ ہر ایک کو باعزت روزگار میسر آتا ہے۔ بجلی کے آلات‘ پلمبنگ‘ پینٹ اور لکڑی کا کام کرنے والے ہنرمندوں کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس سے مارکیٹ میں سرمائے کی گردش تیز ہو جاتی ہے اور ملک معاشی خوشحالی کی جانب قدم بڑھاتا ہے۔ اس طرح کی سکیمیں عمران خان کے دورِ حکومت میں بھی شروع ہوئیں جب ''نیا پاکستان ہائوسنگ‘‘ کے نام سے ایک بڑا منصوبہ شروع کیا گیا۔ اسی طرح ''صحت کارڈ‘‘ بھی مقبول تھا اور آج بھی اس کی اہمیت برقرار ہے۔ ان منصوبوں کی عوامی سطح پر غیر معمولی پذیرائی کی واحد وجہ یہ ہے کہ یہ خالصتاً عوامی فلاح وبہبود پر مبنی اقدامات ہیں۔ جو حکومت بھی عوام کو اس طرح کا ریلیف فراہم کرے گی‘ اسے عوامی سطح پر تحسین ملے گی۔ ہمارے ہاں بالعموم جب کوئی حکومت عوامی منصوبوں کا آغاز کرتی ہے تو سابقہ حکومتیں فوری طور پر اسے اپنا آئیڈیا قراردے دیتی ہیں۔ اس کھینچا تانی کی وجہ دراصل عوام کی نظروں میں معتبر بننے کی خواہش ہے۔ تاہم سچ تو یہ ہے کہ ایسے منصوبے کسی ایک جماعت یا مخصوص سیاسی دور کی جاگیر نہیں ہوتے بلکہ یہ ریاست کی دائمی ضرورت ہیں۔ اگر سیاسی جماعتوں کو واقعی مقابلہ کرنا ہے تو وہ سیاسی بیانیے کے بجائے عوامی فلاح کے میدان میں ہونا چاہیے کہ کون زیادہ شفافیت اور تیزی سے عوام کو ریلیف فراہم کرتا ہے۔
نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم یا حالیہ وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کی مقبولیت کا راز اس حقیقت میں پوشیدہ ہے کہ ذاتی مکان ہر شہری کا بنیادی خواب اور ضرورت ہے۔ اگر کرائے پر رہنے والوں کو آسان اقساط کی سہولت مل جائے تو وہ بخوشی اس سے فائدہ اٹھانا چاہیں گے مگر ہمارے ہاں ہاؤس فنانسنگ کا کلچر نہ ہونے اور بینکوں کی جانب سے طویل مدتی قرضوں کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات کی وجہ سے عام آدمی اس سہولت سے محروم رہا ہے۔ اس ضمن میں سابقہ دورِ حکومت کو یہ کریڈٹ ضرور جاتا ہے کہ انہوں نے بینکوں کو فنانسنگ پر آمادہ کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے۔ آج اگر وزیراعظم شہباز شریف کا پروگرام یا پنجاب کی صوبائی سکیمیں چل رہی ہیں تو اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ بینکوں کے وہ خدشات اب کافی حد تک کم ہو چکے ہیں۔ بینک اب پانچ فیصد مارک اَپ پر دس سال کے لیے قرض دینے پر آمادہ ہیں، جو ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ تاہم اگر ہم عالمی معیار کا موازنہ کریں تو ترقی یافتہ ممالک جیسے جاپان‘ سوئٹزرلینڈ اور سنگاپور میں ہائوس فنانسنگ محض ایک سے دو فیصد مارک اَپ پر دستیاب ہے۔ ان ممالک میں حکومتیں رہائش کو بنیادی انسانی حق تصور کرتی ہیں‘ اسی لیے وہاں 25 سے 30 سال کے طویل مدتی قرضوں پر معمولی شرح سود لی جاتی ہے تاکہ عام ملازمت پیشہ شخص بھی اپنی ماہانہ آمدن کے ایک حصے سے اپنا ذاتی گھر خرید سکے۔ اس تناظر میں پانچ فیصد مارک اپ بھی پاکستانی عوام کے لیے ایک بوجھ ہے‘ لیکن موجودہ معاشی حالات میں اسے مثبت آغاز ہی کہا جا سکتا ہے۔
ہائوس فنانسنگ سکیم میں ایک بڑا چیلنج قرض کی مدت کے بعد کا ابہام ہے۔ بینکوں نے ابتدائی دس برسوں کے لیے تو مارک اپ کم رکھا ہے لیکن اس کے بعد کی شرح کو مارکیٹ ریٹ سے جوڑ دیا ہے جس سے عوام میں ایک انجانا خوف پایا جاتا ہے کہ مستقبل میں معاشی اتار چڑھائو ان کی اقساط کو ناقابلِ برداشت نہ بنا دے۔ اگر فنانسنگ کی پوری مدت کے لیے ایک مستحکم اور واضح طریقہ کار وضع کیا جائے تو اس کی افادیت دوچند ہو سکتی ہے۔ اسی طرح ایک کروڑ روپے کی حد مقرر کرنا بھی ایک بحث طلب پہلو ہے۔ بڑے شہروں میں پراپرٹی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں‘ جہاں ایک کروڑ میں گھر تلاش کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے جبکہ چھوٹے شہروں میں یہ رقم کافی ہو سکتی ہے۔ بہتر ہوتا کہ اس عمل کو لچکدار بنایا جاتا تاکہ ہر شخص اپنی آمدن اور استطاعت کے مطابق قسط طے کر کے اپنی پسند کا گھر حاصل کر سکتا۔
حکومتی سطح پر مختص کیے گئے اربوں روپے کے باوجود اکثر پرائیویٹ سیکٹر اور بینکوں کی سخت شرائط اس طرح کی سکیموں کے ثمرات کو ایک مخصوص طبقے تک محدود کر دیتی ہیں۔ بینکوں کو یہ ڈر لاحق رہتا ہے کہ حکومتیں تبدیل ہونے سے ان کی سرمایہ کاری ڈوب جائے گی۔ پوری دنیا میں پرائیویٹ سیکٹر ہی فنانسنگ کرتا ہے لیکن وہاں پالیسیوں کا تسلسل اور ریاست کی ضمانت بینکوں کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔ ہمارے ہاں یہ تبھی ممکن ہے جب حکومتیں بینکوں کو یہ یقین دلائیں کہ سیاسی تبدیلی سے عوامی منصوبے متاثر نہیں ہوں گے۔ ماضی میں درجنوں ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں محض سیاسی انتقام یا نام بدلنے کی خاطر مفادِ عامہ کے منصوبوں کو ٹھپ کر دیا گیا‘ جس سے سرمایہ کاروں اور بینکوں کا اعتماد متزلزل ہوا۔
یہ طے کر لیا جائے کہ عوامی فلاح کے منصوبے سیاست سے بالاتر ہوں گے۔ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اس میدان میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کریں کہ کس نے زیادہ سستی ہائوسنگ فراہم کی اور کس نے زیادہ شہریوں کو بے گھری سے نجات دلائی۔ یہی جمہوریت کی روح اور یہی پاکستان کے تابناک مستقبل کی ضمانت ہے۔ اگر ریاست اپنی ذمہ داری نبھائے اور بینکوں کو پالیسیوں کے تسلسل کا اعتماد فراہم کرے تو وہ دن دور نہیں جب ہر پاکستانی کے پاس اپنی ذاتی چھت ہو گی۔